مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
اب ہمارا قافلہ مدینہ کی طرف رواں دواں تھا ۔ مکہ کے سات دن پلک جھپکتے گذر گۓ اور وہاں سے رخصت لینے کا غم ساتھ تھا تو آقا کی روضہ کی زیارت کا شوق نے اس غم کو کم کر دیا تھا ۔
ہاں میں اب مدینہ جا رہی ہوں ۔ اپنے آقا کے شہر ۔۔
وہ مدینہ جہاں میرے آقا نے اپنی عمر کے بقیہ سال یہیں گذارے اور یہاں چپہ چپہ میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ یادیں ہیں جو کسی بھی عاشق رسول کے لیۓ کسی خزانہ سے کم نہیں ۔
مدینہ تیری معطر فضاؤں کو سلام
زبان پر درود شریف کا نذرانہ لیۓ ہم مدینہ شہر میں داخل ہوۓ ۔چونکہ رات ہو گئ تھی اس لیۓ دوسرے دن علی الصباح زیارت کرنے کا ارادہ کیا ۔صبچ تازہ دم غسل اور نۓ کپڑے پہن کر ہی روضہ پر حاضری ہو ۔
دوسرے دن جب مسجد نبوی میں ہم نے قدم رکھا تو یوں لگا صدیوں کی پیاس آج بجھ گئ ۔
سبز گنبد کا نظارہ ایسا تھا کہ نظریں بس اس پر ہی ٹکی رہیں ۔ یہ گنبد خضرا ہے ۔وہی گنبد خذرا جسے ہم اکثر نعتوں کے ویڈیوز وغیرہ میں دیکھا کرتے تھے ۔جس کی زیارت کی تڑپ نجانے کتنے برسوں کی تھی ۔
آج ہمارے سامنے تھا اور ہم لب بستہ اس گنبد کی خوبصورتی سے مسحور ہیں ۔
الصلوات واسلام علیک یا رسول االلہ
بے ساختہ لبوں سے نکلا ۔اور چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ آئ ۔
ہاں ۔میں نے بھی بالکل روضہ کے مقابل ٹہر کر سلام پیش کیا ۔ کتنی حسرت تھی اس شہر کو آنے کی ۔ آقا کے حضور سلام پیش کرنے کی ۔
لیکن ابھی تو صرف سلام ہوا زیارت ابھی باقی تھی ۔ مجھے روضہ کی زیارت کرنی تھی اور آقا کے حضور درود و سلام پیش کرنا تھا ۔
لیکن پتا چلا کہ خواتین کو بعد فجر اور بعد عشا ہی روضہ کی زیارت کا شرف بخشا جاتا ہے ۔ ہم جب وہاں تھے ظہر کا وقت تھا ۔ اس لیۓ عشا تک یہاں ہم رک نہیں سکے اور دوسرے دن فجر آنے کا دل میں ارادہ کیۓ مایوس سے لوٹ آۓ ۔لیکن فجر میں موسم اتنا سرد تھا کہ پھر عشا پر ٹل گیا جانا ۔ اور اب دل تھا کہ ماتم کناں کہ۔۔۔دو دن ہی ہو گۓ اور ابھی تک روضہ کو نا جا سکے ۔ اب عشا کو مکمل تیاری کے ساتھ گۓ کہ چاہے جو ہو ۔ اب نہیں رکنا۔ جیسے ہی گارڈز نے اندر جانے کا حکم دیا ہم سب دیوانہ وار بھاگے ۔ بلکہ سب خواتین ہی ۔ جیسے جیسے آگے بڑھتے جا رہے تھے دل کی تڑپ بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔ شوق کا عالم ہی سوا تھا ۔ لیکن ایک مقام تک جانے کے بعد تمام خواتین کو روک دیا گیا کہ بس یہیں تک جانے کی اجازت ہے ۔ اور ہم بس ایک حسرت سے ان در و دیوار کو تکنے لگے جہاں خوبصورت نقش و نگار تھے لیکن ایک پردہ لگا یا گیا تھا خواتین کو اس پردہ کے پار جانے کی اجازت ہی نہیں ۔
ساری خواتین وہیں نماز پڑھنے لگیں ۔ سب کو یہی قلق تھا کہ ہم کچھ بھی نا دیکھ سکے ۔ہمارے لیۓ یہ پہلا موقعہ تھا اس لیۓ ہمیں کچھ بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہم نے کیا دیکھا اور کیا نہیں دیکھا ۔ اور ہم کہاں تک پہنچے ۔سب کی طرح بس نماز وغیرہ پڑھ لی ۔درود وسلام پیش کیۓ اور واپس آکۓ۔ لیکن دل کو قرار نہیں تھا ایسا لگ رہا تھا ملاقات ادھوری رہی ۔ سلام ادھورا رہا ۔ ایک تشنگی سی رہ گئ۔
اس لیۓ ایک دن کے وقفہ کے بعد جب فجر ہوئ میں نے بیٹے کو لیا اور نکل پڑی ۔مجھے روضہ تک جانا تھا ۔ گیٹ نمبر 32 کا معلوم ہوا کہ وہاں سے خواتینکو جانے کی اجازت ہے ۔اور اس گیٹ پر پہنچ گۓ ۔
بیٹے نے کہا ۔میںآپ کا آدھے گھنٹہ تک ویٹ کروں گا۔ پھر ہوٹل چلا جاؤں گا ۔ آپ واپس آجانا ۔
میں نے اس کا فون لیا اور اسے تیقن بھی دیا کہ بے فکر ہو کر جاۓ۔ ۔میںآجاوں گی ۔ اور فون بھی کروں گی ۔
جیسے ہی گارڈز نے اندر جانے کا اشارہ کیا سب کی طرح میں بھی اندر کی جانب بڑھنے لگی ۔
جیسے جیسے فاصلہ کم ہو رہا تھا میرے آنسو بہانا شروع ہو گۓ تھے ۔
میں اکیلی تھی اس لیۓ مجھے کسی کے کھونے کا بچھڑنے کا ڈر بھی نہیں تھا ۔ میں بس قدم بڑھاتی جا رہی تھی ۔
ہاں ۔سرکا ر نے بلایا تھا تو جا رہی تھی ۔
ایک دن پہلے جہاں پر روکا گیا تھا آج اس سے آگے بھی جانے کی اجازت تھی اس لیۓ دل کے دھڑکنے کی رفتار دو گنی تھی ۔
میں روضہ کے قریب اور قریب جا رہی ہوں ۔ یہ احساس خوشی کا تھا ۔
میں روضہ پر جا رہی ہوں ۔
دھڑک اٹھے گا یہ دل یا دھڑکنا بھول جائیگا ۔
دل بسمل کا اس در پر تماشا ہم بھی دیکھیں گے ۔
ہاں ۔ دل بسمل تو تڑپ رہا تھا ۔ مچل رہا تھا ۔ میں اس مقام پر تھی جہاں سنہری جالیاں تھیں گو کہ پردہ تھا۔ ۔مگر اس بار حضور تھے ۔ ہاں وہ تھے ۔
اب کہاں آنسوؤں کو قرار آۓ کہاں دل کو چین آۓ ۔
روتے روتے ہی سلام پیش کیا ۔
اور کسی طرح نماز ادا کی ۔ریاض الجنتہ کے بارے میں سنا تھا تو گمان ہوا کہ یہی ریاض الجنتہ ہے ۔
کسی کو پوچھا تو ان خاتون نے کہا کہ " ہم تو اسے ہی ریاض الجنتہ کہتے ہیں "
اگر وہ ریاض الجنتہ نہیں تھا تب بھی وہ جنت کا ہی ایک ٹکڑا تھا کہ وہاں کیا مدینہ کے چپہ چپہ میں حضور کے قدم مبارک پڑے ہیں تو میرے لیۓ وہ ریاض الجنتہ بن گیا ۔
نماز ہوئ ۔ درود و سلام ہوا ۔ اور دل ٹہر گیا تو میسیج کیا کہ اب واپس آ رہی ہوں ۔ روضہ تک حاضری ہو گئ ۔
ااس وقت ساری دنیا جہاں کی دولت مل جانے والی خوشی میرے چہرے پر تھی ۔ وہ خوشی کبھی بھلائ نہیں جا سکتی ۔ وہ میرے آقا کے در کی پہلی حاضری تھی ۔جو مجھے میسر آئ۔ دل اب جا کے مطمین ہوا تھا ورنہ ایک تشنگی سی محسوس ہوئ تھی ۔
جاری
ریاض الجنتہ اور نسک ایپ
ابھی ہم انڈیا ہی میں تھے تو اس ایپ کے بارے میں پتا چلا ۔ کہ اب ریاض الجنتہ کی حاضری اس ایپ کے تھرو ہو گی ۔ یعنی آپ کو یہ ایپ اپنے میبائل فون میں انسٹال کرنا ہو گا اور پھر رجسٹریشن مکمل کر نا ہو گا ۔جس میں ہمارا پاسپورٹ نمبر ویزا وغیرہ کا اندارج ہو گا تب وہاں سے ریاض الجنتہ کی بکنگ ہو گی ۔ تو ایپ تو ڈال لیا لیکن یہ سوچ کر کہ مکہ میں ہی یہ ایپ ایکٹو ہو گا ۔ہم نے اس کو ویسے ہی رکھا ۔ اور مکہ میں عمرہ طواف کی ادا کرنے کے جوش میں اس ایپ کو بھول گۓ ۔ ہو ش تب آیا جب مکہ سے روانگی دو دن رہ گئ ۔ اب اس ایپ کو کھول رہے ہیں بار بار ۔مگر ہر بار ناٹ اویلیبل بتا نے لگا ۔ جبکہ وہیں کچھ خواتیننے بتایا کہ ان کی بکنگ ہو گئ ہے ۔ یہ سن کر جو اداسی چھا گئ کہ رونے کا دل کرنے لگا ۔ اب مدینہ بھی آگۓ اور اب تک ہماری بکنگ نا ہو سکی تھی ۔ جبکہ بیٹے نے اپنی اور والد کی بکنگ کر لی ۔ ان کو مل گیا اور ہم خواتین خالی ہاتھ رہ گئیں ۔
اب کیا کریں ۔
اتنی بڑی سعادت سے محرومی نے دل میں طوفان مچا دیا ۔ نند صاحبہ زیادہ اداس ہوئیں ۔ وہ بار بار فون چیک کرتیں ایپ کھولیں اور پھر مایوس ۔ جبکہ میں ۔۔۔۔۔ہاںشاید حضور کی اجازت نا ہو گی ۔اور پھر مدینہ آگئ زیارت روضہ ہوئ اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیۓ ۔اور شاید اپنی اتنی اوقات ہی نہیں ۔ ہاں ۔۔۔اس کی اہل نا ہو گی تب ہی نہیں ہو رہا ۔اسی کشمکش میں دعا تک نا کی ۔ہاں اتنا سوچ لیا تھا حضور کے در کی دہلیز پکڑ کر بیٹھ جاؤں گی ۔شاید کبھی قسمت یاور ہو جاۓ۔
یوں دن گذر رہے تھے یہاں تک کہ اب صرف تین دن تھے ہمارے پاس ۔۔اور ایپ تھا کہ ناٹ اویلیبل بتاۓ جا رہا تھا ۔سب کی صورتیں ایسی اتر گئ تھیں کہ ماتم والی کیفیت ہو گئ ۔ لیکن پھر بعد ظہر منگل کو نند نے ایپ کھولا اور انہیں سبز والی لائٹ نظر آئ ۔ اور وہ بھاگم بھاگ میرے بیٹے کے پاس گئیں کہ جلدی سے بک کرو ۔ اور ان کی سیٹ بک ہوئ ۔ پھر وہیں بیٹی کے بھی فون پر دیکھا تو اسے بھی مل گیا ۔ میں آخری بچی تھی اور دل میں ایسی دھکڑ پکڑ کہ ملے گا یا نہیں ۔ یا دھتکار دی جاؤں گی ۔ لیکن میرا بھی ہو گیا اور یوں ذرا سی دیر میں ماحول بدل گیا ۔ ہم سب کی خوشی دیکھنے لائق تھی ۔ آخر کار ہمیں اجازت مل گئ تھی ریاض الجنتہ میں قدم رکھنے کی ۔۔اس ریاض الجنتہ میں جسے جنت کا ٹکڑا کہتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالی بروز قیامت اس حصہ کو جنت میں محفوظ کر دے گا ۔
جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے کا وقت تھا ہم سب کا اور ہم سب وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے ۔ ٹھیک نو بجے انہوں نے قطار میں ٹہری خواتین کو اندر بھیجنا شروع کیا ۔ اندر جانے تک بھی ہم سب کو آدھا گھنٹہ لگا ۔ وہ ایک ایک کر کے بھیج رہے تھے ۔ اور زیادہ ہجوم نا ہو اس لیۓ محدود تعداد میں خواتین کو بھیجا جا رہا تھا ۔
ہم جب اندر چلے گۓ اس وقت تک ساڑھے نو ہو چکے تھے ۔جب اندر گۓ تب پتا چلا کہ میں جہاں سرکار کے روضہ کی زیارت کو گئ تھی وہ اس حصہ کا پچھلا حصہ تھا جبکہ یہ روضہ کے سامنے کا حصہ ہے ۔ یہ بالکل روضہ سے لگ کر ہے ۔ اور سجاوٹ اور آرائش ایسی ہے کہ آنکھیں دنگ رہ جائیں ۔اب ہم نماز کے لیۓ ریاض الجنتہ میں بیٹھے تھے ۔
یا اللہ ۔۔۔ہمکہاں تھے اس حصہ میں جہاں آقا کے قدم مبارک پڑے تھے۔ ۔
ہم یہاں اپنے قدموں سے آۓ تھے جبکہ یہ جگہ تو سر کے بل آنے کی تھی ۔جاں سے گذر جانے کی تھی ۔
کہاں پہنچے اے زائرو
اب یہاں سے کہاں جائیں ۔یہیں تو امان پائیں گے ۔
یہیں تو دلی مراد ملے گی ۔
یہیں تو فیصلے ہوں گے ۔
یہیں تو شفاعت کا پروانہ ملے گا ۔
اب یہاں سے کہاں جائیں ۔
نفل نماز پڑھ لی ۔اور وہیں اللہ کے حضور سجدہ میں روتے روتے دعائیں مانگیں ۔
نند اور بیٹی تب تک اٹھنے کا اشارہ کر رہی تھیں ۔انکی نماز دعا ہو گئ تھی ۔
ابھی کچھ دیر نماز کی حالت میں ہی رہتیں ۔ کیوں اتنی جلد نماز ختم کی ۔ بھلا یہاں سے اٹھنے کو جی کرتا ہے کیا۔ ان دونوں کو افسوس سے دیکھا کیونکہ ۔
چیلے بہانے کر کے کچھ دیر اور رکنے کا دل تھا ۔
کیوں اتنی جلد جائیں ۔تھوڑا حیلہ کرلیں اور کچھ اور وقت مل جاۓ اپنے آقا کے روضہ سے قریب رہنے کا ۔
یہ ریاض الجنتہ تھا ۔یہاں آنے کی تڑپ ہو تی ہے اور جانے پر دل غم ذدہ ۔
نماز ختم ہو تے ہی وہ لوگ رکنے نہیں دیتے ۔فورا جانے کا کہہ دیتے ہیں ۔ اور یوں سنہری جالیوں کے پیچھے اس عظیم ہستی کو درود و سلام بھیجتے رخصت لی ۔
وہ عظیم ہستی جواپنی امت کے لیۓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی تھی ۔ دعائیں کرتی تھی ۔
وہ عظیم ہستی جس نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں ۔
وہ عظیم ہستی جس کے لبوں پر ہمیشہ میری امت میری امت کی صدا ہو تی تھی ۔
وہ میرے آقا حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ہستی جو صرف اچھوں کو نہیں سمیٹتی بلکہ بروں کو بھی گلے لگاتی ہے ۔ تسلی دیتی ہے ۔کہ وہ ان کے ساتھ ہیں ۔ کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی ۔ ہمیشہ اپنی امت پرمہربان رہتی ہے ۔
ایسی عظیم ہستی پر کروڑوں درود لاکھوں سلام
صلی اللہ علی محمد صل اللہ علیہ وسلم
جاری
چکوال کی شازیہ ۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ چکوال کی شازیہ کون ہے جو میری تحریر کا حصہ ہے ۔چلیۓ اس کے بارے میں بتاتی چلوں ۔
یہ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی ہے اور ہم ظہر پڑھ کر بیٹھے تھے ۔ اور اب عصر اور مغرب پڑھ کر واپس جانے کا ارادہ تھا ۔ عصر کی اذانیں ہو تے ہی مسجد بھرنا شروع ہو گئ تھی اور ہم چونکہ پہلے ہی بیٹھے ہوۓ تھے تو جگہ کا مسئلہ نہیں تھا ۔خواتینآتی جارہی تھیں اور صفیں بنتی جا رہی تھیں ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری مسجد خواتین سے بھر گئ ۔ ہم نے عصر پڑھ لی اور موبائل نکالا اور قرآن پڑھنا شروع کیا۔ جب آدھا پون گھنٹہ ہوا تو میں نے یونہی آس پاس نظریں دوڑائیں ۔ ۔ تو قریب ایک سانولی سے لڑکی کو بیٹھا پایا جو خود بھی موبایل میں قرآن پڑھ رہی تھی ۔میں نے بات شروع کی ۔
کہ وہ کہاں کی ہے ۔
اس نے پاکستان چکوال کہا ۔
اور اس نے بتایا کہ وہ گاؤں سے چالیس عورتوں کے گروپ کے ساتھ آئ ہے جو نری ان پڑھ ہیں اور ان سب کو سنبھالنا اس کی ہی ذمہ داری ہے ۔ وہ اتنے پیارے نقوش کی مالک تھی سانولا رنگ ۔ستواں ناک چھوٹا سا دہانہ اور جادوئ آنکھیں ۔۔اور جب وہ بات کرتے کرتے اپنے سر کو تھوڑا سا خم دیکر اپنی بات مکمل کرتی ۔۔تو وہ اسکی خوبصورت حرکت میری نظروں میں آگئ ۔ بلکہ ہمیشہ کے لیۓ رہ گئ ۔وہ بات مکمل کرنے کے بجاۓ سر کو خم دیتی اور مجھے اس کی بات سمجھ آتی ۔
میں اس کی بات لہجہ سمجھ رہی تھی جبکہ اسے میرا لہجہ سمجھنے کچھ مشکل پیش آ رہی تھی شاید ۔ لہجہ حیدرآبادی جو تھا ۔ لیکن پھر بھی بات کرتے پتا بھی نہیں چلا ۔ وہ اپنے بھائ چچا کے ساتھ آئ تھی ۔ بی اے پاس تھی ۔ میں نے فون پر بیٹے کی تصویر دکھائ تو اس نے بھی اپنے بھائ کی تصویر دکھائ اور یوں ہی کچھ دیر بات کی اور پھر مغرب ہوگئ تو ہم سب نماز پڑھ کر وہاں سے نکل آۓ ۔ اور اس گر بڑ میں میں اس کی تصویر لینا ڈھول گئ حالانکہ ارادہ تھا ۔اب واپس ہو ٹل آگۓ ۔ اس کے بعد ایک دو بار مسجد نبوی گۓ تو میں نے اسے یوں ہی ہجوم میں ڈھونڈنا چاہا مگر یہ ایک نا ممکن سی بات تھی ۔ کہ وہ دوبارہ مجھے وہیں ملتی ۔ کیونکہ بھیڑ بہت ہو تی ہے اور ایسی بھیڑ میں کسی مخصوص شخص کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
اس لیۓ وہ مجھے یاد بھی آئ تو ایک افسوس کی ساتھ کہ میں اس کی تصویر یا سلفی نا لے سکی ۔اب اس کا ملنا نا ممکن سا تھا ۔ اب دو دن میں واپس جانا تھا ۔ اس لیۓ میں بیٹی دوبارہ عصر کی نماز کو مسجد آے تھے ۔ عصر پڑھی اور تسبیح لے کر پڑھنے بیٹھے کہ مغرب پڑھ کر جانے کا سوچا تھا ۔
تسبیح پڑھ رہے تھے کہ کسی نے کھجور کی ٹرے سامنے کی ۔ یہاں اور مکہ میں لوگ یوں کھانے پینے کی چیزیں ثواب کی نیت سے بانٹتے رہتے ہیں ۔
میں نے ایک کھجور لیا اور شکرا کہتے اپنی نظر اٹھائ تو وہاں شازیہ تھی ۔
شازیہ ۔ میں حیرت کے مارے چیخ پڑی ۔ اتنی غیر متوقع خوشی تھی ۔
وہ صرف مسکرا کر آگے بڑھ گئ ۔ اور کچھ دیر بعد وہ دوبارہ واپس آئ ۔
اف ۔ میں تمہیں کتنا یاد کر رہی تھی ۔ میں نے اسے دیکھ کر کہا اور پھر جلدی سے فون نکالا اور اس کے ساتھ سلفی لی ۔ ۔
پھر کھڑے کھڑے ہی دو باتیں کیں ۔ہم مدینہ سے جدہ ایر پورٹ کو نکلنے والے تھے جبکہ وہ لوگ وداعی طواف کے لیۓ مکہ جا رہے تھے ۔ وہ پھر چلی گئ ۔لیکن پھر پندرہ منٹ بعد آئ ۔
میں اب کچھ دیر میں جا رہی ہوں ۔ آپ سے وداع لینے آئ ہوں ۔ وہ مجھ سے مخاطب تھی ۔
ہم وداعی طواف کے لیۓ مکہ جائیں گے اور پھر وہاں سے ۔۔۔۔" اس نے پھر اپنے سر کو خم دیا یعنی وہاں سے واپس پاکستان چلے جائیں گے ۔
اچھا ۔ کیا لیا تم نے ۔ کچھ خریدا " میں نے پوچھا ۔
" ہممم ۔ انگوٹھی لی ۔ اس نے مسکرا کر انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
اچھا ۔ عبایہ بھی دیکھنے تھے اچھے ہیں ۔ " میں نے اپنی فطری عادت سے مجبور ہو کر مشورہ دیا اور وہ صرف سر ہلا کر رہ گئ ۔
میری بیٹی حیران کہ دوستی بھی کرلی اور دوست ملنے بھی آ گئ ۔ واہ ۔۔۔کیا کہنے ۔۔۔اسے حیرت سی تھی ۔
وہ چلی گئ ۔لیکن وہ جہاں بیٹھی تھی میں نے اسے دیکھ لیا تھا اس لیۓ جب ہم واپس ہو ٹل کے لیۓ نکلے تو جاتے جاتے میں نے اسے اپنی سبز تسبیح جو اس وقت میرے ہاتھ میں تھی اس کے ہاتھ میں تھمادی ۔ یہ میری طرف سے اس کے لیۓ تحفہ تھا ۔ کیونکہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں تھا ۔
دعا میں یاد رکھنا شازیہ ۔ " میں نے اس سے ہاتھ ملایا اور ہم رخصت ہو لیۓ ۔ اور یوں وہ چکوال کی شازیہ میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیۓ محفوظ رہ گئ ۔
کچھ لوگ یونہی آپ کی زندگی میں آتے ہیں ۔ اور اپنی یاد ہمارے دلوں میں بسا جاتے ہیں ۔ نا کچھ رشتہ ہوتا ہے ان سے کچھ غرض ۔یہ بے لوث انمول جذبےہمیشہ ہمارے دل میں رہتے ہیں ۔
میرے خیال میں یہ جو جو لوگ ہمیں یونہی ملتے ہیں وہ یونہی نہیں ملتے ۔ اسے اللہ نے ہمیں ملانا ہوتا ہے ۔ وہ کچھ اچھی یاد سبق یا تجربہ دے کر چلے جاتے ہیں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ ملنا بے مقصد نہیں ہوتا ۔ کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ اللہ کو بتانا ہو تا ہے یا پھر ایک صرف یاد ۔۔۔
ایسا کہ انہیں کھونے سے ڈر لگتا ہے ۔ دل چاہتا ہے یہ ہمارے اطراف ہمیشہ رہیں ۔ اور یہ بالکل بے ضرر سی خواہشیں ہو تی ہیں ۔ اس میں ہماری کوئ غرض بھی نہیں ہو تی ۔ اور میری مجبوری یہ ہے کہ میں لوگوں کو بھول نہیں پاتی۔ ۔وہ مجھے ہمیشہ یاد رہتے ہیں ۔ مجھے تو اپنی کے جی کلاس کی سہلیاں اپنے ناموں اور معصوم چہرے کے ساتھ اب تک یاد ہیں ۔ گوکہ وہ اب نانی دادی ساس سمدھنیں بن گئ ہو ں گی لیکن میں نے انہیں جیسے دیکھا تھا وہ ویسے ہی میرے ذہن میں موجود ہیں ۔😊😀
تو کہاں بھلاۓ جاتے ہیں لوگ ۔وہ تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ دلوں میں رہ جاتے ہیں ۔ اور دل دعا کو رہتا ہے کہ وہ جہاں رہیں خوش رہیں ۔ ہنستے بستے رہیں ۔ اسی طرح چکوال کی شازیہ میرے فون میں میرے دل میں ہمیشہ کے لیۓ بس گئ ہے ۔ اگلے پانچ دس سال تک وہ رہے گی ۔ اس کے بعد شاید یاد دھندلی ہو ۔۔مگر امید ہے کہ وہ جب بھی وہ تسبیح پڑھے گی مجھے یاد کرے گی ۔اور میں بس اتنا ہی چاہتی ہوں ۔
اگلی تحریر مدینہ سے روانگی والی ہو گی ۔ اور شاید آخری ہو ۔اس لیۓ ضرور پڑھیں اور کمنٹ کرنا نا بھو لیں ۔
************
میں مدینہ اور ستون حنانہ
اب مدینہ سے بھی رخصت لینے کا وقت آ گیا تھا ۔ اور دل بے حد اداس تھا ۔ دل چاہ رہا تھا کہ وقت رک جاۓ اور ہم یہیں رہ جائیں ۔کیونکہ مدینہ سے رخصتی آسان کام نہیں ۔
مکہ اور مدینہ کا تقابلی جائزہ لیں تو مکہ ایک رعب و ہیبت والا شہر ہے کہ یہاں ایک قسم کا ڈر و خوف سا محسوس ہو تا ہے اور جب مدینہ کی بات کریں تو ایک ٹھنڈک سی محسوس ہو تی ہے ۔
فضائیں بھی معطر میرے آقا کے شہر کی مٹی بھی معطر ۔۔
سکون و عافیت کا شہر ہے مدینہ ۔ یہاں بھاگم بھاگ نہیں ۔ اںطمینان قلب و تسکین قلب کا شہر ہے ۔ یہاں بے قراروں کو قرار ملتا ہے ۔یہاں بے چین دلوں کو چین ملتا ہے ۔
اب جب وداع لینے کا وقت آیا اور میں سرکار کے روضہ پر پہنچی میرے دل کی ایک ہی صدا تھی ایک ہی پکار تھی کہ مجھے دنیا میں واپس نہیں جانا ۔مجھے دنیا میں واپس نہیں جانا ۔
جب ایک ستونکے قریب ٹہر کر میں نے دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ تو اس وقت میرے اطراف کا منظر سب دھندلا ہو گیا ۔ اور وہاں صرف میں اور میرے آقا رہ گۓ ۔
اور میں روتے روتے ستون حنانہ بن گئ۔وہ کھجور کا تنا جس سے ٹیک لگا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ وغیرہ دیا کرتے تھے ۔تو جب دوسرا لکڑی کا منبر بنایا گیا تو وہ کھجور کا تنا رو تے روتے ہچکیںوں پر آگیآ کہ حضور سے دوری اس کے لیے نا قابل برداشت ہو گئ تھی اور وہ زور زور سے رونے لگا ۔یہاں تک کہ اس کے رونے کی آوازیں مسجد میں موجود صحابیوں نے بھی سنیں ۔ حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے اس کھجور کے تنے کو گلے لگایا اور اس کے کان میں کچھ کہا اور وہ خاموش ہو گیا ۔ بعد میں حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے صحابیوں کے پوچھنے پر بتایا کہ وہ میرے فراق میں رو رہا تھا ۔ میں نے اسے تسلی دی کہ وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ اس لیۓ وہ خاموش ہو گیا ۔
وہ اونٹ کا بچہ جو اپنی ماں کے لیۓ روۓ "حنانہ" کہلاتا ہے ۔ اور وہ کھجور کا تنا اسی طرح رو رہا تھا تو اسی لیۓ اس کا نام "استوانہ حنانہ "پڑ گیا ۔
امیں زیارت رسول کو آئ تھی اور رو رہی تھی ۔ میرے لیۓ یہ جدائ بہت شاق تھی ۔ میں بار بار بس یہی کہہ رہی تھی مجھے دنیا میں واپس نہیں جانا ۔ اگر واپس بھیجنا تھا تو بلایا کیوں ۔ بلاۓ تو واپس نا بھیجیں ۔ اپنے قدموں میں کچھ جگہ دے دیں ۔میرا بھی شمار ان خوش نصیبوں میں ہو جاۓ جن کے نماز جنازے مسجد نبوی میں پڑھاۓ جاتے ہیں ۔ اور جو جنت بقیع میں دفن ہو تے ہیں ۔
اور یوں لگا کہ میں روتے روتے ستون حنانہ بن گئ۔۔
کتنا خوش نصیب تھا وہ کھجور کا تنا جسے حضور کی شفقت میسر آئ ۔ان کی قربت نصیب ہو ئ ۔اور وہ ہمیشہ کے لیۓ حضور کے ساتھ رہے گا ۔ تو میں کیوں نہیں بنوں ستون حنانہ ۔۔۔مجھے بھی حضور سے دوری منظور نہیں ۔مجھے بھی واپس نہیں جانا اس دنیا میں جہاں اب میرے لیۓ کوئ کشش نہیں ۔ بلایا تو کیوں بلایا اور واپس بھیج رہے ہیں تو کیوں ۔۔
لیکن ۔۔۔۔ کچھ فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ مجھے جانا تھا واپس تو جانا تھا بلایا تھا یہ بھی بہت تھا ۔ لیکن ۔۔پھر وہی شرط لگانے والی عادت ۔اب جا رہی ہوں لیکن اگلی بار آؤں گی نا تو واپس نہیں جاؤں گی ۔ کیونکہ مجھے عرفات چاہیۓ ۔ مذدلفہ چاہیۓ ۔ منی چاہیۓ ۔ اگلی بار آؤں گی تو واپس نا جانے کے لیۓ ۔ میرے آقا ۔بھرم رکھ لینا میری خواہش کا ۔ میرے جذبہ کا ۔آخر میں وہ جذبہ ہی تو کام آتا ہے ۔ وہ جذبہ ہی کام آئیگا ۔
یوں بہت سارے وعدے وعید کرتے ہوۓ واپس آئ ہوں ۔
جب مدینہ سے نکل رہی تھی اور ڈرائور نے گاڑی موڑنا شروع کی اور روضہ سے دور ہونے لگے تو نعت سنتے سنتے روتے روتے واپس نکلے ۔ایساا لگ رہا تھا دل یہیں رک جاۓ گا ۔آخر واپس ہی جا رہی ہوں ۔ دنیا میں ۔ روضہ سے دور ہو تی گاڑی دل پر قیامت توڑ رہی تھی اور میں رو رہی تھی کہ مجھے دنیا میں واپس نہیں جانا ۔ مجھے دنیا میں واپس نہیں جانا ۔ اور اللہ پر اور حضور صلی االلہ علیہ وسلم پر اتنا یقین ہے کہ وہ میری خواہش کو رد نہیں کریں گے ۔بس اسی یقین کے ساتھ واپس آگئ ہوں ۔
یوں یہ سفر اختتام پذیر ہوا ۔ اور یوں دو مبارک شہروں کی زیارت کر کے واپس آگۓ۔ مکہ میں ایک دن ٹورز والوں نے غار حرا ،جبل رحمت عرفات کا میدان منی وغیرہ کی زیارت کروائ ۔
غار حرا کی اونچائ دیکھ کر حیرت سے گنگ رہ گۓ ۔وہاں سا کر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم مہینوں اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ اس کی اونچائ سے لگا کہ وہاں جانے کے بعد دنیا سے تقریبا کٹ جاتا ہے انسان ۔ تو حضور اس لیۓو ہاں جا کر عبادت کیا کرتے تھے ۔ اور حضرت خدیجہ وہاں جا کر کھانا پہنچایا کرتی تھیں اور کھانا بھی کیا کھجور یا ایک پیالہ ستو ۔۔جو کئ کئ دن چلتا ۔ ہاۓ اس اونچے پہاڑ پر چڑھ کر حضرت خدیجہ کھانا پہنچاتی تھیں اور ایک ہم ہیں ہم بے انتہا سہولتوں کے ہو تے شکوہ شکایت کرتے رہتے ہیں ۔شوہروں سے شکوے کرتے رہتے ہیں یہ نہیں وہ نہیں ۔ کھانا کیسے بنائیں۔ وغیرہ ۔
دین کے لیۓ کیسی کسی مشقتیں جھیلیں ہوں گی ۔ اس غار کو مکہ کی آب و ہوا کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ صرف پڑھ کر کبھی اندازہ نہیں لگا سکتے تھی ۔ غار حرا کی بارے میں پڑھا تھا لیکن جب دیکھا تو سمجھ آیا کہ کیا تھا ۔اور جبل رحمت وغیرہ جس کے دامن میں ٹہر کر حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ دیا تھا ۔ تو بلا کی گرمی تھی ۔ سخت دھوپ میں کھڑے ہو کر حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے وہ خطبہ دیا تھا جبکہ ان کی اونٹنی گرمی سے بے حال ہو کر دو بار بیٹھ گئ تھی ۔ اور یہ خطبہ ساڑھے تین گھنٹے تک چلا تھا ۔ اور ہم معتدل موسم تھا تب بھی دس منٹ سے زیادہ دھوپ برداشت نہیں کر پارہے تھے ۔ 😥 اور ہمارے آقا نے اپنا آخری خطبہمسلسل تینگھنٹے کھڑے ہو کر دیا تھا ۔ ۔ اپنی امت کے لیۓ ۔ اپنی امت کو نصیحتیں کی تھیں ۔ کیا ہم ان نصیحتوں کو ان احکام کو کبھی غور سے پڑھا بھی ہے ۔ جو ہمارے آقا نے آخری خطبہ میں دی تھیں ۔
اپنی زندگی سے کچھ وقت نکالیںاور ان احکام پر بھی نظر ڈالیں جو ہمارے آقا نے آخری خطبہ میں دی تھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں یہی ہمارے آقا سے محبت کی دلیل ہے ۔
ختم شد
آ
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں