پین کلر pain killler ..3555words

 وہ اس وقت اس بلڈنگ کی دوسری منزل پر بنے فلیٹ کے کچن میں کھڑی تھی ۔ اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔اور  اسے ناشتہ بنا نا تھا لیکن اس کی نظریں بار بار کچن کی کھڑکی سے نیچے اس گھر پر پڑ جاتی تھیں جہاں صبح چار بجے سے ماتم کرنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔‌وہاں چالیس سالہ  نیاز صاحب کا انتقال ہوا تھا ۔‌اور  ان کے گھر سے ان کی بیوی کی بین کرتی آوازیں آ رہی تھیں ۔ اور وہ ان آوازوں کو اپنے دل میں  محسوس کر رہی تھی ۔ اسے ان کا دس سالہ بیٹا اور دو سال کی بیٹی   کی کم سنی  یاد آرہی تھی ۔ کیسے رہیں گے وہ معصوم بچے اپنے والد کی محبت کے بغیر ۔ 

اان کی شفقت کو ابھی تو محسوس کر نا شروع کیا  تھا۔ وہ ننھی دو سالہ تو ابھی باپ کا لمس بھی محسوس نا کر سکی تھی اور اس لمس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئ تھی.

اس سب کو سوچتے اس کا دل بے ساختہ ان کے گھر  جانے کے لیے لپکنے لگاکہ وہ جاۓ اور نیاز کی بیوی کے گلے لگے اور روۓ ۔‌اور ان بچوں کےسر پر ہاتھ رکھے محبت کا ہاتھ ۔ وہ حساس تھی ۔ کسی کے درد کو شدت سے محسوس کرنے کی عادت تھی ۔ 

زیب ۔ زیبا ۔ ناشتہ تیار ہو تو ذرا جلدی نکال دو ۔ آفس جانا ہے ۔ " احمد کی آواز آرہی تھی  ۔اسکے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا ۔

مما۔ میرا یونیفارم نکالیں ۔ جلدی پلیز ۔" گڈو اسے پکار رہا تھا ۔

۔" بہو ۔ بہو ۔ میری دوائیاں کہاں رکھ دی  ہیں ۔ مل نہیں رہیں ۔" اس کی ساس اپنے کمرے سے آواز دے رہی تھیں ۔ 

اس نے جلدی سے چولہا سلگایا اور برتن رکھا ۔ تیل ڈالا اور مصالحہ بھوننے لگی اب اسکے ہاتھ  جلدی جلدی چل رہے تھے ۔ 

  سالن ‌میں ڈالے  ادرک لہسن کی خوشبو اس کے نتھنوں میں آنے  لگی ۔ اور جمچ چلانے کی آوازوں میں نیچے نیاز صاحب کے گھر سے آتی آوازیں دب گئ تھیں ۔ مصالحہ کی خوشبو میں اگر بتی  کی خوشبو مدغم ہو نے لگی ۔‌

اس نے روٹی کی ڈش اٹھائ ۔‌اور باہر کھانے کے برتن جمانے لگی ۔ 

 کمرے  سے گڈو کا یونیفارم نکالا ۔ اسے آواز دیکر وہ اپنی ساس کے کمرے میں آئ تھی ۔ 

وہ کچھ  بے زار سی  اپنی دوائوں کا ڈبہ پکڑے بیٹھی تھیں ۔

" امی ۔ لائیں آپ کی دوائیاں دے دوں ۔ " 

" میرے گھٹنوں کا درد رات سے ستا رہا ہے ۔ شاید کل گولی نہیں کھائ تھی ۔ تم نے مجھے وہ دوا نہیں دی تھی ۔ جس سے درد کم ہو تا ہے ۔ " 

ہاں امی ۔ وہ پین کلرز ختم ہو گئ ہیں میں احمد کو بولتی ہوں آفس سے آتے ہو ۓ وہ لے آئیں گے ۔ ' اس نے ساری دوائیاں چیک کی تھیں اس میں کہیں کوئ پین‌کلر نہیں تھی۔

" یاد سے منگوالینا ۔ اس کے بغیر تو زنگی نہیں گذرتی ۔ درد کی شدت سے دل چاہتا ہے کہ کہیں نکل جاؤں ۔ اور خود کو ختم کر لوں ۔ " اسکی ساس اب واپس لیٹتے کہہ رہی تھیں۔ وہ کئ مہینوں سے اس عارضہ میں مبتلا تھیں ۔ ۔

" جی ۔ کبھی درد اتنا بڑھتا ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ ایسی  کونسی پین کلر استعمال کریں جس سے درد کی شدت میں کمی ہو ۔ " 

وہ ان پر ایک نظر ڈالتی باہر آئ تھی ۔ ڈائینگ ٹیبل پر اس کا شوہر ٹی وی پر کچھ لائیو خبریں دیکھتے ناشتہ کے لیے بیٹھا تھا ۔ گڈو  دودھ اور  کارن فلیکس  والا باؤل  اپنے سامنے رکھے بیٹھا تھا ۔ 

"میں نیاز صاحب کی تعزیت کے لیے چلی جاؤں ۔ "  اس نے کھانے میں مصروف اپنے شوہر کو دیکھا تھا ۔

" ہاں چلی جانا ۔ مگر ابھی اتنی جلدی مت جانا  ۔ شام تک چلی جاؤ ۔ ناشتہ کرلو سکون سے ۔ " وہ روٹی کا نوالہ توڑتے  اسے بولا تھا ۔ 

وہ چپ رہی ۔ 

نیاز صاحب سے ان لوگوں کے اچھے مراسم تھے ۔ وہ اور نیاز صاحب ، دس سال سے پڑوسی تھے ۔ اچھے برے میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی تھا مگر اسے اس کے شوہر کی بےحسی کھلی تھی ۔  ایسے وقت میں پڑوس کا بہت اہم کردار ہو تا ہے ۔ کسی کی موت پر صرف دو لفظ بولنا کافی  نہیں ہوتا ۔ ان کا احساس کرنا ضروری ہو تا ہے ۔ میت کو آاسکی آخری آرام گاہ تک پہنچانا  یہ بھی پڑوسی کی ذمہ داری ہو تی ہے ۔ وہ چپ چاپ  اپنی بالکونی میں آگئ تھی ۔ جہاں سے نیاز صاحب کے گھر کا آنگن نظر آرہا تھا ۔ ان کی بیوی  اب روتے روتے بے ہو ش ہو گئ تھی ۔‌اور بچے سہمے سہمے کونے میں بیٹھے تھے ۔  اس کے دل کی سوگواری بڑھ گئ ۔تھی۔ 


*************

الیونگ روم سے ٹی وی پر کسی‌اسلامی شہر پر بمباری کی خبر چل رہی تھی ۔ اور  وہاں بھی وہی تھا ۔ چیخیں آہ و بکا ۔ بچوں کے رونے کی آوازیں ۔ ماؤں کا سسکنا ۔ زخمی مریضوں کی درد بھری چیخیں ۔ 

بم سے تباہ ہوئ عمارتیں اور کسی کی زندگی بھر کی کمائ کا لٹ جانا ۔ اسے ایسا لگا ۔ وہ ساری آوازیں اسکے کانوں میں ایک ساتھ آرہی ہیں ۔ نیاز صاحب کے گھر سے آتی آوازیں جسے سن کر اس کا دل رو رہا تھا اور ٹی وی پر چل رہی یہ خبریں ۔۔ ایک جیسی خبر ۔ ایک جیسا دکھ ۔۔۔لیکن‌کسی کے درد کو لیکر جو  بے حسی تھی وہ  ہر دو کے لیۓ  ایک ہی تھی ۔  ۔

دواخانوں میں درد کش دواؤں کی قلت ۔مریضوں کا بغیر انیستھیسیا کے، بغیر کسی پین کلرز کے آپریشنز ۔ مریضوں کی درد سے تڑپتی آواز اس کے کانوں  سے ٹکرانے لگی  تھیں ۔ ۔  

ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ 

یہ درد بڑھتا ہو ا کیوں محسوس ہو رہا ہے ۔ 

کہیں کوئ پین کلر کیوں نہیں ہے ۔ جو اس روح کی اذیت کو کم کر سکے ۔

ابھی تین‌ماہ قبل ان کے ہی محلے میں رحیم  صاحب کی بیٹی کی خودکشی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئ تھی ۔‌رحمن صاحب کی بیٹی نے زہر کھا لیا تھا  ۔ سارا محلہ اس کو دیکھنے امڈ پڑا تھا ۔ وہ بھی گئ تھی ۔ تبسم سے وہ اکثر ملتی رہتی تھی ۔ تبسم خوش اخلاق لڑکی تھی ۔ عمر کی تیس سال اس کے اسی نو مبر میں پو رے ہو ۓ تھے،۔ اور اس کی شادی کی آس کی ڈور اب ٹوٹنے پر آ گئ تھی ۔ ابھی کچھ دن قبل ہی تبسم کو دیکھنے لڑکے والے آۓ تھے ۔ اور دیکھ کر تبسم کی بڑی عمر ،سانولا رنگ ،اور اعلی تعلیم پر ناک بھوں چڑھاتے چلے گۓ تھے ۔ ان کے جانے کے بعد تبسم اس کے پاس آئ تھی ۔  اس کے چہرے پر معنی خیزی سی مسکراہٹ تھی ۔ جس پر اس نے کہا تھا ۔

" تبسم ۔ لگتا ہے لڑکے والوں نے تمہیں پسند کر لیا ۔ " 

تبسم دھیمے دھیمے ہنستے ہو ۓ اچانک کھلکھلانے لگی تھی ۔ 

" آپی ۔ انہوں نے مجھے تو پسند کر لیا ۔ مگر میری غریبی انہیں پسند نہیں آئ ۔ اسی لیۓ میری عمر اور سانولا رنگ کا حیلہ لگا کر مجھے نا پسند کا ٹھپہ لگا دیا ۔ اور میں ایم اے پاس بھی تو ہوں ۔اس سے بری بات کیا ہو گی کہ ان کے بیٹے سے زیادہ میں قابل ہوں  تو انہوں نے مجھے نا پسند کیا ۔ " 

" تم ہنس رہی ہو تبسم ۔ " مجھے اسکے ہنسنے پر حیرانی ہو ئ۔ 

" آپی ۔ جس دن تبسم رونے پر آجاۓ تو زمین کے سارے سمند ر اس کے  نمکین آنسوؤں سے بھر جائیں ۔ اور آسمان بھی میرے سنگ سنگ رونے لگ جاۓ۔ اسی لیۓ تبسم صرف ہنستی ہے ۔ بابا نے  صرف مسکراتا دیکھنے  کے لیۓ یہ نام رکھا ہے ۔ اور اگر تبسم کو کسی نے رلایا تو وہ سارے زمانے کو رلاد ے گی ۔

اس کی باتوں سے اسے  خوف آیا تھا لیکن اس  نے تبسم کو  تسلی دی تھی ۔ لیکن دو دن  بعد جب تبسم نے خود کشی کی تو وہ  بھاگی بھاگی اس کی اماں کے پاس جا پہنچی ۔ 

" بھابھی ۔ کیوں کیا تبسم نے ایسا ۔ زہر کیوں کھا لیا ۔ " 

"میری بیٹی عزت کی زندگی کے لیے زہر پینے پر مجبور ہو گئ ۔ کیونکہ اب ہر جگہ اس پر الزام لگنے لگے تھے ۔ وہ باہر جاتی ہے ۔ آفس میں کام کرتی ہے ۔ مردوں سے سابقہ رہتا ہے ۔ اور اور ۔۔۔ چونکہ اس کی شادی نہیں ہو ئ ۔ تو ہر انسان کو حق ہو گیا تھا اس پر الزام لگانے کا ۔ زہر پی کر میری بیٹی نے سب کا منہ بند کر دیا ۔ اب کیا کہیں گے  لوگ ۔" 

اس کی ماں اب دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور وہ بس ایک ٹک تبسم کے مردہ وجود پر نظریں جماۓ ہوۓ تھی ۔ اس کا ہنستا چہرہ اب نیلا پڑ رہا تھا ۔ اور وہ سوچ رہی تھی ۔

"تبسم ۔ یوں نا رلا کر جا آج ۔ ہم سب شرمندہ ہیں' ۔ سماج میں غربت  کی چکی میں پیستے لوگوں کی مجبوری کو ہم نہیں سمجھتے لیکن ایسے لوگوں پر انگلی اٹھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ ان کے گھروں میں کبھی جھانک کر دیکھیں کیسے تبسم جیسی لڑکیاں اپنی عزت آبرو بچاۓ پیٹ کا دوزخ بھرنے جاتی ہیں ۔ اور انہیں بدکاری کے طعنے سہنے پڑتے ہیں ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ہنستا چہرہ رویوں کے زہر سے نیلا پڑتا ہے مگر انہیں دیکھتا کون ہے ۔ ہم سب تو اندھے بہرے گونگے ہو گۓ ہیں ۔‌

ہمارے احساس پر تو ایسی بےحسی کی برف جمی ہے جو شاید ایک درد مند دل کی منتظر ہے ۔ مگر ۔۔دردمند کوئ نظر نہیں آتا ۔

 عزت کی خاطر آج حوا کی بیٹی زہر پینے پر مجبور ہے ۔حوا کی بیٹی کبھی ایک دن ہی زہر پی کر مر جاتی ہے اور کچھ حوا کی بیٹیاں روز رویوں کا زہر پیتی ہیں اور روز مرتی ہیں ۔‌اور ان کے مرنے پر کوئ نوحہ کرنے والا بھی نہیں ہو تا ۔‌

وہ تبسم کو یک ٹک دیکھتی رہی ۔ یہاں تک کہ اس کا جسم پھولنے لگا ۔ سارا جسم نیلا پڑ گیا ۔ اور لوگ اس کی موت  کی وجہہ اور اس پر اظہار افسوس کر نے کے بجاۓ اس کے بد انجام پر فتویٰ دینے لگے ۔‌اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گئ کہ تبسم نے جو کیا وہ تو حرام تھا مگر ایک انسان کو حرام تک لے جانے والے یہ لوگ اپنے اعمال کیوں نہیں دیکھتے ۔ ہر انسان دوسروں کے اعمال کو حلال حرام کی کسوٹی پر پرکھنے کے بجاۓ خود کو ،اپنے اعمال کو حرام حلال کی کسوٹی پر پرکھ لے تو شاید کو ئ انسان حرام تک نا جاۓ۔ حرام موت پر فتویٰ لگتا ہے۔ لیکن حلال زندگی گذارنے کی کوشش کرنے پر انگلیاں کیوں اٹھتی ہیں ۔ یہ کوئ نہیں سوچتا ۔ یا سوچنا نہیں چاہتا ۔ 

وہ بھی سب کی طرح دو بول تعزیت کے کہہ کر واپس آگئ تھی اسے واپس آنا تھا ۔ اپنی زندگی کی طرف ۔ دوسروں کی زندگی میں ہزار بھونچال ہوں اپنی زندگی کے طوفان  کا ہمیں خود ہی سامنا کرنا ہو تا ہے۔ 

" *******

 انسان‌کی زندگی کبھی درد سے خالی نہیں رہتی ۔ یہ درد ہی تو ہے جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے ۔ اسے ایک پل سکون سے جینے نہیں دیتا ۔ اس کی کسک ہمیشہ دل میں محسوس ہو تی ہے۔  

ابھی کچھ دنوں کی بات تھی. ان کے نیچے والے پورشن میں شمع اور ارمان کی فیملی رہتی تھی ۔ شمع اور ارمان کے دو بچے تھے اور وہ اپنے ساس سسر کے ساتھ رہتی تھی ۔‌

اس دن شمع نے دعوت دی تھی کہ اسکی بیٹی کی سالگرہ ہے اور سب کو آنا ہے ۔ اور اس نے ہامی بھر لی تھی ۔ 

اس کا خیال تھا وہ ایک فراک تحفہ میں دے دے گی ۔لیکن بچی کے فراک کا سائز اسے پتا نہیں تھا ۔ اس لیۓ وہ دوپہر میں ہی شمع سے فراک کا سائز لینے کے لیۓ نیچے آئ تھی ۔ 

دو بجے کا وقت تھا۔ اور اس بلڈنگ میں بھی خاموشی ہی پہرا دے رہی تھی ۔ وہ مسکراتے اندر جا ہی رہی تھی کہ ۔۔۔

" بولیۓ ابا ۔ آپ خاموش کیوں ہیں ۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ان گلاب جامنوں کو ہاتھ بھی نہیں لگانا ۔ مہمانوں کے لیے رکھے ہیں ۔ لیکن پھر بھی دو گلاب جامن کم کیسے ہو ۓ۔ " شمع بگڑے تیور لیۓ اپنے سسر یعنی فرید صاحب سے باز پرس کر رہی تھی ۔ وہ جو اندر جا رہی تھی شمع کی آواز سن کر رک گئ ۔ اس کا اندر جانا اسکے حساب سے ٹھیک نہیں تھا ۔

" بیٹی ۔ مجھے بھی نہیں پتا کہ گلاب جامن کم کیسے ہو ۓ ۔ یہیں تو رکھے تھے ۔ سب گن کر ۔ " اس کے سسر کمزور آواز میں بو لے تھے۔

" آپ کو خیال رکھنا تھا ۔ کہیں آپ نے تو نہیں کھا لیۓ ۔‌" شمع نے انہیں شکی نظروں سے دیکھا تھا ۔

" کیسی بات کر رہی ہو بیٹی ۔ میں کیوں کھاؤں گا ۔ مجھے تو ۔۔۔مجھے تو ذیابطیس ہے ۔ ڈاکٹر نے منع کیا ہے ۔ میٹھا کھانا ۔ " وہ اب مضبوطی سے بولے ۔

" پھر کون کھا سکتا ہے۔یہاں تو صبح سے کوئ نہیں آیا ۔ بچے بھی ابھی نہیں آۓ۔‌اور آپ اور امی ہی تو تھے یہاں جب گلاب جامن ہو ٹل سے آۓ تھے ۔ شمع اب جرح کر رہی تھی ۔ فرید صاحب اب خاموش ہو گۓ تھے ۔ 

" اب جانے دو بیٹی ۔ بحث کیوں کر رہی ہو دو گلاب جامن ں کے لیۓ۔‌کیا پتا ہو ٹل والوں نے کم دیۓ ہوں ۔ اب کیا سب سے لڑنے لگو گی ۔ " فرید صاحب کی زوجہ شمع کی ساس بھی وہاں آگئ تھیں اور اب بات کو سمیٹنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔

" ایسے کیسے ہو ٹل والے کم دیں گے جبکہ آرڈر پورے دو سو گلاب جامنوں کا تھا ۔ ضرور آپ دونوں میں سے سے ہی کسی نے کھا یا ہے ۔ شمع جانے کیوں مطمئن نہیں تھی ۔  ان بزرگوں سے چخ چخ کرنا اسکی انا کو سکون دے رہا تھا ۔ 

" ہم دونوں میں سے کسی نے نہیں کھاۓ وہ گلاب جامن ۔ " فرید صاحب اب بات ختم کرنے کی سعی میں اندر کمرے کی جانب جا رہے تھے ۔ 

" ٹہریۓ ۔ ابا ۔ آج تو میں پتا کر کے رہوں گی کہ گلاب جامن کھاۓ تو کس نے کھاۓ۔" شمع  ان دونوں کو گھورتی  ہو ئ بولی ۔‌

اب تمہیں یقین نہیں آرہا تو ہم کیا کر سکتے ہیں ۔‌"

یقین آجاۓ گا اگر آپ ۔۔۔۔"۔شمع کچھ دیر رکی ۔ فرید صاحب بھی آگے جاتے جاتے رکے ۔ کیا کہنے جا رہی تھی  وہ ۔۔ قسم کھائیں کہ آپ نے نہیں کھاۓوہ گلاب جامن ۔ "شمع کی آواز میں  نجانے زہر کیسے آگیا تھا ۔ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ روک کر اپنی آواز روکنے کی کوشش کی ۔  

 " قسم ۔۔۔"

فرید صاحب اور انکی زوجہ بھی جیسے سکتہ میں آ گۓ تھے ۔ 


قسم ۔۔دو گلاب جامن ں کے لیۓ تم مجھے قسم کھانے کی بات کر رہی ہو ۔  گلاب جامن کھانا اتنا بڑا گناہ تو نا تھا ۔" فرید صاحب کی آواز میں درد دکھ اذیت سب گھل مل گۓ تھے ۔ 

ہاں ۔ تو قسم کھائیں کہ آپ نے گلاب جامن نہیں کھاۓ ۔ میں دوبارہ پو چھوں گی نہیں ۔ کھا سکتے ہیں قسم " کبھی کچھ لہجے کتنے زہر آلود ہو جاتے ہیں کہ ان کی لہجے کا اثر اس پاس کے ماحول میں بھی زہر گھول دیتا ہے ۔

آفرید صاحب چپ چاپ کانپتے پیروں کے ساتھ کھڑے رہے ۔ شمع انہیں مسلسل گھورتی رہی ۔ 

"کھائیں نا  قسم آپ ۔ چپ کیوں ہیں ۔ " کاش وہ چپ ہو تی ۔ 

فرید صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ ایک بوڑھے کی آنکھوں سے نکلتے آنسو گواہ تھے کہ وہ دو گلاب جامن کے گناہ گار ہوۓ تھے ۔ 



" دیکھا ۔ اب قبول کیا ۔قسم کی بات آئ تو سچ نکل گیا ورنہ اب تک انجان بنے بیٹھے تھے ۔ " شمع کے لہجہ میں استہزا آمیز حقارت تھی ۔ فرید صاحب اور ان کی زوجہ  کھڑکی میں  اسے کھڑے دیکھ چکے تھے اور اب نادم سے تھے ۔ 


ان کے جھکے سر نے اسے شرمندہ کر دیا تھا ۔ وہ نظریں جھکاۓ اوپر آئ تھی ۔ 


دل چاہ رہا تھا رو رو کر آسمان سر پر اٹھالے ۔  

ایک ذیابطیس کا مریض اگر خواہش سے مجبور چھپ کر گلاب جامن کھا چکا تھا تو اسے یوں سر عام رسوا کرنا کہ وہ اپنے وجود کو ذلت کی آگ میں جلتا محسوس کرے ۔ صحیح تھا ۔


فرید صاحب ریٹائر تو اب ہو ۓ تھے لیکن اب تک ان کی ہی تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلتا تھا ۔ ان کا بیٹا بہت معمولی تنخواہ پر ملازم تھا جبکہ فرید صاحب تو گورنمنٹ ملازم تھے ۔‌اور اب  تک ایک معقول وظیفہ ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا تھا ۔ 


لیکن  ان سب کے باوجود وہ ایک باعزت زندگی گذارنے کے لیے ترس رہے تھے ۔ مگر کیوں ۔


 انہوں نے اپنے اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئ کمی نہیں  تھی ۔ 

اولاد پر سب کچھ نثار کر دیا تھا ۔ اپنے لیے کچھ بھی جمع نہیں کیا تھا ۔ 

والدین کے لیۓ اولاد ہی سب سے بڑی دولت ہو تی ہے ۔ 

اور اس پر سب کچھ لٹا کر وہ اتنے خوش ہو تے ہیں کہ اپنے مستقبل کی فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جس طرح بے لوث ہو کر ہم نے اپنی اولاد کا خیال رکھا ۔ بس اسی طرح اولاد بھی ان کا خیال رکھے گی ۔ ان پر روپیۓ پیسے لٹا کر خوش ہو گی ۔

ان کی بیماری میں رات رات بھر جاگے گی ۔ 

ور علاج پر لاکھوں لگانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی ۔


مگر ہو تا کیا ہے ۔ 


اولاد کو والدین بوجھ لگنے لگتے ہیں ۔ 



ان کی بیماری سے انہیں گھن آتی ہے ۔ 


ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے انفیکشن کا ڈر ہو جاتا ہے ۔


ان کے وجود  کی بدبو سے وہ اپنی ناک پر کپڑا رکھتے ہیں ۔ 


اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک حساس ذمہ دار شہری ہیں ۔

اپنی اولاد کے نخرے سہتے ہیں والدین کو ایک آنکھ بھی نہیں دیکھتے ۔

اور یہ بھول جاتے ہیں کہ آج وہ والدین کے ساتھ جو کر رہے ہیں کل وہی کچھ ان کی اولاد کرے گی ۔ مگر بھول جاتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔

ہر کمزور پر طاقتور غالب آتا رہتا ہے ۔ 



یہی دنیا کا اصول ہے ۔ 
اسے رونا آرہا ہے ۔ تبسم کی بے وقت موت پر 
اسے رونا آرہا ہے ۔ نیاز صاحب کے مرنے پر اور بے حس لوگوں پر ۔
اسے رونا آ رہا ہے فرید صاحب جیسے بوڑھوں پر ۔جو تمام عمر اپنی کمائ سے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور اپنے بڑھاپے میں دو گلاب جامن پر ذلیل کر دیۓ جاتے ہیں ۔

*******



 وہ کیوں بھول جاتی ہے کہ دردآشنا لوگ احساس کی بیماری  میں  مبتلا اپنے حساس دل کو لیۓ مارے مارے پھرتے ہیں ۔


اس درد کا علاج کہیں نہیں ملتا ۔ 


مداوا کہیں نہیں ملتا۔

درد کی دوا کہیں نہیں ملتی ۔ 

ٹی وی پر خبریں ویسے ہی چل رہی تھیں ۔بمباری کا سلسلہ رکا نہیں تھا ۔ تباہ شدہ ملک ساری دنیا کی بے حسی کا گواہ ۔ آسمان پر کالے دھویں اور اس دھویں میں معصوم بچوں کی نعشوں کا منظر کتنا دردناک تھا ۔‌جگہ جگہ زمین زخم خوردہ محسوس ہو رہی تھی اور آسمان اس ظلم کا گواہ تھا جو اس سرزمین پر پچھلے چالیس سالوں سے ظلم وبربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا وہ قابل گرفت تھا ۔

دن جنازوں میں نکل رہا تھا اور رات آہ و بکا میں ۔‌زخم چیخ رہے تھے اور دل پھٹ رہے تھے ایسے مناظر دیکھ کر تو ایک بے حس انسان کے احساس بھی جاگ جاۓ مگر انسانیت پر ایسی بے حسی طاری ہو ى ہے کہ ہر ظلم پر ایک خاموشی ہے صرف خاموشی ۔ 


کہیں کوئ آواز نہیں ۔ یوں جیسے سب گونگے ہو گۓ ہوں ۔اور بہرے بھی ۔ اگر سن‌سکتے تو ان بچوں کی درد بھری چیخیں سنتے جنکے جسم دھماکوں سے کٹ پھٹ گۓ تھے اور معصوم بچے تھر تھرا کانپ رہے تھے ۔‌موت کا ڈر ان کے سر پر تھا اور زمین ان کے معصوم بدنوں کو نگلنے بیتاب بیٹھی تھی ۔ 

اگر بہرے نا ہو تے تو ان ایوب عورتوں کی پکار سنتے جو رات کی ہولناک سناٹوں کو چیرتی ان کےحلق سے نکل رہی تھی ۔ 

ان کے سر کا ساىبان بم دھماکہ کی نذر ہو گے تھے ۔ اور وہ ننگے سر آسمان کے تلے بیٹھی تھیں ۔ ان عورتوں کی چیخیں  کسی نے نہیں سنیں ۔

اگر بہرے نا ہو تے تو ان ماؤں کے گلے سے نکلے نالے سنتے جو جوان بیٹوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہو تے دیکھ رہی تھیں ۔ ان کی جوانی کو ظلم کھا گیا تھا ۔ ان کی اولاد کا دکھ اپنے سینوں میں دباۓ وہ زندگی کی جانب شکوہ کناں تھیں کہ آج ظلم و بر بریت نے شیطان کو بھی پیچھے کر دیا تھا ۔


 " احمد ۔امی کے لیۓ پین کلرز لے آنا ۔ ختم ہو گئ ہیں "  وہ اب احمد کے سامنے تھی ۔ 


" ٹھیک ہے  اور کچھ ۔" وہ اب اپنا بیگ اٹھا رہا تھا ۔


" ہاں ۔ ایسے پین‌کلز میرے لیے بھی لے آنا جس سے میں وہ درد نا محسوس کروں جو یہ سب ظلم دیکھ کر مجھے ہو رہا ہے اور ہر حساس دل کو ہوتا ہے ۔   


پین کلرز جسمانی درد کم کرتا ہے لیکن‌یہ جو روح درد سے بلبلارہی ہے اس درد کی دوا کسی کے پاس نہیں ۔ 


کوئ ایسا پین کلر  بھی لادو جو اس روح کے درد کا مداوا کرے ۔ 


یا ہم سب شاید پین کلرز کے اتنے عادی ہو گے ہیں کہ ہمیں درد کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہم سب شاید احساس سے عاری قوم ہو گۓ ہیں ۔ 


دنیاوی لذتیں ہماری روح کو بے حس بنا رہی ہیں ۔ 


جسم۔ کا کوئ ایک بھی عضو  تکلیف میں ہو تو آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں ۔ آنکھ اس درد میں برابر کی شریک ہو تی ہے ۔ 


آج امت مسلمہ پر ایسے ظلم ہو رہے ہیں کہ غیر بھی دیکھ کر اپنے آنسو روک نا پائیں مگر ۔۔۔امت مسلمہ کا ایک بے حس طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر احساس  سے عاری ہو چکا  ہے ۔


جس نے اپنے اوپر بےحسی طاری کر لی ہو اسے کسی پین کلرز کی ضرورت نہیں ہو تی ۔


روح کا زخمی پرندہ درد سے پھڑپھڑا رہا ہو  اور احساس کے تار  جھنجھوڑ رہا  ہو ۔تب اسکی دوا کا خیال آتا ہے  ۔ 


اس درد کا مداوا کرے کوئ ۔


ایسی پین کلر بنادے کوئ  جس سے  انسانیت پر ظلم ہوتا  دیکھ کر بھی  درد محسوس نا  ہو سکے ۔ 


روح کی تکلیف کم کرنے کی  بھی دوا  بنادے کوئ ۔


اس کا دل نوحہ خواں تھا ۔جسے احمد کبھی سن نہیں سکتا تھا ۔


ختم شد

  


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ