شام کے اداس ساۓ  ہاسپٹل کی دیواروں پر آہستہ آہستہ سے اتر رہے تھے ۔ اور وہ ہاسپٹل کے ایک کمرے میں اپنے نو مولود بیٹے کو سینے سے لگاۓ لیٹی تھی ۔ ملگجے اندھیرے میں  ،دواخانے کی مخصوص مہک سے بھرے اس کمرے میں اپنی ہی سوچوں میں غلطاں،لیکن  ذہن بار بار نواز کی طرف جا رہا تھا ۔ 

 ‌"وہ کیوں نہیں آیا ۔ آج تیسرا دن ہو گیا اور وہ نہیں آیا ۔‌صرف پہلے دن بیٹے کی خبر سن کر خوشی سے نہال چلاآ یا تھا ۔ اور اس کے بعد پلٹ کرخبر تک نہیں لی تھی ۔۔‌

"کیا صرف وہ ماں  بنی تھی ۔ نواز باپ نہیں بنا۔ تھا ۔ ۔ یا شاید نواز کبھی باپ بنا ہی نہیں تھا ۔ وہ صرف اس ننھے وجود کو دنیا میں لانے کا سبب بنا تھا ۔ اور شاید اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔ وہ کرب سے سوچ کر رہ گئ ۔‌ وہ جانتی تھی کہ وہ کیوں نہیں آیا ۔ اور یہی بات اسے گہری تکلیف میں مبتلا کر رہی تھی ۔‌

اس کے ساتھ ہی صبح ڈیوٹی پر آئ نرس کی ان باتوں پر اس کا  دھیان گیا جو وہ اس کے کمرے میں آکر کرکر چکی تھی  ۔ بلکہ وہ چلا رہی تھی ۔‌۔

"اے اماں ۔ آج تیسرا دن ہو گیا اور تم نے اب تک ہاسپٹل کا بل پے نہیں کیا ۔پتا نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں ۔ ارے جب ہاسپٹل ادا کرنے کے پیسے نہیں تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو ۔ اور اگر کرنا ہی ہے تو ہاسپٹل میں کیوں آتے ہو وہیں کسی سڑک پر ۔۔۔۔ اور وہ اس سے آگے کچھ سوچ نا پائ ۔‌

بےاختیار اس نے اپنے لب اضطراری انداز میں کاٹے ۔ 

"یا الللہ ۔ کل تک پیسوں کا انتظام نا ہو ا تو یہ لوگ پتا نہیں کیا کریں ۔ کتنی بے عزتی کریں" ۔ وہ سوچ کر کانپ کر رہ گئ ۔ 

"نواز کو تو پرواہ نہیں تھی ۔ مگر وہ  کٹ کر مر رہی تھی ۔ آج پورے دن میں کئی بار نرس نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا ۔اور ان باتوں کو یاد کر کے وہ اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کرنے لگی تھی لیکن آنسو پھر  بھی اس کی آنکھوں سے گرتے رہے ۔‌اتنے میں اس کا  بچہ کلبلایا اور رونے لگ گیا ۔ وہ بھوکا تھا ۔ 

"ہاۓ میرا بچہ ۔۔۔اس نے جلدی سے بچہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔ 

دن بھر ہاسپٹل کے عملہ کی لعن طعن سننے کے بعد اس کے پاس سوچنے کو کیا رہ گیا تھا وہ تو بچہ کی طرف سے غافل ہو گئ تھی ۔اور بس نواز کی بے حسی لاپرواہی اور سنگدلی پرکڑھتے ہی گذری تھی ۔ کؤ ئ باپ اتنا لاپرواہ غیر ذمہ دار ہو سکتا ہے ۔  بیوی بچہ ہاسپٹل میں لاوارثوں کی طرح پڑے ہیں اور اس کو پرواہ تک نہیں ۔‌اگر رقم کا انتظام نا ہو سکا تو کیا ہوا ۔وہ اگر دیکھے تو سہی ، آکر ٹہرے تو سہی ۔ مگر نہیں ۔ وہ یہاں کیوں آکر میرا تماشا دیکھے گا ۔ اسے تو صرف میرا تماشا لگانا تھا ہر بار کی طرح ہر سال کی طرح ۔ زندگی تو بس مذاق بن گئ ہے ۔ وہ سوچتے سوچتے کڑھنے لگی ۔‌

اب تک امی کے پاس بھی سب کو پتا چل گیا ہو گا کہ میں ہاسپٹل میں پڑی ہوں اور ڈسچارج ہو نے کے لیۓ پیسے نہیں ہیں ۔وہاں   بھابھیاں سب مجھ پر ہنس رہی ہوں گی کہ کیسا شوہر ہے ۔ اپنی بیوی بچہ کو دواخانہ میں لاوارثوں ک طرح چھوڑا ہوا ہے اور سب میری  زندگی پر ہنس رہے ہوں گے ۔‌

ابھی وہ کچھ سوچتی اس کا بچہ پھر سے رونے  لگا تھا ۔ اسے شاید بھوک لگی تھی ۔ 

اللہ تعالی نے نوزائیدہ بچے کی غذا ماں کے سینے میں یوں اتاری ہے کہ وہ کبھی اس کے لیۓ کسی کی محتاج نہیں رہتی ۔ نا اسے اس کے لیۓ کسی کو رقم دینی ہو تی ہے ۔‌یہ کتنی بڑی نعمت ہے ماں اور بچہ کے لیۓ ۔ یہ آج اس نے جانا تھا ۔ وہ اپنے بچوں  کو سینے سے لگاۓ سوچوں میں غلطاں تھی ۔ 

"یا اللہ ۔ دنیا والے ہر چیز کی قیمت لیتے ہیں مگر تو مفت دیتا ہے اور بہترین بھی ۔ایک بچہ کے لیۓ اس دودھ کی قیمت کیا ہو سکتی ہے یہ کوئ نہیں بتا سکتا ۔ ہاں مگر بہت قیمتی اور انمول ہوتا ہے ماں کا دودھ جو رب اتارتا ہے ان ماؤں کے سینے میں "۔ وہ اب بچہ کو دودھ پلاتے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔‌

 دوسرے دن ماں کے ساتھ وہ  گھر واپس آ ئ تھی ۔ ہاسپٹل کے بل اس نے اپنی کان کی سونے کی  بالیاں بیچ کر بھردیئۓ تھے ۔ ۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو سارا گھر الٹ پلٹ پڑا تھا نواز کا کہیں اتا پتا نہیں تھا ۔ ماں نے صفائ کی سب بچوں کے لیے کھانا اور اس کا پر ہیزی کھانا بنا یا اور پھر گھر کی مکمل  صفائ میں لگ گئ تھیں ۔ بچوں کے اپنے مسائل تھے ۔ فیض کا اسکول یونیفارم خریدنا تھا اسے روز اسکول والے گھر بھیج رہے تھے جبکہ دوسرا رمیض کی کتابیں اور فیس تھیں ۔   گھر کا کرایہ بھی ادا کرنا تھا ۔ وہ اب ان روپیوں کا حساب کر رہی تھی اور ان میں کونسا ضروری اور کونسا پہلے یہ طۓ کرنے میں اسے رات ہو گئ تھی ۔ اور سونے کی بالیوں سے جو رقم اسے حاصل ہو ئ تھی ان خرچوں میں وہ بھی کم پڑتی دکھای دے رہی تھی ۔ 



 ******

 گورے چٹے نواز کو ابا نے پسند کیا تھا۔ ۔وہ ایک آٹو ڈرائیور تھا ۔ گھر تو نہیں تھا مگر اس کی خوب صورتی اور شکل و صورت نے یہاں ابا امی کو کہیں اور دیکھنے ہی نہیں دیا تھا ۔ وہ خود بھی نواز کی خوش شکلی پر اتراتی رہی  تھی کئ دنوں تک ۔ لیکن جیسے جیسے دن مہینے سال گذرتے گۓ اسے نواز کی اندر کی وہ خامیاں نظر آنے لگی تھیں جو  اوائل شادی کے دنوں میں نظرنہیں آتی تھیں ۔ 

وہ ایک سست اور کاہل مرد تھا ۔‌اسے کمانے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی ۔ وہ آرام طلب تھا اور شادی کے بعد بھی اسکی آرام طلبی عروج پر رہی ۔‌یکے بعد دیگرے اولاد ہو تی رہی گھر کے اخراجات بڑھنے لگے لیکن نواز کی چال نا بدلی ۔ وہ ابھی بھی فلمی ہیرو کی طرح نک سک سے تیار ہوتا ۔دوستوں کے ساتھ تاش کی محفلیں جماتا ۔ خوب کھانا پینا ہو تا اور پھر گھر واپس آتا ۔ جس دن کام پر جانا ہوتا جاتا ورنہ آٹو کسی سایہ دار درخت کے تلے لگاۓ وہ خود سوجاتا ۔ گھر میں چاہے فاقہ ہوں اسے پرواہ نہیں ہو تی تھی ۔ہاسپٹل سے آنے کے بعد ثمینہ نے سوچ لیا تھا کہ وہ خود کچھ کرے گی ۔ اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کا اس کے پاس یہی ایک حل ہو سکتا تھا ۔ ماں کا دودھ بچہ کو دو سال تک پلانا جایز ہے اس کے بعد وہ بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ورنہ ایک ماں شاید اپنا خون پلا کر بھی بچوں کو زندہ رکھتی ۔  اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے نواز نہیں بننا جو خود تو بوجھ کی طرح ہو تے ہی ہیں۔ دوسروں کی زندگی بھی اجیرن کر دیتے ہیں .


ثمینہ خود ساتویں پڑھی ہوئ تھی ۔ اس کے بعد شادی ہوئ اور وہ گھریلو ذمہ داریوں میں لگی رہی ۔ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھی ورنہ کسی اسکول میں ٹیچر بن جاتی ۔ آخر اس نے محلے میں کسی خاتون سے کارچوب ڈالنا سیکھ لیا ۔ ساڑیوں ر کارچوب ڈالنا  ایک ہمیشہ چلنے والا کام تھا ۔ اور ہاتھ سے کیۓ ہوۓ ساڑیوں پر کام کی اپنی ڈیمانڈ تھی ۔ اس نے دو تین مہینے میں کارچوب سیکھ لیا اور خود کارچوب کا تختہ روزآنہ کی بنیاد پر کرایہ پر حاصل کیا اور اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے وہ کارچوب ڈالنے لگی ۔ 

کارچوب ۔۔۔ساڑیوں پر خوش نما رنگ برنگی موتی دھاگے سے بنایا جانے والا کام ۔۔۔اور وہ اب اپنی زندگی میں یوں رنگ بھر رہی تھی ۔ لیکن اس سے اس کے چہرے کے رنگ پھیکے پڑتے جا رہے تھے ۔ لیکن 

اسے اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کے چہرے کے رنگ پھیکے پڑ رہے ہیں ۔   یا اس کی زندگی بے رنگ ہو تی جا رہی ہے ۔ ۔ اس کی زندگی تو ساڑی ،کارچوب کے تختہ کے بیچ  گھوم رہی تھی ۔ لیکن اس سے یہ فرق  ضرور پڑا تھا ۔کہ  اب گھر میں روٹی کی پکار نہیں ہوتی تھی ۔ کئ ضرورتیں از خود پوری ہو رہی تھیں ۔ بچے اسکول جا رہے تھے ان کی فیس دی جا رہی تھی اور یونیفارم بیگ سب کا انتظام  ہو رہا تھا ۔ " آج بچے پڑھ رہے ہیں کل وہی سب سنبھالیں گے زندگی کو ۔" وہ ایک امید کے ساتھ ساڑی پر موتی سوئ کی مدد سے  چبھوتی ۔" اتنی محنت کر رہی ہوں ۔ کل پڑھ لکھ کر قابل بنیں گے یہ کیا کم ہے ۔ اس نے کندن پھول میں‌ٹانکا ۔ لیکن یہ ایک خوش فہمی ثابت ہو ئ ۔ 

اس دن فیض اور تمام بچے روتے روتے گھر کو آۓ تھے ۔ 

“”ارے  کیا ہوا ۔ رو کیوں رہے ہو ۔ اور یہ بن وقت اسکول سے کیوں  آۓ ۔ "

"امی ۔ میرے اسکول کی فیس نہیں بھری نا ۔ اس لیۓ   ٹیچر نے گھر بھیج دیا ۔ "

فیض روتے روتے بولا ۔

"فیس نہیں بھری ۔ لیکن میں نے تمہارے بابا کو فیس دی تھی بھرنے کے لیۓ۔ ۔" اس کی آواز میں حیرت ابھری تھی ۔ 

"امی ۔ بابا نے فیس نہیں بھری بلکہ انہوں نے اسکول میں کسی کی بھی فیس نہیں بھری ۔" اس بات پر ثمینہ کا دل بیٹھ گیا ۔ اس نے کتنی محنت سے وہ پیسے جمع کیۓ تھے ۔ دن رات لگا کر اس نے چار ساڑیاں مکمل کی تھیں ۔ جس سے اس کی آنکھیں اب مسلسل دکھتی رہی تھیں ۔ لیکن بچوں کی فیس کا سوچ کر وہ محنت کر رہی تھی اور یہ شخص ۔۔۔۔ پتا نہیں کیسا دل تھا ۔ بے غیرت سا ۔ کبھی جو احساس ہو اس کی محنت کا۔ ۔ اب تو وہ بچوں کو دس پندرہ دن گھر میں بٹھا رکھنے کے اور کر بھی کیا سکتی تھی ۔‌ساری محنت اکارت گئ تھی ۔  کارچوب کی سوئ اپنے ہاتھ میں لیۓ وہ کتنی دیر یونہی بیٹھی رہی تھی ۔کہ اسی عالم میں سوئ انگلی میں چبھ گئ تھی ۔ کبھی کبھی آپ کو پتا نہیں لگتا کہ کونسی چیز کہاں چبھی ہے ۔

اپنے تھکے ماندے وجود کے ساتھ وہ اندر آیا تھا ۔ گھرکا دروازہ کھلا تھا ۔ آنگن میں  گڈو سنی پنکی تینوں لڑ رہے تھے ۔ آنگن کے ایک کنارے جھوٹے برتنوں کا ڈھیر تھا ۔ پتا نہیں یہ نگینہ کہاں گئ۔ وہ سوچتے وہاں موجود واحد کرسی جو بو سیدہ ہو چکی تھی ۔ بیٹھتے ہو ۓ سوچ رہا تھا ۔ 

بچوں کو پانی لانے کا کہنے سے خود اٹھ کر پینا آسان لگتا تھا ۔ کیونکہ وہاں پھر ایک نئ  بحث شروع ہو جاتی تھی ۔‌ وہ خود ہی باورچی خانہ میں گیا تھا ۔‌اور ایک گلاس میں پانی ڈال کر وہیں کھڑے کھڑے غٹا غٹ پانی  چڑھا لیا تھا ۔‌

فریج کھول کر دیکھا کہ شاید کچھ کھانےکو مل جاۓ مگر وہاں صرف انڈے  رکھے ہوۓ تھے ۔ 

وہ ٹھنڈی سانس کے ساتھ باہر آیا تھا ۔ بچوں کی لڑائ ابھی ختم نہیں ہو ئ تھی ۔ 

"ماں کہاں گئ ہے تم لوگوں کی ۔" وہ کچھ دیر ان کی لڑائ ختم ہو نے کاانتظار کرتا رہا جو کہ بعد میں اسے فضول لگا ۔

 “ امی ۔تو بازار گئ ہیں ۔ کپڑے لانے تھے" ۔ گڈو نے اپنے بھائ کو ایک مکا مار کر اسے جواب دیا تھا ۔ 

“  پتا نہیں کیا حرص ہے اس عورت کی ۔ کپڑے کپڑے کپڑے ۔ یا پھر زیور ۔ بس ساری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔ کبھی گھر ٹک کر نا بیٹھی ۔اور تو ۔۔پڑھنا نہیں ہے ۔جو لڑائ لے کر بیٹھی ہو ۔ جاؤ ۔ اب دونوں پہلے بیگ لے کر پڑھنے بیٹھو ۔ زندگی اجیرن ہی کر دی ہے ۔ پتا نہیں کیا  گناہ کیا تھا جو ۔۔۔"۔وہ بات ادھوری چھوڑ کر واپس کرسی پر بیٹھا تھا ۔ گڈو پر اس ڈانٹ کا کچھ خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔ جبکہ پنکی اب ان لوگوں سے دور ہٹ کر اس کے کرسی کے قریب آ کر بیٹھ گئ تھی ۔  


زندگی عذاب ہو تی ہے یا بنا دی جاتی ہے. جو بھی تھا ۔اس کی بیوی نے اس کی زندگی عذاب بنا ئ ہوئ تھی۔‌ ہر ماہ اس کی جتنی تنخواہ ہوتی اس سے دو گنا خرچہ وہ کر ڈالتی تھی ۔ اس کو خاندانی تقاریب ہوں تو  بہترین‌مہنگی ساڑیاں تحفےمیں دینے کی عادت تھی ۔‌چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی عادت نہیں تھی ۔ اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس مہنگای کے دور میں وہ جو دو وقت کی روٹی کما کر لاتا ہے عزت کا کھلاتا ہے تو وہ اس پر شکر کرنے کے بجاۓ شکایتوں کا انبار کیوں  لگا دیتی تھی ۔‌

ان ہی پے در پے تنگی حالات بے شمار خرچے اور مہنگائ کی مار نے اسے وقت سے پہلے بو ڑھا کر دیا تھا دل کی بیماری الگ لگ گئ تھی ۔ لیکن اس کی بیوی کو اس کا احساس ہی نہیں  تھا ۔‌وہ دن بہ دن کمزور  ہو ۓ جا  رہا تھا ۔۔‌اسے کھانسی  رہنے لگی تھی ‌۔مگر نگینہ تو نجانے کیسا کھوٹا نگینہ تھی وہ  اپنےاپنے اندازمیں جینے والی بے حس  نگینہ ۔۔۔۔اس نے کبھی یہ سوچا نہیں تھا کہ وہ جو خرچوں کا ایک انبار اپنے شوہر پر ہر ماہ ڈال رہی ہے اس سے اس کے شوہر کی گردن جھکی جا رہی ہے ‌۔ اس کے سینۂ پر بار تھا۔ ۔۔مگر اسے معلوم ہوتا تو وہ یوں پیرا سائیٹ نا بنتی وہ ایک پیراسا ئت تھی ۔‌آدمی کے جسم‌سے اس کا خون چوسنے والا پیراسائیٹ ۔۔۔۔۔

ثمینہ کی زندگی کارچوب کارچوب کی سوئ اور اس کے تختہ کے گرد گھوم رہی تھی ۔ اس کے بالوں میں سفیدی آ گئ تھی ۔ مسلسل ذہنی اذیت کشمکش زندگی اور محنت نے ان بیس سالوں میں اس کی صحت پر بہت برا اثر ڈالا تھا ۔ اس کا چہرہ اور جسم اب پچاس سالہ بوڑھی عورت میں ڈھل چکا تھا ۔ ذیابطیس کی وجہہ سے اس کے گردے خراب ہو چکے تھے ۔ اور دل پر بھی اس کے مضر اثرات ہو ۓ تھے ۔ وہ اب مکمل بیماریوں میں گھر کر اپنی شخصیت کھو بیٹھی تھی جبکہ نواز اب بھی بیس بائیس سالہ جوان کم عمر لڑکے کی طرح چاق و چوبند تھا ۔ اس کی صحت تو دن بہ دن نکھرتی جا رہی تھی ۔ ثمینہ بوڑھی ہو رہی تھی مگر جوان بچوں کے ساتھ نے نواز کو ایک ایسی ہمت دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو بھی جوان ہی سمجھ رہا تھا ۔ اب ثمینہ کارچوب ڈالنے کے بھی قابل نہیں رہی تھی ۔ اس کا کارچوب کا تختہ اس سے جھن گیا مگر اس کے بدلہ میں اس کے ہاتھوں میں ڈھیر ساری گولیاں کا ڈبہ آگیا تھا جن میں سے وہ تینوں وقت مختلف قسم کی  تین‌چار گولیاں پھانک رہی ہو تی تھی ۔ اور پھر بھی اس کی۔ صحت کو جو نقصان پہنچ چکا تھا وہ تو نا قابل تلافی تھا۔

 ********** ۔ 


مسلسل قرضوں کو ادا کرتے ریاض اب ادھ موا ہو گیا تھا ۔ اوور ٹایم کر تے اس کی زندگی کے جانے کتنے سال یونہی نکل گۓ تھے ۔ وہ ان سالوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں گنتا تو دیکھتا کتنا خسارا ہوا ہے زندگی کا یا اس کی خوشیوں کا ۔اب اس کی زندگی دواخانہ ڈاکٹر کے بیچ ہی چکر کاٹ رہی تھی ۔ اس کے دل میں کئ بلاک ہو چکے تھے ۔ ڈاکٹرز کہتے تھے کہ یہ ٹنشن سے ہو تے ہیں ۔ آپ خوش رہا کریں اور وہ سوچتا خوش ۔۔۔۔۔ خوشی تو کہیں کھو گى تھی ۔ اب تو بس فکریں تھیں جو اسے اور اس کے وجود کو دیمک کی طرح کھاۓ جا رہی تھیں ۔‌اس نے اب حساب رکھنا چھوڑ دیا تھا ۔‌نگینہ نے اپنی روش  نہیں چھوڑی تھی ۔ وہ آ ج بھی اپنے مائیکہ اور اپنے رشتہ داروں پر پیسہ لٹا کر خوش رہتی ۔ شوہر اندر اندر کس آگ میں جل رہا ہے اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا نا احساس کیا تھا ۔‌یہ پیراسائیٹ احساس ہی تو نہیں کرتے ۔ انہیں اپنی پڑی ہو تی ہے ۔ اپنی بقا کی خاطر یہ دوسروں کی زندگیوں سے سارا کچھ نچوڑ لیتے ہیں ۔ اتنا کہ وہ جینے کے بھی قابل نہیں رہتے۔ ہمارے اطراف ہمارے گھروں میں  ہمارے معاشرہ میں ایسے کئ پیراسائٹ ہیں جو دوسروں کی زندگی سے اپنی حیات تلاش کرتے ہیں ۔ انہیں دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں اور ایسے پیراسائیٹ سے چھٹکارا بھی نہیں مل سکتا ۔کیونکہ وہ ایک جونک کی طرح چمٹے ہو تے ہیں ۔‌ایسے رشتے جسے دامن بھی نہیں چھڑا سکتے دور بھی جا نہیں سکتے ان کے ساتھ ان ہی کے سنگ زندگی گذارنا ہو تا ہے ۔ وہ ہمارے وجود کو کھاتے رہتے ہیں اورہم  کچھ  نہیں کر سکتے ۔ کبھی یہ  شوہر تو کبھی یہ  بیوی کہیں ساس تو کبھی  بہو ۔ باپ تو کبھی بیٹا ۔ کوئ ایسا پیراسائیٹ ہر ایک کی زندگی میں ہوتا ہے یا تو اس کی زندگی میں کوئ پیراسائیٹ ہو تا ہے یا وہ خود پیرا سایٹ ہوتا ہے ۔‌









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔

آن لائن پیسے کمانا