عورت اور کار ڈرا ئیونگ۔۔

عورت 










"کہتے ہیں عورت جب کار ڈرایئو کرتی ہے تو آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔وہ کار وہاں پارک کرے گی جہاں" نو پارکنگ" کا بورڈ لگا ہو گا۔بریک گاڑی ٹھوکنے کے بعد لگاۓ گی۔اور دائیں جانا ہو تو بایاں اور بایاں جانا ہو تو دایاں ہاتھ بتائیں گی۔۔گاڑی آگے لیتے لیتے یکدم سے ریورس  لے لیگی۔پیچھے بندہ حیران پریشان اپنی گاڑی سنبھالنے میں لگ جاتا ہے

۔خیر،ان تمام باتوں کا لب لباب یہ ہی ہے کہ عورتیں ڈرائیو نگ کے معاملہ میں اناڑی ہوتی ہیں۔تو سارے مردوں کو یہی کیوں بتانا ہوتا ہے۔کہ ہم اناڑی ہیں۔عورتوں نے تو اپنی قابلیت کے جھنڈے ہر جگہ گاڑے ہیں۔گاڑی تو کیا چیز ہے۔اس نے تو ہوائ جہاز بھی چلالیا ہے۔ہونہہ۔ان مرد حضرات نے عورتوں کو سمجھ کیا رکھا ہے"۔ہم نے صبح کا اخبار زور سے میز پر پٹخا توہمارے شوہر ہمیں دیکھنے لگے۔
"کیا ہوا۔"
"ہم نے بھی کار چلانی ہے"۔ہم نے جوش سے ہاتھ ہوا میں لہراۓ۔
"سائکل چلانا تو سیکھ لو۔"انہوں نے ہمارے سارے جوش پر پانی پھیر دیا۔اور خود پانی پینے لگے۔
"سائکل چھوڑیں ہم تو کار سیکھیں گے کار ۔" ہمارا جوش قابل دید تھا۔
ہماری بات پر وہ طنزیہ مسکراۓ اور کہا۔
"کار ،سیکھیں گی،لیکن آپ کو کار سکھاۓ گا کون،میں اپنی جان خطرہ میں نہیں ڈالوں گا۔۔وہ کہتے اٹھ گۓ۔ انکی اس بات پر ہمارا منہ بن گیا۔"

لیکن چونکہ ہمارا ارادہ ہو چکا تھا اس لیۓ شام میں جب دونوں بچے کار میں بیٹھے تھے۔ہم بھی کار میں ڈرایونگ سیٹ پر بیٹھ گۓ۔
۔بچے سمجھے شوقیہ بیٹھے ہیں۔
" کار اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں" ہماری اس بات پر  ۔دونو‌ں ہنسنے لگے۔
"ممی،کار سیکھنے چلی ہیں اور اسٹارٹ کیسے کرتے ہیں نہیں پتا،"
"خاموش"،ہم نے گھرکا۔بڑا بیٹا معنی خیز سی مسکراہٹ لۓ بتانے لگا۔بتانے کیا اس نے کار اسٹارٹ ہی کردی۔
چونکہ ابتداۓعشق  والا معاملہ تھا۔ہم نے انتہائ بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اکیسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیا۔
کار کی فرمانبرداری تو دیکھیۓ یوں نکلی جیسے منتظرہی تھی ہماری۔ سیدھے گھرکے سامنے بنے چبوترے کے کارنر کاٹتی ہوئ نکلی ،ہماری تو سانس حلق میں اٹک گئ ۔
"او میرے خد!"اہماری چیخ نکلی تو بچے نے فوراً بریک لگایا۔کار رکی تو ہماری جان میں جان آئ۔اور ہم سب کار سے نکل کر سیدھے گھر میں گھسے۔
میاں جی کو پتا چلا تو خوب ڈانٹے۔"کار سیکھنا جوکھم بھرا کام ہےایسے کون کرتاہے۔خدانخواستہ بچوں کی جان پر بن آتی  تو‌"
"پھر تو آپ کو ہی سکھانا پڑے گا۔آپ رہینگے تو  تھوڑی ہمت رہے گی۔"ہم نے گھگھیا کر کہا۔
"ہمت؟ٹکر مارنے کے لیے،"
"ن ن نہیں  کار سیکھنے کے لیے۔آپ صرف ساتھ رہیں اور بس۔"
بس پھر کیا تھا۔چھٹی کا دن مقرر ہوا، اور شروع۔

،پہلے ہفتہ میں میاں جی نے سب سے پہلے بریک اور کلچ کا بتایا،دیکھو یہ بریک اور کلچ کو اچھی طرح سمجھ لو،اور جب میں  روکنے کے لیۓ بریک لگانے کے لیۓ کہوں تو  گاڑی روک دینا ۔ٹھیک ہے "
ا"ور یہ کلچ "،انہوں نے بتایا،
ا"اس پر اپنے پیر کا دباٶ برقرار رکھنا اور دھیرے دھیرے اس کو چھوڑنا۔ اب میں کار اسٹارٹ کرونگا اور تم بغیر  آف کیے گاڑی نکالنا۔"
 ہم نے تائید میں سر ہلایا اور کلچ دھیرے دھیرے چھوڑنے لگے۔اور کار نکال لی ۔
۔"واہ، کیا کنٹرول ہے انجن پر"،بیٹے نے تالی بجاٸ۔
"ارے بچو!کنٹرول کرنا تو بیویوں ہی کو آتا پے۔چاہے وہ انجن ہو کہ شوہر۔"ہمارے میاں جی نے ٹھنڈی سانس بھری۔
ہم کار چلانے میں چونکہ مگن تھے اس لیۓ انکی بات پر دھیان نا دیا۔یوں ہی ایک ہفتہ گذرا۔دوسرے ہفتہ میں ہم کچھ زیادہ سیکھ نا پاۓ۔کیونکہ کلچ  نے ہماری ناک میں دم کر دیا تھا۔بار بار پکڑنا ،چھوڑنا،ہم جھلا کر رہ گۓ۔
"یہ کیا کلچ ستارہا ہے ۔اس سے تو اچھا ہے بندہ پوریاں بیل لے۔"
"تو ساری دنیا کے مرد حضرات یہی تو کہتے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھ کر پوریاں ہی  بیلنی چاہیۓ۔انہوں نے جل کر کہا۔
"(یہ تو چاہتے ہی نہیں کہ ہم کار چلانا سیکھیں۔خود مختار جو ہو جاٸنگے۔شاپنگ  سے لیکر امی کے گھر تک جانے کے لیۓاسی لیے ایسے جل جل کر کہہ رہے ہیں ہونہہ)
ہم نے انہیں ایسے دیکھا جیسے کہ" دشمن" کو دیکھتے ہیں۔
"آپ کار سکھائیں گے کہ نہیں۔"
"سکھا تو رہا ہوں،اپنی جان  کو رسک میں ڈالکر"،انکے بھی صبر کا پیمانہ مانو ٹوٹ گیا ہو۔
"(اپنی جان رسک میں ڈالنے کا تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے انہیں موت کے کنویں میں کار چلانے کو  کہہ دیاہو۔ہونہہ )
ا"اب ذرا گیر وغیرہ  سمجھ لو ۔اب تک تم  فرسٹ گیر میں ہی چلا رہی تھیں۔لیکن سکنڈ ،تھرڈ،اور فورتھ گیر بھی ہوتا ہے۔"
"جب فرسٹ گیر میں کار چل رہی ہے تو سکنڈ تھرڈ گیر کیوں ڈالنا"۔ہم نے منہ بنا کر اپنی منطق جھاڑی۔
"جب صابن سے بال دھو سکتی ہو تو دنیا بھر کے شمپوز کیوں لگاتی ہو۔"انہوں نے جیسے ہماری منطق کی دھجیاں بکھیر دیں۔
"اوہ وہ تو بال نرم ملایم اور چمکیلے کرنے کے لیے،جبکہ صابن سے بال رف سے ہو جاتے ہیں۔"
ب"س اسی طرح فرسٹ گیر میں انجن پر زیادہ دباٶ پڑ جاتا ہے اس لیۓ سکنڈ تھرڈ گیر میں گاڑی چلاٸ جاتی ہے۔" وہاں سے جواب آیا۔
"اچھا،"ہم نے سر ہلایا۔
"اچھا،ایک بات تو بتاٶ،"انہوں نے کار نیو ٹرل میں رکھی۔
"جب سے کونسے گیر میں گاڑی چل رہی تھی۔"
ہم نے کچھ دیر سوچا۔پھر گیرز کو دیکھااور بنا سوچے سمجھے کہا. ”نیوٹرل “ میں۔
ا"اوۓ شاباشے۔ا"نہوں نے ہنس کر کار کی سیٹ کو  ایسے ٹیک لگاٸ۔جیسے کہہ  رہے ہوں "اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔"
"کیوں کیا ہوا "۔ہم ہونق سے بن گۓ۔
"ممی،آپ بھول گئیں۔،نیوٹرل مطلب بلکل ساکت ،نیوٹرل گیر میں ڈالنے سے بھی گاڑی رکی رہتی ہے۔"
"لو ،تب سے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ گاڑی نیوٹرل میں چل رہی ہے۔ہم نے تو ماتھا ہی  پیٹ لیا۔
اب تیسرا ہفتہ شروع ہوا،ہم صبح صبح فجر کے ساتھ ہی نکلتے تھے۔کلچ اور گیر کی تھوڑی بہت سمجھ آگٸ تھی۔لیکن اسٹیرنگ وھیل ہمیں چکرارہا تھا۔ہم اسے صحیح ہینڈل نا کر پارہے تھے۔جسکی وجہ سے ہماری گاڑی کبھی لفٹ اور کبھی رایٹ ہوتی رہتی۔ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ہم نے میاں جی سے پوچھا۔
،"صحیح چل رہی ہے ناں۔"
بلکل ،بلکل،جی چاہ رہا ہے کہ ناگن ڈانس کروں۔"انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی سے لگاتے ہوۓکہا۔
"ہایٸں وہ کیوں ۔"ا۔
۔
افف ممی،آپ کی کارسڑک پر بلکل سانپ کی طرح لوٹ رہی ہے۔کبھی" اس جانب تو کبھی اس جانب۔"بچے بھی جیسے تنگ آگۓتھے۔اوہ ،اب کوشش کرونگی کہ ایسا نا ہو"۔ہم نے اسٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔کیا کوشش کرو گی۔اسٹیرینگ کو ایسے پکڑتی ہو جیسے کہیں بھاگا جارہا ہو۔ارے بابا اس کو تھوڑا ہلکے سے پکڑوٗاور بہت ہلکے انداز میں " 
اسکو گھماٶ۔ایسے گھماتی ہو جیسے کہ آخری بار گھمانا ہو۔
اچھا اچھا ،ہم نے اسٹیرنگ پر گرفت تھوڑی ڈھیلی کی ۔

اب سیدھی سڑک تھی ،اکا دکا لوگ بھی نہیں تھے۔ہم اچھے جارہے تھے کہ سامنے ایک گلی میں سے بھینسیں نکل آٸیں۔وہ اپنی مارننگ واک پر نکلی تھیں شاید۔ہمیں لگا ہم برے پھنسے۔ہماری کار کے بلکل قریب ایک بھینس آگٸ تھی۔ہم پریشانی میں ہارن پر ہارن دینے لگے
۔اب یہ بھینس کے آگے بین کیوں بجارہی ہو۔اف، میرا مطلب ہےہارن" کیوں دے رہی ہو۔"انہوں نے ہمیں چڑ کر دیکھا۔
اس بھینس کو بھگانے کے لیے،"ہم بےچارگی سے بولے۔"

اس کو چھیڑو مت،تم بازو سے گاڑی نکال لو،وہ اپنے راستے جارہی ہے"۔"
مرتے کیا نا کرتے،ہم نے بڑی مشکل سے کار اس کو بنا دھکا ديۓنکالی۔ویری گڈ"،ان دونوں نے تالیاں بجایٸں۔ہم نے پہلے شکر کا سانس لیا۔پھر" اس بھینس کو  پلٹ کر دیکھاصبح صبح نکلی ہے بھینس کہیں کی "،لیکن ہمیں ایسا محسوس  ہوا جیسے بھینس بھی کہہ رہی ہو"،صبح صبح تو تم بھی نکلی  ہو " اب چوتھا ہفتہ شروع ہو چکا تھا ۔
آج صبح ہی میاں جی نے بتادیا تھا کہ آج کہیں دوسری سایٹ پر

 جا ئینگے۔۔انکے ایک دوست نے اس کالو نی کا پتا دیا تھا۔اور کہا تھا کہ کافی خوبصورت اور کھلی جگہ بھی بہت ہے۔کیونکہ یہاں ابھی پلاٹنگ چل رہی تھی۔یہ سنکر ہم سب پر جوش تھے کہ دیکھیں یہ نٸ کالونی کیسی ہے۔
اب ڈرا ئیونگ سیٹ  میاں جی نے سنبھالی تھی ،چونکہ مین روڈ پر وہی چلاتے تھےاور جب ذیلی سڑک  شروع ہوتی جہاں گاڑیوں کا آنا جانا نا کہ برابر ہوتا تب وہ ہمیں چلانے کے لیے دے دیتے۔
"ایک بات تو ہے کار چلانا دماغ کی ساری چولیں ہلا دیتا ہے۔
دونوں پیر مسلسل حرکت میں،دونوں ہاتھ بھی ،اور نظروں کو بھی سامنے فوکس کرنا ہو تا ہے ۔کافی سے زیادہ مشکل کام لگ رہا ہے"۔کار میں بیٹھتے ہی ہم کہنے لگے۔
ہ"ہوں"۔وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولے۔
"دل ،دماغ بہت چوکس رکھنا پڑتا ہے۔اگر کہیں ذرا سی چوک ہوٸ تو کام تمام ہو جاۓ"۔ہم انہیں دیکھتے ہوۓکہنے لگے۔
”ہوں،“پھر وہی" ہوں ۔"
انکی صرف "ہوں ہوں" سے تنگ آکر ہم نے باہر دیکھنا شروع کیا۔اور باہر کے نظارے اتنے دلکش لگے کہ ہم کھو سے گۓ۔
"واہ إ کیا خوبصورت نظارے ہیں ۔اولین صبح،آسمان میں اڑتے پرندے اور جگہ جگہ سر سبز پیڑ  ،سب سے بڑھکر صبح کی ٹھنڈی  اور تازہ ہوا جو مین سٹی میں ملنی تقریباً ناممکن ہے۔"
کچھ بھی ہو ،آپکے دوست نے یہ بڑی زبردست جگہ  بتاٸ ہے۔"ہم نے سرشار سے ہو کر کہا۔
"ہوں"۔پھر وہی ہوں ؟
ہم بد مزہ ہو کر خاموش ہو گۓ۔مین روڈ کے بعد اب چھوٹی سڑک شروع ہو گٸ تھی۔ اب ڈرایونگ سیٹ پر ہم اور بازو والی سیٹ پر شوہر صاحب براجمان تھے۔
ہم نے پورا دھیان لگایا ہوا تھا۔لیکن میاں جی بیچ بیچ میں کچھ نہ کچھ کہتے جارہے تھے ۔"ناشتہ بنا کر رکھا ہے ناں،دودھ گرم کر دیا تھا،لاک تو صحیح کیا ناں گھر کو" وغیرہ وغیرہ۔
یہ" آپ نے کیا لگا رکھا ہے۔"ہم نے چڑ کر انہیں دیکھا۔"ہمیں کار پر فوکس کرنے دیں ناں ."
"بلکل۔بلکل یہی بات آپ عورتوں کے دماغ میں کیوں نہیں آتی جب ہم کار چلارہے ہوتے ہیں۔جب شوہر کار چلا رہا ہو تو ایسی شاعری سوجھتی ہے کہ خدا کی پناہ۔..."
ہ"اۓاللہ!وہ منظر تو دیکھیں،واہ کیا آسمان  ہے اور ڈوبتا سورج ،چڑھتا سورج ،کیا پیارا لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ ،اللہ یہ اللہ وہ"۔وہ عورتوں والے انداز میں بولے تو ہم کھسیا گۓ۔ابھی کچھ دیر پہلے والی ہماری ”شاعری “کی طرف اشارہ جو تھا۔
"ہم پر بھی ذمہ داری رہتی ہے کہ صحیح سلامت منزل تک پہنچنے کی،اس لیۓجب بھی کوٸ ڈرائیو کر رہا ہو تو یوں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیۓ۔"آخر میں انکے ناصحانہ انداز پر ہم  نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب ایک نٸ ذیلی سڑک شروع ہوٸ تھی۔بچے بھی پرجوش انداز میں ہمیں سراہ رہے تھے۔بیٹے نے فون پکڑا تھا۔وہ ہماری ڈرائیونگ کی لائیو ویڈیو بنا رہا تھا۔بیٹی کمنٹری کرنے لگ پڑی تھی۔
ا"ور اب ممی  نے رایٹ ٹرن لیا نہیں لفٹ نہیں رایٹ لیا ۔اب وہ ہمیں کنفیوز کر رہی ہیں اررر ے یہ کیاکتے"۔وہ کہتے کہتے رک گٸ ۔اور کتوں کو دیکھ کر ہمارا چہرا ہی فق ہو گیا۔
ا"ان کتوں کو شاید کسی نے پالا ہوا تھا۔اچھے خاصے جرمن شیفرڈ جیسے لگ رہے تھے ۔موٹے تازے اور تقریباً آدمی کے قد کے برابر،اب ہمارے تو کاٹو تو بدن میں خون نہیں والا معاملہ تھا ، شوہر بھی گھبراگۓبد قسمتی سے ان کتوں کو ہم سب چور لگ رہے تھے۔اجنبی لوگوں کو وہ چور سمجھ کر بھونکنا شروع کر چکے تھے۔اور ساتھ ہی ہماری جانب بڑھنے لگے تھے
۔سب پہلے ونڈوز چڑھا لو"۔میاں جی بولے اور ساتھ ہی اپنی  کھڑکی کا شیشہ چڑھانا شروع کیا۔ہمارا شیشہ چڑھا ہوا تھا اس لیۓ پریشانی نا ہو ٸ مگر ہماری سٹی گم ہو گٸ تھی۔چونکہ کتے ہمارے پیچھے بھونکتے ہوۓ آرہے تھے۔ہم نے کار کی اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔
"تم چلاتی رہو ویسے بھی آگے رایٹ ٹرن لیں تو پھر سے وہی سڑک نکلے گی تم چلاتی رہو ان کتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔"
"لیں،ضرورت کیسے نہیں ہمارے پیچھے پڑے ہیں نامراد،ایسے جیسے ہم نے انکا کچھ خزانہ لیا ہو"۔ہم چڑ کر بولے۔
کتے ابھی بھی بدستور ہمارے پیچھے تھے۔میاں جی نے کہا" آگے رایٹ لو۔"
ا"چھا" کہتے ہم بدحواسی میں رایٹ ٹرن لینے. لیکن شاید  کچھ زیادہ ہی رایٹ لے لیا ۔ جسکا نتیجہ کافی خوفناک نکلا۔ہماری گاڑی رایٹ ہوتے ہوتے بلکل کونے پر بنے گھر  کی سیڑھیو ں پر چڑھ گٸ اور قریب کی دیوار سے جا ٹکراٸ۔
"روکو،وہ چلاۓ۔مگر ہم اپنے حواس کھو بیٹھے۔ہمارا پیر بریک کلچ دونوں سے ہٹ گیا اور ہاتھ اسٹیرنگ پر سے ،اور آنکھیں بند ۔
"ممی "دونوں بچے چلاۓ۔
۔میاں جی نے پہلے بریک لگایا۔ویسے بھی گاڑی دیوار سے ٹکرا کر رک گٸ تھی۔اور اب ایسی حالت تھی کہ اسکے تین ٹائر سیڑھیوں پر اور چوتھا ٹائر ہوا میں لٹک رہا تھا۔اگر ہم تھوڑا بھی حرکت کرتے تو کار الٹی ہو جانی تھی۔ہمارا تو خون ہی خشک ہو چلا تھا۔لیکن بھلا ہو میاں جی کا،انہوں نے اپنے حواس کھوۓ نہیں تھے۔قریب بیٹھ کر ہی انہوں نے سب سے پہلے اسٹیرنگ کو تھوڑا لفٹ لیا اور کار کو پہلے زمین پر لے آۓ۔کار زمین پر کیا آٸ سب کی جان میں جان آگٸ۔
وہ پہلے خود اترے،بچےبھی اتر گۓٗ اور کار کو دیکھنے لگے۔"آپ نیچے اترنے کی زحمت کرینگی"۔یہ ہمارے شوہر تھے۔
ہم ہمت جٹاتے اتر گۓ اور وہ خود ڈرایونگ سیٹ پربیٹھ گۓ۔ہم نے کار کو دیکھا ،اچھا خاصا ڈنٹ پڑ گیا تھا۔ہم ٹھنڈی سانس بھرتے رہ گۓ۔
کتوں نے ہمارا پیچھا کرنا چھوڑ دیا تھا۔بچوں نے وڈیو بند کر دی تھی ۔سب سہم سے گۓ تھے۔
"ابھی کار چلانا سیکھنا ہے یا
ا"بھی دیواروں کو ،گھروں کو ٹکریں مارنی ہے"۔جب سب کے ہوش و حواس ٹھکانے آۓ تو ہمارے شوہر کی حس مزاح پھڑکی۔
"توبہ کریں اب جو نام لوں تو" ۔ہم نے توبہ کی۔وہ سب ہنسنے لگے۔
"ویسے چلا اچھا ہی رہی تھیں بس کتے آگۓ۔"
ویسے چلاتے چلاتے سیکھ ہی جاتی تم بس میری گاڑی پر ڈنٹ بے شمار پڑتے ۔اس لیۓ میرے خیال میں تو تمہارے لیے اتنا کافی ہو گا کہ کار تو بہرحال چلا ہی لی۔یہ اور بات کہ پر فیکٹ  ڈرائیور نا بن سکیں 
"۔جی ، مگر ہمارے لیے تو پھر بھی دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے والا معاملہ ہے "۔ہم نے خوشدلی سے کہا اور ہم سب واپسی کے راستے کی طرف مڑے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ بہرحال اپنے شوہر کے شکر گزار ہیں کہ نا صرف ہمارے لیے اپنی چھٹیاں برباد کیں ،بلکہ پٹرول کے اضافی خرچ کو برداشت بھی کیااور کار کو ڈنٹ پڑنے کا نقصان بھی برداشت کیا،جان جوکھم میں ڈالی وہ الگ،اسکے لیۓ ہم انکے شکر گذار ہیں اور اب سوچ رہے ہیں کہ لوگ عورتوں کی ڈرائیونگ کو لیکر جو کہتے ہیں وہ شاید سچ ہی کہتے ہیں ۔

ختم شد۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ