کیا بنے گا شیبا کا ۔۔۔۔
کیا بنے گا شیبا کا ۔۔۔۔
"شیبا ۔شیبا ۔ تمہارے کپڑے الماری میں رکھ لو ۔ تہہ کرنا تو تم سے ہوا نہیں ۔ میں نے ہی کر دیا ہے ۔۔ "امی اسے پکارتی اس کے کمرے میں آئیں تو وہ اپنے اسمارٹ فون میں منہ دیۓ بیٹھی تھی ۔
امی کی تو جان جل کر خاک ہو گئ ۔
"شیبا ۔۔"وہ چلائیں ۔
"یہ کپڑے رکھنے ہیں الماری میں ۔۔۔جلدی سے الماری کھولو ۔"وہ دونوں ہاتھوں میں کپڑوں کا ڈھیر جو کہ تہہ کیا ہوا تھا لے کر ٹہری تھیں ۔
"اوہ ۔ہو ۔اچھا ۔امی ابھی کھولتی ہوں ۔"وہ امی کے غصہ سے ڈر کر الماری کھول چکی تھی ۔ لیکن الماری کھولنے کی دیر تھی کہ الماری سے کپڑوں کی برسات ہونے لگی ۔
"یہ کیا ہے شیبا ۔ کبھی تو الماری میں کپڑے ڈھنگ سے جماؤ ۔ یہ دیکھو ۔کپڑے کیسے ابل رہے ہیں ۔ " امی نے ایک کھولتی ہوئ نظر شیبا پر ڈالی جو اب گرے ہوۓ کپڑوں کو جلدی جلدی الماری میں ٹھونس رہی تھی ۔
امی ۔ پتا نہیں اس الماری کو مجھ سے کیا دشمنی ہے ۔ جب دیکھو ۔غصہ سے میرا مطلب کپڑوں سے ابلتی رہتی ہے ۔ وہ اپنے پھوہڑ پن پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں جلدی جلدی کپڑوں کو الماری میں ڈھکیلتی ہوئ بولی تو امی کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا ۔
"دشمنی ۔شیبا ۔دشمنی تو شیبا تمہیں اپنے آپ سے ہے ۔ تم سگھڑ سلیقہ مند لڑکی کب بنوگی پتا نہیں ۔ میں تو بس دعا ہی کر سکتی ہوں "۔ غصہ سے بولتے بولتے آخر میں امی کا لہجہ ما یوس سا تھا ۔
ا"امی جب دعا ہی کرنا ہے تو پھر میرے لیۓ ایسے لڑکے کی دعا مانگیں ناں جو مجھے میرے پھوہڑ پن کے ساتھ قبول کرے ۔ "وہ شرارتا بولی تو امی نے پہلے الماری میں کپڑے رکھے ۔پھر سکون سے الماری کا پٹ بند کیا اور پھر پلٹ کر اس کے پاس آئیں ۔اور ایک دھموکا جڑ دیا اس کی پیٹھ پر ۔
"کیا بنے گا شیبا تیرا ۔"
"ہاۓ امی کچھ بنے نا بنے میرا مربہ تو ضرور ہی بنے گا ۔ "وہ اپنی پیٹھ کو ایک ہاتھ سے سہلاتے ہوۓ بولی تو امی اسے گھورتی باہر چلی گئیں ۔
شیبا ان کی دوسری بیٹی تھی ۔بڑی بیٹی ثوبیہ تو اتنی سگھڑ سلیقہ مند تھی کہ اس کے سارے خاندان میں چرچے ہی چرچے تھے۔ شیبا ہوئ تو وہ یہی سمجھیں کہ وہ بھی اتنی ہی سلیقہ مند ہو گی جتنی ثوبیہ ۔مگر یہ انکی بد قسمتی تھی کہ شیا سارے خاندان میں اپنے پھوہڑ پن کی وجہہ سے مشہور ہو گئ تھی ۔ وہ اب سترہواں سال پار کر چکی تھی ۔اور اب تک اسے انڈے ابالنے ،چاۓ بنانی بھی نہیں آ تی تھی ۔ باورچی خانہ میں جاکر وہ "امی ،یہ جو آٹا جیسا ہے وہ میدہ ہے کہ بیسن ،پوچھتی تو امی کا خون کھولنے لگتا ۔
اب وہ رشتہ والی سے شیبا کے رشتے کی بات کر رہی تھیں ۔ تو ثوبیہ نے کہا ۔
امی ۔آپ رشتہ تو دیکھیں ۔باقی سب وہ سیکھ جائیگی۔
اور امی سوچتیں ۔ شیبا اور کچھ سیکھ لے ۔یہ تو اس صدی میں نا ممکن سا لگ رہا ہے۔
************************************************
"شیبا ۔اے شیبا ۔۔"ثوبیا آپی اسے پکار رہی تھیں ۔وہ جو ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی ۔ان کی آواز سن کر ان کے پاس پہنچی ۔
یہ۔دیکھو امی نے تمہارے لیۓ رشتہ پسند کیا ہے اس لڑکے کی فوٹو ۔۔وہ اسے تصویر بتارہی تھیں ۔اس نے جلدی سے تصویر جھپٹ لی ۔
ایک سانولا سا لڑکا گھنی مونچھوں کے ساتھ کسی ہو ٹل کی ریلنگ پکڑے مسکرا رہا تھا ۔
"ہمم ۔دیکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہی ہے ۔"اس نے تصویر کو جانچا۔
"مگر یہ بالکل بھی سالار سکندر جیسا نہیں ہے ۔" اس کی بات پر آپی ہنسیں ۔
" وہ تمہیں افسانوں میں ملے گا ۔اوریجنل ورزن ۔یہ ڈپلیکیٹ ورزن میں ہے ۔چلے گا ۔"
"چلا لوں گی ۔ویسے بھی امی کون سا مجھے اتنا پروٹوکول دیں گی کہ "دیکھ لو ۔چلے گا کہ نہیں ۔ "وہ تو مجھے کہیں گی ۔چلانا ہی پڑے گا ورنہ میں تمہیں چلتا کر دوں گی ۔ "اس نے امی کی نقل اتاری تو آپی کا ہنستے ہنستے چہرہ لال ہو گیا ۔"ویسے موصوف کرتے کیا ہیں ۔ "اس کو ایک اور اہم کام کی بات یاد آئ۔
"امی کہہ رہی تھیں کسی ہوٹل میں کام کرتا ہے "۔آپی نے سادگی سے کہا تو وہ اچھل کر رہ گئ۔
"ہوٹل میں آپی ۔کہیں باورچی تو نہیں ۔ "
"ارے نہیں ۔ باورچی نہیں ہے ۔"
"ہیں۔ تو پھر کیا ویٹر ہے ۔"اس کا تو دم نکل گیا ۔
"کیوں فضول سوچ رہی ہو ۔ ویٹر بھی نہیں ہے ۔ "
"باورچی نہیں ویٹر بھی نہیں تو کیا واچ مین چپراسی یا پھر کلینر ہے کیا ۔ ۔اگر ان میں سے کچھ نکلا تو خودکشی کر لوں گی "۔ وہ روہانسی ہو گئ ۔
"میں پتا کرتی ہوں ۔ تب تک تم میرے لیے اچھی سی چاۓ بنا کر لاؤ۔ "آپی نے لگے ہاتھوں اسے چاۓ بنانا سکھانا چاہا ۔
"چا ۓ تو بنا دوں گی لیکن وہ پینے لائق نہیں ہوتی ۔اس لیۓ چاۓ کا ارادہ ترک کریں اور یہ ڈائجسٹ پڑھیں ۔"اس نے آپی کی طرف ڈائجسٹ بڑھائ تو آپی نے ڈائجسٹ پرے کیا ۔
"پرے رکھو اسے ۔تم کو ہی بھاتی ہے یہ ڈائجسٹ کی نقلی دنیا ۔جہاں ہیروین بھولی بھالی اور ہیرو بے انتہا خوبصورت پرسنالٹی والا ۔اور اسے وہ گاؤدی سی ہیروین پسند بھی آجاتی ہے جسے صحیح سے بات کرنا بھی نہیں آتا ۔ "آپی جس انداز میں ڈائجسٹ کی ہیرو ہیروئن پر تنقید کر رہی تھیں اس سے تو اس کے پتنگے لگ گۓ ۔
"تو آپ کو کیا لگتا ہے ہیرو کو یہ سلیقہ مند سگھڑ لڑکیاں اچھی نظر آتی ہوں گی۔ نہیں ایسی تو ہزاروں ہوتی ہیں ۔اس لیۓ وہ ایک انوکھی لڑکی پسند کرتا ہے جو۔۔۔۔"
"انڈے بھی ٹھیک سے ابال نہیں سکتی ۔"آپی نے اس کی بات کاٹی تو وہ خونخوار ہوگئ۔
"دیکھ لینا ۔میرا ہیرو مجھے ضرور قبول کر ے گا ۔"اس کے پر عزم لہجہ پر بھی آپی نے رحم نہیں کھایا ۔
آ"آہ ۔بیچارہ ۔مجھے تو اس پر ابھی سے ترس آ رہا ہے ۔"
"ہونہہ۔ بیچارہ ۔ ہوٹل والا ۔ میں امی کو کہہ دوں گی کہ اس ہوٹل والےکو ریجکٹ کر دیں ۔ "
"ارے ۔کیوں ریجکٹ کریں ہو سکتا ہے وہ باورچی ہی ہو تو تمہاری تو لا ٹری ہی نکل آئیگی نا ۔ نا پکانے کی جھنجھٹ نا کام کرنے کی ضرورت ۔مزے سے تین وقت ہو ٹل کا کھانا ملے گا پکا پکایا ۔"آپی نے اسے لالچ دیا
میں ۔کھانے کے لالچ میں ایک باورچی سے شادی کبھی نہیں کروں گی ۔ ۔ "اس کے حتمی انداز پر آپی نے اپنا قہقہہ بمشکل روکا ۔
"جلو دیکھتے ہیں ۔پہلے وہ ہوٹل والے صاحب تمہیں پسند کر لیں ۔ یہ بھی بہت بڑی بات ہے ۔ "آپی کی اس بات پر تو وہ جل کر اٹھ ہی گئ تھی
***********************************************
آج صبح سے ہی امی کی تیاریاں مشکوک لگ رہی تھیں ۔ وہ کبھی پردے بدل رہی تھیں تو کبھی کشن ۔ یہاں تک کہ جہیز کا ڈنر سٹ بھی نکال چکی تھیں جسے دیکھ کر وہ بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گئ تھی ۔ یہ وہ ڈنر سٹ تھا جو امی کی شادی پر جس طرح آیا تھا آج تک اسی طمطراق کے ساتھ شوکیس میں سجا رہتا تھا ۔مجال ہے جو کبھی خوشی غمی کے موقعہ پر بھی اسے نکالا گیا ہو ۔اسی لیۓ وہ اکثر کہتی تھی ۔
"امی ۔بھلے سے آپ کو ،ابو کو،ہم سب کو زمانے کے دھکے لگے ہوں مگر یہ واحد ڈنر سٹ ہے جسے شادی سے لیکر آج تک ایک دھکا بھی نہیں لگا ۔"
ابو کو اس کی بات اتنی پسند آئ تھی کہ انہوں نے اسے اپنے دل کی باتوں کا قانونی ترجمان کا خطاب دے دیا تھا ۔
امی نے حسب معمول ایک دھموکا اس کی پیٹھ پر لگا دیا تھا اور کہا تھا ۔"کیا بنے گا شیبا تیرا ۔"
تو آج وہ نادر ڈنر سٹ نکلا تھا تو ضرور کچھ انوکھی بات ہوگی۔
" مگر کیا "۔وہ سوچنے پر مجبور ہو گئ ۔اس کی مشکل آپی نے حل کر دی ۔
"وہ آرہے ہیں تمہیں دیکھنے۔" وہ رکیں ۔
"ہوٹل والے" ۔اپنی بات مکمل کرتی وہ ہنسنے کا فریضہ بھی انجام دے چکی تھیں ۔
"کیا ۔۔"وہ چیخی ۔
"میں نے کہا تو تھا مجھے کسی ہو ٹل والے سے شادی نہیں کرنی۔ "
"مگر لگتا ہے انہیں کرنی ہے تم جیسی پھوہڑ سے شادی ۔اسی لیۓ اپنی قسمت پھوڑنے آرہے ہیں ۔بیچارے ۔"آپی یہ کہتی جا وہ جا ۔ وہ جوابی حملہ کرنے کا سوچتی ہی رہ گئ۔
"ابھی ۔کرتی ہوںاس ہو ٹل والے کا کام پکا ۔"اس نے ٹیبل پر رکھا امی کا اسمارٹ فون لیا ۔اور وہاٹس اپ کھولا ۔
وہاں کچھ پیغامات تھے اور بایو ڈیٹا بھی بائیو ڈاٹا میں لڑکے کا ۔فون نمبر بھی درج تھا۔ ۔
اس نے اپنے فون میں اس نمبر کو سیو کیا ۔اور اپنے کمرے میں چلی آئ۔
"محترم ۔۔۔آداب ۔ دراصل میں شیبا آپ سے اپنے" من کی بات" کرنے والی ہوں ۔ سچ پوچھیں تو آپ لوگ جو آج مجھے دیکھنے آرہے ہیں تو ضرور آئیں میں منع نہیں کرو گی ۔بقول آپی کے ۔اگر قسمت پھوٹنا ہی ہے تو مجھ سے کیوں نہیں ۔
کیونکہ ۔میں نمبر ون کی پھوہڑ ہوں ۔ مجھ سے چاۓ تو کبھی بنی نہیں ۔یا تو وہ جل جاتی ہے یا میں ۔کچن میں جاتی ہوں تو اکثر پیر کانپنے لگتے ہیں ۔کسی چیز کی سمجھ نہیں آتی ۔عجیب عجیب چیزیں جو ہوتی ہیں کچن میں ۔
اب اس زیرہ ہی کو لیں ۔ایک زیرہ کافی نہیں تھا کہ اسے شاہ زیرہ بھی بنا ڈالا ۔ بر صغیر میں تفریق بہت ہے ہر چیز میں ۔ایک غریب زیرہ تو ایک شاہ ۔واہ ۔۔۔
اور ایک آٹا ہو تا ہے جو کبھی کارن فلور تو کبھی میدہ ۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ان دونوں کو ایک جیسا رکھ کر مجھے کیوں سزا دی جاتی ہے ۔ میں کبھی کارن فلور کے بسکٹ بنا دیتی ہوں تو کبھی میدہ سے مچھلی تل لیتی ہوں ۔عجب ہی گورکھ دھندہ ہے ۔ہے ناں ۔
دالوں کو دیکھ کر تو دل انہیں کچا چبانے کو چاہتا ہے کیا ضرورت تھی کہ وہ دال بن کر آتیں ۔گوشت بن کر آتیں تو کھانے میں مزہ تو آتا ۔
خیر ۔میری ان سب باتوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ آپ یہاں تشریف نا لائیں ۔آپ کو از حد مایوسی ہوگی۔
ہاں اگر پکا ارادہ کر ہی لیا ہے تو آتے ہوۓ رس گلے ضرور لائیں ۔کہ مجھے بہت پسند ہیں ۔ اور اس کی ایک ہی شرط ہے کہ رس گلے ہوں اور ڈھیر سارے ہوں ۔ خیر ۔ اب بس ۔۔۔
۔ورنہ امی آجائیں گی اور ایک دھموکا پیٹھ پر جڑ کر کہیں گی۔
"کیا بنے گا شیبا تیرا "
اس لیۓ خدا حافظ ۔
آس نے جلدی جلدی ٹائپ کیا ۔سنڈ کیا اور باہر آگئ۔
امی کی صفائ بھی آخری مرحلے میں تھی ۔وہ اب طائرانہ نظر دالان پر ڈال رہی تھیں کہ ان کی وہ طائرانہ نظر اس پر پڑ گئ۔
"رکو ۔یہ تم کیا لے جاری ہو ۔ کچن سے ۔ "مشکوک سے انداز پر چونک کر اسے دیکھنے لگیں ۔
"کہیں ۔سموسے تو نہیں لیۓ ۔وہ میں نے مہمانوں کے لیے رکھے تھے ۔ "
"اففوہ امی ۔مجھے سموسے کھانے میں دلچسپی ہے بھی نہیں ۔ میں تو رس گلے کھاؤں گی رس گلے۔ "
"ہاں ۔ہاں رس گلے تو پسند ہیں تمہیں مگر بنانے کب آئیں گے ۔"امی نے لگے ہاتھوں اسے لتاڑ کر اپنا کوٹہ پورا کرنا چاہا ۔
"بناۓ تو تھے ایک بار ۔جب دودھ پھٹا تھا ۔ "اس نے امی کو یاد دلایا ۔
" ہاں وہ رس گلے جو کڑھائ میں جا کر پھر سے پنیر بن گۓ تھے ۔ "امی کو جانے کیا کیا یاد آ گیا تھا ۔
"جی وہ رس گلے جو شادی کے لڈو کی طرح کڑھائ میں جا کر پھوٹے تھے ۔"
بس ۔اب یہ رس گلہ نامہ بند کرو اور جا کر ذرا ڈھنگ کے کپڑے پہن لو ۔ "انہوں نے اسے حکم دیا اور خود کچن میں چلی گئیں ۔
******************************************* **
وہ جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئ تو کچھ نروس تھی۔ آپی نے اسے میک اپ کر کہ شیبا سے" ملکہ شیبا"بنا دیا تھا۔انار کلی کے سرخ لانگ فراک پہنے وہ نظریں جھکاۓ بیٹھ گئ تھی۔ ۔" "ماشاءاللہ بہن۔یہ تو کافی خوبصورت سی ہیں "انخواتین میں سے ایک نے راۓ زنی کی۔
اس بات پر جہاں وہ اترائ ۔امی "جی بس شکل ہی اچھی ہے ۔"والے انداز میں مسکرا کر رہ گئیں۔
"کہاں تک پڑھا ہے آپ نے "ایک اور خاتون نے سوال کیا
"میں گریجویشنکے فرسٹ ائر میں ہوں ۔ "اس نے نظریں جھکا کر ہی کہا ۔۔
"اچھا ۔کچھ پکانا وغیرہ جانتی ہو ۔ "پہلی والی خاتون نے سوال کیا ۔ اور اس کی حالت ایسی ہو گئ جیسے امتحان میں وہ سوال آگیا ہو ۔جس کا جواب اسے پتا نہیں ۔
"امی ۔آپ مٹھائ دیں ناں آنٹی کو ۔ "ایک مردانہ آواز پر وہ چونک گئ ۔
"ہاں ہاں ۔میںتوبھول ہی گئ ۔یہ لیجیے بہن ۔"اس خاتون نے امی کو مٹھائ کا ڈبا پیش کیا تو امی نے اسے تھام لیا ۔
شیبا کا اٹکا سانس بحال ہوا تھا ۔
امی نے ڈبہ کھولا تو رس گلے دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں ۔
ا" اسے رس گلے پسند ہیں یہ ان لوگوں کو کیسے پتا چلا ۔" وہ سوچ میں پڑ گئیں۔
امی نے رس گلے کا ڈبہ ٹیبل پر رکھا تو شیبا کی نظر بھی اس پر پڑ گئ۔
"ہائیں رس گلے ۔۔۔اس بندے نے کچھ زیادہ ہی سیریس نہیں لیا ۔"وہ رس گلوں کو گھورتی سوچ رہی تھی ۔
"اچھا بہن ۔ہم اب چلتے ہیں "وہ سب کھڑی ہوئیں تو شیبا بھی اپنے کمرے میں آ گئ تھی ۔ تبھی اسکے فون پر نوٹی فیکیشن آئ ۔اس نے کھولا ۔
محترمہ شیبا ۔من کی بات تو آمنے سامنے بیٹھ کر کرتے ہیں ۔آپ نے فون پر ٹرخا دیا ۔کوئ بات نہیں آگے کئ مواقع آئیں گے ۔من کی بات کرنے کے۔
اگر آپ چاۓ نہیں بنا سکتیں تو کوئ بات نہیں ۔مجھے کونسی چاۓ کی ہو ٹل کھولنی ہے ۔ انڈے ابالنا بھی کوئ کا م ہے جسے نا آنے پر آپ پریشان ہیں ۔ ہاں آٹے میں آپ یہ بتا نہیں پاتیں کہ میدہ کونسا اور کارن فلور کونسا تو مجھے یہ پوچھنا تھا کہ کارن فلور کے بسکٹ ذائقہ میں کیسے ہو تے ہیں ۔ میں ضرور اپنے ہو ٹل میں ٹرائ کروں گا ۔
آآپ کی سادگی اچھی لگی ۔ان تمام بناوٹی لڑکیوں سے ہٹ کر جو پھوہڑ ہو کر بھی اپنے آپ کو سلیقہ مند بتانے کی کوشش میں مصروف رہتی ہیں ۔ اور ہوٹل سے بریانی منگوا کر خود کو بریانی ایکسپرٹ بتاتی ہیں ۔ اس لیۓ جب مقدر آزمانا ہی ہے تو پھر تیرا آستانہ کیوں نہیں ۔
رس گلے حاضر ہیں ۔آپ پہلی لڑکی ہیں جو رس گلے پر راضی ہو رہی ہے۔ یہ رس گلے ہمارے ہو ٹل میں ملتے ہیں آپ آرڈر کر سکتی ہیں ۔ (ہائیں ۔یہ تو یہاں بھی بزنس لے کر بیٹھ گیا ۔) اس کا پڑھتے پڑھتے منہ بن گیا تھا ۔
ویسے شادی کے لیۓ چھ مہینے کا ٹائم ہے ۔آپ پکوان ضرور سیکھیں ۔کیونکہ ہوٹل میں کام ضرور کرتا ہوں مگر کھاتا گھر کا ہی ہوں ۔ شعیب محمد ایم بی اے ۔ ہوٹل مینیجر
"اف ۔"شیبا نے پڑھا تو اس کا چہرہ ہی سرخ ہو گیا ۔اس نے فون رکھ دیا ۔
************************************************
شام میں امی ابو کو سنا رہی تھیں ۔
"آپ کی نالائق بیٹی کو پسند کر لیا ہے انہوں نے ۔ "اگلے چھ مہینے میں شادی رکھیں گے۔ "
"یہ تو اچھی بات ہے ۔مگریہ نا لائق کیا ہو تا ہے ۔ وہ ذہین ہے پکوان بھی سیکھ جائیگی۔ کوئ مشکل بات تو نہیں ۔ "ابو کھانا کھاتے اس کی طرفداری میں بولنے لگے ۔
"جی ۔میںنے شروعات کر دی ہے ۔ انڈے ابالنے کے لیۓ کہے تھے اسے ۔"امی نے جواب دیا ۔
"شیبا ۔انڈے ابالنے رکھے تھے ۔ابلے کہ نہیں ۔ "ان کی چیخ کر پوچھنے کی دیر تھی ۔کچن سے ایک زوردار دھماکہ کی آواز آئ ۔
"کیا ہوا ۔۔امی فوراً کچن کی جانب بھاگیں تو دیکھا انڈے تیز آنچ پر ابل ابل کر ایک دھماکے سے پھٹ چکے تھے اور پورے کچن میں ریزہ ریزہ بکھر گۓ تھے ۔
"امی ۔آپ نے ہی کہا تھا کہ دیر تک ابالنا ۔"وہ اپنے بالوں میں سے انڈے کا چھلکا کھینچ کر نکالتی بولی۔
ہاں ۔مگر اتنی دیر تک تھوڑی کہا تھا کہ پانی ہی سوکھ جاۓ۔ "وہ اسے قہر برساتی نظروں سے دیکھ کر بو لیں ۔
"اس سے پہلے جب جلدی نکال دیۓ تو آپ نے ہی کہا تھا کچے رہ گۓ۔ "
"ہاں تو اتنے کچے رہ گۓ تھے کہ چھلکا ہی نہیں اتر رہا تھا ۔""اور اب ۔۔۔۔"وہ اطراف میں بکھرے انڈے دیکھ کر سر تھام کر رہ گئیں تھیں ۔
"۔کیا بنے گا شیبا تیرا ۔""۔
ختم شد
"
"
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں