گڈ باۓ ۔۔گڈ باۓ ٹو پھاپھا کٹنی کرایہ دار اور مکان دار کے بیچ جنم لی ہوئ ایک کھٹی میٹھی کہانی رشتے میں تو وہ ہماری کچھ نہیں لگتی تھیں،نام تھا زبیدہ ، لیکن یہ زبیدہ وہ مامون رشید والی زبیدہ جیسی بلکل نہیں تھی ۔کہاں وہ سڑکیں تعمیر کرنے والی،اور کہاں یہ سڑکوں پر کوڑا ڈالنے والی،وہ سہولتیں دینے والی اور ہماری زبیدہ ہمارے ہر کام میں روڑے اٹکانے والی،نہ شکل وصورت نہ حسن اخلاق،اڑتے اڑتے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انکی حسن صورت کی تاب نا لاکر شوہر بیچارا انہیں چھوڑ کر چلا گیاتھا لیکن ہمارے خیال میں عزت والا تھا چھوڑ کر چلا گیا،ورنہ انہیں کہاں کہاں تک بھگتا بےچارہ۔ہمارا ان کا سامنا گھر کرایہ پر لینے کے لیے ہوا۔ورنہ ان جیسوں کی ہم شکل تک نہ دیکھتے۔ ہم گھر کرایہ پر لینے کے لیے گۓاب وہ ہمیں دیکھ رہی ہیں اور ہم انہیں،ہمیں لگ رہا تھا اتنے معقول گھر کی ایک ایسی نامعقول مکان مالکن،وہ ہمیں کیوں گھور رہی تھی ،ہمیں نہیں پتا،آپ خود پوچھ لیجےگا۔ ہم نے مکان کے تعلق سے ساری بات چیت کی ۔ایڈوانس پچاس ہزار طۓ پایا اور کرایہ دس ہزار،وہ بے اولاد تھی،لیکن پیسہ کو ہی شاید اپنی سگی ...
اشاعتیں
ایموجیو لوجی
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
"ممی ۔آپ کو زمانے کے ساتھ چلنا چاہیۓ ۔ " "مما ۔ آپ کو اب صرف سمپل سی گھریلو عورت نہیں بلکہ ایک اسمارٹ ماں بن جانا چاہیۓ"۔ "بیگم ۔ آپ کب زمانے کے ساتھ ساتھ قدم ملا کر چلیں گی." ۔ یہ سب سن کر تو ہمارے کان ہی پک گۓ۔ دراصل وہ سب ہمیں ایک فیچر فون سے اسمارٹ فون لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے ۔ اور ہم ٹہرے زمانے سے دو قدم پیچھے چلنے والے ۔ ہمیں اب تک یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جب ایک فیچر فون سے کام چل رہا ہے ۔ کال جا رہی ہیں اور کال آ بھی رہی ہیں تو ہمیں ایک ٹچ موبائل لے کر آخر کرنا کیا ہے ۔ ا"اسمارٹ فون ہو تو آپ وہاٹس ایپ استعمال کر سکتی ہیں ۔ کیمرہ سے فوٹو لے سکتی ہیں ۔ اپنے رشتہ داروں سے ویڈیو کال کرسکتی ہیں ۔ اور ٹچ فون میں آپ کو بہت ساری سہولیات ملیں گی جو ایک عام فیچر فون میں بالکل بھی نہیں ہو تے ۔ گوگل میپ ڈال کر آپ کہیں بھی جا سکتی ہیں ۔" بیٹے نے بہت سارے فوائد گنواۓ۔ "وہ تو ٹھیک ہے ۔ لیکن ۔۔۔"ہم منمناۓ۔ سب سے اہم کام جو اسمارٹ فون سے ایک عورت کر سکتی ہے وہ ہے آن لائن شاپنگ ۔ آپ گھر بیٹھے آن لائن شاپنگ کر سکتی ہیں ۔ شوہر نے تو...
پیراسائٹ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
وہ اس وقت کلاس روم میں بلیک بورڈ کے قریب کھڑی تھی ۔ بایو کی ٹیچر ہو نے کے ناطے آج اسے پیرا سائیٹ پر اپنی کلاس کے طالب علموں کو سمجھانا تھا ۔ اس نے چاک لیا اور اپنے مضمون کے متعلق بورڈ پر جلدی جلدی لکھنے لگی ۔ لیکن لکھتے لکھتے اس کی اپنی رو بہک گئ ۔ اسے یاد آیا کہ آج مہینہ کا بیسواں دن ہے اور اس کی تنخواہ کا کافی خرچہ اس کی اپنی دوائیوں پر نکل چکا ہے ۔ وہ ایک گورنمنٹ ٹیچر تھی ۔ لیکن اس کے شوہر کی بے روزگاری بلکہ کام چوری کی بدولت اس کی معقول تنخواہ بھی کم پڑتی جارہی تھی ۔ وہ بورڈ پر لکھنے لگی پیراسائیٹ ۔۔۔۔ ۔ اسے یاد آیا ۔ اس کی جب سے شادی ہو ئ تھی اس کے کام چور شوہر نے ایک روپیہ بھی کمایا نہیں تھا بلکہ اس کی اپنی تنخواہ پر انحصار کرتا تھا ۔۔جب پہلا بچہ ہوا تب سے لیکر پانچویں بچے تک ۔وہ ویسا ہی تھا۔ اس کی اس عادت ا ور گھر کے بڑھتے اخراجات ۔۔وہ فکر میں گھلتی ذیابطیس کا شکار ہو گئ۔ ۔چونکہ ذیابطیس مرض کی اصل وجہہ وہ گھریلو نا چاقیاں تھیں جو شوہر کے بے روزگار ہونے سے آۓ دن ہو تی رہتی تھیں ۔بے روزگار شوہر اور بلا کا ف...
بکرا اور میں میں ۔۔۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
بکرا اور میں بقر عید کی چھٹی کا اعلان ہو تے ہی میں بھی اپنے دفتر سے سیدھا گھر کی جانب چلا ۔ اس بقر عید پر میرا بھی ارادہ قربانی دینے کا تھا۔گھر پہنچا اور بابا سے بات کی،بابا نے کہا "اچھا ،چلو ایسا کرتے ہیں ایک گاے۶ لےلیتے ہیں چونکہ ایک گاۓ میں سات حصے ہو تے ہیں تو تمام گھر والوں کو شامل کر لیں گے قربانی میں ۔لیکن میں نے بابا سے اختلاف کیا،میرا کہنا تھا کہ چونکہ عام دنوں میں ہم لوگ گاۓ کا گوشت نہیں کھاتے،اس لئے گاۓکے بجائے بکرے کی قربانی دینا چاہیۓ تاکہ ہمیں بکرے کا گوشت وافر مقدار میں مل سکے " ۔۔بابا نے مجھ سے زیادہ بحث نہیں کی اور اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ امی بھی ادھر آپہنچی۔اور جن جن رشتہ داروں کو حصہ دینا چاہیے اس پر بات کرنے لگیں۔انکا ماننا تھا چونکہ راشدہ پھپھو غریب ہیں اسلیے انہیں قربانی کا حصہ زیادہ دینا چاہیۓ اور افضل تایا جمیلہ مامی ،بڑے ماموں اور فلاں فلاں غریب ہیں اسلئے ان لوگوں کو حصہ ضرور دینا چاہیے۔لیکن میرے نزدیک یہ بے وقوفی تھی۔ میں نے کہا "امی ،آپ کو کیا پتا،یہ جو غریب غریب کہہ کر ہر چیز سمیٹ لیتے ہیں ناں وہی سب سے زیادہ فائدہ میں رہتے ہیں۔ان کے پاس ا...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
شام کے اداس ساۓ ہاسپٹل کی دیواروں پر آہستہ آہستہ سے اتر رہے تھے ۔ اور وہ ہاسپٹل کے ایک کمرے میں اپنے نو مولود بیٹے کو سینے سے لگاۓ لیٹی تھی ۔ ملگجے اندھیرے میں ،دواخانے کی مخصوص مہک سے بھرے اس کمرے میں اپنی ہی سوچوں میں غلطاں،لیکن ذہن بار بار نواز کی طرف جا رہا تھا ۔ "وہ کیوں نہیں آیا ۔ آج تیسرا دن ہو گیا اور وہ نہیں آیا ۔صرف پہلے دن بیٹے کی خبر سن کر خوشی سے نہال چلاآ یا تھا ۔ اور اس کے بعد پلٹ کرخبر تک نہیں لی تھی ۔۔ "کیا صرف وہ ماں بنی تھی ۔ نواز باپ نہیں بنا۔ تھا ۔ ۔ یا شاید نواز کبھی باپ بنا ہی نہیں تھا ۔ وہ صرف اس ننھے وجود کو دنیا میں لانے کا سبب بنا تھا ۔ اور شاید اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔ وہ کرب سے سوچ کر رہ گئ ۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کیوں نہیں آیا ۔ اور یہی بات اسے گہری تکلیف میں مبتلا کر رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی صبح ڈیوٹی پر آئ نرس کی ان باتوں پر اس کا دھیان گیا جو وہ اس کے کمرے میں آکر کرکر چکی تھی ۔ بلکہ وہ چلا رہی تھی ۔۔ "اے اماں ۔ آج تیسرا دن ہو گیا اور تم نے اب تک ہاسپٹل کا بل پے نہیں کیا ۔پتا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ...
جانا کہاں ہے ۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حیدرآباد ایک بڑا شہر ہے ۔ اتنا بڑا کہ آپ آسانی سے ایک شہر میں کئ شہر گھوم سکتے ہیں ۔ اب ہم یہاں رہ تو سالوں سے ہیں لیکن ہماری تساہل پسندی کہ یہاں کے راستے گلی کوچے سے چنداں واقف نہیں ۔ اس میں ایک وجہہ میاں کے ساتھ ہمیشہ گاڑی پر ٹنگے جانے کی بھی ہے جس کی وجہہ سے راستے یاد نہیں رہتے ۔ گلیاں بھول جاتے ہیں ۔ ایک گلی سے آتے ہیں اور اکثر دوسری گلی میں جا نکلتے ہیں۔ اور اب حیران کہ کہاں آگۓ ۔ اب آپ کہیں گے کہ کس نے کہا تھا ہمیشہ گاڑی پر ہی جاؤ ۔تو کبھی کبھار یونہی پیدل یا آٹو میں بھی جایا جا سکتا ہے ۔ تو جناب جا تو سکتے تھے مگر کیوں جائیں ۔جب آپ کے پاس سہولت ہے تو کیوں جائیں آٹو رکشے کے دھکے کھانے ۔ تو یوں سالوں گذرنے کے باوجود اپنے گھر سے چار مینار تک کا راستہ ہی یاد رہا ۔ اس کے آگے بس اندازے لگاتے جاتے ہیں ۔ بیٹا ذہین ہے وہ راستہ یاد نہیں رکھتا سیدھا گوگل میپ لگا لیتا ہے ۔ اور جہاں جانا ہو وہاں چلا جاتا ہے ۔اس کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کے دور میں راستے گلیاں یاد رکھنا نری بیوقوفی ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ بیٹے کبھی گوگل بھی ...
مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اب ہمارا قافلہ مدینہ کی طرف رواں دواں تھا ۔ مکہ کے سات دن پلک جھپکتے گذر گۓ اور وہاں سے رخصت لینے کا غم ساتھ تھا تو آقا کی روضہ کی زیارت کا شوق نے اس غم کو کم کر دیا تھا ۔ ہاں میں اب مدینہ جا رہی ہوں ۔ اپنے آقا کے شہر ۔۔ وہ مدینہ جہاں میرے آقا نے اپنی عمر کے بقیہ سال یہیں گذارے اور یہاں چپہ چپہ میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ یادیں ہیں جو کسی بھی عاشق رسول کے لیۓ کسی خزانہ سے کم نہیں ۔ مدینہ تیری معطر فضاؤں کو سلام زبان پر درود شریف کا نذرانہ لیۓ ہم مدینہ شہر میں داخل ہوۓ ۔چونکہ رات ہو گئ تھی اس لیۓ دوسرے دن علی الصباح زیارت کرنے کا ارادہ کیا ۔صبچ تازہ دم غسل اور نۓ کپڑے پہن کر ہی روضہ پر حاضری ہو ۔ دوسرے دن جب مسجد نبوی میں ہم نے قدم رکھا تو یوں لگا صدیوں کی پیاس آج بجھ گئ ۔ سبز گنبد کا نظارہ ایسا تھا کہ نظریں بس اس پر ہی ٹکی رہیں ۔ یہ گنبد خضرا ہے ۔وہی گنبد خذرا جسے ہم اکثر نعتوں کے ویڈیوز وغیرہ میں دیکھا کرتے تھے ۔جس کی زیارت کی تڑپ نجانے کتنے برسوں کی تھی ۔ آج ہمارے سامنے تھا اور ہم لب بستہ اس گنبد کی...