جانا کہاں ہے ۔
حیدرآباد ایک بڑا شہر ہے ۔ اتنا بڑا کہ آپ آسانی سے ایک شہر میں کئ شہر گھوم سکتے ہیں ۔ اب ہم یہاں رہ تو سالوں سے ہیں لیکن ہماری تساہل پسندی کہ یہاں کے راستے گلی کوچے سے چنداں واقف نہیں ۔ اس میں ایک وجہہ میاں کے ساتھ ہمیشہ گاڑی پر ٹنگے جانے کی بھی ہے جس کی وجہہ سے راستے یاد نہیں رہتے ۔ گلیاں بھول جاتے ہیں ۔ ایک گلی سے آتے ہیں اور اکثر دوسری گلی میں جا نکلتے ہیں۔ اور اب حیران کہ کہاں آگۓ ۔
اب آپ کہیں گے کہ کس نے کہا تھا ہمیشہ گاڑی پر ہی جاؤ ۔تو کبھی کبھار یونہی پیدل یا آٹو میں بھی جایا جا سکتا ہے ۔ تو جناب جا تو سکتے تھے مگر کیوں جائیں ۔جب آپ کے پاس سہولت ہے تو کیوں جائیں آٹو رکشے کے دھکے کھانے ۔ تو یوں سالوں گذرنے کے باوجود اپنے گھر سے چار مینار تک کا راستہ ہی یاد رہا ۔ اس کے آگے بس اندازے لگاتے جاتے ہیں ۔ بیٹا ذہین ہے وہ راستہ یاد نہیں رکھتا سیدھا گوگل میپ لگا لیتا ہے ۔ اور جہاں جانا ہو وہاں چلا جاتا ہے ۔اس کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کے دور میں راستے گلیاں یاد رکھنا نری بیوقوفی ہے ۔
ہم کہتے ہیں کہ بیٹے کبھی گوگل بھی دھوکہ دے جاتا ہے ۔ رہبر بنتے بنتے رہزن بھی بن جاتا ہے یہ گوگل ۔اس پر بھروسہ نا کرو۔ ۔ خود پر کرو ۔ مگر اسے گوگل پر خود سے زیادہ یقین ہےاور ہمیں یقین ہے کہ گوگل کبھی نا کبھی اس کا یہ یقین توڑ دے گا لیکن تب تک۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔
یہ تو خیر بیٹے کی بات تھی لیکن ہم اپنی بات کر رہے تھے ۔ دراصل ہمیں چار مینار سے آگے جانا تھا ۔ اور شیرنگ آٹو سے جانا نہیں چاہ رہے تھے۔ اس لیے میاں کو پوچھا کہ ہمیں فلاں دوکان جا نا ہے تو ہمیں کیا کہنا چاہیۓ آٹو لینے کے لیۓ ۔۔
انہوں نے کہا" میر عالم منڈی کہہ دو ۔ آٹو والے چھوڑ دیں گے "۔ اور ہم منڈی یاد کرتے بیٹی کو لیۓ نکل پڑے آٹو کے سفر کے لیے ۔
اب جو پہلا آٹو ملا ۔ اس نے پوچھا ۔
کہاں جانا ہے ۔
منڈی ...میر عالم منڈی ۔ ہم نے پراعتماد لہجہ میں کہا ۔
"کونسی سائیڈ والی" ۔ اس نے یہ پوچھ کر ہمارا اعتماد متزلزل کر دیا ۔
" مطلب۔بھئ جو مندی ہے وہاں جانا ہے "۔
ہم نےمری مری آواز میں کہا ۔
"جی ۔ لیکن کونسی جانب والی منڈی جانا ہے آپ کو" ۔ اس نے شرافت سے پوچھا اور ہم الجھن کا شکار اسے دیکھتے رہ گۓ۔
اف ۔ یہ تو پوچھا ہی نہیں ۔ کس جانب جانا ہے ۔
ہم دل ہی دل میں کڑھتے دوسرے آٹو والے کے پاس گۓ ۔
اس کا بھی وہی سوال ۔
"جانا کہاں ہے ۔ "
ہم نے بیٹی کو دیکھا ۔ وہ ہنسنے لگی ۔ اسے پتا تھا ہم کنفیوز ہو چکے ہیں ۔
منڈی ۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے دہرایا ۔ ۔ مبادا پھر سے وہی سوال نا دہرایا جاۓ
"جی ۔ بیٹھ جائۓ ۔ چھوڑ دیتا ہوں ۔ ایک سو بیس لگیں گے" ۔ اس نے ساتھ رقم بھی بتائ یہ غنیمت کہ چار سو بیس نہیں کہا اور ہم شکر مناتے بیٹھ گۓ ۔
یشکر اس بات کاکہ اس نے منڈی کی کس جانب والا سوال نہیں پوچھا ۔
اب بیٹھ تو گۓ لیکن دل میں سو سوال کہ پتا نہیں کیسے لے ثاییگا یہ آٹو والا ۔
جی اب بتائیے آپ کو جانا کہاں ہے ۔ وہ آٹو والا کچھ دیر بعد واپس آیا ۔ سیٹ پر بیٹھ کر آئینہ میں سے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔۔
"جانا کہاں ہے ۔ یا اللہ وہی تو نہیں پتا کہ جانا کہاں ہے ۔" "جی ۔ دیکھیں وہ جو چو محلہ پیالس روڈ آتی ہے نا ۔ جسے خلوت کہتے ہیں وہاں تک چھوڑ دیں ۔" ہم نے دل کڑا کر کے کہہ ہی ڈالا ۔(ڈرنے کی کوی ضرورت نہیں ۔)۔
جی ؟ آٹو والا ہمارے منہ سے خلوت روڈ سن کر شاک ہو گیا ۔
جی ۔ کیا ہوا ۔ اس کی حیرت دیکھ کر ہمیں تھوڑی حیرت ہوئ کہ وہ کیوں اتنا حیران ہو رہا ہے ۔
دیکھیں باجی ۔ آپ نے کہا میر عالم منڈی ۔ اور اب کہہ رہی ہیں خلوت روڈ آپ کو ۔ جانا کہاں ہے ۔"
"یا اللہ پھر وہی منحوس سوال ۔ جانا کہاں ہے ۔" ہم نے بیٹی کو دیکھا وہ فون میں منہ دییے برابر ہنسی جا رہی تھی ۔
آ"ارے بتاؤ نا ۔ ہمیں جانا کہاں ہے "۔ ہم نے اسے گھورا ۔
ا"ارے مجھے کیا پتا ۔ ان راستوں کا ۔ آپ کو پتا ہو نا چاہیۓ نا ۔ وہ سارا الزام ہم پر ڈال کر بیٹھ گئ ۔
ا"ارے بہن ۔ آپ شیرنگ آٹو لے لیتیں ۔ آسانی سے پیدل چلی جاتیں جہاں جانا ہو ۔ یوں پریشان نا ہو تیں ۔ آٹو والے کے قریب بیٹھے شخص نے خوامخواہ ٹانگ اڑائ۔
اس کو تو ہم بس گھور کر رہ گۓ ۔
شیرنگ آٹو لیتے تو مسئلہ ہی کچھ نہیں تھا۔ ہمیں پتا تھا کہ ہمیں کہاں جانا تھا ۔ بس اس جگہ کا نام بتانا نہیں آرہا تھا۔کیونکہ حیدرآباد میں مختلف محلے آباد ہیں ۔ جو تھوڑے فاصلے پر ہی مختلف ناموں کے ساتھ موجود ہیں ۔
۔
دیکھیں بہن ۔ آپ نے منڈی کہا پھر خلوت روڈ ۔ جبکہ دونوں کے بیچ کم از کم تین کلو میٹر کا فاصلہ ہے ۔ اگر میں آپ کو خلوت روڈ پر چھوڑوں گا تو آپ کو منڈی تک پیدل تین کلو میٹر جانا پڑے گا ۔ جب آپ پیسے دے ہی رہی ہیں تو تکلیف کیوں اتھائیں گی ۔ آپ بتا دیں آپ کو کس دوکان جانا ہے میں وہیں چھوڑ دوں گا ۔ اس آٹو والے مہربان شخص نے ایک بار پھر کہا ۔
اچھا ۔ ہاں ہمیں فلاں دوکان جانا ہے آپ ہمیں وہاں تک چھوڑ دیں بڑی مہربانی ہو گی "۔ ہمیں بالآخر عقل آگئ تھی ۔ اور ہم نے جھٹ دوکان کا نام لے دیا ۔
تو یوں بول دیتی نا باجی آپ ۔ خوامخواہ پریشان ہو رہی تھیں اور ہمیں بھی پریشان کر رہی تھیں ۔
اس نے آٹو اسٹارٹ کیا ۔ اور ہم نے چینکی سانس لی ۔ بیٹی کو ایک بار پھر ہنسی کا دورہ پڑا تھا جسے ہم نے نظر انداز کیا ۔
اس آٹو والے نے بڑی شرافت سے ہماری مطلوبہ دوکان جو کہ سڑک کے اس پار تھی ۔ وہاں آٹو روک دیا اور پھر بڑے ادب سے کہا کہ
باجی آپ یہاں سے سڑک پار کرلیں ۔ وہ رہی آپ کی دوکان ۔ اس کا رویہ ایسا تھا جیسے ہم پہلی بار حیدرآباد آۓ ہیں اور راستوں کو لیکر ۔پریشان ہیں ۔
"جی ٹھیک ہے شکریہ بھائ "۔ہم نے بیٹی کو دیکھا جو برابر اپنی ہنسی روکنے میں مصروف تھی ۔
"ممی ۔ جانا کہاں ہے" ۔
وہ ہنس رہی تھی ۔ ہنسی تو ہمیں بھی بہت آرہی تھی کہ ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ ہمیں جانا کہاں ہے ۔
اور۔ یوں ہمارا یہ سفر یادگار بن گیا ۔
ختم شد ۔
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں