شہر کہانی کا 

میرا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے تو میں اسکے متعلق ہی کچھ لکھوں گی۔ 

حیدرآبادشہر کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے کہ یہاں کے بادشاہ قلی قطب شاہ کو بھا گ متی نام کی خاتون سے محبت ہو ئ تھی ۔اور اسی وجہہ سے اس نے یہ شہر بسا یا تھا ۔اور دعا کی تھی 

اس شہر کو لوگوں سے معمور کر 

وہ دعا اس قدر مقبولیت حاصل کر چکی ہے کہ اس شہر میں ہندوستان کے تقریباً ہر ریاست کے لوگ بستے ہیں ۔ بنگالی گجراتی کشمیری۔آسامی اور غیر ملکی جیسے بنگلہ دیشی،نائجریائ وغیرہ  ،انکے اپنے کاروبار ہیں اور وہ سب اپنے اپنے مذہب پر عمل کرتے ہو ۓ بڑے ہی رودارانہ انداز میں رہتے ہیں ۔ 

اش شہر کے کیا کہنے ۔یہاں‌ہر سال نمایش لگتی ہے ۔ جو کہ بین الاقوامی طور پر مقبول ہے۔ اس میں بھی پورے ہندوستان سے اور اب تو پاکستان سے بھی لوگ یہاں اپنے کپڑوں کے اسٹالز وغیرہ لگاتے ہیں ۔ یہ نمایش ہر سال جنوری کو لگتی ہے اور تقریباً دیڑھ مہینہ چلتی ہے ۔ 

یہ شہر خوابوں کا شہر ہے ۔ یہ شہر ادب کا قدرداں ہے

یہاں  ۔ دکنی زبان چلتی ہے۔ جسکی اپنی مٹھاس ہے ۔ اور ہم سب اس سے بچے ہوۓ نہیں ہیں ۔‌

ہم جو بھی لکھیں لیکن بولتے  دکنی ہی ہیں ۔ 

یہاں کے ذایفہ دار پکوان عالمی شہرت کے حامل ہیں ۔جس میں حیدرآبادی بریانی ۔حلیم (پستہ ہاوز) کی ۔بے چد مقبول ہیں ۔

حیدرآباد کو لوگ چار مینار سےبھی یاد رکھتے ہیں ۔ یہاں آپ کو ایک رونق محسوس ہوگی ۔اور ایسا لگتا ہے کہ یہاں رات نہیں ہوتی ۔ رمضان میں چار مینار کو جائیں تو بس آپ سب بھول جاییں گے ۔ یہاں خواتین بعد افطار شاپنگ کو‌نکلتی ہیں اور سحر کو واپس آتی ہیں ۔‌

بہت سی باتیں ہیں اس شہر کی ۔بہت کہانیاں ہیں اس شہر کی کبھی فرصت ہوئ تو بتائیں گے ۔

خدا حافظ ۔




 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ