میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط چھتیس 36
میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔۔قسط چھتیس36
" کہاں جا رہی ہو تہذیب ۔ کھانا نہیں کھاؤگی۔ " اسے جاتا دیکھ کر شمیم آرا اس کی طرف لپکیں تھیں ۔ اس نے ماں پر ایک شکایتی نظر ڈالی تھی اور سر نفی میں ہلا تی چلی گئ تھی ۔
" آپ نے سارا الزام میرے سر ہی تھوپ دیا ہو گا ۔ " وہ اب ابوالکلام سے مخاطب تھیں ۔لہجہ بے حد خفگی بھرا تھا ۔ انہیں تہذیب کا یوں چلے جانا گراں گذرا تھا ۔
" نہیں ۔ میں نے اپنی کوتاہیاں بھی بیان کی ہیں ۔اگر کسی گھر میں فساد پیدا ہو تو اس کا الزام عورت پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ کہ عورت ہی گھر بناتی بگاڑتی ہے ۔ مگر اس میں مرد کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اگر عورت اتنی ہمت سے گھر مں فساد پیدا کر رہی ہے تو وہاں ضرور مرد کا کردار کمزور رہا ہو کا ورنہ عورت میں اتنی ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک بسے بساۓ گھر کو توڑ دے ۔
مجھے اس سارے معاملے میں اپنےکردار کی خامیاں بھی محسوس ہو تی ہیں جسے میں قبول کرتا ہوں ۔وہ بہت سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔
" آپ تو ایک اچھے شوہر بیٹے اور بھائ تھے ۔ شاید میں غلط تھی جس کی وجہہ سے یہ سب فساد ہوا ۔ " وہ شرمندہ تھیں ۔ انہوں نے نظریں جھکا لی تھیں ۔
" میں نے کہا نا تم سے زیادہ میں یعنی ایک مرد ذمہ دار تھا اس سب کا ۔ میں نے اپنی آنکھیں اور کان بند کر دیۓ تھے اور حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے بجاۓ سنی سنائ باتوں پر بھروسہ کیا ۔ میں یہ بھول گیا کہ ہر چیز کے دو پہلو ہو تے ہیں ۔ زندگی میں ہمیشہ ہر دو پہلو پر نظر رکھنی چاہیۓ ۔نا کہ یک طرفہ فیصلہ دینا چاہیۓ۔ "
" اور مجھے لگتا ہے کہ طہ میری غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتا ۔ وہ تہذیب کو موقعہ دے رہا ہے کہ وہ اسکے ماحول میں ایڈجسٹ ہو جاۓ ۔ وہ اپنے گھر کو سطحی قسم کی گھریلو سیاست سے پاک کرنا چاہتا ہے ۔ اور اس کے لیۓ وہ خود ایک امتحان سے گذر رہا ہے ۔اور میرے خیال میں یہ دونوں ایک بہتر کپل بن کر ابھریں گے ۔ " انہوں نے اپنی بات کے اختتام پر اپنی بے چد حسین بیوی پر ایک نظر ڈالی تھی جنکے حسن نے انہیں کبھی اندھا کر دیا تھا ۔
"جی یقیناً ۔ آپ کا تجزیہ درست ہے ۔ اللہ آپ کی زبان مبارک کرے ۔ " وہ بے ساختہ مسکرا اٹھیں تھیں ۔
***************
وہ جب سے آئ تھی ایک سوچ کے ساتھ چل پھر رہی تھی ۔ پچھلی باتیں رویوں کا ادراک اب ہو رہا تھا ۔ وہ ایسا تھا تو کیوں تھا اور اسکی سوچ کو وہ اب پڑھ پا رہی تھی ۔ اسکے لیۓ وہ ایسی کتاب بن گیا جسے بہت غور سے پڑھنے کی ضرورت ہو تی ہے ۔ کچھ کتابوں کو سر سر ی پڑھ کر آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ اسکے علاوہ وہ اب اپنی پھپھو کو بھی سوچ رہی تھی ۔ وہ شروع سے بہت محبت والی تھیں اور وہ رابعہ پھپھو کے بجاۓ صابرہ سے زیادہ انسیت رکھتی تھی ۔
اس نے انہیں بہت محنت کر تے دیکھا تھا ۔ وہ کبھی فارغ نہیں بیٹھتی تھیں ۔ وہ گھر کے کام کرتے ہو ۓ غریب بچوں کو عربی اردو وغیرہ بھی پڑھاتی تھیں اسکے بدلے میں اگر کوئ کچھ دے دیتا تو لیتی تھیں ورنہ مفت خدمت کر رہی ہو تی تھیں ۔
اور یہی حال دوسرے افراد کا بھی تھا ۔اربیہ کی بھی تعلیم مکمل ہو گئ تھی اور وہ بھی اب ایک پرائیوٹ اسکول میں جاب کر رہی تھی ۔ اظہار خود بھی پارٹ ٹائم جاب کرتا تھا ۔ اور نظیر صاحب بھی کسی بڑے تجارتی اسٹور میں منشی کا کام کرتے تھے ۔ غرض گھر کا کوئ فرد ایسا نہیں تھا جو بے کار بیٹھتا ہو ۔ سب کے ذمہ کجھ نا کچھ کام تھے جو وہ بغیر ماتھے پر بل لاۓ کرتے تھے ۔ کسی سے کسی کو شکایت بھی نہیں تھی ۔
اگر طہ کو دیکھتی تو اس نے بہت کم عمری سے ہی پڑھائ کے ساتھ ساتھ چھوٹی موٹی نوکریاں کی تھیں ۔ وہ بڑا بیٹا تھا اور اس نے سب سے زیادہ برا وقت دیکھا تھا اور جھیلا تھا ۔ لوگوں کے غلط روئیوں کو سہا تھا ۔ کم عمری میں ہی اس پر گھر کی ذمہ داریاں آن پڑی تھیں رخشی آپا کی شادی اور اس شادی کے بعدکے تمام حالات کو وہ اکیلا ہی سنبھالتا تھا ۔ اس کی کوشش ہو تی تھی کہ اسکی بہن کو دولت کی بنا بر کوئ تکلیف نا پہنچاۓ۔ وہ انکے لیۓ ہر ممکن مدد کرتا رہتا تھا ۔ کیونکہ نظیر صاحب کی جو تنخواہ تھی وہ اکثر نا کافی ہو تی تھی اور اس وقت اربیہ اظہار بھی چھوٹے تھے ۔ ذمہ داریاں تو وہ بڑے ہو کر بانٹ رہے تھے ورنہ طہ اور نظیر صاحب ہی اس گھر کے کفیل تھے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں