اشاعتیں

مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

 اب ہمارا قافلہ مدینہ کی طرف رواں دواں تھا ۔ مکہ کے سات دن پلک جھپکتے گذر گۓ اور وہاں سے  رخصت لینے کا غم ساتھ تھا تو آقا کی روضہ کی زیارت کا شوق  نے اس غم کو کم کر دیا تھا ۔  ہاں میں اب مدینہ جا رہی ہوں ۔ اپنے آقا کے شہر ۔۔ وہ مدینہ جہاں میرے آقا نے اپنی عمر کے  بقیہ سال یہیں گذارے اور یہاں  چپہ چپہ میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ یادیں  ہیں جو کسی بھی عاشق رسول کے لیۓ کسی خزانہ سے کم نہیں ۔  مدینہ تیری معطر فضاؤں کو سلام  زبان پر درود شریف کا نذرانہ لیۓ ہم مدینہ شہر میں داخل ہوۓ ۔چونکہ رات ہو گئ تھی اس لیۓ دوسرے دن علی الصباح زیارت کرنے کا ارادہ کیا ۔صبچ تازہ دم غسل اور نۓ کپڑے پہن کر ہی روضہ پر  حاضری ہو ۔  دوسرے دن جب مسجد نبوی میں ہم نے قدم رکھا تو یوں لگا صدیوں کی پیاس آج بجھ گئ ۔‌ سبز گنبد کا نظارہ ایسا تھا کہ نظریں بس اس پر ہی ٹکی رہیں ۔ یہ گنبد خضرا ہے ۔‌وہی گنبد خذرا جسے ہم اکثر نعتوں کے ویڈیوز وغیرہ میں دیکھا کرتے تھے ۔‌جس کی زیارت کی تڑپ نجانے  کتنے برسوں کی تھی ۔‌ آج ہمارے سامنے تھا اور ہم لب بستہ اس گنبد کی...

چاہ زم زم اور سعی

 سعی ،صفا و مروہ کے ان  سات چکروں  کو کہتے ہیں جو حضرت ہاجرہ علیہ السّلام‌نے   اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پیاس کو دیکھ کر پانی کے لیۓ تڑپ کر لگائ تھیں اور حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کی یہ ادا اللہ کو اتنی پسند آئ کہ قیامت تک کے لیۓ اس کو اپنے بندوں پر  واجب کر دیا ۔ کہ جب بھی کوئ عمرہ یا حج کو آۓ خواہ مرد ہو یا عورت ،وہ یہ سعی لازمی کرے ۔ اس کے بغیر اللہ کو آپ کا عمرہ یا حج قبول نہیں ہو گا ۔  ۔۔۔۔‌۔۔۔۔۔اس واقعہ کے بارے میں آپ کو علم ہو گا کہ جب حضرت ابراھیم علیہ السّلام  نے حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کو اپنے شیر خوار بیٹے کے ساتھ یہاں مکہ میں اس سنسان ویران میدان میں لا چھوڑا تو یہ بالکل صحرا تھا ۔ دور دور تک کسی درخت پودے کا نام و نشان تک نا تھا ۔ اپنے اللہ کی رضا کی خاطر وہ اپنی زوجہ اور بیٹے کو اس میدان میں چھوڑ گۓ تھے ۔ یہ بات حضرت ہاجرہ کو علم تھا کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ۔اس کا حکم ہے جسے ان کے خاوند نے پورا کیا ہے اس لیۓ زبان پر کسی بھی قسم کا شکوہ لاۓ بغیر انہوں نے اس میدان میں رہنا گوارہ کر لیا ۔ جہاں نا کوئ آدم تھا نا کوئ آدم ذاد ،نا ...

کعبہ پر پڑی جب پہلی نظر

 کعبہ پر پڑی جب پہلی نظر  کیا چیز ہے دنیا بھول گیا  کچھ ایسی ہی کیفیات تھیں اس وقت جب میری پہلی نظر کعبہ پر پڑی تھی ۔ جب مکہ کے مقدس شہر میں ہم نے قدم رکھا تو ہم حالت احرام میں تھے ۔ عشا کا وقت تھا ۔ جب ہم سوۓ کعبہ چلے تھے ۔ زبان پر لبیک اللہم لبیک کی صدائیں تھیں اور نظریں جھکی ہوئ تھیں ۔ اور اس وقت تک جھکی  رہیں جب تک معلم صاحب نے نظریں اٹھانے کا نا کہا ۔ کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ براہ راست کعبہ پر نظر نا ڈالیں بلکہ بہت دھیرے دھیرے نظر اٹھائیں اور جب کعبہ آپ کی مکمل نظروں میں ہو تب دعا مانگ لیں ۔  ۔۔۔۔‌اور ہم سب نے ان کے کہنے کے مطابق جب کعبہ پر پہلی نظر ڈالی تو ہم سب گروپ ممبرز رونے لگے تھے سب کی آنکھوں سے آنسو امڈ پڑے ۔ جانے کیا کیا یاد آ گیا اور کیا کچھ بھول گۓ۔ میرے لیۓ بھی یہ الگ ہی کیفیت تھی ۔ روتے روتے دعا مانگی تھی ۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعی میں میں یہاں پہنچی ہوں اور کیا یہ میں ہی ہوں جو کعبہ کے سامنے بیٹھی ہوں ۔‌کعبہ کا گہرا سبز غلاف اتنا خوبصورت لگتا ہے کہ نظر ہی نہیں ٹھہرتی ۔ ایک الگ ہی رعب سا محسوس ہوتا ہے ۔ آنکھ بار بار جھک جاتی ہے احترام...

خدا اور محبت

 خدا اور محبت  اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جب بنایا ہو گا تو ان کی خمیر میں محبت کا عنصر تو  ضرور ڈالا ہو گا ورنہ یہ ساری کاینات بنا محبت کے یوں نہیں چل سکتی ۔ محبت کو  مرد و عورت کی ذات تک محدود رکھنا میرے خیال میں لفظ محبت کی تو ہین ہے ۔ محبت تو ہر جگہ ہے ۔ ہر شے میں چھپی ہے ۔  کائنات کا ہر ذرہ بے لوث محبت کے جذبے کا گواہ ہے ۔  والدین کی محبت ۔ بھائ بہن کی محبت  دوست سے محبت  جانوروں سے محبت  ااور انسانیت  سے محبت  ان ساری محبتوں میں  سب سے اعلی مقام پر ہے بندے کی اللہ سے محبت ۔ اور خدا کی اسکے بندے سے محبت ‌۔  ہمارا اللہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہےیہ ہم جانتے تو شاید کبھی شکوہ نا کرتے اپنی تقدیر کا ۔ ۔ وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ ایک بندہ کو کیا چاہیے اور وہ کیا ڈیزرو کرتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن اللہ ہمیں وہ دیتا ہے جو ہماری سوچ ہماری  امید کے بر عکس ہمارے لیۓ بہت  بہتر ہو تا ہے ۔‌ ہم اپنی محدود سوچ کو لیکر اللہ سے دعا مانگتے ہیں ۔‌اور کبھی کبھی تو اپنے لیے خیر کے بجاۓ شر مانگ لیتے ہیں ۔...

محبت کا قرض

 محبت کا قرض  ۔ وہ دونوں باہر آنگن میں سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔ انکے چہروں پر کئ زمانوں کا درد بکھرا تھا ۔ غروب ہوتے سورج  اکی   زرد شعائیں ان کے دکھی جھریوں بھرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھیں جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ اس دکھ میں تم اکیلے نہیں یہ دکھ تو سورج ہر روز سہتا ہے ۔ہر چڑھتے سورج کی پوجا ہوتی ہے اور۔ ڈوبتے سورج ہمیشہ تنہای کا دکھ لیکر ڈوبتا ہے ۔اس جاتے سورج کی وقعت بس اتنی ہی ہو تی ہے کہ شام کا دکھ منا لیا جاۓ۔  ڈوبتا سورج رات کا پیغام لے کر آتا ہے ۔ دکھ ،تنہائ،زوال  کا استعارہ ہو تا ہے ڈوبتا سورج ۔ اور آج اس آنگن میں ڈوبتے سورج کو دیکھتے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھے ۔ شاید اس وقت   ان کے پاس جن یادوں کا سرمایہ تھا وہ اسی ڈوبتے سورج جیسا تھا ۔جنکی اب وقعت کچھ نہیں تھی ۔ کچھ بھی نہیں ۔ ۔ "دیکھو ۔عمر ۔ابا کو  دس دن میں رکھوں گا ۔اور تم امی کو دس دن  رکھ لینا ۔اور رہے دس دن تو وہ ثمن آپا   رکھ لیں گی۔ یہ فخر صاحب کا سب سے بڑا بیٹا "بڑا" بن کر ان کا" بٹوارہ "کر رہا تھا ۔اور وہ سب انہیں رکھنے  کے ،انکی دیکھ بھا ل کرنے کے دن گن گن...

پین کلر pain killler ..3555words

 وہ اس وقت اس بلڈنگ کی دوسری منزل پر بنے فلیٹ کے کچن میں کھڑی تھی ۔ اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔اور  اسے ناشتہ بنا نا تھا لیکن اس کی نظریں بار بار کچن کی کھڑکی سے نیچے اس گھر پر پڑ جاتی تھیں جہاں صبح چار بجے سے ماتم کرنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔‌وہاں چالیس سالہ  نیاز صاحب کا انتقال ہوا تھا ۔‌اور  ان کے گھر سے ان کی بیوی کی بین کرتی آوازیں آ رہی تھیں ۔ اور وہ ان آوازوں کو اپنے دل میں  محسوس کر رہی تھی ۔ اسے ان کا دس سالہ بیٹا اور دو سال کی بیٹی   کی کم سنی  یاد آرہی تھی ۔ کیسے رہیں گے وہ معصوم بچے اپنے والد کی محبت کے بغیر ۔  اان کی شفقت کو ابھی تو محسوس کر نا شروع کیا  تھا۔ وہ ننھی دو سالہ تو ابھی باپ کا لمس بھی محسوس نا کر سکی تھی اور اس لمس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئ تھی. اس سب کو سوچتے اس کا دل بے ساختہ ان کے گھر  جانے کے لیے لپکنے لگاکہ وہ جاۓ اور نیاز کی بیوی کے گلے لگے اور روۓ ۔‌اور ان بچوں کےسر پر ہاتھ رکھے محبت کا ہاتھ ۔ وہ حساس تھی ۔ کسی کے درد کو شدت سے محسوس کرنے کی عادت تھی ۔  زیب ۔ زیبا ۔ ناشتہ تیار ہو تو ذرا جلدی ...

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45  " آخر کچھ بتاتے کیوں نہیں تم کہ وہ بھائ کے گھر گئ ہے اور ابھی تک آئ نہیں ۔ایسا کیا ہوا ۔ " صابرہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب اسے گھیر چکی تھیں جو اس ذکر سے ممکنہ حد تک پہلو تہی کر رہا تھا ۔ " مجھے نہیں معلوم ۔ آپ خود پوچھ سکتی ہیں اپنی بھتیجی سے کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ۔ " وہ خود بہت تلخ ہو رہا تھا یہ اسے محسوس ہو رہا تھا ۔ " تم نے کچھ کہا ہو گا ۔ ":وہ اب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔ " نہیں ۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ بس یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ میں نے نہیں کہا تھا گھر چھوڑ کر جانے کو " اس کے لہجہ میں تلخی گھلی تھی جس پر صابرہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں ۔ یہ بات انہیں بھی نا گوار گذری تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر بنا بتا ۓ چلی گئ تھی۔ اور وہ طہ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں وہ ایسی غلطیاں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ نا معاف ۔ وہ دل ہی دل میں ان دونوں کے لیۓ دعا کرتے اٹھ گئیں تھیں ۔لیکن وہ چپ نہیں بیٹھیں تھیں نظیر صاحب کو اشارتاً بتا دیا کہ دو نوں میں کچھ نا راضگی ہو گئ ہے۔ " میں بات کروں گا ۔ابوال...