میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45

 " آخر کچھ بتاتے کیوں نہیں تم کہ وہ بھائ کے گھر گئ ہے اور ابھی تک آئ نہیں ۔ایسا کیا ہوا ۔ " صابرہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب اسے گھیر چکی تھیں جو اس ذکر سے ممکنہ حد تک پہلو تہی کر رہا تھا ۔

" مجھے نہیں معلوم ۔ آپ خود پوچھ سکتی ہیں اپنی بھتیجی سے کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ۔ " وہ خود بہت تلخ ہو رہا تھا یہ اسے محسوس ہو رہا تھا ۔

" تم نے کچھ کہا ہو گا ۔ ":وہ اب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔

" نہیں ۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ بس یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ میں نے نہیں کہا تھا گھر چھوڑ کر جانے کو " اس کے لہجہ میں تلخی گھلی تھی جس پر صابرہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں ۔ یہ بات انہیں بھی نا گوار گذری تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر بنا بتا ۓ چلی گئ تھی۔ اور وہ طہ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں وہ ایسی غلطیاں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ نا معاف ۔ وہ دل ہی دل میں ان دونوں کے لیۓ دعا کرتے اٹھ گئیں تھیں ۔لیکن وہ چپ نہیں بیٹھیں تھیں نظیر صاحب کو اشارتاً بتا دیا کہ دو نوں میں کچھ نا راضگی ہو گئ ہے۔

" میں بات کروں گا ۔ابوالکلام بھائ سے ۔ دیکھتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔ " نظیر صاحب نے انہیں تسلی دی تھی ۔

" اس شام ہی انہوں نے ابوالکلام کو فون کیا تھا ۔اور رسمی علیک سلیک کے بعد وہ اپنے مدعے پر آۓ تھے کہ "تہذیب ابھی تک کیوں نہیں آئ ۔ " 

ابوالکلام نے پہلے ایک ٹھنڈی سانس لی تھی ۔ اسکے بعد کہا ۔

" دراصل ۔ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے کہ آخر ان دونوں کے بیچ کیا مسئلہ پیدا ہوا ۔ میں نے  جان بوجھ کر اسے چھیڑا بھی نہیں ۔ آپ بتائیں ۔ طہ نے کجھ کہا کیا ۔ " انہوں نے بڑی خوبصورتی سے بات ان ہی کی طرف موڑ دی ۔

" ابوالکلام بھائ ۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ دونوں کچھ بھی بولنے کو تیا ر نہیں ۔ میرے خیال میں تو فی الحال ان دونوں پر ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ دونوں اپنا مسئلہ خود حل کر لیں ۔ میرا تو یہی ماننا ہے ۔ " انہوں  نے  بھی اپنے دل کی بات کہہ دی تھی ۔

" ہاں ۔میرے خیال میں بھی یہی ٹھیک ہے ۔ اور ویسے بھی عام دنوں میں تہذیب اتنے دن ہمارے یہاں نہیں رہی ۔اسی بہانے کچھ دن رہ لے گی ۔ " وہ اداسی سے دسکراۓ تھے ۔ 

" چلیں ٹھیک ہے ۔آپ فکرمند نا ہوں ۔ بہت جلد یہ دونوں بھی ٹھیک ہو جائیں گے ۔ " وہ فون رکھتے ہوۓ بھی انہیں تسلی دینا نہیں بھو لے تھے ۔

************

وہ اپنے کمرے میں اوندھی لیٹی اپنے دونوں ہاتھوں میں  اپنے چہرہ کو تھامے غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھی ۔ ابھی ابھی اس نے عابد کو پودوں کو پانی نا دینے پر خوب ڈانٹ پلائ تھی اور اب اپنے کمرے میں ناراض ناراض سی بیٹھی تھی ۔ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس سے ناراض ہے ۔ اور کس پر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سارے جہاں سے ناراض ہے اور کبھی ایسا لگتا کہ جیسے وہ صرف اپنے آپ سے ناراض ہے ۔ اپنے آپ پر آگہی کا کوئ لمحہ منکشف ہو رہا تھا جس سے وہ ڈر رہی تھی ۔

وہ اب اپنے گھر میں تھی ۔ اس کا اپنا بڑ ا سا کمرا تھا جہاں اے سی بھی تھا ۔ اور کام کرنے کے لیۓ ہمہ وقت اسکے پاس اختری یا عابد ہو تے تھے ۔ اسکی اپنی کافی بنی بنائ اسکے کمرے میں آ جاتی تھی ۔ اور کپڑے استری شدہ اسکی الماری میں جمے جماۓ ملتے تھے ۔ وہ آزاد تھی ۔ہر معاملے میں ۔ سونے جاگنے سے لیکر کھانے پینے کے معاملے تک ۔ مگر ایک بے کلی تھی جو دل کو کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی ۔ 

کمرے میں اے سی آن کرتی تو بجاۓ فرحت  بخش احساس کے اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوتا ۔وہ چڑ کر اے سی بند کر دیتی  ۔اب تو ٹیبل فین لگا چکی تھی جو اس دشمن جاں کی یاد دلاتا تھا ۔جس کو بھلانے کی کوشش میں وہ ہلکان ہو ئ جا رہی تھی ۔ وہ ہر قدم پر اسے یاد آتا تھا اور وہ رونے بیٹھ جاتی تھی ۔

وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں گھنٹوں دیکھتی رہتی ۔ یوں جیسے وہ کہیں سے آ جائیگا اپنی بائیک لے کر ۔ اور کہے گا ۔ " چلیں ۔" 

اور اپنی خواہش کی عدم تکمیل پر وہ خطرناک منصوبے بنانے لگتی ۔

 اگر اس نے کبھی میرے سامنے محتشم  کا نام لیا تو میں اس کا سر پھاڑ دوں گی ۔ " وہ ایک عزم سے سوچتی جبکہ اس کے سامنے اسکی اپنی آواز بھی نہیں نکلتی تھی ۔

وہ روز نۓ نۓ عزائم بناتی اور پھر اپنے آپ سے ہی نا امید ہو جاتی ۔

" انا پرست ۔ پتھر ۔ ظالم اور اکھڑ ۔  ہونہہ ۔ وہ کبھی نہیں بدلے گا ۔اور نا کبھی میرے بارے میں سوچے گا ۔ یہ اخری بات ہو تی تھی جو ہر دن کے اختتام پر وہ مایوسی سے سوچتی تھی ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ