عورت اور کار ڈرا ئیونگ۔۔ عورت "کہتے ہیں عورت جب کار ڈرایئو کرتی ہے تو آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔وہ کار وہاں پارک کرے گی جہاں" نو پارکنگ" کا بورڈ لگا ہو گا۔بریک گاڑی ٹھوکنے کے بعد لگاۓ گی۔اور دائیں جانا ہو تو بایاں اور بایاں جانا ہو تو دایاں ہاتھ بتائیں گی۔۔گاڑی آگے لیتے لیتے یکدم سے ریورس لے لیگی۔پیچھے بندہ حیران پریشان اپنی گاڑی سنبھالنے میں لگ جاتا ہے ۔خیر،ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہی ہے کہ عورتیں ڈرائیو نگ کے معاملہ میں اناڑی ہوتی ہیں۔تو سارے مردوں کو یہی کیوں بتانا ہوتا ہے۔کہ ہم اناڑی ہیں۔عورتوں نے تو اپنی قابلیت کے جھنڈے ہر جگہ گاڑے ہیں۔گاڑی تو کیا چیز ہے۔اس نے تو ہوائ جہاز بھی چلالیا ہے۔ہونہہ۔ان مرد حضرات نے عورتوں کو سمجھ کیا رکھا ہے"۔ہم نے صبح کا اخبار زور سے میز پر پٹخا توہمارے شوہر ہمیں دیکھنے لگے۔ "کیا ہوا۔" "ہم نے بھی کار چلانی ہے"۔ہم نے جوش سے ہاتھ ہوا میں لہراۓ۔ "سائکل چلانا تو سیکھ لو۔"انہوں نے ہمارے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔اور خود پانی پینے لگے۔ "سائکل چھوڑیں ہم تو کار سیکھیں گے کار ۔" ہمارا جوش قابل دی...
اشاعتیں
عجیب دوست
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
عجیب دوست مجھے شکوہ ہے تم سے اے دوست کہ تم۔ دوستی کا حق ادا نہیں کر سکے ۔کاش تم نے مجھ سے دوستی نا کی ہوتی ،کاش تم مجھے کبھی نا ملتے ۔تم سے ملاقات ہوی تو دل خوش تھا کہ ایک سچا خالص دوست مجھے مل گیا ۔جو میرے ساتھ صرف وقت گذاری کے لیےنہیں بلکہ مجھ سے ایسی دوستی نبھاے گا کہ دنیا یاد کرے گی۔ تم ہر روز مجھ سے ملتے ،باتیں کرتے اپنا دکھ سکھ سناتے ،میرے ساتھ ہنستے تو روتے بھی میرے ساتھ ،اور میں یہ سمجھتی کہ تمہیں میری ضرورت ہے ۔ہاں تمہیں ضرورت تو ہوتی تھی میری مگر وقتی ۔بس کچھ پل میرے ساتھ گذارتے اور پھر مجھے ایک بے کار چیز کی طرح کہیں پھینک دیتے ۔ کیا میں تمہارے لیے اتنی بے وقعت تھی۔ شاید ہاں ۔۔ مگر تم بھول گے۔ وہ میں تھی جس نے تمہیں علم سے روشناس کیا ۔دنیا کے نشیب و فراز بتاے ۔ کامیاب کیسے ہوتے ہیں اور ناکامی سے کیا سبق ملتا ہے یہ میں نے بتایا تھا ۔مگر تم بھول گے ۔کتنے عجیب دوست ہو تم ۔اپنے دوست اپنے استاد اپنی کتاب کو بھول گے۔ ہاں میں کتاب ہوں جو تمہاری دوستی کا واسطہ دیتی ہوں کہ آو ۔اور ہمیں زندہ کرو ۔ہمیں ایک نی زندگی دو ۔کتاب سے دوستی تھی تو دوستی کا حق ادا کرو ۔ مجھے ہر...
حسینہ عالم ۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
حسینہ عالم نوٹ ۔۔یہ افسانہ پاکستانی ڈائجسٹ کرن فروری 2023میں شائع ہوا ۔ "پتا نہیں امی کو کیا سوجھی تھی جو ہمارا نام حسینہ رکھ دیا ۔کوئ اور نام نہیں ملا انہیں ۔کتنا چیپ سا محسوس ہوتا ہے حسینہ ۔۔ایسے لگتا ہے کسی ملازمہ کا نام ہو ۔"ہم اپنی سہیلی سے مخاطب تھے ۔جو کہ چھت کے دیوار سے لگی ہمارا حسینہ نامہ بڑی دلچسپی سے سن رہی تھی ۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ یوں لقمہ بھی دیتی جارہی تھی ۔ "چہ چہ جہ ۔۔سج میں آنٹی نے نام تو تمہارا ملازماؤں والا رکھا تھا مگر کاش کہ تمہاری شکل تو ملازماؤں والی نا ہو تی ۔ ۔"اسکی بات پر ہم بھنا گۓ ۔ ٹھیک ہے ہم اپنے آپ کو لاکھ کوس لیں کہ شکل فقیرانہ ہے مگر اس کم بخت کو کیا حق ہے کہ وہ ہمیں ملازمہ جیسی کہے ۔ جبکہ اسکے چہرے کا خود کا جغرافیہ بھی ٹھیک نہیں ۔ "دیکھو مبینہ ۔۔ہم نے مبینہ پر زور دے کر اسکے چہرے پر نظر ڈالی تھی جو کہ حسب توقع سرخ ہو چکا تھا۔ "اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایک رنگ کے ذرا سا اچھے ہونے سے انسان کی خامیاں چھپ جاتی ہیں تو وہ غلط ہے ۔ پکوڑا ناک تو نظر آ ہی جاتی ہے ۔باقی اگر چھپ بھی جاے تو ۔"ہم اسکے موڈ کا جو کر چکے تھے وہ دیکھ...
کیا بنے گا شیبا کا ۔۔۔۔
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
کیا بنے گا شیبا کا ۔۔۔۔ "شیبا ۔شیبا ۔ تمہارے کپڑے الماری میں رکھ لو ۔ تہہ کرنا تو تم سے ہوا نہیں ۔ میں نے ہی کر دیا ہے ۔۔ "امی اسے پکارتی اس کے کمرے میں آئیں تو وہ اپنے اسمارٹ فون میں منہ دیۓ بیٹھی تھی ۔ امی کی تو جان جل کر خاک ہو گئ ۔ "شیبا ۔۔"وہ چلائیں ۔ "یہ کپڑے رکھنے ہیں الماری میں ۔۔۔جلدی سے الماری کھولو ۔"وہ دونوں ہاتھوں میں کپڑوں کا ڈھیر جو کہ تہہ کیا ہوا تھا لے کر ٹہری تھیں ۔ "اوہ ۔ہو ۔اچھا ۔امی ابھی کھولتی ہوں ۔"وہ امی کے غصہ سے ڈر کر الماری کھول چکی تھی ۔ لیکن الماری کھولنے کی دیر تھی کہ الماری سے کپڑوں کی برسات ہونے لگی ۔ "یہ کیا ہے شیبا ۔ کبھی تو الماری میں کپڑے ڈھنگ سے جماؤ ۔ یہ دیکھو ۔کپڑے کیسے ابل رہے ہیں ۔ " امی نے ایک کھولتی ہوئ نظر شیبا پر ڈالی جو اب گرے ہوۓ کپڑوں کو جلدی جلدی الماری میں ٹھونس رہی تھی ۔ امی ۔ پتا نہیں اس الماری کو مجھ سے کیا دشمنی ہے ۔ جب دیکھو ۔غصہ سے میرا مطلب کپڑوں سے ابلتی رہتی ہے ۔ وہ اپنے پھوہڑ پن پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں جلدی جلدی کپڑوں کو الماری میں ڈھکیلتی ہوئ بولی تو امی کا پا...
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔۔فیصلہ کن جنگ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔فیصلہ کن جنگ آخری قسط ۔۔۔ ایک جانب ہنری اور پال بندھے پڑے تھے ۔تو دوسری جانب جارج بھی تہہ خانہ میں بے یار و مدد گار پڑا تھا ۔ آج انکی تیسری رات تھی ڈیمن ہاؤس میں اور ان تین راتوں میں وہ تین صدی کا سبق سیکھ چکے تھے ۔ ایک اور قیامت خیز رات کا سامنا تھا انہیں ۔ اس ڈیمن ہاؤس کی رات پہلی رات کی طرح دہشت ذدہ کرنے والی تھی ۔ ان دونوں نے اپنے آپ کو کھولنے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ نا کام رہے تھے ۔اور اب تھک ہار کر اپنی آنے والی درد ناک موت کا انتظار کر رہے تھے ۔ صبح کی اولین ساعتوں میں ان دونوں نے دیکھا وہ الو انکے پاس آ کر پھڑ پھڑ ارہے تھے ۔ " ہنری یہ جارج کہاں گیا ہو گا ۔ پتا نہیں ڈیمننے اسکے ساتھ کیا کیا ہو گا" ۔پال کو یاد آیا کہ وہ رات سے بندھے ہوۓ ہیں اور جارج نے بھی خبر گیری نہیں کی ۔ "اسکے ساتھ بھی ضرور ڈیمن نے کچھ غلط کیا ہوگا ۔یا ہو سکتا ہے کہ اسے بھی اس ڈیمننے قید کر دیا ہو" ۔ ہنری کی بات پر پال بے چین ہو گیا ۔ "یہ اچھی بات نہیں ہے آخر ہم سب کو ڈیمن سے بچاۓ گا کون ۔ " "ڈیرک ۔۔۔ہم ڈیرک کو بلا لیتے ہیں" ۔ہنری...
ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔نیکی کے جگنو
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔نیکی کے جگنو قسط نو ہنری اور پال ڈیمن اور اسکی نام نہاد فوج جو کہ مکڑیوں پر مشتمل تھی ۔ نبرد آ زما تھے ۔ پال اپنے پاس موجود ایک جادوئ آئینہ میں ہر مکڑی کو قید کرتے جا رہا تھا ۔ ڈیمن ان پر حملہ کر رہا تھا ۔ اسکی آنکھوں کی چنگاریوں سے اطراف کی ہر چیز جلنے لگی تھی ۔ جارج جب اس تہہ خانہ میں اترا تو وہ اندھیرا ہی تھا جسکا اسے سامنا ہوا تھا ۔ وہ بالکل اندھا بن گیا تھا ۔ اس نے اپنے پیچھے ان الووں کو دیکھا اور کہا ۔ "میں اب اندر جا رہا ہوں ۔ لیکن اگر میں واپس نا آؤں تو میرے دوستوں کو بتا دینا کہ میں اس تہہ خانہ میں ہوں "۔ وہ چپ چاپ سن رہے تھے ۔ جارج سمجھ گیا کہ۔ یہ بولتے بھی ڈیمنکی مرضی سے تھے ۔ "اچھا اب تم جاؤ میں اندر جاتا ہوں" ۔ جارج نے سیڑھیاں اترتے ہوے کہا ۔ الو پھر رررر کرتے واپس چلے گۓ۔ جارج نے ایک ایک سیڑھی بڑی مشکل سے اتری۔۔ اب تاریکی کی گہری دھند تھی جس سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔ "جولی ۔۔۔ڈیر جولی ۔۔۔کیا مجھے میرے وہ جگنو دے سکتی ہو جو تمہارے پاس ہیں" ۔اس نے اپنی مٹھیاں...
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔جب ڈیمن آتا ہے
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔جب ڈیمن آتا ہے ۔ "ڈیرک ۔۔۔وہ تمہاری فیملی تھی " جارج۔ نے بہت افسوس سے اسے دیکھا ۔ "تھی نہیں ہے ۔ مگر زندہ درگور ۔"۔اس نے کہا ۔ "فیم کہاں ہے۔" ۔پال نے بھی اس کے درد کو محسوس کیا ۔ "ریسیپشنسٹ جو اس ہوٹل میں تھی ۔وہی فیم ہے۔ وہ بھی سب جانتی ہے مگر ہم یہ سب کسی کو بول نہیں پاتے ۔ اس کا ڈر ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا تھا ۔ نا اسکا کچھ توڑ تھا ہمارے پاس ۔میں ایک چرچ کے پادری سے ملا تو اس نے کہا تھا ایک ڈیمن کوتو نیک روحیں ہی ختم کر سکتی ہیں ۔ ان سے مقابلہ کر سکتی ہیں ۔ میں نے اس کے لیۓ تلاش شروع کی ۔لیکن نیک روحیں ملتی بھی مگر وہ اتنی بہادر نہیں تھیں کہ ڈیمن سے جنگ لڑ پاتیں ۔ میں ہار ماننے والا تھا جب میں نے جارج کو دیکھا ۔وہ ویسا ہی تھا جیسا مجھے چاہیۓ تھا ۔میں نے اشتہار چھپوایا اور اسکے اخبار میں ڈالا ۔ اب تک تم لوگوں کی کار کردگی سے خوش اور مطمین ہوں کہ میری امیدوں پر پورا اترے ہو ۔ لیکن آگے ڈیمن جب آۓ گا تب تم اس کا کیسے سامنا کروگے "ڈیرک. وہ ہم تینوں پر چھوڑو ۔ تم پہلے ہمیں آزاد کرو "۔ جارج کے نرم انداز پر ڈیرک اٹھا اور ا...