اشاعتیں

دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔یہاں الو بولتے ہیں

 دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔یہاں الو بولتے ہیں  بیل بجتی رہی ۔رونے کی آواز آتی رہی ۔ اسکے بعد ایک سناٹا ۔۔۔ سناٹا ایسا کہ سانس  بھی رک گئ تھی۔ ۔  وہ زور زور سے سانس لینے بھی ڈرنے لگے ۔ کچھ دیر ہوئ اور ڈیرک نے آہستگی سے دروازہ دھکیلا ۔ مہیب سناٹے میں دروازہ دھکیلنے کی آواز سے دل کانپنے لگے ۔ ڈیرک اندر قدم رکھ چکا تھا ۔ وہ تینوں اسکے پیچھے ہی تھے ۔۔یہاں سناٹے کے ساتھ ساتھ ایک گہری تاریکی نے ان کا استقبال کیا تھا ۔  اتنی صبح ہونے کے باوجود یہاں رات کا سماں تھا ۔ تااریکی میں انہیں ایک دوسرے کے چہرے بھی نظر نہیں آ رہے تھے ۔  یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے ۔ ہنری کی ڈری ڈری آواز آئ ۔  کیونکہ یہ ایک ڈارک ہاؤس ہے ۔ یہاں چوبیس گھنٹے اندھیرا ہوتا ہے ۔ اس گھر کو روشنی سے نفرت ہے ۔ آپ کو  اس اندھیرے کے ساتھ ہی رہنا ہے ۔‌ہاں ۔کبھی کبھی آپ  موم بتی جلا سکتے ہیں ۔‌اپنے لیۓ ۔وہ ہنری کی طرف پلٹا تھا اور ہنری اسے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا تھا ۔   اس تاریکی میں اسکی آنکھیں بلی کی طرح چمک رہی تھیں ۔‌ مسٹر جارج۔ وہ اب جارج کو دیکھ رہا تھا ۔ اور  ان تینوں کو حیر...

ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔موت کے در پر دستک

 وہ تینوں نیو یارک شہر کے ایک پارک میں کھڑے تھے ۔ ۔ جارج ،پال اور ہنری ۔۔۔ جارج سنڈے اخبار پکڑے اشتہارات دیکھ رہا تھا  اسکی نظر ایک عجیب و غریب اشتہار پر پڑی ۔ اور وہ چونک کر اس اشتہار کو دوبارہ پڑھنے لگا ۔پڑھتے ہوے اسکی آنکھیں چمکنے لگیں ۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم فیوچر میں کیا کر رہے ہو گے ۔  اس نے اچانک اپنے قریب بیٹھے پال کو پوچھا ۔  میں ضرور روزانہ کی  بنیاد پر   کام کرنے والا ایک مزدور ہوں گا ۔ وہ مایوسی سے بولا ۔‌ اور تم ۔۔۔اب اس نے ہنری کی جانب نظر کی تھی ۔ میں ۔یار میں فیوچر میں اپنی نناویں گرل فرینڈ کے چھوڑنے کا غم منارہا ہو گا ۔ اس نے ایک پتھر کھینچ کر پھینکا تھا ۔ اور تو ۔۔۔تو کیا کرے گا ۔ وہ دونوں اب اسے دیکھ رہے تھے ۔  میں‌۔۔۔اس کی آنکھیں پراسرار سی ہو گئیں ۔  میں ون ملین ڈالر کو دو ملین ڈالرز  کیسے بناتے ہیں  سوچ رہا ہوں گا ۔‌ کیا ۔۔۔وہ دونوں اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پاگل ہو  بتاتا ہوں ۔اب میرے ساتھ چلو ۔ اس نے وہ اخبار اٹھایا اور ان دونوں کو لیۓاٹھا ۔‌ جارج ایک تیس پینتیس کی عمر کا  ایک نڈر بہادر مرد...
شہر کہانی کا  میرا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے تو میں اسکے متعلق ہی کچھ لکھوں گی۔  حیدرآبادشہر کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے کہ یہاں کے بادشاہ قلی قطب شاہ کو بھا گ متی نام کی خاتون سے محبت ہو ئ تھی ۔اور اسی وجہہ سے اس نے یہ شہر بسا یا تھا ۔اور دعا کی تھی  اس شہر کو لوگوں سے معمور کر  وہ دعا اس قدر مقبولیت حاصل کر چکی ہے کہ اس شہر میں ہندوستان کے تقریباً ہر ریاست کے لوگ بستے ہیں ۔ بنگالی گجراتی کشمیری۔آسامی اور غیر ملکی جیسے بنگلہ دیشی،نائجریائ وغیرہ  ،انکے اپنے کاروبار ہیں اور وہ سب اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہو ۓ بڑے ہی رودارانہ انداز میں رہتے ہیں ۔  اش شہر کے کیا کہنے ۔یہاں‌ہر سال نمایش لگتی ہے ۔ جو کہ بین الاقوامی طور پر مقبول ہے۔ اس میں بھی پورے ہندوستان سے اور اب تو پاکستان سے بھی لوگ یہاں اپنے کپڑوں کے اسٹالز وغیرہ لگاتے ہیں ۔ یہ نمایش ہر سال جنوری کو لگتی ہے اور تقریباً دیڑھ مہینہ چلتی ہے ۔  یہ شہر خوابوں کا شہر ہے ۔ یہ شہر ادب کا قدرداں ہے یہاں  ۔ دکنی زبان چلتی ہے۔ جسکی اپنی مٹھاس ہے ۔ اور ہم سب اس سے بچے ہوۓ نہیں ہیں ۔‌ ہم جو بھی لکھیں لیکن...

تیرے لیۓ ۔۔قسط 15 ۔۔آخری قسط

 تیرے لیۓ۔۔ وہ جب گھر میں داخل ہوا تو رحیمہ سر پر دوپٹہ لیۓ پری اور دونوں بچیوں کو لیۓ کچھ دینی اذکار پڑھ رہی تھی ۔ پڑھتے پڑھتے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر میں صاف کرتی جا رہی تھی ۔  وہ اوپر سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔‌ رحیمہ نے اسے دیکھا تو اس کے پیچھے پیچھے اوپر چلی آئ۔ "کیسی ہیں باجی ۔ ہو ش آ یا انہیں" ۔  بے تابی اس کے لہجے سے ہویدا تھی ۔  فوزان کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا ۔ بالکل ساکت ۔ باہر دیکھتے ہوۓ ۔اور کچھ نا دیکھنے کی کیفیت میں ۔ آ"آپ بتاتے کیوں نہیں ۔ کیسی ہیں وہ "۔‌اس کی آواز بھرا گئ ۔تھی ۔   "آج دو دن ہو گۓ تھے ۔اریشہ کو ہو ش نہیں آیا تھا ۔ڈاکٹرز اپنی کوشش میں لگے تھے۔ ا"ابھی تک نہیں آیا اسے ہوش۔ وہ  رسپانڈ نہیں کر رہی ۔" اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہو ئ تھی ۔ رحیمہ کے دل کو جیسے کسی نے زور سے مسل دیا ۔  وہ بے آواز رونے لگی ۔ "مجھے معاف کر دیں فوزان ۔ مجھے معاف کر دیں ۔" اس کی ہچکی بندھ گئ تھی ۔  "میں نے باجی کا خیال نہیں رکھا "۔ وہ روتے روتے بولتی جا رہی تھی ۔ "میں نے ان کے ساتھ اچھ...

تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 14completed

  تین  مہینے گذر گۓ  اور اریشہ کے لیۓ ایک ایک لمحہ کاٹنا مشکل لگ رہا تھا ۔‌آپی ہر مہینہ اسے ہاسپٹل لے جا رہی تھیں ۔‌ فوزان کے روز فون آتے ۔‌ وہ اسے ہدایتیں دیتے رہتا ۔ وہ سب سنتی اور جہاں تک ہو سکے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ۔  اریشہ کو دیکھ کر ایک نفرت کا احسا  س تھا جو رحیمہ  پر حاوی ہوتا جا رہا تھا ۔  اریشہ اسے دیکھ کر مایوس ہو تی ۔ اس نے رحیمہ کو ہمیشہ بہن کی طرح مانا تھا ۔ لیکن پھر کہاں اس سے بھول ہو گئ جو رحیمہ اس سے نفرت کر رہی تھی ۔ یہ سب سو چ کر اس کے  دل میں  درد محسوس ہو تا ۔ وہ فطرتاً بہت نرم اور حساس تھی اسے یہ بات کھاۓ جا رہی تھی کہ رحیمہ  نے اس پر الزام لگا یا تھا کہ  اس نے  اسے اپنے  مقصد کے لیۓ استعمال کیا ۔  "میں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا ۔پروردگار" ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔ وہ بہت دیر تک روتی رہی ۔ "نہیں رحیمہ ۔ میں تمہارے ساتھ کوئ زیادتی ہونے نہیں دوں گی ۔ میں تم لوگوں کے بیچ نہیں آؤں گی "۔ اس نے جیسے ایک فیصلہ لے لیا تھا ۔اس سے آگے وہ کچھ سوچتی  وہ ایک شدید درد سے دوچار ہوئ۔ ایک چیخ ت...

تیرے لیۓ ۔۔قسط 13completed

  "رحیمہ ۔رحیمہ تم نے سنا ۔۔۔۔میں میں ۔۔۔ماں" وہ بول بھی نا پائ تھی۔اس نے سیدھا رحیمہ کے قریب لیٹے بچی کو اٹھا لیا تھا ۔ اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا ۔  "میں بانجھ نہیں ہوں ۔ نہیں ہوں ۔" وہ روتے روتے اسی کو بول رہی تھی جس نے اسے بانجھ ہونے کے طعنے دے دے کر اس کا جگر چھلنی کر دیا تھا ۔ "لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔باجی ۔" ۔۔اس کو یہ خبر ہضم کرنی مشکل ہو رہی تھی ۔  "مجھے بھی نہیں پتا "۔ اس نے بچی کو واپس لٹا دیا تھا ۔ "خیر مبارک باجی ۔۔"۔ اس کے حلق سے بڑی مشکل سے آواز نکلی تھی ۔ "شکریہ ۔میں ذرا باہر دیکھتی ہوں "۔ وہ باہر چلی گئ ۔تو رحیمہ کو لگا اس کے دل میں یہاں سے وہاں تک آگ لگی ہو ۔  "کیوں ۔کیوں ۔ خدا یا ۔کیوں ۔ یہ ایک ہی تو بازی تھی جس میں میری جیت تھی۔ وہ بھی میرے ہاتھ سے نکل گئ"۔ وہ سوچ سوچ کر سلگ رہی تھی ۔ اسی بات پر تو وہ اتراتی تھی کہ وہ فوزان کے بچوں کی ماں ہے ۔ کوئ اس معاملہ میں اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ مگر اس خبر نے اسے بہت  زیادہ دھچکا پہنچا یا تھا ۔ اس کے ہاتھوں‌سے جیسے یہ بازی نکلتی جا رہی تھی ۔ ...

گاؤں کے گھر

 گاؤں کا گھر گاؤں اور گاوں کے گھر اور لوگوں کے بارے میں ہماری معلومات بہت ناقص تھیں ۔ لیکن شادی کے بعد ایک بار اتفاق سےایک ہفتہ کے لیے گاوں  جانا پڑ گیا ۔جانے سے پہلے ہی شوہر صاحب نے ڈرا دیا کہ۔ کام والی نہیں ہو تی ۔ کپڑے برتن خود دھونے پڑیں گے ۔  ٹھیک ہے ۔ دھو دیں گے ۔ ہم ڈرتے ہیں کیا ۔ ہم نے اپنے آپ کو تسلی دی ۔ گاؤں پہنچے اور ہماری چچی ساس کے  گھرمیں ہم نے قدم رکھا ۔ اتنا بڑا گھر ۔۔۔ہم حیرانی سے نظریں دوڑانے لگے ۔  بڑے بڑے کمرے اور آنگن در آنگن ۔۔۔۔آنگن تو اتنا بڑا تھا کہ شہر کا ایک گھر آرام سے بن جاۓ۔  دوسری صبح ہم نے ایک کمرے کو جھاڑو لگائ ۔اور  ایک بار جھاڑا ہے دوسری بار جھاڑنے کی ہمت نہیں ۔ کہتے جھاڑو ہی پھینک دی۔ اب سوچا باورچی خانہ میں اپنے خیالی جھنڈے لہرا لیں گے ۔یہ سو چکر اندر جھانکا تو دن میں تارے نظر آۓ ۔  وہاں گیس کا چولہا ہی ندارد ۔ لکڑی کا چولہا ہماری ہمت کو چیلنج کرتا نظر آ رہا تھا ۔ ہم نے وہاں سے بھی چپکے سے کھسک لینے میں ہی عافیت سمجھی۔  آخر ہم اور ہماری ایک چھوٹی نند نے برتن اور کپڑوں کا چارج لے لیا ۔ چونکہ کام زیادہ تھا ...