حسینہ عالم ۔
حسینہ عالم
نوٹ ۔۔یہ افسانہ پاکستانی ڈائجسٹ کرن فروری 2023میں شائع ہوا ۔
"پتا نہیں امی کو کیا سوجھی تھی جو ہمارا نام حسینہ رکھ دیا ۔کوئ اور نام نہیں ملا انہیں ۔کتنا چیپ سا محسوس ہوتا ہے حسینہ ۔۔ایسے لگتا ہے کسی ملازمہ کا نام ہو ۔"ہم اپنی سہیلی سے مخاطب تھے ۔جو کہ چھت کے دیوار سے لگی ہمارا حسینہ نامہ بڑی دلچسپی سے سن رہی تھی ۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ یوں لقمہ بھی دیتی جارہی تھی ۔
"چہ چہ جہ ۔۔سج میں آنٹی نے نام تو تمہارا ملازماؤں والا رکھا تھا مگر کاش کہ تمہاری شکل تو ملازماؤں والی نا ہو تی ۔ ۔"اسکی بات پر ہم بھنا گۓ ۔ ٹھیک ہے ہم اپنے آپ کو لاکھ کوس لیں کہ شکل فقیرانہ ہے مگر اس کم بخت کو کیا حق ہے کہ وہ ہمیں ملازمہ جیسی کہے ۔ جبکہ اسکے چہرے کا خود کا جغرافیہ بھی ٹھیک نہیں ۔
"دیکھو مبینہ ۔۔ہم نے مبینہ پر زور دے کر اسکے چہرے پر نظر ڈالی تھی جو کہ حسب توقع سرخ ہو چکا تھا۔
"اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایک رنگ کے ذرا سا اچھے ہونے سے انسان کی خامیاں چھپ جاتی ہیں تو وہ غلط ہے ۔ پکوڑا ناک تو نظر آ ہی جاتی ہے ۔باقی اگر چھپ بھی جاے تو ۔"ہم اسکے موڈ کا جو کر چکے تھے وہ دیکھنے لائق تھا ۔
"بینا بینا بینا ۔مجھے بینا اچھا لگتا ہے مبینہ نہیں اگر آئیندہ تم نے مجھے مبینہ کہا تو ۔۔۔وہ پیر پٹخنے کے انداز میں اچھلی تھی ۔"تو محترمہ ۔بینا ۔صاحبہ ۔ہمیں ملازمہ کہہ کر جو تم نے ہمارا مذاق اڑایا اسکا کیا ۔ہم اسے گھور کر دیکھ کر بولے ۔
"وہ تو آنٹی سے جا کر لڑ و کہ نام تو انہوں نے ہی رکھا ہے۔میں تو مذاق کر رہی تھی ۔وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولی ۔
"مگر ہم مذاق بالکل بھی نہیں کر رہے تھے ۔ تم اگر اپنی ناک کی سرجری کر والو تب بھی ناک پکوڑا ہی رہے گی ۔۔"ہم یہ کہہ کر بھاگ آۓ تھے کہ مبینہ عرف بینا نے اپنی چپل اٹھا لی تھی ہم دھپ دھپ کرتے نیچے آۓ تو امی آلو چھیل رہی تھیں ۔
"کیا ہوا ۔کیا کہہ دیا مبینہ نے کہ تمہارا چہرہ غصہ سے لال پیلا ہو رہا ہے ۔ "انہوں نے اپنے کام کو توقف دے کر پو چھا تھا ۔" یہی کہ ہمارا نام ہم پر سوٹ ہی نہیں کرتا ۔ اور یہ کہ ہماری شکل بالکل ٹی وی کی ملازماوں سے ملتی ہے ۔"ہم غصہ سے پھٹ پڑے۔
آخر کس نے ہمارا نام کرن کیا تھا ۔"ہم غصہ میں بالکل آؤٹ ہو جاتے تھے اور یونہی اول فول بکنے لگتے تھے۔
"تمہاری مرحومہ دادی کا نام تھا حسینہ ۔ تو تمہاری پھپھو اور ابا نے مل کر یہ نام رکھا تھا ۔اور میں نے بھی یہی سمجھ کر رکھا تھا کہ شاید نام کا ہی اٹر ہو جاۓ اور تم ۔۔۔۔"امی نے بات ادھوری چھوڑی ۔ ہم جو کرسی پر بیٹھے سامنے آئینہ میں اپنے عکس کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔کہ کہیں سے تو خوبصورتی کا ایک پہلو نکل آۓ ۔مگر نظر ہر بار نا کام ہی لوٹ آ رہی تھی ۔ اس بات پر امی کو خشمگیں نظروں سے دیکھنے لگے جو اب تیر مار کر سر جھکاۓ آلو کو چھیلنے میں لگیں تھیں ۔
"ہم تو جو ہیں جیسے ہیں بالکل آپ پر گۓ ہیں اب اس میں ہمارا کیا قصور ۔"ہم یہ کہتے رکے نہیں کہ کیا پتا امی غصہ سے آلو ہی دے ماریں ۔
*****
ہم یعنی حسینہ آرا ( یہ ضرور ہماری اکلوتی پھپھو کی کمزور اردو دانی ) کی مہربانی تھی جس کی وجہہ سے ہمارا نام حسینہ آرا پڑا تھا ۔ ورنہ تو ہم نے کہیں بھی پڑھا تو حسن آرا یا حسنہ آرا ہی پڑھا تھا ۔
امی ابا کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہہ سےہماری زندگی میں راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔نا ابا نے ہمیں کبھی ڈانٹا نا ہم امی کی ڈانٹ سے کبھی بچے ۔ترازو کے پلڑے برابر برابر رہتے تھے ۔
جب تک چھوٹے تھے اپنی دنیا میں مگن تھے ۔ لیکن جیسے عمر بڑھ رہی تھی تو لڑکیوں کی ہنسی طنز سب سمجھ آنے لگے تھے ۔ اسکول میں تو کئ لڑکیوں سے لڑ بھی چکے تھے کہ "کالا کس کو کہا "۔مگر دل میںایک سوچ بھی پیدا ہو گئ تھی کہ کسی طرح اپنے آپ کو پرکشش کر لیں ۔ ہر ٹین ایج لڑکیوں کی طرح ہم بھی رنگ کو لے کر کافی احساس جرم و ندامت میں گھر چکے تھے۔
****
" بینا ۔بینا ۔" ہم بینا کے چھت سے لگی منڈیر سے اسے پکار رہے تھے ۔
* توبہ ہے حسینہ ۔ کیوں پکار رہی ہو ۔ "وہ بھی اوپر آگئ تھی ۔ "تمہاری وجہہ سے سب کام چھوڑ کر آ گئ ہوں ۔ بینا کی اس بات پر ہمارا سر ہی گھوم گیا ۔
"سب ضروری کام ۔۔سچ میں مبینہ ۔ وہ بلی کو دودھ دینا اتنا ضروری کام تھا ۔جو تم کر رہی تھیں یا جو سلفیاں بناتی ہو ہر دو سکنڈ میں ۔وہ ضروری کام تھا جو تم چھوڑ کر آ گئ ہو۔ہم نے اسکی کلاس لینے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی ۔ آخر وہ ہماری کلاس فیلو تو تھی ۔
"اب تم جلدی سے کام کی بات کرو ورنہ میں جا رہی ہوں۔" اس نے منڈیر پر اپنے ہاتھ ٹکاۓ کہا ۔
مجھے کچھ گھریلو ٹوٹکے بتاؤ جس سے رنگ صاف ہو ۔"ہم نے جلدی سے کہا مبادا وہ سچ میں اپنے ضروری کام کرنے نیچے چلی نا جاۓ۔
"گھریلو ٹوٹکے ۔ابھی بتاتی ہوں ۔" وہ اس معاملہ میں ہم سے کافی آگے تھی ۔
" دودھ ۔شہد ہم وزن۔ لے کر ۔۔"۔ابھی وہ کچھ کہتی ہم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا ۔
"شہد۔ ۔۔امی تو ابو کو بھی ناپ ناپ کر شہد دیتی ہیں وہ مجھے چہرے پر لگانے دیں گی۔ہر گز نہیں ۔""کوئ دوسرا ٹوٹکا ہو تو بتاؤ ۔ یہ ہم افورڈ نہیں کر سکتے ۔
"اچھا تو پھر یہ دیکھو "۔وہ ہمیں سنانے لگی تو ہماری خوشی سے بانچھیں کھل گئیں ۔
ہم فورآ کچن میں گۓ اور مطلوبہ سامان لیا اور اپنے کمرے میں آگۓ ۔ ساریے اجزا کو اچھے سے دودھ میں مکس کیا اور چہرے پر لگا لیا ۔آنکھوں کے لیۓ کھیرے کے دو ٹکڑے رکھ لیۓ ۔بینا نے وہ پیسٹ دو گھنٹے تک لگا کر رکھنے کے لیۓ کہا تھا مگر پانچ منٹ بھی نا ہوۓ تھے اور ہم "امی ۔امی ۔چیختے باہر آگۓ تھے ۔
"ارے کیا ہوا ۔کیوں شو ر مچا رہی ہو ۔ "امی کی حیران پریشان آواز ہمارے کانوں میں پڑی ۔
"ہاے امی ۔ یہ رنگ گورا کرنے کے لیۓ لگا یا تھا ہاۓ جل رہا ہے ۔ہمارا سارا چہرہ جل رہا ہے ۔ ہم روہانسے آنکھیں بند کیۓ کیۓ بول رہے تھے ۔
"اچھا ۔پہلے جا کر چہرہ تو دھو لو ۔ امی ہمارا ہاتھ پکڑے وا ش بیسن کی جانب لے گئیں ۔ہم آنکھ کھولنے کی ہمت نہیں کر پارہے تھے کہ غلطی سے وہ پیسٹ آنکھوں کو بھی لگ گیا تھا ۔
جلدی جلدی پانی سے چہرہ دھویا ۔اور آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھا ۔سارا چہرہ لال بھبھوکا ہوگیا تھا ۔۔اور چہرے کے مختلف حصوں پر سرخ دھبوں کے نشان نظر آ رہے تھے ۔
ہم ٹھنڈی سانس بھرتے امی کی جانب آۓ تو اپنی جگہ پر جم کر رہ گۓ کہ وہاں ہمارے اکلوتی پھپھو کے اکلوتے بیٹے بھی براجمان تھے ۔ اور ہمیں تمسخرانہ اندازمیں دیکھ رہے تھے ۔
"اف یہ فخر صاحب کو بھی ابھی آنا تھا ۔"ہم انہیں سلام کرتے اندر کی جانب واپس جانا چاہتے تھے کہ اب وہاں بیٹھ کر ان کزن موصوف کے سامنے امی کی ڈانٹ کون سنتا ۔ مگر امی تو امی تھیں روک لیا ۔
"آخرکیا مل لیا تھا چہرے پر ۔" انکی آواز میں غصہ تھا ۔
بیسن ،دودھ ،دہی ،ہلدی ،نمک اور ۔۔۔۔اور لیموں "ہم سر کھجاتے بولتے جا رہے تھے جبکہ امی تو سن کر سکتہ میں تھیں ۔
"یہ رنگ صاف کرنے کا نسخہ تھا یا بیسن کی کڑھی کا ۔ مہنگائ کی مار روز بروز بڑھ رہی ہے اور یہ ۔۔۔۔" امی نے ہمیں پھر گھورا ۔
"بی بی ۔اتنا سب کر لیا تھا تو تھوڑا سا پیاز لے کر بگھار لیتیں ۔شام کے سالن کی فکر تو دور ہو جاتی ۔ "اس بات پر فخر کی ہنسی نکلی تھی ۔
" امی ۔آپ کو ہمارے چہرے کی فکر نہیں ۔ یہ دھبے دیکھ رہی ہیں کیسے جائیں گے ۔ ہم پھر روہانسے ہو گۓ تھے ۔فخر کی ہنسی پر غصہ تو بہت آیا تھا مگر فی الحال اپنے چہرے کی فکر زیادہ تھی۔ اسکی ہنسی بعد میں دیکھ لیں گے ۔
جس نے یہ نسخہ دیا اسی سے اس کا توڑ بھی نکال لو ۔""مگر تم میں اتنی تو عقل ہونی چاہیۓ کہ جب چہرے پر ایسے پھوڑے ہوں تو لیموں نمک نہیں لگاتے ۔"
" پھوڑے ۔چھی امی ۔۔پمپل کہتے ہیں اسے ۔ ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی پمپل کو پھوڑے کہنے پر سخت اعتراض ہوا تھا ۔
ہا ہا ہا ۔ فخر صاحب دوسری بار ہنسے تھے ۔ ہم دل ہی دل میں گن ضرور رہے تھے ۔ کہ کبھی موقعہ ملا تو بدلہ ضرور لیں گے ۔
"اب جو بھی ہو ۔مگر تم نے بہت فضول کام کر دیا ۔ اس رنگ گورا کرنے کے چکر میں ۔اب جاؤ ۔اپنے کمرے میں ۔ "امی ہمیں لتاڑتی خود کچن میں جا رہی تھیں کہ انہیں زمین پر گرےکھیرے کے ٹکڑے ملے ۔ جو انہوں نے اٹھا لیۓ۔
"کھیرا بھی ۔پورے سو روپے کلو مل رہا ہے اور اسے دیکھو ۔اپنی بٹن جیسی آنکھوں کے لیے کھیرا خراب کر دیا ۔" وہ کچن میں چلی گئیں تو فخر صاحب تیسری بار ہنسے تھے ۔
****
یہ تو تھی ہماری اسکول لائف کی حرکتیں ،لیکن جب کالج گۓ تو دیکھا ایک سے ایک حسین لڑکیاں کالج میں اتراتی پھر رہی ہیں ۔ ایسا لگ رہا تھا وہ ہمارا منہ چڑا رہی ہوں ۔ ہم نے بھی ان کو مکمل نظر انداز کر دیا اور سوچا کہ خوبصورتی بھی کوئ مقابلہ کرنے والی شۓ ہے ۔ نہیں بلکہ ہم تعلیم میں مقابلہ کریں گے ۔یہ اور بات کہ ہم تعلیم میں بھی اپنی شکل کی طرح واجبی ہی تھے ۔ لیکن ہم نے سوچ لیا تھا کہ خوب محنت کریں گے اور ان خوبصورت لڑکیوں کو منہ نا لگائیں گے ۔ اپنی خوبصورتی پر اتراتی پھرتی ہیں تو اتراتی پھریں ۔
ہم اب سنجیدگی سے پڑھائ میں غرق ہو گۓ تھے ۔ گھر میں بھی امی ابو نہال تھے کہ انکی حسینہ نے تعلیم میں دل لگا لیا ہے اور حسین بننے کا جنون ختم ہو چکا ہے ۔
جب انٹر سکنڈ ایر کا رزلٹ آیا تو ہم فرسٹ کلاس پاس ہو گۓ تھے ۔اور ہم نے نعرہ بھی لگا دیا کہ تعلیم جاری رکھیں گے ۔
"ہاں ۔ٹھیک ہے پڑھ لو ۔مگر ڈگری کرنے کی ہی اجازت ہو گی ۔اس سے زیادہ نہیں اسکے بعد تمہاری شادی کرنی ہے ۔۔ "امی کی بات پر ہم سر ہلا کر رہ گۓ ۔
مگر دل میں یہی خیال آیا کہ کوئ بندہ ہمیں پسند بھی کرے گا ۔ ؟
آج کئ دنوں بعد ہم چھت پر آۓ تھے اور منیبہ بی کو آواز دی تھی ۔آج کل وہ بھی اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔انٹر میں وہ رو دھو کر فیل ہو کر خاموش بھی ہو گئ تھی ۔ اب اگلے چھ مہینے میں اسکی شادی متوقع تھی ۔
"کیسی ہو ۔حسینہ ۔ "وہ ہنس کر پوچھ رہی تھی ۔
"الحمدللہ تم سناؤ ۔ "ہم نے اسکی خوامخواہ کی ہنسی پر چڑ کر اسے دیکھا تھا ۔جنکی شادی ہو رہی ہو تی ہے وہ یونہی ہنستی رہتی ہیں ۔جیسے یہ ہنس رہی تھی ۔
"کیا بتاؤں ۔شادی ہو رہی ہے اور تیاری تو اتنی کرنے ہے کہ دن ہی کم پڑ رہے ہیں ۔ "
"شادی ہی ہے اس کے لیے اتنی دوڑ دھوپ ۔ "
"تمہیں نہیں پتا کہ شادی زندگی میں ایک ہی بار ہو تی ہے ۔ "اس لیۓ شادی میں نو کمپرمائز ۔ وہ اٹھلاکر نجانے کس فلم کا ڈائلاگ مار رہی تھی ۔
"اور وہ جو تمہارا متوقع شوہر ساری زندگی کمپرمائز کرے گا اس کا کیا ۔" ہم نے بھی اسکی ہنسی کا بدلہ اتارنا چاہا ۔
"وہ تو بہت خوش ہیں کہ بینا سے شادی ہو رہی ہے ۔ "
"ہاں ۔بعد میں تو اس بیچارے نے رونا ہی ہے " ہماری زبان پھر پھسلی جس پر اس کا منہ بن گیا ۔
"تم اب وہ رنگ گورا کرنے کے نسخے نہیں آزما رہیں ۔ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا شاید اسے ہی کہتے ہیں ۔ ہم نے ٹھنڈی آہ بھری۔
"نہیں ۔ رنگ گورا کرنے سے کیا فرق پڑے گا ۔ ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے ۔ "
" ہاں وہ تو ہے ۔ "اس نے جوابا کہا ۔"مگر پھر بھی ۔۔۔تمہیں وہ فرح یاد ہے جسکی منگنی اسکول میں ہی ہو گئ تھی ۔ "
" ہاں ۔یاد ہے ۔کیا اس کی بھی شادی ہے ۔" ہم نے اکتا کر کہا ۔
"نہیں۔اسکے منگیتر نے منگنی توڑ دی یہ کہہ کر کہ لڑکی کالی ہے ۔ "وہ ہماری معلومات میں جانے اضافہ کر رہی تھی کہ ہمیں جلا رہی تھی ہمیں سمجھ نہیں آیا ۔
"تو بدلے میں فرح بھی اسکا منہ توڑ دیتی ۔ ""سانولے تھے مگر ہاتھ تو تھے ۔آخر فولادی ہاتھ کب کام آییں گے ۔ "ہم نے اپنے ہاتھ ہوا میں لہراۓ ۔
"تو آس سے کیا ہو تا حسینہ بی بی ۔"وہ ہمیں طنزیہ دیکھ کر بولی تو ہم چڑ سے گۓ ۔
تو اس سے یہ تو ہوتا کہ آئندہ کوئ بھی سانولے رنگ کو بنیاد بنا کر منگنی توڑنے کی حماقت نا کرتا ۔بڑے آۓ حسن پرست ہونہہ ۔ ہم غصہ سے کندھے جھٹک کر رہ گۓ تھے۔
" اور تمہیں پتا ہے بینا ۔ یہ رنگ صرف ہماری قوم کا مسئلہ نہیں ہے بین الاقوامی مسئلہ ہے ۔ امریکہ میںسول وار تک ہو گئ تھی کالے گورے کو لے کر ۔ " ہم نے اس کوڑھ مغز کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا ۔
" اور ایک نلسن منڈیلا بھی تھے جو اس رنگ کی تفریق پر ساری زندگی جنگ کی ۔ جیل گۓ۔ "
" ہاۓ مگر گورے تو پھر بھی نا ہوۓ ہونگے ۔ " لو اس کوڑھ مغز کے دماغ کی اڑان تو دیکھو ۔
" وہ گورے ہونے کے لیۓ زندگی بھر نہیں لڑے بلکہ اس فرق کو مٹانے کےلیۓ لڑے ۔ آخر میں انہیں نوبل امن پرائز بھی ملا ۔ " ہم نے وہ آخری معلومات بھی دی جو ہمیں معلوم تھی ۔
" ہاۓ ۔بیچارے ۔خالی خولی نوبل پرائز دے کر ٹرخا دیا ۔ " وہ چچ چچ کے انداز میں افسوس کرتی ہمیں زہر لگی تھی ۔
" جاہل ان پڑھ۔ مبینہ مبینہ ہی رہے گی ۔ " ہم نے پیر پٹخا تو ایک ہنسی کی آواز پر پلٹ کر دیکھنے پر مجبور ہوۓ۔ وہاں کزن فخر موصوف ہاتھ میں گلاب کا گملا پکڑے کھڑے تھے ۔
ہم انہیں مکمل نظرانداز کرتے نیچے جانا چاہ رہے تھے کہ انہوں نے روک دیا ۔
" مس حسینہ عالم ۔آپ سے ایک کام تھا ۔وہ گملا ایک کونےمیں رکھتے کہہ رہے تھے تو ہمیں رکنا پڑا ۔ ہم نے پلٹ کر مبینا کو دیکھا تو وہ جا جکی تھی ۔
" آپ حسینہ عالم کہہ کر ہمارا مذاق اڑارہے ہیں ۔ " اپنا نام اس انداز میں سن کر تو ہمیں آگ ہی لگ گئ۔ اور پچھلی دفعہ کی ہنسی بھی تو ادھار تھی ۔ سو ہم ان پر گرجنے برسنے لگے ۔ جسکا لب لباب یہی تھا کہ
" مسٹر فخر آپ کو فخر کس بات کا ہے ۔ آخر کس بات پر آپ اتنا اتراتے پھرتے ہیں ۔ واجبی شکل و صورت کے ساتھ ایک انجینئرنگ کی ڈگری لیۓ پھر رہے ہیں جسکی کوئ وقعت نہیں ۔ اور اتنی ہنسی کس بات کی آتی ہے آپ کو ۔ ہم غصہ میں نتھنے پھلاۓ بات کر رہے تھے جبکہ فخر مو صوف کے چہرے پر ابھی بھی وہی منحوس مسکراہٹ چپکی ہوئ تھی ۔
" اچھا ۔سوری ۔ میرے ہنسنے کا آپ نے برا مانا ۔ ویسے میں آپ پر نہیں آپکی سہیلی کی باتوں پر ہنس رہا تھا ۔ " وہ جلدی وضاحت دیتے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال چکے تھے ۔
" یہ ۔انگوٹھی کیسی ہے ۔آپ سے پو چھنا تھا ۔ " وہ ایک انگوٹھی ہماری طرف بڑھاۓ پوچھ رہی تھے تو ہم نے وہ ڈبیا کھولی ۔
بڑی پیاری روبی کی انگوٹھی تھی۔ کسی ڑمانے میں روبی کی انگوٹھی ہماری پسندیدہ انگوٹھی ہوا کر تی تھی ۔
" اجھی ہے ۔ مگر یہ رنگ آپ ہمیں کیوں دکھا رہے ہیں ۔ ۔ " اس سے پہلے کے وہ جواب دیتے امی پکار رہی تھیں ۔
" فخر گملا رکھ دیا تو ذرا ادھر تو آؤ ۔ " وہ امی کی آواز پر ہمارے ہاتھ سے انگوٹھی لیۓ نیچے بھاگ گۓ تو ہم نے سوچ کے گھوڑے دوڑاۓ۔
" موصوف ۔ یہ انکوٹھی اپنی منگیتر کے لیۓ لے آۓ ہونگے ۔۔لیکنہمیں کیوں دکھا رہے تھے ہم نے سوچا۔
"شاید ہمیں جلانے کے لیۓ۔ " ہم نے خود ہی اندازہ لگایا ۔
۔ ہونہہ جلے ہماری جوتی ۔" ہم غصہ سے کندھے جھٹک کر رہ گۓ۔
****
آج اس خوبصورت سے اسٹیج پر ہم موصوف فخر عالم کے ساتھ بیٹھے تھے تو ہم حیرانی ہی حیرانی میں گھرے ہوۓ تھے ۔ پتا ہی نہیں چلا کب ہماری نام کرن کرنے والی اکلوتی پھپھو نے ہمیں مانگ بھی لیا اور یہ رشتہ قبول بھی ہو ا ۔ بقول فخر عالم موصوف کہ
خوب جمے گی جب مل بیٹھیں گے اکلوتے دو
اس بات پر ہماری بے ساختہ ہنسی نکل گئ ۔
" پسند آئ انگو ٹھی ۔ وہ بظاہر سامنے دیکھتے لیکن پوچھ ہم سے رہے تھے ۔ ابھی کجھ دیر پہلے انگوٹھیوں کا تبادلہ ہو چکا تھا ۔ اور سب کے چہروں سے دلی خوشی کا اندازہ ہو رہا تھا ۔
" انگوٹھی تو بہت اچھی ہے۔ اسکے ساتھ ایک عدد منگیتر بھی مل رہے ہیں تو آفر بری نہیں ۔ "
" میں تمہیں افر میں مل رہا ہوںکیا ۔آفر اچھی ہے ۔انکی نقل کرنے پر ہم اپنی بے ساختہ مسکراہٹ چھپا بیٹھے ۔
" آج ویسے حسینہ پارکر سے کچھ کم نہیں لگ رہیں ۔ " وہ اپنے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے کہہ رہے تھے۔
" حسینہ پارکر ؟ ہم نے سوالیہ انداز میں انہیں دیکھا تھا ۔
" وہی ڈان داؤد ابراہیم کی بہن ۔ اپنے نچلے ہونٹوں کو دباتے وہ اپنی ہنسی کو کنٹرول کر رہے تھے ۔
" " اچھا ۔وہ ۔ "ہم انہیں کھا جانی والی نظروں سے دیکھ کر رہ گۓ۔
" مذاق کر رہا تھا ۔آپ آج واقعی حسینہ عالم لگ رہی ہیں ۔ سانولا رنگ آپ پر سوٹ کرتا ہے " اس بات پر ہم مطمئن انداز میں بیٹھ گۓ کہ آج تو سب ہی کہہ رہے تھے کہ ہم بہت پیارے لگ رہے ہیں ۔ ۔اور آج ہمیں بالآخر یقین آگیا تھا کہ ہم حسینہ عالم سے کچھ کم نہیں ہیں ۔ اور ہمیں منگنی کی انگوٹھی پہنا کر فخر عالم نے ہمیں وہ اعتماد بخش دیا تھا۔ جس سے ہم محروم تھے ۔
ختم شد
۔
"
"
"
"
"
"
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں