کعبہ پر پڑی جب پہلی نظر

 کعبہ پر پڑی جب پہلی نظر 

کیا چیز ہے دنیا بھول گیا 

کچھ ایسی ہی کیفیات تھیں اس وقت جب میری پہلی نظر کعبہ پر پڑی تھی ۔ جب مکہ کے مقدس شہر میں ہم نے قدم رکھا تو ہم حالت احرام میں تھے ۔ عشا کا وقت تھا ۔ جب ہم سوۓ کعبہ چلے تھے ۔ زبان پر لبیک اللہم لبیک کی صدائیں تھیں اور نظریں جھکی ہوئ تھیں ۔ اور اس وقت تک جھکی  رہیں جب تک معلم صاحب نے نظریں اٹھانے کا نا کہا ۔ کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ براہ راست کعبہ پر نظر نا ڈالیں بلکہ بہت دھیرے دھیرے نظر اٹھائیں اور جب کعبہ آپ کی مکمل نظروں میں ہو تب دعا مانگ لیں ۔ 

۔۔۔۔‌اور ہم سب نے ان کے کہنے کے مطابق جب کعبہ پر پہلی نظر ڈالی تو ہم سب گروپ ممبرز رونے لگے تھے سب کی آنکھوں سے آنسو امڈ پڑے ۔ جانے کیا کیا یاد آ گیا اور کیا کچھ بھول گۓ۔ میرے لیۓ بھی یہ الگ ہی کیفیت تھی ۔ روتے روتے دعا مانگی تھی ۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ واقعی میں میں یہاں پہنچی ہوں اور کیا یہ میں ہی ہوں جو کعبہ کے سامنے بیٹھی ہوں ۔‌کعبہ کا گہرا سبز غلاف اتنا خوبصورت لگتا ہے کہ نظر ہی نہیں ٹھہرتی ۔ ایک الگ ہی رعب سا محسوس ہوتا ہے ۔ آنکھ بار بار جھک جاتی ہے احترام میں ۔ یوں نظر بھر کر دیکھنے سے بھی دل ڈرتا ہے ۔ ااتنا خوبصورت منظر کہ پلک نا جھپک سکیں اور ہیبت ایسی کہ نظر نا اٹھ سکے ۔ 

جب تک کعبہ کے سامنے دعا کر رہے تھے اور بیٹھے تھے اپنی قسمت پر خود ہی رشک آ رہا تھا اور یہ بھی کہ واقعی میں میں ہی ہوں یا کوئ اور ۔۔۔

میں یہاں تک کیسے پہنچی ۔‌کیوں پہنچی ۔ کیا سوچ کر آى ہوں ۔ کیا منہ لے کر آئ ہوں ۔‌اور کیا اپنے اعمال بتانے لائق ہیں ۔ مجرم بن کر آئ ہوں ۔ بخشش کا پروانہ لے کر جانا ہے ۔ مگر ہاتھوں میں سکت نہیں کہ دعا کے لیۓ اٹھ سکیں اور اپنی معافی طلب کروں ۔‌کیسے ۔‌کیسے کہوں کہ گناہ گار بہت ہوں ۔ اور اپنے اعمال سے  شرمندہ ہوں ۔‌ یہاں تک آ تو گئ ہوں مگر دل ہے کہ خوف کے مارے لرز رہا ہے ۔‌اس ذات باری کی شان و کبریائ کی ہیبت ایسی طاری ہے کہ زبان گنگ ہے ۔‌

میں‌نے کہا تو غفار ہے ۔ میرے گناہوں کوبخش دینا ۔ تو نے بخش دیا ۔ 

میں نے کہا تو ستار ہے میرے عیوب کی پردہ پوشی فرمانا اور تو نے پردہ پوشی فرمائ ۔

میں نے کہا تو قادر ہے ہر چیز پر اور تو نے اپنی قدرت کے جلوے دکھا دیۓ ۔

میں نے کہا تو" کن "کہے تو وہ ہو جاتی ہے اور تو نے کن فیکون کا مطلب و رمز بھی سمجھا دیا ۔ 

جو مانگا عطا کیا ۔

جو چاہا دے دیا ۔

اب اور کیا مانگوں کہ اب مانگنے کو دل نہیں کر رہا ۔ شرم آتی ہے ۔ اپنے آپ پر ۔‌کیونکہ مجھے لگتا ہے میں وہ سب ڈیزرو نہیں کرتی تھی جتنا تو نے عطا کیا ۔ 

اب کچھ بھی تمنا نہیں صرف اتنی ہی تمنا ہے کہ سب کچھ تیرے لیۓ ہی چھوڑا ہے روز محشر مجھے اکیلا مت کرنا ۔ مجھ سے نظریں نا پھیر لینا ۔ ساری دنیا مجھ سے نظریں پھیر لے مگر تو مجھ سے ناراض نا ہونا کہ مجھے تیری ناراضگی سے ڈر لگتا ہے ۔ 

تیری رضا ہی چاہیۓ تھی کل بھی آج بھی اور آگے بھی ۔ میری نیت تو جانتا ہے ۔‌مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ بس مجھے اس روز محشر رسوا مت کرنا ۔ 

دقرآن کی اس آیت پر اتنا یقین ہے کہ تو جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے کہ زندگی کا جینے کا اصول بن گیا ۔ کہ  تو جس کو عزت دینے پر آۓ تو کوئ انسان اسے عزت پانے  سے روک نہیں سکتا اور تو جسے ذلت دینے پر آۓ تو پھر کوئ  چیز اسے رسوا ہونے سے نہیں بچا سکتی ۔ اس لیۓ اے میرے پروردگار میرا بھرم رکھ لینا ۔ دنیا میں اور آخرت میں ۔‌جیسا اب تک رکھتا آیا ہے ۔ اور مجھے آخرت ہی دے دینا کہ ہمیشہ سے میری طلب وہی رہی ۔ 

ختم شد 


طواف عشق 

عمرہ یا حج دو نوں میں طواف واجب ہے ۔ اور اس کے لیۓ با وضو ہو نا ضروری ہے ۔ طواف بیت اللہ ایک عظیم سعادت ہے اور خوش نصیب ہے وہ جنہیں یہ سعادت ملتی ہے ۔ 

طواف  کرنا بھی عبادت ہے ۔ اللہ کے گھر کی زیارت کرنا اور پھر اس کا طواف کرنے سے ایسی روحانی خوشی حاصل ہو تی ہے جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

جب کعبہ پر پہلی نظر ڈالی تھی ۔ دل وہیں ٹہر گیا تھا ۔ اب طواف کرنا تھا ۔ حجر اسود کی دائیں جانب  سے پہلا طواف شروع ہو تا ہے ۔

 طواف یعنی پہلا چکر ۔۔۔ہم خدا کے گھر کا پہلا طواف کرنے جا رہے تھے.  نظروں کو ہنوز جھکایا ہوا تھا ۔ اور زبان پر لبیک اللہم لبیک کی صدائیں تھیں ۔‌ ہماری طرح اور کئ ہزار متعمرین تھے جو ہمارے ساتھ ہی یہ سعادت حاصل کر رہے تھے ۔ جن میں بوڑھے جوان معذور سب ہی تھے ۔ سب کے جوش کا عالم ایک ہی تھا اور ایک ہی جذبہ نظر آیا اس رب کے گھر کا طواف اس طرح کرنا کہ وہ راضی ہو جاۓ ۔ ہر ایک اپنی اپنی دعا کر رہا ہے ۔ کوئ تیسرا کلمہ پڑھ رہا ہے تو کوئ درود ابراھیمی ،کوئ ربنا اتنا پڑھ رہا ہے تو کوئ اپنی زبان میں دعا کر رہا ہے ۔ سب چل رہے ہیں اپنے اپنے قدم بڑھا رہے ہیں اپنے رب کے حضور ۔ کسی کو کسی سے یہاں غرض نہیں ۔ سب کو اپنی پڑی ہے ۔ یہاں کا عالم ہی ایسا ہے۔ مرد ہے تو وہ دو ان سلی چادروں کے ساتھ طواف کر رہا ہے تو وہیں خواتین ہیں جو اپنے مخصوص عبایہ پہنے خانہ کعبہ کے گرد چکر لگا رہی ہیں ۔ پہلا چکر حجر اسود یا جہاں سے سپز روشنی نظر آۓ وہاں سے شروع ہوتا ہے اور پھر طواف کرتے کرتے متعمر یا عمرہ کرنے والا یا والی جب دوبارہ اس سبز روشنی  آنے  تب متعمر اپنا ہاتھ بلند کر لیتا ہے اور 

بسم اللہ اللہ اکبر و لللہ الحمد کہتا اپنا پہلا چکر مکمل کر لیتا ہے ۔‌اس وقت سب کے ہاتھ ہوا میں‌بلند رہتے ہیں اور سب کے دل کی ایک ہی پکار ۔۔۔۔حاضر ہیں ہم ۔

اے میرے خدا ۔۔۔حاضر ہیں ہم ۔

اس طرح بندہ خانہ کعبہ ک سات چکر مکمل کر لیتا ہے اور طواف مکمل ہو تا ہے ۔‌ایک ایک چکر بندہ کی اپنے رب سے محبت کا  اظہار ہے ۔ وہ اپنے آپ سے بے گانہ اور دنیا و مافیہا سے لاپرواہ اپنے رب کے محبوب بندوں کی ادا کو اختیار کرتا ہوا اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے ۔ وہ رب جس نے اپنے محبوب بندوں کی ادا کو قیامت تک کے لیۓ محفوظ کیا اور یاد رکھا اور ہم سب کو بھی یاد رکھنے اور اس عمل کو دہرانے پر اجر و ثواب کا حقدار ٹہرایا ۔ تو وہ رب اپنے بندوں سے غافل ہو سکتا ہے ۔ 

نہیں ۔ کبھی نہیں ۔

آج بھی جو ہو ابراھیم کا سا ایمان پیدا 

آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا ۔۔


آج بھی رب کو حضرت ابراہیم جیسا سچا پکا ایمان رکھنے والے بندے سے اتنا ہی پیار ہوگا جتنا اس نے حضرت ابراہیم سے کیا ۔ آج بھی آگ  گل و گلزار بن سکتی ہے مگر شرط وہی ہے ۔بے خطر آگ میں کود جانا نتائج کی پرواہ کیۓ بغیر 

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ۔

عقل ہے محو تماشاۓ لب بام ابھی ۔


تو طواف کعبہ حضرت ابراھیم کی سنت ہے ۔ اور ہم آج تک اس سنت کو ادا کر تے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں حضرت ابراھیم سا ایمان عطا کرے ۔‌اللہ پر ایسا ایمان ہو کہ کوئ ڈر و خوف باقی نا رہے ۔سود و زیاں کی پرواہ نا رہے ۔ جب ایسا عشق ہو تب معجزہ ہو نا ناممکن نہیں ۔اپنے رب سے ویسی ہی محبت کیجیۓ جیسی محبت اللہ کے نبیوں نے کی ۔ ویسا ہی گمان رکھیۓ جیسا گمان اللہ کے نبیوں نے رکھا ۔ وہ رب ہم سے بے پناہ محبت کرتا ہے ۔ وہ ہماری محبت کو کبھی ٹھکراۓ گا نہیں ۔‌وہ ویسا ہی ہو گا جیسا آپ گمان رکھتے ہیں اس لیۓ اس سے اچھا گمان رکھیں ۔ وہ بھرم رکھ لیتا ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔۔۔بس اسے سچے دل سے پکارنا سیکھ لیں ۔

آج طواف کعبہ پر چند سطر  لکھ پائ ۔ ان شا اللہ سعی پر کچھ لکھوں گی تو اپ لوڈ کر دوں گی ۔ 

غلطیوں کی نشاندھی ضرور کریں اگر کہیں کچھ غلط لکھا ہو تو کیونکہ غلطیوں کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔ 

شب بخیر۔۔









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ