اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر
اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی ایک بچے کی فریاد
"اسکول "ہم پیدا کیا ہوۓ ہمارے کان میں تیرا ہی ذکر پڑتا رہا ۔ہماری امی تھیں تو وہ اتنی پرجوش کہ بس نہیں چلتا تھا کہ جھولے میں سے سیدھا اسکول بس میں بٹھادیں۔پپا کا تو پوچھیں مت ،وہ ہر آنے جانے والے سے یہی کہہ رہے ہوتے تھے کہ" جی بس دو سال کا ہو جانے دیں پھر تو اسے شہر کے ٹاپ اسکول میں ایڈمشن ہی کرادینا ہے بس "۔اور ہم جھولا جھلتے جھلتے سوچتے کہ پتا نہیں ایسی کونسی جگہ ہے جہاں بھیجنے کے لیے ممی ،پپا اتنے بے تاب ہیں ۔ضرور کوئ اچھی جگہ ہوگی مزیدار سی،ہم منہ میں اپنا انگوٹھا چوستے چوستے سوچتے۔ اور اچھل اچھل کر اپنا بھی جوش دکھاتے ۔ہمارے جوش کا یہ عالم تھاکہ ہم آغوں آغوں کہنے کہ بجاۓ اسکوں اسکوں کرتے تھے۔(پتا نہیں ہمیں اتنا جوش دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے کونسا اسکول جاکر آینسٹاین بننا تھا ۔)
دو سال تک مسلسل ہمارے کانوں میں اسکول سے جڑی ہر معلومات انڈیل دی گئ۔"اسکول یہ ہوتا ہے اسکول وہ ہوتاہے"
۔"اسکول جانے سے بچوں کو تعلیم حاصل ہوتی ہے. انکا مستقبل سنورتا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔"
لیکن ہمیں تو یہ لگا کہ اسکول میں داخل کر مایئں اپنی جان چھڑالیتی ہیں ۔بچوں کی شرارتوں سے تنگ جو آجاتی ہیں ۔انکی یہی شکایت ہوتی ہے کہ "بچے اتنے اتنے شرارتی ہیں ناں ۔کچھ پوچھو مت" ۔اب ان کو یہ کون پوچھے کہ بچے شرارت نہیں کریں گے تو کیا بوڑھے کریں گے۔مگر نہیں انہیں بچے بلکل تہزیب یافتہ ،چاہیے ہوتے ہیں ۔کچھ شرارت نہیں ہونی چاہئے۔کسی بھی طرح کا ہلہ گلہ نہیں ہونا چاہئے۔کھلونے ٹوٹنے نہیں چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔اب کون سمجھائے انہیں کہ بچے تو بس بچے ہوتے ہیں اگر انہیں تمیز ،تہزیب آجاے تو پھر انہیں بچہ کون کہے ۔لیکن عقل کی یہ باتیں ہیں عقل والوں کو ہی سمجھ آجائیں گی۔
"اسکول ہمیں تمہارے بارے میں بات کرنی تھی بیچ میں بڑے آگۓ۔خیر بڑوں کو عادت ہوتی ہے بیچ بیچ میں آنے کی۔ہاں ہم کہہ رہے تھے کہ تم نے ہم سے ہمارا بچپن چھین لیا آزادی چھین لی۔اور ہمیں ایک قیدی کی طرح قید کرلیا۔اب تم پوچھو گے کیسے ؟ تو وہ ایسے کہ بچوں کو جونہی اسکول میں داخل کرتے ہیں. اسکول والوں کی اجارہ داری شروع ہوتی ہے بیگ سے لیکر جوتے تک اسکول سے لینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔کتابوں کی ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے ۔نوٹ بکس کا تو پوچھو مت' رول ،ان رول' کنگ سایز سے لیکر ہر سایز کے نوٹ بکس 'سٹڈی مٹیریل کے نام پر الم غلم سی بکس دی جاتی ہیں ۔ان تمام بکس ،نوٹ بکس ،ریڈرز وغیرہ کو ملاکر بیگ کا وزن آٹھ سے دس کلو تک ہو جاتا ہے ۔اورایسے بیگ نما تھیلے ہمیں روز لے جانے ہوتے ہیں۔اور اکثر اسکول تین تا چار فلور تک بنے ہوتے ہیں۔لفٹ عام طور نہیں لگائ جاتی اور اگر لگا بھی دیں تو بچوں کی سیفٹی کا بہانہ بناکر بچوں کو لفٹ سے نہیں بھیجا جاتا ۔انہیں سیڑھیاں استعمال کرنی ہوتی ہیں ۔اب تم کہو گے کہ سیڑھیاں چڑھنا صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔
"اسکول ہمیں تمہارے بارے میں بات کرنی تھی بیچ میں بڑے آگۓ۔خیر بڑوں کو عادت ہوتی ہے بیچ بیچ میں آنے کی۔ہاں ہم کہہ رہے تھے کہ تم نے ہم سے ہمارا بچپن چھین لیا آزادی چھین لی۔اور ہمیں ایک قیدی کی طرح قید کرلیا۔اب تم پوچھو گے کیسے ؟ تو وہ ایسے کہ بچوں کو جونہی اسکول میں داخل کرتے ہیں. اسکول والوں کی اجارہ داری شروع ہوتی ہے بیگ سے لیکر جوتے تک اسکول سے لینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔کتابوں کی ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے ۔نوٹ بکس کا تو پوچھو مت' رول ،ان رول' کنگ سایز سے لیکر ہر سایز کے نوٹ بکس 'سٹڈی مٹیریل کے نام پر الم غلم سی بکس دی جاتی ہیں ۔ان تمام بکس ،نوٹ بکس ،ریڈرز وغیرہ کو ملاکر بیگ کا وزن آٹھ سے دس کلو تک ہو جاتا ہے ۔اورایسے بیگ نما تھیلے ہمیں روز لے جانے ہوتے ہیں۔اور اکثر اسکول تین تا چار فلور تک بنے ہوتے ہیں۔لفٹ عام طور نہیں لگائ جاتی اور اگر لگا بھی دیں تو بچوں کی سیفٹی کا بہانہ بناکر بچوں کو لفٹ سے نہیں بھیجا جاتا ۔انہیں سیڑھیاں استعمال کرنی ہوتی ہیں ۔اب تم کہو گے کہ سیڑھیاں چڑھنا صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔
سیڑھیاں چڑھنا اترنا صحت کے لیۓ اس وقت اچھا ہوتا ہے
جب دس کلو کا بیگ پیٹھ پر لاد کر نا چلا جائے۔سچ میں ہم لوگ دھوبی کے گدھے نظر آرہے ہوتے ہیں ۔اس طرح جاتے ہوےء۔
اس کے لئے ہماری گورنمنٹ نے کچھ رولز بناۓ تو ہیں مگر اسکول میں کوئی فالو نہیں کرتا۔گورنمنٹ کے رولز تو اسکول کے باہر بھی کوئی فالو نہیں کرتا۔اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔اب کیا بتایئں شرم آتی ہے۔
اگر اسکول کی فیس کی بات کی جائے تو تم اسکول ایک دوکان بن گئے ہو۔اور تمہارا بزنس سب سے زیادہ منافع بخش بن گیاہے۔اگر کسی کو کچھ نہ سو جھا تو اسکول کھول لیا۔اور بارگیننگ شروع،"آپ کتنے لاکھ دے سکتے ہیں سے بات شروع ہوتی ہے۔اور آپ کے لئے سیٹ نہیں والا راگ تک " ختم۔ فیس کو لیکر کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا ہاں تعلیم کے میعار کو بڑی آسانی سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایسے اساتزہ کو اپائنٹ کیا جاتا ہے جو خود ابھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔انکا پڑھانے کا انداز تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔وہ صرف پڑھاتے ہیں سمجھاتے نہیں اور بچوں کو بھی اتناہی چاہیے ہوتا ہے کہ سر صرف جلدی جلدی پریڈ ختم کریں اور بچوں کی جان بخش دیں ۔ٹیچرز میں صبر و تحمل کا فقدان ہو تا ہے وہ اپنے گھر یلو الجھنوں سے پریشان رہتے ہیں اور اپنا سارا غصہ ہم بچوں پر نکالتے رہتے ہیں۔
اسکول فیسس سے لیکر اسکول ہوم ورک تک ہم کیا کیا بتائیں تیرے بارے میں ،تو نے تو ہماری ناک میں دم کردیا ہے۔ہوم ورک اس طرح دیا جاتا ہے جیسے کہ ہم آکٹوپس ہوں اور ہمارے آٹھ ہاتھ ہوں۔ ہر مضمون کی ٹیچر فرداً فرداً اپنا ہوم ورک ہمیں سونپتی ہے۔اور ہم بچوں کو سمجھ نہیں آتا ہے کہ کسکا ہوم ورک کریں اور کسکا چھوڑیں ۔آخر ہیں تو دو ہی ہاتھ ہمارے ۔ایک طرف ہوم ورک دیا جاتا ہے تو دوسری جانب ٹسٹ بھی رکھا ہوتا ہے ۔آخر پڑھیں تو پڑھیں کیسے،آخر ہم پر رحم کیوں نہیں کرتے آپ لوگ،معصوم بچہ پر اتنا ظلم،کب باز آئنگے ؟
" اسکول!" اے اسکول"! تو نے صرف ہمیں ہی نہیں ہمارے بڑوں پر بھی دباؤ بنایا ہوا ہے ۔یہاں ہمارے بڑوں کی بھی نیندیں اڑ گئیں ہیں انہیں بھی ایک پل کا چین نصیب نہیں ہے۔۔سب کی نیند سب کا آرام چین تو تو نے اڑادیا ہے ۔اور اب بڑے معصوم بنتے ہو۔اسکول کے پروجکٹ کا تو ہم بھول ہی گئے تھےوہ پروجکٹ ہمارا ہوتا ہے اور کرنا ہمارے والدین کو ہوتا ہے۔اس کو بھی آپس میں برابر برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔سارے خاندان کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے جیسے ابو حساب یعنی میتھس دیکھ لینگےاور سائنس چاچا دیکھینگے۔
اگر اسکول کی فیس کی بات کی جائے تو تم اسکول ایک دوکان بن گئے ہو۔اور تمہارا بزنس سب سے زیادہ منافع بخش بن گیاہے۔اگر کسی کو کچھ نہ سو جھا تو اسکول کھول لیا۔اور بارگیننگ شروع،"آپ کتنے لاکھ دے سکتے ہیں سے بات شروع ہوتی ہے۔اور آپ کے لئے سیٹ نہیں والا راگ تک " ختم۔ فیس کو لیکر کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا ہاں تعلیم کے میعار کو بڑی آسانی سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایسے اساتزہ کو اپائنٹ کیا جاتا ہے جو خود ابھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔انکا پڑھانے کا انداز تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔وہ صرف پڑھاتے ہیں سمجھاتے نہیں اور بچوں کو بھی اتناہی چاہیے ہوتا ہے کہ سر صرف جلدی جلدی پریڈ ختم کریں اور بچوں کی جان بخش دیں ۔ٹیچرز میں صبر و تحمل کا فقدان ہو تا ہے وہ اپنے گھر یلو الجھنوں سے پریشان رہتے ہیں اور اپنا سارا غصہ ہم بچوں پر نکالتے رہتے ہیں۔
اسکول فیسس سے لیکر اسکول ہوم ورک تک ہم کیا کیا بتائیں تیرے بارے میں ،تو نے تو ہماری ناک میں دم کردیا ہے۔ہوم ورک اس طرح دیا جاتا ہے جیسے کہ ہم آکٹوپس ہوں اور ہمارے آٹھ ہاتھ ہوں۔ ہر مضمون کی ٹیچر فرداً فرداً اپنا ہوم ورک ہمیں سونپتی ہے۔اور ہم بچوں کو سمجھ نہیں آتا ہے کہ کسکا ہوم ورک کریں اور کسکا چھوڑیں ۔آخر ہیں تو دو ہی ہاتھ ہمارے ۔ایک طرف ہوم ورک دیا جاتا ہے تو دوسری جانب ٹسٹ بھی رکھا ہوتا ہے ۔آخر پڑھیں تو پڑھیں کیسے،آخر ہم پر رحم کیوں نہیں کرتے آپ لوگ،معصوم بچہ پر اتنا ظلم،کب باز آئنگے ؟
" اسکول!" اے اسکول"! تو نے صرف ہمیں ہی نہیں ہمارے بڑوں پر بھی دباؤ بنایا ہوا ہے ۔یہاں ہمارے بڑوں کی بھی نیندیں اڑ گئیں ہیں انہیں بھی ایک پل کا چین نصیب نہیں ہے۔۔سب کی نیند سب کا آرام چین تو تو نے اڑادیا ہے ۔اور اب بڑے معصوم بنتے ہو۔اسکول کے پروجکٹ کا تو ہم بھول ہی گئے تھےوہ پروجکٹ ہمارا ہوتا ہے اور کرنا ہمارے والدین کو ہوتا ہے۔اس کو بھی آپس میں برابر برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔سارے خاندان کی ڈیوٹی لگ جاتی ہے جیسے ابو حساب یعنی میتھس دیکھ لینگےاور سائنس چاچا دیکھینگے۔
ہندی مما دیکھنگی اور "اردو" دادا ابو' پھپھو آرٹ ورک کرینگی اور خالہ ڈیکو ریٹ. باقی بچا کام پرنٹ لانا زیراکس لانا اسکے لیے تو ہم رہتے ہیں ناں۔اتنے تمام لوگ ملکر یعنی ٹیم ورک کرتے ہیں تب جاکر اسکول کے پروجکٹ ختم ہوتے ہیں اللہ اللہ کر ہم جاکر سب مٹ کر آتے ہیں۔
اس لیے" اے اسکول !"کہنا سننا تو لگا رہے گا۔ شکایتیں ہیں کہ ختم نہیں ہو رہیں ہیں ۔تو نے ہم سے ہماری آزادی چھینی،ہمارا بچپن چھینا،ہمیں علم سے بیزار کر دیا ،ہمارا وجود اسکول ،ہوم ورک پروجکٹس،اور ٹسٹ میں پھنس گیا جسکی وجہ سے ہم کھل کر سانس بھی نہیں لے پارہے۔اب اتناہی پوچھنا ہے کہ" اے اسکول! بچے کی جان لوگے کیا؟"
ختم شد
اس لیے" اے اسکول !"کہنا سننا تو لگا رہے گا۔ شکایتیں ہیں کہ ختم نہیں ہو رہیں ہیں ۔تو نے ہم سے ہماری آزادی چھینی،ہمارا بچپن چھینا،ہمیں علم سے بیزار کر دیا ،ہمارا وجود اسکول ،ہوم ورک پروجکٹس،اور ٹسٹ میں پھنس گیا جسکی وجہ سے ہم کھل کر سانس بھی نہیں لے پارہے۔اب اتناہی پوچھنا ہے کہ" اے اسکول! بچے کی جان لوگے کیا؟"
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں