خدا اور محبت

 خدا اور محبت 

اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جب بنایا ہو گا تو ان کی خمیر میں محبت کا عنصر تو  ضرور ڈالا ہو گا ورنہ یہ ساری کاینات بنا محبت کے یوں نہیں چل سکتی ۔ محبت کو  مرد و عورت کی ذات تک محدود رکھنا میرے خیال میں لفظ محبت کی تو ہین ہے ۔ محبت تو ہر جگہ ہے ۔ ہر شے میں چھپی ہے ۔ 

کائنات کا ہر ذرہ بے لوث محبت کے جذبے کا گواہ ہے ۔ 

والدین کی محبت ۔

بھائ بہن کی محبت 

دوست سے محبت 

جانوروں سے محبت 

ااور انسانیت  سے محبت 

ان ساری محبتوں میں  سب سے اعلی مقام پر ہے بندے کی اللہ سے محبت ۔

اور خدا کی اسکے بندے سے محبت ‌۔ 

ہمارا اللہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہےیہ ہم جانتے تو شاید کبھی شکوہ نا کرتے اپنی تقدیر کا ۔ ۔ وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ ایک بندہ کو کیا چاہیے اور وہ کیا ڈیزرو کرتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن اللہ ہمیں وہ دیتا ہے جو ہماری سوچ ہماری  امید کے بر عکس ہمارے لیۓ بہت  بہتر ہو تا ہے ۔‌

ہم اپنی محدود سوچ کو لیکر اللہ سے دعا مانگتے ہیں ۔‌اور کبھی کبھی تو اپنے لیے خیر کے بجاۓ شر مانگ لیتے ہیں ۔اور یہی سمجھ رہے ہو تے ہیں کہ وہ ہمارے لیے اچھا ہو گا ۔ اور جب اللہ تعالی ہمیں" وہ "چیز دیتا ہے تب سمجھ آتا ہے کہ ہم نے جومانگا تھا یہ تو ہمارے حق میں اچھا ثابت نہیں ہو

اور تب ہمیں پھر اللہ یاد آتا ہے کہ کاش یوں نا کرتا۔ کاش وہ ہماری دعا ہی قبول نا کرتا ۔ کاش میں نے یوں ضد کر کے اللہ سے" یہ " نا مانگا ہو تا ۔


اس بات کو یوں سمجھ لیں  کہ ایک شخص معاشی تنگ دستی میں مبتلا  تھا ۔ اب وہ اللہ سے اپنی معاشی بد حالی کو دور کرنے ہی کی دعا کرتا رہتا تھا ۔‌اور جب اسکی دعا قبول ہو ئ یعنی وہ معاش کی فکر سے آذاد ہوگیا تو اسے بیماریوں نے ان گھیرا ۔ اب وہ پریشان ہے کہ کاش معاشی بدحالی ہی ہو تی ۔صحت خراب نا ہو تی  اب معاش کی فکر سے آذاد ہواتو صحت کے مسائل سے دو چار ہوا اور اب اسکی دعا یوں ہو تی ہے کہ کاش غریب ہی  رہتا مگر صحتمند تو رہتا ۔

یوں ہماری ترجیحات بدلتی رہتی ہیں لیکن اللہ کی ترجیح ہمیشہ بندے کی فلاح ہی ہو تی ہے ۔ اور وہ بندے سے کبھی غافل نہیں ہوتا ۔

ہم غافل ہو سکتے ہیں مگر وہ نہیں ۔

ہم مانگے نا مانگیں وہ دیتا رہتا ہے ۔ ہماری ہر آتی جاتی سانس  گواہ ہے کہ وہ دے رہا ہے تب ہی سانس لے پارہے ہیں۔ اگر  اسکی۔ مرضی نا ہو تو ہم ایک سکنڈ ایک لمحہ بھی نا جی سکیں ۔‌

بندے کی محبت محدود مگر اللہ کی اپنے بندے سے محبت لا محدود ۔ وہ  گناہ گار بندے کو بھی کسی ایک ادا پر بخش دے اور داخل جنت فرماۓ۔ 

اسکی محبت ہمارے گمان سے بھی کئ گنا آگے ۔‌

اسکی محبت حقیقت ۔۔۔کسی بھی شک و شبہہ سے بالا تر‌‌۔ جو ستر ماؤں سے زیادہ ہم سے محبت کر نے والا‌۔

اور پھر جب اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہمارے آقا حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم اسکے محبوب ہیں تو رب کو پانا ہے تو آقا کی محبت سے دل کو لبریز کر دو ۔ اور جو دل حضور سے محبت نا کرے وہ خدا سے کیسے محبت کر سکتا ہے ۔اللہ سے محبت حضور سے محبت سے مشروط ٹہری ۔ جو اللہ سے محبت کرے گا وہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے گا ۔

اور جو حضور سے محبت کرے گا وہ یقینا اللہ سے محبت کرنے والوں میں سے ہو گا ۔ 

اللہ اور اسکے رسول کی محبت ایک مسلمان کے دل میں ہو تو وہ یقینا اللہ کے بندوں سے بھی محبت کرے گا ۔ انسانیت سے محبت کرے گا ۔ تو یوں محبت اسکی زندگی کا لازمی جز بن جاتا ہے ۔ اور سچ یہی ہے کہ محبت بہت طا قتور جذبہ ہے اور یہ ہر جگہ اپنی جگہ بنا لیتا ہے ۔ ۔ اللہ تعالی ہمارے دلوں میں  اپنی اور حضور  صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھر دے   ۔آمین 


کچھ دن مصروفیت بہت رہی ۔ کچھ دن گھر  میں آیت کریمہ کے ذکر کی محفل تھی۔ اور پھر طبعیت بھی خراب  اور خود کچھ میں رائیٹرز بلاک کا شکار تو یوں پرتلپی سے غیر حاضر رہی۔آج ایک تحریر جو منتشر دماغ کے ساتھ ہی لکھی ہے اپنے بلاک کو توڑنے کی کوشش ہے  ۔اس میں غلطیوں کی گنجائش بھی ہو گی ۔ اگر کچھ غلطی ہو تو ااصلاح فرما دیں ۔ 

مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔ 







۔

 ۔ 

ا ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ