اشاعتیں

خدا اور محبت

 خدا اور محبت  اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو جب بنایا ہو گا تو ان کی خمیر میں محبت کا عنصر تو  ضرور ڈالا ہو گا ورنہ یہ ساری کاینات بنا محبت کے یوں نہیں چل سکتی ۔ محبت کو  مرد و عورت کی ذات تک محدود رکھنا میرے خیال میں لفظ محبت کی تو ہین ہے ۔ محبت تو ہر جگہ ہے ۔ ہر شے میں چھپی ہے ۔  کائنات کا ہر ذرہ بے لوث محبت کے جذبے کا گواہ ہے ۔  والدین کی محبت ۔ بھائ بہن کی محبت  دوست سے محبت  جانوروں سے محبت  ااور انسانیت  سے محبت  ان ساری محبتوں میں  سب سے اعلی مقام پر ہے بندے کی اللہ سے محبت ۔ اور خدا کی اسکے بندے سے محبت ‌۔  ہمارا اللہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہےیہ ہم جانتے تو شاید کبھی شکوہ نا کرتے اپنی تقدیر کا ۔ ۔ وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے ۔ ایک بندہ کو کیا چاہیے اور وہ کیا ڈیزرو کرتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن اللہ ہمیں وہ دیتا ہے جو ہماری سوچ ہماری  امید کے بر عکس ہمارے لیۓ بہت  بہتر ہو تا ہے ۔‌ ہم اپنی محدود سوچ کو لیکر اللہ سے دعا مانگتے ہیں ۔‌اور کبھی کبھی تو اپنے لیے خیر کے بجاۓ شر مانگ لیتے ہیں ۔...

محبت کا قرض

 محبت کا قرض  ۔ وہ دونوں باہر آنگن میں سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔ انکے چہروں پر کئ زمانوں کا درد بکھرا تھا ۔ غروب ہوتے سورج  اکی   زرد شعائیں ان کے دکھی جھریوں بھرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھیں جیسے کہنا چاہتی ہوں کہ اس دکھ میں تم اکیلے نہیں یہ دکھ تو سورج ہر روز سہتا ہے ۔ہر چڑھتے سورج کی پوجا ہوتی ہے اور۔ ڈوبتے سورج ہمیشہ تنہای کا دکھ لیکر ڈوبتا ہے ۔اس جاتے سورج کی وقعت بس اتنی ہی ہو تی ہے کہ شام کا دکھ منا لیا جاۓ۔  ڈوبتا سورج رات کا پیغام لے کر آتا ہے ۔ دکھ ،تنہائ،زوال  کا استعارہ ہو تا ہے ڈوبتا سورج ۔ اور آج اس آنگن میں ڈوبتے سورج کو دیکھتے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھے ۔ شاید اس وقت   ان کے پاس جن یادوں کا سرمایہ تھا وہ اسی ڈوبتے سورج جیسا تھا ۔جنکی اب وقعت کچھ نہیں تھی ۔ کچھ بھی نہیں ۔ ۔ "دیکھو ۔عمر ۔ابا کو  دس دن میں رکھوں گا ۔اور تم امی کو دس دن  رکھ لینا ۔اور رہے دس دن تو وہ ثمن آپا   رکھ لیں گی۔ یہ فخر صاحب کا سب سے بڑا بیٹا "بڑا" بن کر ان کا" بٹوارہ "کر رہا تھا ۔اور وہ سب انہیں رکھنے  کے ،انکی دیکھ بھا ل کرنے کے دن گن گن...

پین کلر pain killler ..3555words

 وہ اس وقت اس بلڈنگ کی دوسری منزل پر بنے فلیٹ کے کچن میں کھڑی تھی ۔ اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے ۔اور  اسے ناشتہ بنا نا تھا لیکن اس کی نظریں بار بار کچن کی کھڑکی سے نیچے اس گھر پر پڑ جاتی تھیں جہاں صبح چار بجے سے ماتم کرنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔‌وہاں چالیس سالہ  نیاز صاحب کا انتقال ہوا تھا ۔‌اور  ان کے گھر سے ان کی بیوی کی بین کرتی آوازیں آ رہی تھیں ۔ اور وہ ان آوازوں کو اپنے دل میں  محسوس کر رہی تھی ۔ اسے ان کا دس سالہ بیٹا اور دو سال کی بیٹی   کی کم سنی  یاد آرہی تھی ۔ کیسے رہیں گے وہ معصوم بچے اپنے والد کی محبت کے بغیر ۔  اان کی شفقت کو ابھی تو محسوس کر نا شروع کیا  تھا۔ وہ ننھی دو سالہ تو ابھی باپ کا لمس بھی محسوس نا کر سکی تھی اور اس لمس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئ تھی. اس سب کو سوچتے اس کا دل بے ساختہ ان کے گھر  جانے کے لیے لپکنے لگاکہ وہ جاۓ اور نیاز کی بیوی کے گلے لگے اور روۓ ۔‌اور ان بچوں کےسر پر ہاتھ رکھے محبت کا ہاتھ ۔ وہ حساس تھی ۔ کسی کے درد کو شدت سے محسوس کرنے کی عادت تھی ۔  زیب ۔ زیبا ۔ ناشتہ تیار ہو تو ذرا جلدی ...

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45  " آخر کچھ بتاتے کیوں نہیں تم کہ وہ بھائ کے گھر گئ ہے اور ابھی تک آئ نہیں ۔ایسا کیا ہوا ۔ " صابرہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب اسے گھیر چکی تھیں جو اس ذکر سے ممکنہ حد تک پہلو تہی کر رہا تھا ۔ " مجھے نہیں معلوم ۔ آپ خود پوچھ سکتی ہیں اپنی بھتیجی سے کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ۔ " وہ خود بہت تلخ ہو رہا تھا یہ اسے محسوس ہو رہا تھا ۔ " تم نے کچھ کہا ہو گا ۔ ":وہ اب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔ " نہیں ۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ بس یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ میں نے نہیں کہا تھا گھر چھوڑ کر جانے کو " اس کے لہجہ میں تلخی گھلی تھی جس پر صابرہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں ۔ یہ بات انہیں بھی نا گوار گذری تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر بنا بتا ۓ چلی گئ تھی۔ اور وہ طہ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں وہ ایسی غلطیاں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ نا معاف ۔ وہ دل ہی دل میں ان دونوں کے لیۓ دعا کرتے اٹھ گئیں تھیں ۔لیکن وہ چپ نہیں بیٹھیں تھیں نظیر صاحب کو اشارتاً بتا دیا کہ دو نوں میں کچھ نا راضگی ہو گئ ہے۔ " میں بات کروں گا ۔ابوال...

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط چھتیس 36

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔۔قسط چھتیس36  " کہاں جا رہی ہو تہذیب ۔ کھانا نہیں کھاؤگی۔ " اسے جاتا دیکھ کر شمیم آرا اس کی طرف لپکیں تھیں ۔ اس نے ماں پر ایک شکایتی نظر ڈالی تھی اور سر نفی میں ہلا تی چلی گئ تھی ۔ " آپ نے سارا الزام میرے سر ہی تھوپ دیا ہو گا ۔ "  وہ اب ابوالکلام سے مخاطب تھیں ۔لہجہ بے حد خفگی بھرا تھا ۔ انہیں تہذیب کا یوں چلے جانا گراں گذرا تھا ۔  " نہیں ۔ میں نے اپنی کوتاہیاں بھی بیان کی ہیں ۔اگر کسی گھر میں فساد پیدا ہو تو اس کا الزام عورت پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ کہ عورت ہی گھر بناتی بگاڑتی ہے ۔ مگر اس میں مرد کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اگر عورت اتنی ہمت سے گھر مں فساد پیدا کر رہی ہے تو وہاں ضرور  مرد کا کردار کمزور رہا ہو کا ورنہ عورت میں اتنی ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک بسے بساۓ گھر کو توڑ دے ۔ مجھے اس سارے معاملے میں اپنےکردار کی خامیاں بھی محسوس ہو تی ہیں جسے میں قبول کرتا ہوں ۔وہ بہت سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔ " آپ تو ایک اچھے شوہر بیٹے اور بھائ تھے ۔ شاید میں غلط تھی جس کی وجہہ سے یہ سب فساد ہوا ۔ " وہ شرمندہ تھیں ۔ انہوں نے نظریں جھکا لی ت...
 بشری رحمن‌کا ناول لگن اور عمیرہ احمد کا ناول شہر ذات  جب کالج میں تھے اس وقت کالج لائبریری سے بشری رحمن کا ناول لگن پڑھنے کے لیے لیا ۔ کالج فرینڈ نے کہا ۔ امی کہتی ہیں بشری رحمن کے ناول مت پڑھو ۔ اچھا نہیں لکھتیں ۔ میں نے کہا ۔ دیکھتی ہوں ۔ اگر اچھا رہا تو پڑھ لیں گے ورنہ نہیں ۔  جب پڑھنا شروع کیا تو پھر رک نا سکی ۔ مکمل پڑھ کر ہی دم لیا یعنی مسلسل تین چار دن لگے تب مکمل ہوا ۔ پھر بہن کو دیا اس نے بھی پڑھا اور اس نے بھی کہا ۔واقعی بہت اچھا ناول  تھا ۔ فرینڈ کو بھی کہہ دیا ۔" اچھا ہے پڑھ لو " ۔ اس نے بھی والدہ کی اجازت سے ہی پڑھا اور اسے بھی بے حد پسند آیا تھا ۔ پھر شاید انہی دنوں عمیرہ احمد کا ناول شہر ذات بڑھا اور وہ بھی بے حد پسند آیا تھا ۔  ادھر شادی کے کچھ سال بعد بشری رحمن کا ناول لگن پھر سے پڑھا ۔  چونکہ  عمیرہ احمد کا ناول پڑھ چکے تھے تو ذہن سیدھا ان دو نوں ناولوں کی تھیم پر اٹک گیا ۔ ان دو نوں ناول کی ہیروئن کا نام فلک ہے ۔  اور اب مجھے لکتا ہے کہ عمیرہ نے یہ ناول بشری رحمن کے اس مقبول ناول کی توڑ پر لکھا ۔ یہ میری سوچ ہے ۔ضروری نہیں سچ ہ...

ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔قسط 15

  رشتہ کے منظور ہوتے ہی دونوں خاندان کے لوگوں  کی ہر دوسرے دن ملاقات ہو رہی تھی ۔آخر یہی طۓ پایا کہ اگلے پندرہ دن میں منگنی رکھیں گے ۔ اور اس رشتہ پر سب سے پر جوش ابو جی ہی تھے ۔ ان کے اندر ایک گہرا سکون اترا تھا ۔ انشا  آج اپنے چھوٹے سے آنگن میں گملا لینے بیٹھی تھی ۔وہ ہر دن ایک ایک کمرے کی صفائ اور سجاوٹ پر دھیان دے رہی تھی ۔ آج آنگن اور اس میں لگے پودوں پر اس کی نظر کرم ہو گئ تھی ۔  ایک چھوٹے سے اسٹول لیے وہ اپنے سامنے ایک گملا لیکر اس کو کھود رہی تھی ۔ اسکے قریب ہی گلاب کی ٹہنی بھی رکھی تھی جس کو اسے گملے میں لگانا تھا ۔  " لوگوں میں کافی  تبدیلیاں آگئ ہیں ۔ لگتا ہے اچھے دن آنے والے ہیں ۔" اس مانوس آواز پر وہ یکدم پلٹی تھی ۔ وہ سفید شرٹ اور بلیک جینز پہنے دروازہ پر ہی کھڑا تھا ۔ عام دنوں کے مقابل کیپ بھی پہنی تھی ۔  " اف ۔ یہ ۔ " وہ دل ہی دل میں بڑ بڑائ۔ " کیا کروں ۔اب میں ۔ منگیتر کو گھر پر بلانا چاہیے کہ نہیں ۔یہ بھی نہیں پتا ۔ ویسے اسے آنا تو نہیں چاہیۓ تھا ۔ اب کیا کروں میں ۔جا کر امی کو اٹھاؤں جو رات ہی شاپنگ کر کے گھوڑے بیچ کر سوئ ہیں۔ ۔یا خو...