محبت کا قرض

 محبت کا قرض  ۔

وہ دونوں باہر آنگن میں سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔ انکے چہروں پر کئ زمانوں کا درد بکھرا تھا ۔ غروب ہوتے سورج  اکی   زرد شعائیں ان کے دکھی جھریوں بھرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھیں جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ اس دکھ میں تم اکیلے نہیں یہ دکھ تو سورج ہر روز سہتا ہے ۔ہر چڑھتے سورج کی پوجا ہوتی ہے اور۔ ڈوبتے سورج ہمیشہ تنہای کا دکھ لیکر ڈوبتا ہے ۔اس جاتے سورج کی وقعت بس اتنی ہی ہو تی ہے کہ شام کا دکھ منا لیا جاۓ۔ 

ڈوبتا سورج رات کا پیغام لے کر آتا ہے ۔ دکھ ،تنہائ،زوال  کا استعارہ ہو تا ہے ڈوبتا سورج ۔

اور آج اس آنگن میں ڈوبتے سورج کو دیکھتے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھے ۔

شاید اس وقت   ان کے پاس جن یادوں کا سرمایہ تھا وہ اسی ڈوبتے سورج جیسا تھا ۔جنکی اب وقعت کچھ نہیں تھی ۔ کچھ بھی نہیں ۔

۔



"دیکھو ۔عمر ۔ابا کو  دس دن میں رکھوں گا ۔اور تم امی کو دس دن  رکھ لینا ۔اور رہے دس دن تو وہ ثمن آپا   رکھ لیں گی۔ یہ فخر صاحب کا سب سے بڑا بیٹا "بڑا" بن کر ان کا" بٹوارہ "کر رہا تھا ۔اور وہ سب انہیں رکھنے  کے ،انکی دیکھ بھا ل کرنے کے دن گن گن کر آپس میں بانٹ رہے تھے ۔

"لیکن بھائ میں امی کو تو رکھ لوں گی لیکن ابا کافی غصیلے ہیں اور انکے رویہ سے خاور بہت چڑتے ہیں "۔ یہ ثمن آپا کی آواز تھی ۔

"ثمن آپا ۔  آپ   جو بھی سوچ لیں ۔ لیکن ابا کو رکھنا ہی پڑے گا ۔یہ سب تو برداشت کرنا ہی پڑے گا ۔ہم سب بھی تو رکھ رہے ہیں ۔ ہم میں سے تو کوئ اعتراض نہیں کر رہا ۔ ہم سب کو" صبر" سے کام لینا ہے ۔

۔"ہاں اور نہیں تو کیا ۔اب امی ہی کو دیکھ لیں ۔وہ کونسا خاموش رہتی ہیں ۔ہر بات میں تو انہیں کیڑے نکالنے کی عادت ہے ۔یہ کرو وہ نا کرو 'رزق مت پھینکو ۔اتنا تیل ضائع کیوں کیا ۔فلاں پکاؤ ۔چاول کچے رہ گۓ ۔اور پھر ہر دن انکے لیۓ  ۔انکا پرہیزی کھانا بنانا ۔بھئ ان کا کیا  کام کم ہے ۔ان کو رکھنے سے  ایسی کونسی سہولت ہمیں ملنے والی ہے" ۔یہ انکی بڑی بہو کی آواز تھی۔ 

فخر صاحب اور فاطمہ آنگن میں اپنی آپ کو بٹتے دیکھ رہے تھے ۔اور وہ دونوں اپنی اولاد کی محبت تول رہے تھے ۔وہ دیکھ رہے تھے انہیں گنا جارہا تھا ۔انکے رکھنے کو نفع نقصان سے پرکھا جارہا تھا ۔اور وہ دونوں سر جھکاۓ سب سن رہے تھے۔

"میں ابا کو نہیں رکھ سکتا" عمر بولا تو وہ سب اسے دیکھنے لگے۔ 

"کیونکہ ابا جب جب کھانستے ہیں تو میرے بچے بے چین ہو کر اٹھ بیٹھتے ہیں ۔اور انکی بے چینی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ۔ابا نا دن دیکھتے ہیں اور نا رات ۔بس کھانستے رہتے ہیں ۔انسان کو کچھ تو خیال ہونا چاہیۓ ۔دوسروں کی نیند کا ۔آرام کا ۔ میں امی کو جیسے تیسے رکھ لوں گا لیکن ابا کو تو میں نہیں رکھ سکتا ۔ "

 "امی کو رکھینگے تو ہر بات کی کٹ کٹ کون برداشت کرے گا عمر ۔یہ بھی تو آپ کو سوچنا چاہیۓ" ۔اسکی بیوی نے اسے اشارہ کیا تو عمر بھی سر ہلانے لگا ۔ 

ا"اس کاکیا مطلب  میں فلاں کو رکھوں گا اور فلاں کو نہیں" ۔ انکے بڑے بیٹے کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔ 

ا"گر عمر بھیا ابا کے لیۓ راضی نہیں تو میں بھی ابا کو نہیں رکھ سکتی ۔ وہ بہت شارٹ ٹمپرڈ ہیں ۔ انہیں سنبھالنا بہت مشکل ہو تا ہے۔" فریحہ نے بھی اپنی راۓ دی۔

ا"اس طرح تو نہیں ہوسکتا ۔ہم سب کو باری باری رکھنا ہے اور بس ۔اب اس میں کوئ کمی بیشی نہیں ہوگی "۔بڑے نے ہاتھ  اٹھا کر اپنے ماں باپ کا "فیصلہ" کیا ۔ 

"میں تو کہوں گا ۔کہ ماں باپ کو بوڑھے ہو کر زندہ  رہنا ہی نہیں چاہیۓ ۔ساٹھ سال کے بعد ان لوگوں کو ختم ہو جانا چاہیۓ۔ بڑی پرابلم ہو جاتی ہے" ۔عمر اتنی زور سے بڑبڑایا تھا کہ باہر فخر صاحب اور فاطمہ دونوں کو بہت صاف صاف سنائ دیا تھا ۔اور اس وقت ان دونوں کو شدت سے احساس  ہو رہا تھا کاش کہ وہ آج قوت سماعت سے محروم ہو تے ۔ کاش کہ وہ یہ سب سننے سے پہلے مر ہی جاتے ۔

ا"گر تم سب میری بات پر راضی نہیں تو ایک ہی راستہ بچتا ہے" ۔بڑے نے ان سب کو دیکھا تو وہ سب چونک  گۓ۔

"ااولڈ ایج ہوم ۔آخری راستہ تو یہی رہ جاتا ہے."

  بڑے کی بات پر فاطمہ گھبرا گئ اور اس نے بے ساختہ فخر صاحب کو دیکھا تھا ۔وہ جو اب تک بہت ضبط کۓ بیٹھے تھے ۔اچانک کھڑے ہو گۓ ۔فاطمہ نے انہیں روکنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکتے  بہت  وقار سے   اندر چلے گۓ۔

وہ سب فخر صاحب کو آتے دیکھ کر خاموش ہو گۓ ۔ 

ظفر ،عمر ثمن ۔ مجھے بہت خوشی ہوئ کہ تم سب نے  بہت یک جہتی کا مظاہرہ کیا اور مکمل یک جیتی سے  ہم  دونوں کو نبٹارہے تھے ۔ہمیں بانٹ رہے تھے ۔کہ دس دن تم دس تم ۔   ۔۔۔۔۔صحیح ہے بیٹا ۔آخر حساب کتاب سکھایا بھی تو میں نے ہی تھا تو تم لوگوں نے میرا حساب کتاب چکتا کرنا چاہا ۔لیکن بیٹے ۔۔وہ رکے ۔اور پاس رکھی کرسی پر بیٹھے ۔ 

"تم سب کو تو میں نے ہر حسابہ ہر چیز سکھائ لیکن میں اور تمہاری ماں  فاطمہ بہت بھولے تھے ۔ہمارا حساب بہت کچا رہا تم سب کو پالنے میں "۔ وہ ہنسے ۔

"ہم دونوں کو بھی اس وقت ہر چیز بانٹ لینی چاہیۓ تھی ۔ہر چیز کا حساب رکھنا تھا ۔ظفر جب تم چھوٹے تھے تو میں گھوڑا بن جاتا تھا ۔اور تم میرے سوار ۔اور تم میری پیٹھ پر بیٹھ کر  کئ چکر لگواتے تھے ۔لیکن میں  بڑا بے وقوف تھا ۔میں نے حساب نہیں رکھا ۔مجھے ایک ایک چکر گننا چاہیۓ تھا جو تم نے مجھ سے کرواۓ۔ "انکی اس بات پر ظفر شرمندگی سے سر جھکا گیا ۔

ا"ور بیٹے عمر۔۔۔۔۔تم تو ہم دونوں کو رات رات بھر ستاتے تھے ۔نجانے کتنی راتیں تھیں جو ہم تمہیں چپ کروانے میں بغیر نیند کے گذاریں تھیں  ۔کاش ہم ان راتوں کو ۔ان راتوں کے ایک ایک پل کو گن کر رکھتے ۔ تو ہم آج  تمہیں بتاتے کہ تم پر ہماری کتنی نیند کا کتنی راتوں کا قرض چڑھا ہے ۔اور ہم آج اس قرض کا تقاضا کرتے ۔تم پر تو بس ادھار ہی ادھار ہے ۔کیا کیا اور کونسا قرض اتاروگے ۔اور کیا اتار سکوگے ۔"انکی سانس پھ۔ولنے لگی تو وہ رکے ۔ 

"اور میری پیاری بیٹی۔تم تو ہماری شہزادی تھی۔ایک تمہارے چہرے پر ہنسی لانے کے لیۓ میں ہر دن دو گھنٹے اوور ٹائم کر تا اور ان پیسوں سے تمہاری پسند کی گڑیا لاتا ۔اور تمہاری ماں راتوں کو جاگ جاگ کر اس گڑیا کے کپڑے سیتی اور تم جب صبح گڑیا اور اسکے سئے ہو ۓ کپڑے دیکھتی تھیں ۔اور خوشی سے مسکراتی تھیں ناں تو بس ہماری محنت وصول ہو جاتی تھی ۔ہم نے ان پلوں کا کبھی حساب نہیں رکھا ۔ہم کتنے بے وقوف تھے ۔ہمیں بھی ایک ایک پل کا حساب رکھنا چاہیۓ تھا ۔اور تم لوگوں سے گن گن کر اس کا بدل طلب کرنا چاہیۓ تھا ۔ہم نے نہیں کیا ۔صد افسوس ۔ہم حساب رکھتے تو آج تم سے حساب مانگ سکتے تھے ۔

وہ ٹہرے وہاں فاطمہ آگئ تھیں ۔ پانی کا گلاس لیۓ ۔ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ جبکہ وہ بڑی مضبوطی سے اپنی اولاد کے مقابل کھڑے تھے ۔

ا"اب بس کریں ۔چلیں آرام کریں ۔آپ کی طبعیت خراب ہو جائیگی۔" وہ انہیں اٹھانے لگیں۔ 

ہاں فاطمہ ۔اب آرام ہی کروں گا ۔لیکن آج ان سب سے اپنی محبتوں کا بدلہ گن گن کر لوں گا ۔ 

بولو بیٹے ۔میں نے صحیح کہا ناں ۔  حساب رکھتا یا نا رکھتا مگر قرضدار تو تم سب ہو ۔ہمارے ۔بولو بیٹے ۔کیا ہمارا قرض ادا کر سکو گے" ۔ انکی بارعب آواز پر وہ سب لرز گۓ ۔انکے سر جھک گۓ ۔ 

کوئ اولاد اپنے والدین کا حق ادا ہی  نہیں کرسکتی ۔میرے حضور کا فرمان ہے ۔غور سے سن لو

ساری عمر ماں کو اپنی پیٹھ پر گرم ریت میں چل کر اسے حج کرواۓ تب بھی ماں کی اس چیخ کا حق ادا نہیں کر سکتے جو دردذدہ میں اس سے نکلی تھی "۔ انکی آواز بھرا گئ ۔

ا"اور اب تم ہمیں اولڈ ایج ہوم  میں بھیجنا چاہتے ہو ۔ جہاں کچھ ماہانہ پیسے دے کر تم ہمارے حقوق ادا کروگے ۔واہ ۔میرے بچو  واہ ۔ "

انکی بات پر وہ سب ٹھنڈے پڑ گۓ ۔

ا"ابا جی ۔ابا جی ہمیں معاف کردیں "۔وہ سب روتے روتے باپ کے قدموں میں گر گۓ تھے ۔

سچ ہے ۔جہاں والدین اپنی اولاد پر انمول محبت لٹاتے ہیں 

وہاں 

اولاد والدین پر اپنی  محبت گن گن کر  لٹاتی ہے ۔

دونوں کی محبت میں کتنا فرق ہو تا ہے ۔

یہ ہر دور کا المیہ ہے ۔

ختم شد 

Naazneen firdose 

Mohammedia colony vattepally

H/No 8-15-17/3/1

Hyderabad (Telangana)

500053


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ