دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔جب ڈیمن آتا ہے
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔جب ڈیمن آتا ہے ۔
"ڈیرک ۔۔۔وہ تمہاری فیملی تھی " جارج۔ نے بہت افسوس سے اسے دیکھا ۔
"تھی نہیں ہے ۔ مگر زندہ درگور ۔"۔اس نے کہا ۔
"فیم کہاں ہے۔" ۔پال نے بھی اس کے درد کو محسوس کیا ۔
"ریسیپشنسٹ جو اس ہوٹل میں تھی ۔وہی فیم ہے۔ وہ بھی سب جانتی ہے مگر ہم یہ سب کسی کو بول نہیں پاتے ۔ اس کا ڈر ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا تھا ۔ نا اسکا کچھ توڑ تھا ہمارے پاس ۔میں ایک چرچ کے پادری سے ملا تو اس نے کہا تھا ایک ڈیمن کوتو نیک روحیں ہی ختم کر سکتی ہیں ۔ ان سے مقابلہ کر سکتی ہیں ۔
میں نے اس کے لیۓ تلاش شروع کی ۔لیکن نیک روحیں ملتی بھی مگر وہ اتنی بہادر نہیں تھیں کہ ڈیمن سے جنگ لڑ پاتیں ۔ میں ہار ماننے والا تھا جب میں نے جارج کو دیکھا ۔وہ ویسا ہی تھا جیسا مجھے چاہیۓ تھا ۔میں نے اشتہار چھپوایا اور اسکے اخبار میں ڈالا ۔ اب تک تم لوگوں کی کار کردگی سے خوش اور مطمین ہوں کہ میری امیدوں پر پورا اترے ہو ۔ لیکن آگے ڈیمن جب آۓ گا تب تم اس کا کیسے سامنا کروگے
"ڈیرک. وہ ہم تینوں پر چھوڑو ۔ تم پہلے ہمیں آزاد کرو "۔ جارج کے نرم انداز پر ڈیرک اٹھا اور اس نے انہیں کھول دیا ۔
وہ آزاد ہوۓ تو انہیں ایک گونہ سکون ملا تھا ۔لیکن انہیں خطرہ تھا اسکے آنے کا جسے لوگ ڈیمن کہتے ہیں ۔
"جارج میں اب چلتا ہوں" ۔ ڈیرک نے ہاتھ ملایا اور کچھ اس کے بیگ میں ڈالا ۔"ٹھیک ہے لیکن ہم تم سے بات کرنا چاہیں تو "۔
"تو مجھے یاد کر لینا کیونکہ میں ڈیمن کی نظروں میں آنا نہیں چاہتا ۔اس بات پر وہ تینوں سر ہلا کر رہ گے۔
جاتے جاتے اس نے ایک لکڑی نما کوئ چیز جارج کو تھمائ تھی اور خود غایب ہو گیا ۔
اب وہ تینوں اس صندوق کے پاس پھر جا پہنچے ۔جارج کے پاس اسکی چابی تھی ۔اس نے جلدی جلدی اس تالے میں چابی گھمائ اور تالا کھل گیا ۔
تالا کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی ایک دھماکہ ہوا تھا ۔جسکے آواز سے جیسے کان کے پردے پھٹنے لگے ۔
یہ آواز کی دہشت تھی کہ ان تینوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیۓ۔
"جارج یہ کس چیز کا دھماکہ تھا ۔" ہنری بھی خوفزدہ سا بولا ۔
" یہ دھماکہ نہیں طبل جنگ ہے ۔ جو ہم نے ڈیمن کو دیا ہے ۔ "
اسکے ساتھ ہی جارج اس صندوق کو ٹٹولنا شروع کر چکا تھا۔
اس میں کئ نادر و نایاب چیزیں رکھی ہو ئ تھیں ۔اور وہ ایک ایک چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ سارا صندوق نیچے انڈیل دیتا ۔اسے کچھ آہٹیں سنائ دینی شروع ہوئیں ۔
"سرسرسررررر۔"۔کوئ سانپ تھا جو ان تک آ رہا تھا ۔ وہ تینوں چوکنا تھے ۔
جارج نے اس لکڑی نما چیزکو اچھے سے پکڑلیا تھا ۔
"سررررر ۔" اور پھر ایک خوفناک قسم کی آواز کے ساتھ کو ئ انکے سامنے تھا ۔ایک بگولا اٹھا تھا انکی آنکھوں کے سامنے ۔ ان تینوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔
" ہاہا ہا ۔۔۔"۔۔یہ اسکی آواز تھی ۔جارج نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں ۔ ایک بھیانک حیوان انکے سامنے تھا ۔ جسکا منہ سانپ کی مانند اور جسم چپکلی کی طرح تھا ۔ کالا اور دھاری دار ۔جسکی آنکھیں سرخ انگارہ تھیں اور منہ سے شعلے نکل رہے تھے ۔
"تو اب کتنے دن ہو گۓ ہیں جارج ۔۔۔۔اسکی آواز میں غصہ کی اتنی حدت تھی کہ وہ اسکی گرمی اتنی دور سے بھی محسوس کر رہا تھا ۔
" تین دن ۔"۔۔جارج نے بے خوف کہا ۔
" صحیح کہا ۔۔تین دن۔ ۔۔۔تو تمہیں لگتا ہے کہ تم یہ تین دن پورے کر لو گے"۔ اسکی ہنسی سے ان تینوں کے چہرے پر خوف سا لہرایا ۔
" ہاں "۔اب کے پال بولا تھا ۔
"اگر ڈیمن سے بچے تو پال تم تین دن تو کیا تیس سال تک رہ لو ۔مگر افسوس اس ڈیمن ہاؤس میں ڈیمن کی چلتی ہے کسی اور کی نہیں ۔۔"۔۔اس نے مکروہ انداز میں کہا ۔
ا" اور ڈیمن تو صرف مارنا جانتا ہے بچانا نہیں ۔اگر تم بچنا چاہتے ہو تو تمہیں میرے کھیل میں حصہ لینا ہو گا کیونکہ مجھے کھیل بہت پسند ہے ۔ہاہاہا "۔اسکے بلند قہقہہ سے شعلے سے نکلتے محسوس ہو رہے تھے ۔
کھیل کیسا کھیل۔ ہم یہاں اپنا معاہدہ پورا کرنے آۓ ہیں کسی کھیل کا حصہ بننے نہیں" ۔
"شاید تم بھول گۓ جارج کہ ڈیمن ہاؤس میں صرف ڈیمن کی چلتی ہے یعنی میری ۔آخر میں اسکی آواز دہشت پیدا کرنے والی تھی ۔ لیکن ایک کھیل تو شروع ہو ہی چکا ہے اب اسے ہی مکمل کر لو ۔یہی کافی ہے ۔"
وہ اب آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا ۔
جارج بھی اپنے قدم پیچھے لینے لگا تھا ۔
جارج ۔پال اور ہنری ۔۔کافی بہادر ہو تم ۔لیکن یہ ساری بہادری تمہاری دھری رہ جائگی جب تمہیں مجھ سے لڑنا ہو گا ۔ مجھ سے۔ اس نے اپنی جانب اشارہ کیا ۔
ا"ا ور مجھ سے لڑنے والا یا تو الو بنتا ہے یا میرا غلام ۔۔ہاہاہا ۔۔
کیا کہتے ہو "۔ وہ اب ہنری کو دیکھ رہا تھا ۔
" تم ایک ۔ایک بد روح ہو ۔اور بد روحیں جب قید ہو تی ہیں تو وہ کچھ نہیں کر سکتی۔ بدی کو نیکی سے ہار ماننی ہی پڑتی ہے سمجھے"۔ پال کی آواز پر وہ اپنے انداز میں ہنسا تھا ۔
" ہاہا ہا ۔۔پال ہنری کاش تم لوگ مجھ سے مارے نا جاؤ ۔مجھے تم دونوں کی موت کا بہت افسوس ہو گا ۔ وہ انکے بے حد قریب آ کر بولا تو وہ ڈر کے بالکل پیچھے ہو گۓ۔
ڈیمن ۔ہم تمہیں نیست و نابود کریں گے ۔بہت جلد ۔جارج نے اسے گھورا ۔
اگر میں چاہوں تو ابھی تمہیں پھر سے باندھ دوں لیکن کچھ نیا ہونا چاہیۓ۔ تو یہ لو۔۔ ۔۔۔۔وہ بولتے بولتے اس نے اپنا بازو لہرایا اور اسکے بازو لہراتے ہی آگ کی لہریں نکلنی شروع ہوئیں تھیں ۔وہ تینوں جھکے اور یہاں وہاں بھاگنے لگے ۔ ڈیمن ہنسنے لگا ۔
ہاہاہا ۔۔۔جب ڈیمن آتا ہے تو تباہی لاتا ہے ۔۔ہاہاہا ۔۔وہ ان کے پیچھے آگ کی لپٹیں برابر پھینکے جا رہا تھا ۔
"جارج یہ کیا کررہا ہے ۔وہ اب تینوں پھرتی سے اسکے حملہ سے بچ رہے تھے ۔
میں نے کہا نہیں جنگ کا آغاز ۔وہ جنگ شروع کر چکا ہے ۔ ایک ستون کے پیچھے چھپ کر وہ بولا ۔
اتنی جلدی ۔۔وہ چیخا ۔
" وہ ڈیمن ہے موقعے نہیں دیتا ۔ وہ ہمیں کچل کر مسل کر رکھ دے گا ۔ پال نے بھی اپنی پوزیشن لی ۔
اب ہمیں اپنے آپ کو اس سے بچانا ہو گا ۔ جب ہو سکے تب تک ۔۔جارج نے کہا تو وہ دونوں سمجھ نہیں پاۓ۔
"وہ تو ڈیمن ہے جارج ۔ہم اس سے کیسے بچیں گے ۔"
"یہاں آؤ۔ تم دونوں" ۔جارج نے انہیں بلایا اور پھر اپنا ہاتھ سامنے رکھا ۔
"آو عہد کریں۔ ہم اس موقعہ پر ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں یہاں سے نا صرف نکلنا ہے بلکہ ڈیرک اور فیم کو بھی اس ڈیمن سے آزاد کرنا ہے ۔بو لو ۔۔"
پال اور ہنری نے بھی اپنے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے۔
ہاں جارج ۔ہم سب ساتھ ہیں ہمیں جان اور لارا کو نہیں بھولنا ہے ۔ وہ پچاس سالوں سے ایسے رہ رہے ہیں ۔ ہنری کی آواز میں آنسو تھے ۔ وہ تینوں سر ہلا کر رہ گۓ۔۔
"جیت نیکی کی ہوگی ۔" ان تینوں نے زور سے کہا اور پھر ادھر ادھر ہو گۓ۔
اب اس بنگلہ میں جنگ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اب یہ بنگلہ زور دار دھماکوں سے لرز رہا ہے ۔ شعلوں نے یہاں وہاں نکل رہے اندھیرا جو اس گھر کا خاصہ ہے کو مات دے دی ہے ۔ ۔ جارج پال اور ہنری نے اپنے آپ کو حفاظتی حصار میں محفوظ کر لیا ہے اس لیے اب ان پر یہ آگ اثرانداز نہیں ہو رہی تھی ۔ ان تینوں کو یہ سوچنا تھا کہ ڈیمن کو کیسے شکست دی جاۓ ۔
۔اب وہ تینوں اس کمرے میں تھے جہاں صندوق رکھا ہو ا تھا ۔
آ خر کیا ہے یہ ڈیمن ۔اس کوہم کیسے ماریں ۔ وہ کیسے ختم ہو گا ۔ وہ طاقتور ہے ایک سیکنڈ میں وہ ہمیں کچھ کا کچھ بنا سکتا ہے ۔ ہمارا اس کا مقابلہ ہی نہیں ہے ۔ہنری بھاگتے بھاگتے تھک گیا تھا ۔
صحیح ہے ۔ وہ طاقتور ہے ۔ اسکو شکست دینا ناممکن لگ رہا ہے ۔ ایسا کرتے ہیں ہمارے تین دن جو بچے ہیں وہ گذار لیتے ہیں اور پھر یہاں سے خاموشی سے چلے جائیں گے ۔ پال بھی ڈیمن سے خوفزدہ لگ رہا تھا ۔
نہیں تمہیں کیا لگتا ہے وہ ہمیں یہاں سے جانے دے گا ۔ نہیں ۔ وہ تو اب بلی چوہے کی طرح کھیل کھیلے گا اور پھر جب تین دن ہو جائیں وہ ہمیں کبھی بھی ما ر دے گا۔
جارج اور وہ دونوں اب اس کمرے کی دیوار سے چھپ کر بیٹھے تھے ۔
وہ ہمیں پہلے بھی مار سکتا ہے ۔آخر تین دن وہ کیوں انتظار ۔کرے گا۔
ہاں ۔وہ یہ کبھی بھی کر سکتا ہے لیکن ہمیں اس سے پہلے اسکی کمزوری ڈھونڈنی ہے ۔ کہیں نا کہیں اسکی دکھتی رگ ہو گی جسے ہم کو پکڑنا ہے۔ ۔جارج کی اس بات پر وہ دونوں سوچ میں پڑ گۓ۔
"دکھتی رگ ۔مگر کیا." ہنری نے بس اتنا کہا تھا اور انکی دیوار ایک دھماکہ سے گری تھی ۔ یہاں وہاں دھواں دھواں پھیل گیا ۔ دیوار کے اس پار ڈیمن قہقہہ لگا رہا تھا ۔
ڈیمن جب آتا ہے ۔تباہی لاتا ہے۔
ہنری پال تم دونوں اسے کسی طرح مصروف رکھو ۔میں اس صندوق کو ایک اور بار دیکھوں گا ۔ جارج نے جھک کر کہا ۔ ہنری اب ڈیمن کی جانب بڑھا تھا ۔
اسکے ہاتھ میں اسکی ماں کی دی ہوئ لاکٹ تھی جسے وہ اب زور زور سے گھما رہا تھا ۔
جب ہنری وہ زنجیر گھما رہا تھا تو گھومتے گھومتے بڑی ہوتی جا رہی تھی۔ جس سے وہ اب ہتھیار کا کام لے سکتا تھا۔ وہ دائیں بائییں ڈیمن کے گرد اس زنجیر کو لہرا رہا تھا ۔ ڈیمن نے اپنے ہاتھ لمبے کر لیۓ تھےاسکے ہاتھوں سے اب آگ نکل رہی تھی ۔۔پال بھی ہنری کے ساتھ ڈیمن کے حملہ سے بچاو کرتا جا رہا تھا ۔
اب اس سناٹے میں صرف دھماکے سنے جا رہے تھے ۔
ہر طرف آگ کے شعلے نظر آ رہے تھے ۔جارج نظر بچا کر صندوق لینے آیا تھا ۔مگر صندوق وہاں نہیں تھا ۔
" یہ صندوق کہاں چلا گیا ۔ جارج بڑ بڑایا ۔ضرور اس صندوق میں ایسا کچھ ہے جسکی وجہہ سے ڈیمن صندوق کو ہم سے محفوظ رکھنا چاہ رہا ہے ۔مگر اب کیسے اس صندوق کو ڈھونڈوں ۔
اپنے پیچھے دھماکے ہوتے ہوے دیکھ کر وہ سوچ رہا تھا ۔تبھی وہ الو کا جوڑا ادھر آیا تھا ۔
وہ اسکے آگے اڑنے لگے ۔ایسے جیسے وہ بتانا چاہ رہے ہوں کہ وہ صندوق کہاں ہے ۔
جارج اب ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ الو اسے بنگلہ کی راہداریوں سے گذارتے گۓ۔ اب سیڑھیاں تھیں جس کو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔اب وہ سیڑھیاں اتر رہے تھے۔ آگے ایک تہہ خانہ تھا ۔
جاری ہے۔
یہ قسط کیسی لگی کمنٹ ضرور کریں ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں