ڈائجسٹ ریڈر ۔۔۔قسط 15

  رشتہ کے منظور ہوتے ہی دونوں خاندان کے لوگوں  کی ہر دوسرے دن ملاقات ہو رہی تھی ۔آخر یہی طۓ پایا کہ اگلے پندرہ دن میں منگنی رکھیں گے ۔ اور اس رشتہ پر سب سے پر جوش ابو جی ہی تھے ۔ ان کے اندر ایک گہرا سکون اترا تھا ۔

انشا  آج اپنے چھوٹے سے آنگن میں گملا لینے بیٹھی تھی ۔وہ ہر دن ایک ایک کمرے کی صفائ اور سجاوٹ پر دھیان دے رہی تھی ۔ آج آنگن اور اس میں لگے پودوں پر اس کی نظر کرم ہو گئ تھی ۔ 

ایک چھوٹے سے اسٹول لیے وہ اپنے سامنے ایک گملا لیکر اس کو کھود رہی تھی ۔ اسکے قریب ہی گلاب کی ٹہنی بھی رکھی تھی جس کو اسے گملے میں لگانا تھا ۔ 

" لوگوں میں کافی  تبدیلیاں آگئ ہیں ۔ لگتا ہے اچھے دن آنے والے ہیں ۔" اس مانوس آواز پر وہ یکدم پلٹی تھی ۔ وہ سفید شرٹ اور بلیک جینز پہنے دروازہ پر ہی کھڑا تھا ۔ عام دنوں کے مقابل کیپ بھی پہنی تھی ۔ 

" اف ۔ یہ ۔ " وہ دل ہی دل میں بڑ بڑائ۔

" کیا کروں ۔اب میں ۔ منگیتر کو گھر پر بلانا چاہیے کہ نہیں ۔یہ بھی نہیں پتا ۔ ویسے اسے آنا تو نہیں چاہیۓ تھا ۔ اب کیا کروں میں ۔جا کر امی کو اٹھاؤں جو رات ہی شاپنگ کر کے گھوڑے بیچ کر سوئ ہیں۔ ۔یا خود کہیں بھاگ جاؤں ۔ اف سمجھ ہی نہیں آرہا اندر بلاؤں کہ باہر ہی سے بھیج دوں ۔ " وہ مقابل کو گھورتی اپنی ہی سوچوں میں الجھ گئ تھی۔

 " اندر بیٹھنے کے لیے نہیں آیا ۔دو منٹ بات کرنی ہے ۔انکل سے اجازت لیکر آیا ہوں ۔ " وہ اسکے چہرے پر نظریں جماۓ اس کے خیالات جیسے پڑھ رہا تھا ۔

" ہاں ۔ہاں ابو نے تو اجازت دینی ہی ہے ۔ ان کا چہیتا لاڈلا تو ہے ۔ ابو کا بس چلے تو گود ہی لے لیں  اسے ۔ " 

ویسے کیا بات کرنی ہوگی  پھر کر کیوں نہیں رہا ۔۔ " وہ پھر سوچوں میں غلطاں ۔

آپ اپنا کھودنے کا عمل اور سوچنے کا عمل بند کریں گی تو بات کر پاؤں گا ناں ۔ "  ۔ 

" اف ۔ " اس نے اپنی  آنکھیں میچیں۔ اب کچھ نہیں سوچوں گی ۔ یہ تو دماغ میں چل رہی ساری باتیں پڑھ رہا ہے  ۔" اس نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔ مگر سر نہیں اٹھا یا ۔

" کیا ۔ " جھکے جھکے سر کے ساتھ ہی پوچھا ۔

" اس رشتہ کو قبول کرنے کے لیۓ کیا کسی نے دباؤ ڈالا ۔ " بہت سنجیدہ انداز تھا ۔

 اس نے اپنے سر کو نفی میں ہلایا ۔

" انکل نے " پھر سوال ۔

ا" نہیں " اس نے پھر نفی میں سر ہلایا ۔

کسی اور قسم کا معاشرتی دباؤ وغیرہ ۔ " وہ سوال پر سوال کر رہا تھا اور اس کی جان جل رہی تھی ۔

نہیں " 

اچھی طرح سوچ لیا ہے " 

"ہمم" اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔

پکا ؟ " 

ا"ارے کیا اب لکھ کر دوں ۔ کہ میں تمہیں ۔۔۔۔" اس نے چڑ کر کہا تھا ۔اور قریب رکھی  کدال اٹھا لی تھی ۔

ا"رے ۔ارے ۔ٹھیک ہے آرام سے ۔ میں تو بس کنفرم کرنا چاہ رہا تھا" ۔ اس نے ہنس کر ذرا ڈر نے کی ایکٹنگ کی ۔ 

مگر کچھ اور باتیں ہیں جسے میں ابھی کلینر کروں گا ۔ کسی کی زندگی کی ہیروین بننا ٹھیک ہے مگر میں بہت پریکٹیکل انسان ہوں اس لیے میں ہیروئن کی تعریف میں شاعری نہیں کر سکتا ۔ " وہ اب مکمل سنجیدہ تھا ۔

" ہاے ۔اللہ امی ۔ کیا سب بولنا ضروری تھا ۔ " وہ دل ہی دل میں امی سے ناراض ہو گئ تھی ۔

میری ماہانہ تنخواہ تیس ہزار ہے ۔ جس میں میں دس ہزار گھر پر دیتا ہوں ۔ اور پانچ ہزار میرے اپنے خرچے ہوتے ہیں ۔اور ہر مہینہ دس ہزار سیو کرتا ہوں ۔۔اب رہے پانچ تو وہ آپ کے متوقع خرچے میں دے سکتا ہوں ۔ اس سے زیادہ کی امید مت رکھیں ۔ " 

": ہاے ۔اللہ ۔یہ پہلا منگیتر ہوگا جو اپنی منگیتر کو یوں اپنا ماہانہ بجٹ سنا رہا ہوگا ۔ پتا نہیں لوگوں کے منگیتر جو اپنی منگیتر کے لیے شاعری کرتے ہو نگے وہ کیسے ہوتے ہوں گے ۔ " وہ ابھی بھی نیچے دیکھے اس کی باتیں سن رہی تھی ۔ 

" اس میں آپ کے ڈائجسٹ کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتا ۔ " وہ اب جتاتی نظریں اس پر مرکوز کر چکا تھا ۔

" ڈائجسٹ  عیاشی کے زمرہ میں آتے ہیں ۔" وہ دل ہی دل میں برا مان گئ۔

ہاں ۔ بھای کی بہن نے تو پہلے ہی بتادیا تھا کہ بھائ تو ڈائجسٹوں کے سخت خلاف ہیں ۔ اب کیا کر سکتی ہوں ۔زواے صبر کے ۔ " اس نے ٹھنڈی آہ بھری تھی ۔

لیکن گنجایش نکل سکتی ہے ۔"وہ رکا تھا .

انشا کو امید کی کرن نظر آئ۔

 "مگر ایک شرط پر ۔" اب وہ اسکے تاثرات بغور دیکھ رہا تھا ۔

" ہائیں ۔ اب کونسی شرائط ۔۔" وہ گھبرائ ۔

اگر کچھ اچھی اسکل سیکھنے کی کوشش کریں گی ۔تو ڈائجسٹ کےلیے گنجائش نکل  سکتی ہے ۔ اس کا لہجہ ابھی بھی سخت تھا ۔پتا نہیں کس مٹی کا بنا تھا وہ ۔

اب کیا اسکل skill سیکھوں میں ۔پڑھ تو رہی ہوں ۔ابھی اور کیا کروں" ۔وہ رونے والی ہو گئ۔ 

" پڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ کر سکتی ہیں لڑکیاں ۔ گھر بیٹھ کر ان لائن کورسز کر سکتی ہیں ۔ کچھ اچھے اسکلز سیکھ کر اس سے کچھ کما سکتی ہیں اس کے لیۓ ۔‌میں آپ کو گائیڈ  بھی کر سکتا ہوں ۔ " وہ روانی میں کہتے جا رہا تھا ۔

اچھا جیسے کہ ۔۔۔۔ " وہ سچ مچ گھپراگئ ۔

" یوں توسلائ پکوان  پینٹنگ ہوم فرنشننگ جیسے کورسس تو ہیں ہی ۔اسکے علاوہ ٹایپنگ ،کانٹنٹ رائیٹنگ ' لوگو ڈیزاییننگ  گرافک ڈیزائینگ پروف ریڈنگ اور ایسے بے  شمار کورسس ہیں جو آپ  ان لائن سیکھ سکتی ہیں۔ یا کسی سنٹر پر جا کر سیکھ سکتی ہیں "۔ ۔وہ مشینی انداز میں کہتے جا رہا تھا ۔

" یہ سب مجھے سیکھنے ہونگے " وہ تو اب ڈر کے مارے شرمانا ہی بھول گئ ۔

" ارے نہیں ۔کوئ ایک چیزجس  میں آپ کو دلچسپی ہو ۔مگر کام میں مہارت لانی ہو گی ۔ " وہ مشین بنا بیٹھا تھا ۔ 

" ٹھیک ہے جی ۔ کوشش کروں گی ۔ "  ۔ وہ اب پھر سے گملے کی طرف متوجہ ہو گئ تھی ۔

" شاید یہ مجھے جاب کرنے کے لیۓ کہے گا ۔" اس نے دل میں سوچا۔

" یہ سب آپ کو آنے والے ہر برے وقت کے لیۓ تیار رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔اسکے علاوہ کچھ نہیں  ۔کیونکہ میں بیوی کی کمائ کھانے والا مرد نہیں ہوں ۔ " اس نے مضبوطی سے کہا تھا ۔۔

اوکے ۔ چلتا ہوں ۔ ویسے ۔۔۔ " وہ جاتے جاتے رکا ۔

" تھینک یو ۔۔میری ہیروئن ۔‌" اب وہ روبوٹ مسکرا رہا تھا  انشا کا چہرہ لال ہوا ۔

۔ایک منٹ ۔" انشا کو جانے کیا یاد آیا ۔

وہ پلٹا تھا ۔


وہ۔۔۔۔ تمہارا نام کیا ہے ۔مجھے نام ہی نہیں معلوم ۔ " وہ جیسے مظلوم بن گئ تھی ۔ظلم نہیں تو کیا ہے منگیتر کا نام نہیں معلوم ۔

" مگر مجھے آپ کا نام معلوم ہے ۔  وہ ہنسا تھا ۔

انشا اللہ کے ساتھ  ہم اور کیا لگاتے  ہیں ۔ " 

انشا اللہ کے ساتھ " وہ سوچنے لگی۔

"ماشاء اللہ" وہ با آواز بلند دہرا رہی تھی ۔

"سبحان اللہ " ۔

" اور اور ۔۔

تبارک  ۔۔۔۔" یہاں آ کر زبان ہی اٹک گئ ۔ ۔

" جی " اس نے اپنی کیپ ذرا سا نیچے کی  تھی اور ایڑیوں کے بل گھوم گیا  تھا۔ ۔ 

اور انشا بس" دھت" کہتی اپنے گملے میں اس گلاب کے پودے  کو  لگانے لگی  جو آگے چل کر بہت پھلنے پھولنے والا تھا ۔اسکی اپنی زندگی کی طرح ۔۔

ختم شد 

**********

محترم قارئین ۔

آپ سب کا شکریہ 🥰 میری تحریر پڑھنے کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا ۔یہ صرف ایک کوشش ہے ۔ان بچیوں کی سوچ  کو بدلنے کی جو افسانوی زندگی اور حقیقی زندگی میں فرق نہیں کرپاتیں ۔ ان کو حقیقت پسندی کی راہ دکھانے کی ۔ میں کس حد تک کامیاب ہوئ ۔یہ آپ لوگ ہی بتائیں گی ۔

اسکے علاوہ مجھے یہ پیغام بھی دینا تھا کہ پڑھنے کی یا مطالعہ کی عادت بہت اچھی ہوتی ہے ۔لیکن اس کو مفید بنا نے کے لیۓ آپ کو تھوڑی محنت کرنی ہو گی ۔اور سستے قسم کے ناول یا کتابوں کے بجاۓ اچھی کتابیں پڑھیں ۔اپنا ذوق بلند کریں ۔فحش تحریروں سے بچیں ورنہ یہ بے حیائ ہمارے معاشرہ کو گھن کی طرح کھا جائیگی ۔

اگر آپ کے اندر سے اچھائ اور برائ کا فرق مٹ گیا۔تو یاد رکھیں اس کا اثر نسلوں تک چلا جاتا ہے ۔

اپنی سوچ ،اپنے خیالات پاک رکھیں ۔

تاکہ ایک اچھا معاشرہ پروان چڑھے ۔

خدا حافظ 

نازنین فردوس 






تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ