دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔۔فیصلہ کن جنگ

 دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔فیصلہ کن جنگ

آخری قسط ۔۔۔

ایک جانب ہنری اور پال بندھے پڑے تھے ۔تو دوسری جانب جارج بھی تہہ خانہ میں بے یار و مدد گار پڑا تھا ۔

آج انکی تیسری رات تھی ڈیمن ہاؤس میں اور ان تین راتوں میں وہ تین صدی    کا سبق سیکھ چکے تھے ۔

ایک اور قیامت خیز رات کا سامنا تھا انہیں ۔ 

اس ڈیمن ہاؤس کی رات پہلی رات کی طرح دہشت ذدہ کرنے والی تھی ۔ 

ان دونوں نے اپنے آپ کو کھولنے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ نا کام رہے تھے ۔اور اب تھک ہار کر اپنی آنے والی درد ناک موت کا انتظار کر رہے تھے ۔

صبح کی اولین ساعتوں میں ان دونوں نے دیکھا وہ الو انکے پاس آ کر پھڑ پھڑ ارہے تھے ۔ 

" ہنری یہ جارج کہاں    گیا ہو گا ۔ پتا نہیں ڈیمن‌نے اسکے ساتھ کیا کیا ہو گا" ۔پال کو یاد آیا کہ وہ رات سے بندھے ہوۓ ہیں اور جارج نے بھی خبر گیری نہیں کی ۔

"اسکے ساتھ بھی ضرور ڈیمن نے کچھ غلط کیا ہوگا ۔یا ہو سکتا ہے کہ اسے بھی اس ڈیمن‌نے قید کر دیا ہو" ۔ ہنری کی بات پر پال بے چین ہو گیا ۔

"یہ اچھی بات نہیں ہے آخر ہم  سب کو ڈیمن سے بچاۓ گا کون ۔ "

"ڈیرک ۔۔۔ہم ڈیرک کو بلا لیتے ہیں" ۔ہنری نے کہا ۔

" نہیں   ڈیرک بار  بارنہیں آ سکتا ۔‌ڈیمن‌اسے پکڑ لے گا "۔ پال نے ہنری کی تجویز مسترد کر دی تھی ۔

"فیم۔ ۔۔ہم فیم کو بلاییں گے "۔پال کی بات پر ہنری نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہو ۔

"فیم ۔۔وہ بوڑھی ریسیپشنسٹ ۔۔۔"

"ہاں ۔وہی کچھ کر سکتی ہے" ۔پال نے اسکی طرف دیکھ کر کہا ۔ پھر پوچھا ۔

"کیا تم ان الو ؤں کو کہہ سکتے ہو کہ وہ فیم کے پاس جا کر کہیں کہ ہمیں اسکی ضرورت ہے" ۔اسکی بات پر ہنری نے الو ؤں کو دیکھا تھا ۔ 

"فیم کے پاس جا سکتے ہو ۔ جان "۔۔اس نے مخاطب کیا تو دونوں الووں نے پر پھڑ پھڑ کر جواب دیا تھا ۔

 " ہاں ۔۔ "۔اور وہ اڑ گۓ تھے۔ 

 "پتا نہیں یہ اپنا پیغام صحیح سے پہنچا پائیں گے کہ نہیں ۔" پال کو ابھی بھی تشویش تھی ۔ ہنری البتہ پر سکون سا ہو گیا تھا ۔ 

جارج اس تہہ خانہ میں نیم بے ہو شی کی حالت  میں پڑا تھا ۔ڈیمن‌سے براہ راست جنگ نے اس کی توانائیاں ختم کر دی تھیں ۔

وہ بھی ہنری اور پال کے لیۓ بے چین تھا‌۔

کیاان تک بات پہنچ گئ ہو گی کہ میں یہاں تہہ خانہ میں ہوں اور اگر انہیں معلوم پڑ گیا ہو تو پھر وہ یہاں آۓ کیو ں نہیں ۔" وہ سوچتے سوچتے پھر سے غنودگی میں جا چکا تھا ۔یہاں اس تہہ خانہ میں چلانا اسے حماقت ہی نظر آ رہی تھی ۔اس لیۓ اس نے آواز دینے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا ۔

ایسی ہی غنودگی میں اسے پروں کے پھڑ پھڑانے کی آواز سنائ دی تھی ۔ 

اس نے آنکھیں کھولیں تو وہاں ہنری پال اور انکے ساتھ فیم بھی تھی ۔ 

 "تم لوگ۔"۔وہ حیران انہیں دیکھ رہا تھا ۔

"جلدی اٹھو ۔جارج فیصلہ کن گھڑی آ گئ ہے" ۔ فیم اس کے بندھے ہاتھ جلدی جلدی کھول رہی تھی ۔

"ذیمن اب کبھی بھی یہاں آ سکتا ہے ۔ وہ جو ڈیرک نے تمہیں لکڑی دی تھی وہ مجھے دو" ۔ فیم اس سے کہہ رہی تھی۔ 

جارج نے وہ لکڑی اسے دی تو فیم اس پر کچھ پڑھنے لگی ۔کچھ دیر میں وہ لکڑی ایک سنہری تلوار بن چکی تھی ۔جس پر صلیب بنی ہوئ تھی ۔ 

"جارج ۔یہ لو ۔ڈیمن‌کو تم ہی مار سکتے ہو۔کیونکہ جس نے صندوق کھولاوہی  ڈیمن کو مارنے کا حق رکھتا ہے "۔ فیم جلدی جلدی بول رہی تھی ۔اسکے ساتھ ہنری اور پال بھی یہیں آۓ تھے ۔‌جبکہ وہ الو بھی انکے ساتھ ہی تھے۔ 

"لیکن وہ   پپٹ  جس میں شاید ڈیمن‌کی جان قید ہے ۔جارج نے دیوار سے وہ صندوق پھر سے اتارا تھا۔اور اس میں سے پپٹ نکال کر فیم کو بتا رہا تھا ۔

"نہیں جارج پپٹ سے ڈیمن‌صرف کمزور ہو سکتا ہے مرے گا نہیں ۔اور اسے مارنا ضروری ہے ورنہ ہر رات وہ نئ طاقت    حاصل کر لیتا ہے "۔ فیم یہ کہتی اب ہنری اور پال کو دیکھ رہی تھی ۔

"پال تم اس پپٹ سے اس کو کمزور کروگے ۔ جتنا ہو سکے اس پر وار کرتے رہنا اور ہنری ۔۔تمہیں ڈیمن کے سانپوں سے لڑنا ہو گا ۔جب ڈیمن مر جائیگا تو وہ سارے سانپ مکڑیاں خود ہی غائب ہو جائیں گی ۔ 

"جارج ۔میں یہیں رہوں گی لیکن مجھے چھپنا ہو گا ۔ورنہ ڈیمن مجھے بھی قید کر سکتا ہے ۔ "

"اور ۔۔۔جارج "۔۔۔وہ جارج کی جانب پلٹی تھی ۔ا س کے چہرے پر حزن تھا ۔ ۔

"بمیرے بھائ کو آزاد کر  دینا  ۔ وہ یہ کہتی غایب ہو ئ تھی ۔

جارج اپنے ہاتھ میں موجود اس تلوار کو دیکھ رہا تھا جو چمک رہی تھی ۔ اسکی چمک سے  ڈیمن ہاؤس کا تہہ خانہ روشن نظر آ رہا تھا ۔ تبھی ایک دھماکہ ہوا تھا وہ تینوں ایک دیوار کو ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ ۔ سارا تہہ خانہ دھویں سے  بھر گیا تھا ۔ 

ڈیمن تالیاں بجاتا آ رہا تھا ۔

"گڈ جاب۔ ڈیرک اور فیم ۔میں سوج رہا تھا کون ہے اس ڈیمن ہاؤس میں جو میرے خلاف جا رہا ہے تو وہ غدار تم دونوں تھے "۔ اسکی زہریلی پھنکار پر وہ اپنی جگہ جم سے گے تھے ۔

تو تمہیں آزاد کرنے والے میرے قیدی کہاں ہیں ۔ وہ ہنس کر تالی بجانے لگا تو فیم اور ڈیرک الو سب یہاں آ گۓ۔ وہ تینوں نفرت سے ڈیمن کو دیکھ رہے تھے۔

"لارا جان ڈیرک فیم پچھلے پچاس سالوں میں جو نہیں ہوا وہ اب کیا ہو گا ۔اور یہ تینوں سورما کیا کریں گے ۔ہاہاہا ۔۔"

جارج نے اسے غصہ اور نفرت سے دیکھا ۔

"ڈیمن اب تمہارا وقت ہو گیا ہے اب تم کو  اس گھر سے جانا ہو گا ۔"

"ہاہاہا ۔۔پہلے تم لوگ تو اس گھر سے جا کر بتاؤ "۔

"ہما را  اب ایک ہی دن بچا ہے ڈیمن معاہدہ کی رو سے صرف ایک دن اسکے بعد ہم ویسے بھی یہاں سے چلے جائیں گے"۔ پال کی بات پر ڈیمن قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا ۔ اسکی خوفناک ہنسی سے وہ تہہ خانہ بہت ڈراونا محسوس ہو نے لگا تھا ۔

جبکہ ہنری اور پال اور جارج اسکی ہنسی پر الجھن کا شکار ہو گۓتھے۔۔ 

"انسان اور اچھے انسانوں کی ایک کمزوری ہو تی ہے ۔وہ جذبات میں آتے ہیں اور تم لوگ بھی پیسوں کے لالچ میں اس معاہدہ   کو غور سے پڑھ  نہیں پاۓ ۔ہا ہا ہا ۔۔"۔ وہ پھر ہنسنے لگا ۔ 

اس معاہدہ میں پانچ دن تھے لیکن تم نے تاریخ نہیں دیکھی ۔وہ فروری کے آخری پانچ دن تھے ۔ اور تاریخ کے حساب سے انتیس فروری اگلے پانچ سال میں آنے والا ہے آج تو اٹھائس ہے اور اب تمہیں انتیس فروری کے لیۓ چار سال کا انتظار کرنا ہو گا ۔ ہاہا ہا۔ سمجھے جارج ۔ اس نے اپنی سرخ آنکھیں جارج کی آنکھوں میں ڈالیں تو ایک لمحے کو ان تینوں کو لگا کہ انکے پیروں تلے زمین نکل گئ ہو ۔ انہوں نے بے ساختہ ڈیرک کو دیکھا تھا ۔ جس نے شرمندگی سے نظر جھکا لی تھی ۔   

اگلے چار سال انہیں یہیں    رہنا ہو گا یہ سوچ کر ان تینوں کو پسینے آنے لگے تھے۔ 

"ڈیمن ہم تمہارا بیڑہ یہیں غرق کرتے ہیں ۔پال نے وہ پپٹ اٹھا کر زمین پر پوری قوت سے  پھینک دیا جس سے ڈیمن لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا تھا ۔ جارج نے وہ تلوار اٹھائ اور اس نے اس کے منہ پر مارا جس سے ڈیمن کا منہ خون آلود ہو گیا ۔ 

ڈیمن اٹھ کر اپنے سانپ ان پر چھوڑ چکا تھا ۔

"ہنری پال اب فیصلہ کن جنگ ہے ڈو اور ڈائ ۔ کرو یا مرو ۔ 

کوئ غلطی نہیں ۔ جارج  ڈیمن کے حملے سے بچتا اس پر دائیں بائیں وار کرتا جا رہا تھا جبکہ ڈیمن اپنے منہ اور ہاتھوں سے آگ کے گولوں  کی برسات کر رہا تھا ۔

پال کے ہاتھوں میں پپٹ تھا وہ اس کو ہر طرح ادھر ادھر مارتے جا رہا تھا جس سے ڈیمن‌کمزور ہو رہا تھا ۔ 

ہنری اب ان سانپوں سے لڑ رہا تھا جو ادھر ادھر سے ان سب پر حملہ آور ہو رہے تھے ۔ 

ڈیمن کی طاقت اب کم پڑتی جا رہی تھی ۔

"جارج ۔۔اس کو جانے مت دو ورنہ وہ پھر سے طاقتور ہو جائگا "۔ فیم چلائ" ۔ مار دو اسے" ۔فیم چلائ ۔

جارج نے بڑی مضبوطی سے تلوار پکڑی تھی اور ڈیمن‌کی طرف بڑھا تھا ۔جو اب اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اتھ بھی نہیں پا رہا تھا ۔ 

لیکن اسکے سامنے ڈیرک آیا تھا ۔ جارج چونک گیا ۔

"ہٹ جاؤ ڈیرک ۔مجھے اسے مارنا ہے ۔ وہ چلا یا ۔ 

"مجھے اس ڈیمن سے بچاؤ جارج ۔ تم ہی مجھے بچا سکتے ہو." ۔ وہ اسکے سامنے ٹہرا رہا ۔ 

جارج کو فیم کی بات یاد آئ ۔ 

میرے بھائ کو آزاد کر دینا ۔۔ 

ڈیرک ۔۔۔میں تمہیں نہیں مار سکتا ۔ اس نے تلوار پیچھے کی تھی۔ ۔ 

"ہاں ۔جارج تم ڈیرک کو نہیں مار سکتے تم ایک اچھے انسان ہو ۔ " ڈیمن‌پھر ہنسنے لگا ۔

جارج کو یہ بات سمجھنے بس کچھ منٹ لگے تھے ۔ وہ اب ڈیرک کو مارنے تلوار اٹھا چکا تھا ۔ 

"نہیں جارج ۔ تم ڈیرک کو کیسے مار سکتے ہو ۔ نو ۔۔"۔پال کا رحمدل دل کانپ گیا تھا ۔‌

"نہیں جارج ۔نو ۔۔ مت مارو اسے" ۔ہنری بھی سانپوں سے نبردآزما ہو تے چلا اٹھا ۔ 

لیکن جارج نے ڈیرک کے سینے پر وار کیا ایک چیخ نکلی تھی ڈیمن کی اور اسکے جسم‌سے خون‌کا فوارہ پھوٹا تھا ۔ ڈیرک زمین پر کر گیا تھا ۔‌

"یہ کیا کر دیا جارج "۔۔۔پال گھبرا گیا ۔ 

"میں نےڈیرک کو بچا لیا۔ ۔۔جارج نے ایک اور وار سے ڈیرک پر حملہ کیا ۔اب ڈیمن ہمیشہ ہمیشہ کے لیۓ ختم ہو گیا تھا ۔ایک آگ کا گولہ  اٹھا تھا اس کے جسم‌سے.

" ۔پال وہ پپٹ بھی اس آگ میں ڈال دو ۔۔"جارج نے پال کو مخاطب کیا تو پال نے وہ پپٹ اس آگ میں جھونک دیا ۔

اسکے ساتھ ہی وہ سب ڈیرک کو دیکھنے اسکے قریب گۓ ۔

"ڈیرک۔۔۔آی ایم سوری ۔۔جارج کی آنکھوں میں نمی تھی ۔ 

"تھینک یو جارج ۔۔"۔وہ مسکرایا تھا ۔

تم نے مجھے اسکی قید سے آزاد کیا ۔

وہ آنکھیں بند کر چکا تھا ۔ فیم اسکے قریب آئ  تھی اور رونے لگی ۔

"بھائ ۔ڈیرک ۔ میرا بھائ ۔پورے پچاس سال سے وہ ایک اذیت کی زندگی گذار رہا تھا ۔ وہ مرنا چاہتا تھا مگر ڈیمن اسے مرنے نہیں دیتا تھا ۔اسے ڈیمن کے اشاروں پر چلنا پڑتا تھا۔جس سے وہ تنگ آ چکا تھا ۔ فیم کہتے کہتے رونے لگی تھی۔

آہ ۔وہ سب اس طرح ڈیرک کی موت کو قبول نہیں کر پا رہے تھے ۔ 

ہنری نے دیکھا ۔وہ الوؤں کا جوڑا بھی ڈیرک کے ساتھ غائب ہو تا جا رہا تھا ۔

"فیم ۔۔وہ لارا جان ۔"۔۔وہ بس اتنا ہی کہہ سکا ۔

"ہاں وہ بھی ڈیرک کے ساتھ آ ذاد ہو گۓ ۔ کیونکہ انکی روح بھی ڈیرک میں  ہی اٹکی تھی۔ "

اس نے الودعی انداز میں اپنے ماں باپ کو دیکھا تھا جو اب مکمل غائب ہو گۓ تھے ۔

ڈیمن کے ساتھ ہی اس بنگلہ سے سانپ مکڑیاں اور اسکی مددگار کیڑے مکوڑے نکل چکے تھے۔ 

اب اس بنگلہ کا اندھیرا ختم ہو چکا تھا ۔اور  سورج کی روشنی یہاں ہر طرف پھیل چکی تھی ۔ 

وہ تینوں اب اس ہال میں آۓ تھے ۔ فیم بھی انکے ساتھ ہی تھی ۔ فیم کے ہاتھ میں وہ صندوق تھا ۔

"ٹھیک ہے فیم اب ہم جا سکتے ہیں کہ نہیں "۔ جارج نے فیم کو دیکھا تو وہ اٹھی ۔اور اس نے وہ ہیروں کا صندوق اسے بڑھا یا ۔

"جارج ۔ہنری پال ۔آپ تینوں کا بے حد شکریہ ۔ اب آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں اور جانا چاہتے ہیں تو جا بھی سکتے ہیں ۔ اور رہی معاہدہ والی بات تو وہ تو ڈیمن کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ۔ البتہ یہ صندوق آپکی امانت ہے ۔"

"یہ صندوق ہم لے کر کیا کریں گے ۔فیم ۔اس بنگلہ میں‌ایک ہوم بناؤ جو بے سہارا لوگوں کے لیۓ ہو ۔ اس ہوم کی نگران کار تم بنو گی ۔ جارج کی بات پر فیم جذباتی ہو گئ ۔ 

"جارج ۔تمہارا خیال بہت اچھا ہے لیکن تمہیں انعام کی رقم تو لینی چاہیے ۔ ون ملین ڈالرز ۔" 

نہیں فیم ۔ یہ جو روپیہ کا لالچ ہوتا ہے وہی لے ڈوبتا ہے ۔چاہے انعام ہی ہو ۔ ہر وہ رقم جو بنا محنت کے حاصل ہو تی ہے میرے خیال میں وہ ڈیمن کو جنم دیتی ہے ۔ ان چار دنوں میں مجھے یہی سبق ملا ہے اس لیے اب اس انعام سے مجھے دستبردار سمجھو ۔ جارج مسکراتے کہہ رہا تھا ۔

" ہاں فیم مجھے بھی دستبردار ہی سمجھو" ۔پال نے بھی  جارج کی تأئید کی ۔ اور ہنری کی طرف دیکھا ۔ 

"وہ تو ٹھیک ہے مگر بنا دولت کے کوی لڑکی مجھ سے شادی نکیسے  کرے گی ۔۔اسکی بات پر وہ ہنسنے لگے تھے ۔ 

"تو  کنوارا ہی رہ لو ۔"۔۔انہوں نے فیم کو خدا حافظ کہا تھا ۔ اور اس ڈیمن ہاوس سے۔ نکلے تھے ۔‌جو اب روشنیوں کا مرکز بننے جا رہا تھا ۔

ختم شد 

نوٹ ۔۔۔میرا یہ پہلا ہارر ناول ہے ۔اور شاید آخری بھی ۔ جب میں نے اسے شروع کیا تو میرے دماغ میں کچھ بھی نہیں تھا ۔میں اسے کیسے لکھوں گی اور اس کا آغاز اختتام کیسا ہو گا ۔مجھے کافی کوشش کرنی پڑی اسے لکھنے کے لیۓ۔ کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے ۔ سادہ گھریلو اور مزاحیہ کہانیاں لکھ سکتی ہوں ۔یہ میرے لیۓ بھی کافی ہارر تجربہ تھا ۔

لیکن آج خیر سے یہ مکمل ہوا اور آپ لوگوں نے اسے پسند بھی کیا اس کے لیۓ بے حد شکریہ ۔اگلی کہانی مزاحیہ ہوگی اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔ انشااللہ جلد ہی لے کر حاضر ہو نگی۔ 

خدا حافظ 

نازنین فردوس ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ