ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔نیکی کے جگنو

 دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔نیکی کے جگنو 

قسط نو 

ہنری اور پال ڈیمن اور اسکی نام نہاد فوج جو کہ مکڑیوں پر مشتمل تھی ۔ نبرد آ زما تھے ۔ پال  اپنے پاس موجود ایک جادوئ آئینہ میں   ہر مکڑی کو قید کرتے جا رہا تھا ۔

ڈیمن ان پر حملہ کر رہا تھا ۔ اسکی آنکھوں کی چنگاریوں سے اطراف کی ہر چیز جلنے لگی تھی ۔ 

جارج جب اس تہہ خانہ میں اترا تو وہ اندھیرا ہی تھا جسکا اسے سامنا ہوا تھا ۔ وہ بالکل اندھا بن گیا تھا ۔ اس نے اپنے پیچھے ان الووں کو دیکھا اور  کہا ۔

"میں اب اندر جا رہا ہوں ۔ لیکن اگر میں واپس نا آؤں تو میرے دوستوں کو بتا دینا کہ میں اس تہہ خانہ میں ہوں "۔ 

وہ چپ چاپ سن رہے تھے ۔

جارج سمجھ گیا کہ۔ یہ بولتے بھی ڈیمن‌کی مرضی سے تھے ۔ 

"اچھا اب تم جاؤ میں اندر جاتا ہوں" ۔ جارج نے سیڑھیاں اترتے ہوے کہا ۔ الو پھر رررر کرتے واپس چلے گۓ۔ 

جارج نے ایک ایک سیڑھی بڑی مشکل سے اتری۔۔ اب تاریکی کی گہری دھند تھی جس سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔

اس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔

"جولی ۔۔۔ڈیر جولی ۔۔۔کیا مجھے میرے وہ جگنو دے سکتی ہو جو تمہارے پاس ہیں" ۔اس نے اپنی مٹھیاں  کھولی تھیں   ۔

اسے وہ 'پل یاد آیا تھا جہاں آج سے دو سال پہلے وہاں بیٹھ کر مچھلیوں کو  چارا ڈال رہا تھا ۔ تبھی ایک لڑکی وہاں آئ تھی اور اس سے پہلے کہ وہ  ندی سے چھلانگ لگاتی اس نے بھاگ کر اسے بچایا تھا ۔

" رک جاؤ۔ کون ہو تم ۔ خودکشی کسی مسئلہ  کا حل نہیں ہے "۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں سے تھاما تھا ۔ 

میرے گھر میں میرا باپ بیمار ہے ماں مر گئ اور میرے دو چھوٹے بھائ اور ایک بہن ہے ۔ لیکن جہاں بھی کام کرنے جاتی ہوں لوگ مجھے ایک کال گرل سمجھ کر قیمت پوچھنے لگتے ہیں ۔ میں کیا کروں "۔۔ وہ لڑکی چہرہ چھپاۓ رونے لگی تھی ۔


جارج نے اسے پہلے نیچے اتارا اور خود بھی اس پل پر سے اترا ۔

"تو کیا پل سے کود کر جان دینے سے وہ تمہاری عزت کرنا شروع کر دیں گے" ۔ اسکے سخت سے انداز پر وہ اسے دیکھنے لگی۔ 

"بہت ذلت محسوس ہو تی ہے ۔ جب آپ کو کوئ ان نظروں سے دیکھتا ہے۔۔" 

"لڑنا سیکھو ۔ان نظروں سے ،ان لوگوں سے ،جو تمہیں ذلیل کرتے ہیں ۔ تھپڑ مارا کرو۔ اپنے مضبوط اعصاب سے ان کی کمڑور نیتوں کو ۔کوئ  تم سے تمہاری قیمت پوچھے تو بتا ددینا میں انمول ہوں ۔ مجھے جیتنا ہے تو اچھے کردار کے ساتھ آؤ ۔" وہ اپنے سابقہ سخت انداز سے اسے لتاڑتا اب واپس جا رہا تھا ۔

"آپ پلیز میری مدد کریں ۔ مجھے کچھ ادھار دیں ایک مہینہ بعد میں آپکی رقم لو ٹا دوں گی" ۔ اس لڑکی نے لجاجت سے کہا تھا ۔ 

"یہ لو ۔ مگر ضائع مت کرنا ۔ اگلے مہینے اس سے دوگنی رقم تمہارے پاس ہونی چاہیۓ جس سے تم اپنے لیۓ کچھ کما سکو "۔ اس نے اپنے پاس موجود پوری رقم اس لڑکی کو دی تھی اور خود گھر آ گیا تھا  یہ سوچے بنا کے گھر جا کر وہ کھاۓ گا کیا۔۔ ایک مہینہ بعد وہ اس پل کے قریب ٹہرا تھا ۔ وہ لڑکی بھی وہیں تھی۔ 

"تھینکس" ۔اس نے وہ رقم لوٹادی ۔ 

م"نے اس رقم سے سستے کھلونے خرید ے تھے اور روڈ پر بیچنا شروع کیا ۔ ان سے اتنی رقم کمائ  ۔ کہ میرے گھر کا خرچہ چل پڑا ۔ آپ نے صحیح کہا تھا ۔"

"ہمیں لڑنا ہوگا ان نظروں سے اپنی بقا کے لیۓ ۔اب اگر کوئ مجھ سے کوی نا زیبا بات کرتا ہے تو میں اسے تھپڑ مار دیتی ہوں" ۔ وہ بولی ۔

تو جارج ہنس پڑا ۔

"لاؤ۔ میری رقم" ۔اس نےاسکی دی ہوئ رقم   جیب میں رکھی۔ 

 " لیکن اگر میں کوئ  مناسب بات کروں تو مجھے تو تھپڑ نہیں ما روگی" ۔ وہ اسے دیکھتے ہوے بولا تو وہ بلش ہو کر نفی میں سر ہلا گئ۔ 

اس شام ان دونوں نے شادی کر لی تھی ۔ جارج نے جولی کی فیملی کا خیال رکھا بلکہ اسکے بھائیوں کو اچھی جگہ جاب دلوائ ۔ اس کے باپ کے علاج کے لیے دوڑ دھوپ کی ۔ اور جب اس نے جولی سے انعام کا پو چھا تو وہ مسکرا کر کہنے لگی تھی۔

" وہ   نیکیاں آپ کے لیۓ جگنو بن  جائینگی۔ آپ کی زندگی کے  اندھیروں میں ۔ وہی آپ کا انعام ہونگے ۔ جب ان کا وقت آۓ گا وہ آپکی مٹھی میں ہو نگے ۔ اور اب ان جگنوؤں کو مانگنے کا وقت آ گیا تھا ۔

اس نے پوری شدت سے اپنی خواہش ظاہر کی تھی ۔ اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسکے ہاتھوں میں بے شمار جگنو چمک رہے تھے ۔ اب اس تاریکی میں وہ جگنو اسکی مدد کر رہے تھے ۔ 

اس نے دیکھا یہ ایک بہت بڑا تہہ خانہ تھا ۔۔ یہاں مکڑیوں نے جالے بناۓ ہوۓ تھے ۔ اور دیواروں پر چلتے پھرتے سانپ نظر آ رہے تھے ۔ یہاں کئ لوگوں‌کی تصویریں لٹکائ گئ تھیں جو  شاید ڈیمن کا شکار بنے ہوۓ تھے ۔‌اس نے صندوق کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ۔ لیکن یہاں کوئ صندوق نظر نہیں آ رہا تھا ۔

وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا ۔اسکے سارے جگنو اس سے آگے تھے جنکی مدھم روشنی میں وہ آ گے بڑھ رہا تھا ۔اسکے سامنے مکڑیوں کے موٹے جالے آ تے جا رہے تھے ۔جنہیں وہ اپنی چھوٹی چاقو کی مدد سے کاٹ کاٹ کر آ گے بڑھ رہا تھا ۔

وہ تمام جگنو ایک تصویر کے آگے رک گۓ تھے ۔ اس نے چونک کر اس تصویر کو دیکھا ۔وہ اسی بنگلہ کی تصویر تھی۔‌ اسکے کمرے اسکی راہ داریاں اور دیواریں جنہیں  پینٹ کیا گیا تھا  اس نے اس پینٹنگ کو قریب جا کر دیکھا ۔ اس تصویر میں  وہ کمرہ بھی تھا جو ان کا کمرہ تھا اور ۔۔۔

اوہ نہیں ۔یہ صندوق تو وہیں ہے پھر مجھے نظر کیوں نہیں آیا ۔اس نے ایک انگلی سے اس صندوق کو چھوا تو وہ اسکے ہاتھ میں آ گیا ۔ 

اس نے جلدی سے اس چھوٹے صندوق کو ایک اونچی سی سیڑھی پر رکھا اور اپنی پاکٹ سے ڈیرک کی دی ہوی چیز نکالی ۔وہ ایک میگنی فائنگ گلاس تھا ۔یعنی آئینہ جس میں چھوٹی چیزیں بڑی نظر آتی ہیں ۔ اس نے بھی صندوق کو اسی آیینہ میں دیکھنا شروع کیا تو وہ صندوق بھی بڑا ہو نا شروع ہو گیا تھا ۔

اس نے جلدی سے صندوق کھولا تھا اور اسکی چیزیں باہر نکالنے لگا ۔ کنگن  چوڑیاں سکے نکلس اور ایسی ہی کئ چیزیں ۔وہ جلدی جلدی ساری چیزیں باہر پھینکنے لگا ۔ اب آخری چیز تھی اس نے باہر نکالا تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گییں ۔ وہ  ڈیمن‌کا نقلی پپٹ تھا اس جیسا ہی مگر چھوٹا سا ۔

اس نے اسے غور سے دیکھا اور اپنے پوپ کے بتاۓگۓ منتر پڑھنے لگا ۔ 

پال اور ہنری اپنی پوری قوت سے ڈیمن کا دفاع کر رہے تھے ۔انہوں نے وہ حفاظتی شیلڈ پہنی تھی جس سے وہ ڈیمن‌کی آگ سے بچ پارہے تھے ۔ لیکن ڈیمن ان کو مختلف طریقوں سے زچ کر رہا تھا ۔ وہ نت نۓ جانور ان پر چھوڑ رہا تھا جس سے لڑتے لڑتے وہ کمزور پڑ رہے تھے ۔لیکن 

پال اور ہنری نے دیکھا اچانک   ڈیمن کا رنگ بدلنے  لگا تھا ۔ اسکی آگ مدھم ہو نے لگی تھی ۔ ان دونوں کو لگا یہی وقت ہے ڈیمن پر وار کرنے کا ۔۔۔

پال نے اپنی پوری قوت لگائ تھی اور ہنری کی زنجیر سے اس نے اسکے پیر پر مارا تھا ۔ یہ وہی وقت تھا جب جارج نے اس پتلے کا پیر مروڑا تھا ۔ 

پال اب پے در پے اس زنجیر سے وار کرتے جا رہا تھا ڈیمن‌کی غصہ سے بری حالت ہوئ تھی ۔اس نے ان دونوں کو ایک جھٹکے میں رسیوں سے باندھ دیا اور خود تہہ خانے کی طرف بھا گا ۔

جارج جب جب منتر پڑھ رہا تھا ۔  ڈیمن کمزور پڑتا جا رہا تھا ۔اس نے اب دونوں ہاتھ توڑے تھے ۔ وہ اس آئینہ میں دیکھ سکتا تھا کہ ڈیمن پر اس کے منتر کا اثر ہو رہا تھا ۔  ۔ 

اس سے پہلے کہ وہ اپنے چاقو سے اس پتلے کےسینے  پر مارتا اور اس ڈیمن کا قصہ تمام کرتا ڈیمن وہاں آ چکا تھا ۔ لنگڑاتا ہوا ،ایک ہاتھ نیچے کو لٹکاۓ  ہوۓ ۔

"جارج ۔"۔۔اس نے منہ سے ایک چنگاری نکا لی اور سب سے پہلے اس نے جارج کو قید کر دیا ۔۔جارج اپنے آپ کو کوس رہا تھا کہ اس نے ایک اچھا موقع گنوادیا ۔

"نو مسٹر جارج ۔۔نو ۔ڈیمن اتنی آسانی سے مارتا نہیں تو مرے گا کیسے ۔۔۔"اسکا لہجہ کمزور تھا ۔لیکن آواز اتنی ہی طاقتور تھی ۔

جارج نے اپنے بندھے ہاتھوں کو بڑی بے بسی سے دیکھا تھا ۔

ڈیمن نے اس صندوق کو پھر سے ویسا ہی کر دیا جیسے کہ پہلے تھا ۔ اور اسی  اندازمیں دیوار پر چسپاں کر دیا ۔

"صرف دو دن ہیں تمہارے پاس جارج ۔اسکے بعد تو تمہیں میرا غلام ہی ہونا ہے۔ اس لیۓ تب تک باے باۓ۔عیش کرو ۔"

وہ آہستہ آہستہ وہاں سے جا چکا تھا ۔

جاری ہے ۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ