چاہ زم زم اور سعی
سعی ،صفا و مروہ کے ان سات چکروں کو کہتے ہیں جو حضرت ہاجرہ علیہ السّلامنے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پیاس کو دیکھ کر پانی کے لیۓ تڑپ کر لگائ تھیں اور حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کی یہ ادا اللہ کو اتنی پسند آئ کہ قیامت تک کے لیۓ اس کو اپنے بندوں پر واجب کر دیا ۔ کہ جب بھی کوئ عمرہ یا حج کو آۓ خواہ مرد ہو یا عورت ،وہ یہ سعی لازمی کرے ۔ اس کے بغیر اللہ کو آپ کا عمرہ یا حج قبول نہیں ہو گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس واقعہ کے بارے میں آپ کو علم ہو گا کہ جب حضرت ابراھیم علیہ السّلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کو اپنے شیر خوار بیٹے کے ساتھ یہاں مکہ میں اس سنسان ویران میدان میں لا چھوڑا تو یہ بالکل صحرا تھا ۔ دور دور تک کسی درخت پودے کا نام و نشان تک نا تھا ۔ اپنے اللہ کی رضا کی خاطر وہ اپنی زوجہ اور بیٹے کو اس میدان میں چھوڑ گۓ تھے ۔ یہ بات حضرت ہاجرہ کو علم تھا کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ۔اس کا حکم ہے جسے ان کے خاوند نے پورا کیا ہے اس لیۓ زبان پر کسی بھی قسم کا شکوہ لاۓ بغیر انہوں نے اس میدان میں رہنا گوارہ کر لیا ۔ جہاں نا کوئ آدم تھا نا کوئ آدم ذاد ،نا کوئ چرند پرند ۔۔۔دور دور تک صرف میدان پہاڑ اور لق دق صحرا ۔۔۔۔
جتنے دن پانی رہا تب تک وہ اپنے بیٹے کو پانی پلاتی رہیں لیکن کب تک ۔۔۔۔آخر جمع کیا پانی ختم ہوا اور دھوپ کی شدت پیاس کی شدت سے ننھا شیر خوار رونے لگا ۔اور یہاں ایک ماں تڑپ اٹھی ۔اس نے اپنے شیرخوار کو زمین پر لٹایا اور پانی کی تلاش میں سرگرداں صفا سے مروہ پہاڑ کے چکر لگانے لگیں ۔ ۔ وہ صفا پہاڑ سے نکلتیں اور بھاگ کر مروہ تک جا پہنچتی کہ شاید کہیں پانی مل جاۓ اور ان کے بیٹے کی پیاس بجھ جاۓ۔ لیکن وہ ہر بار نا کام ہوئیں یہاں تک کہ انہوں نے سات چکر کیۓ اور دھوپ اور پیاس سے ان کے حلق میں کانٹے اگ آۓ۔ ۔وہ نڈھال اپنے بیٹے کے قریب آئیں کہ انہیں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا تھا ۔ لیکن اللہ کی شان کہ جب وہ ساتواں چکر لگا رہی تھیں یہاں حضرت اسماعیل علیہ والسلام کی ایڑیوں سے وہ چشمہ پھوٹا جسے زم زم کہتے ہیں ۔وہ پیاس کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے تھے تب ہی ان کے پیروں کے قریب یہ چشمہ پھوٹا اور جب حضرت ہاجرہ مایوس نا کام و نامراد اپنے بیٹے کے پاس آئیں تو وہاں یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہوئیں ۔اور اپنے رب کی عظمت پر سر شار بیٹے کو جلدی سے پانی پلانے لگیں ۔اور خود بھی سیر ہو کر زم زم پینے لگیں ۔لیکن پانی تھا کہ رک نہیں رہا تھا آخر وہ زم زم کہنے پر مجبور ہوئیں جس کے معنی ہی" رک جا "کے ہیں ۔جیسے ہی زم زم کہا وہ پانی رک گیا اور یوں امت مسلمہ کو زمزم جیسا عظیم تحفہ عنایت ہوا جس کے پانی سے قیامت تک امت مسلمہ فیض یاب ہو تی رہے گی ۔
جب ہم نے صفا و مروہ کی سعی کا ارادہ کیا تو سب کے ذہن میں یہی بات تھی کہ یہ کافی مشکل ہے ۔ اور سات چکر لگانے تک انسان کے پیر جواب دے جاتے ہیں کیونکہ صفا و مروہ کے درمیان کافی فاصلہ ہے ۔
خیر ۔۔ہم نے سعی کا آغاز کیا ۔ صفا کے ایک خاص مقام پر مردوں کو کچھ ہلکا سا بھاگنا ہو تا۔ ہے جو کہ اماں ہاجرہ کی سنت کریمہ ہے ۔ یہ خواتین کے لیۓ نہیں ہے صرف مردوں کو مخصوص ہے ۔جب ہم نے مردوں کو اس مقام پر بھاگتے دیکھا تو دل کا عجب حال ہو ا اور حضرت ہاجرہ کا بھاگنا یاد آیا ۔ اور رونا بھی آیا کہ ایک ماں کیسے تڑپ کر بھاگی ہو گی ۔ ہم اس صفا و مروہ کے چکر لگا رہے ہیں جہاں پیروں کے نیچے ٹھنڈے ٹائلس ماربل ہیں اور سر پر گرم آسمان, لو دیتا سورج نہیں بلکہ اے سی کی پر سکون ٹھنڈی چھاؤں ہے ۔ اور ان آسانیوں کے ساتھ ہمیں چکر لگانے ہیں ۔۔جبکہ حضرت ہاجرہ کے پیروں تلے سخت تیڑھی میڑھی کھردری زمین تھی ۔ اور سر پر تپتا سورج تھا ۔ اور فلک بوس پہاڑ تھے ۔جہاں نا انسان کا گذر تھا نا کوىئ چرند پرند ۔۔۔اور روتا بلکتا پیاس کی شدت سے بے حال جان سے پیارا بیٹا ۔۔۔وہ کیسے بھاگ رہی ہوں گی آپ تصور کر سکتے ہیں اس وقت ان کی کیا کیفیت ہو گی ۔ وہ وہاں تھیں اللہ کی رضا کے لیۓ ۔۔زبان پر کوئ شکوہ نہیں لیکن دل بیٹے کے لیۓ تڑپ بھی رہا ہے ۔ بیٹے کی جان لب پر آگئ ہے اور ایک ماں تڑپ اٹھتی ہے اور دیوانہ وار پانی کی تلاش میں فاصلہ دھوپ کھردری زمین کی پرواہ کیۓ بغیر دوڑتی ہے ۔ ایک ماں کا دوڑنا تھا ۔ صفا و مروہ کے درمیان ۔۔
اور۔ رب کی رحمت جوش میں آئ اور چاہ زم زم کا ظہور ہوا ۔
ایک ماں کا دوڑنا کام آیا ۔
ایک ماں کا جذبہ کام آیا ۔
ایک ماں کی سعی تھی بیٹے کی پیاس بجھانے کی۔
یہ ایک سعی تھی اللہ کی رضا میں راضی رہنے کی ۔
یہ ایک سعی تھی رب کی خوشنودی حاصل کرنے کی ۔
۔تو ایسی سعی رب کیسے نا کام کرتا ۔وہ ماں تھیں تو وہ بھی تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کر نے والا تھا ۔
اسے بھی اس ماں کی ادا یوں پسند آئ کہ قیامت تک کے لیۓ اسے محفوظ کر دیا ۔
حضرت ہاجرہ کی عظمت پر لاکھوں سلام
جب بھی مرد بھاگتے مجھے رونا آتا کہ یہ ادا اللہ تعالی نے مردوں کے لیۓ رکھی تو کیوں ۔ کیا یہ بتانے کے لیۓ کہ ایک ماں کی طرح دوڑ کر دیکھو ۔اس کے جذبہ کو سمجھو ۔ایک ماں تمہیں اس دنیا میں لانے کا سبب بنی اس کی عظمت اسی میں ہے کہ تم بھی اس کی خوشی کے لیۓ ایسے ہی دوڑو ۔ اس کی خدمت میں ،اس کی اطاعت میں ،اس کی فرمانبرداری میں دوڑو ۔شاید یہ مردوں کو ایک ماں کی عظمت بتانے کی کوشش ہے ۔ کہ ایک ماں اپنی اولاد کے لیۓ کس طرح دوڑ دھوپ کرتی ہے تو اس کا بھی تو حق ہے کہ اولاد اس کے لیۓ بھی دوڑے ۔
جب حضرت ہاجرہ کی سعی یاد آئ تو اپنی سعی بہت آسان لگی ۔ اور انتہائ شرمندگی بھی ہوئ کہ کہاں حضرت ہاجرہ کی سعی اور کہاں ہم ۔۔۔۔
ہم تو ایک رسم پوری کر رہے ہیں ۔
ان جیسا جذبہ ہم میں کہاں ۔
اس لیۓ جب بھی عمرہ یا حج کا ارادہ کریں سعی کو مشکل نا کہیں۔ بلکہ خوش دلی سے حضرت ہاجرہ کی سعی کو یاد کرتے ہوۓ پوری آمادگی کے ساتھ یہ فریضہ انجام دیں ۔اور اللہ تعالی کی رضا و خو شنودی حاصل کریں کہ یہ مبارک سفر آپ کو عطا ہوا۔
اللہ تعالی ہمیں حضرت ہاجرہ جیسا جذبہ عطا کرے ۔
حضرت ابراھیم جیسا ایمان پیدا کرے
حضرت اسماعیل جیسی تابعداری عطا کرے ۔
آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں