تیرے لیۓ ۔۔قسط 13completed

 

"رحیمہ ۔رحیمہ تم نے سنا ۔۔۔۔میں میں ۔۔۔ماں" وہ بول بھی نا پائ تھی۔اس نے سیدھا رحیمہ کے قریب لیٹے بچی کو اٹھا لیا تھا ۔ اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا ۔ 

"میں بانجھ نہیں ہوں ۔ نہیں ہوں ۔" وہ روتے روتے اسی کو بول رہی تھی جس نے اسے بانجھ ہونے کے طعنے دے دے کر اس کا جگر چھلنی کر دیا تھا ۔

"لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔باجی ۔" ۔۔اس کو یہ خبر ہضم کرنی مشکل ہو رہی تھی ۔ 

"مجھے بھی نہیں پتا "۔ اس نے بچی کو واپس لٹا دیا تھا ۔

"خیر مبارک باجی ۔۔"۔ اس کے حلق سے بڑی مشکل سے آواز نکلی تھی ۔

"شکریہ ۔میں ذرا باہر دیکھتی ہوں "۔ وہ باہر چلی گئ ۔تو رحیمہ کو لگا اس کے دل میں یہاں سے وہاں تک آگ لگی ہو ۔ 

"کیوں ۔کیوں ۔ خدا یا ۔کیوں ۔ یہ ایک ہی تو بازی تھی جس میں میری جیت تھی۔ وہ بھی میرے ہاتھ سے نکل گئ"۔ وہ سوچ سوچ کر سلگ رہی تھی ۔

اسی بات پر تو وہ اتراتی تھی کہ وہ فوزان کے بچوں کی ماں ہے ۔ کوئ اس معاملہ میں اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ مگر اس خبر نے اسے بہت  زیادہ دھچکا پہنچا یا تھا ۔ اس کے ہاتھوں‌سے جیسے یہ بازی نکلتی جا رہی تھی ۔ 

اس نے پورے پانچ سال اریشہ کو ایک ذہنی اذیت سے دوچار کیا تھا ۔اور اب اپنے انجام سے وہ خوفزدہ تھی۔

کچھ ہی دیر میں ہاسپٹل میں آپی ۔رعنا اور فوزان کے دونوں بھائ بھی آگۓ تھے ۔ 

ا"اریشہ ۔۔"۔ آپی نے اسے پکارا اور آ کر گلے لگ گئیں۔ 

"بہت بہت مبارک باد "۔‌رعنا نے بھی اسے گلے لگا کر مبارک باد دی۔

وہ سب کی محبتوں پر بھیگ بھیگ گئ تھی ۔ 

"فوزان ۔ اب تم اریشہ کو لیکر گھر چلے جاؤ۔ رحیمہ کے ڈسچارج تک میں یہیں رہوں گی"۔ آپی اسے ہدایت دینے لگی تھیں ۔ 

رحیمہ سب کے جوش و خروش پر جل کر رہ گئ تھی ۔ 

وہ بھی تو ماں بنی تھی ۔ مگر اس کے وقت نا فوزان نے اتنا جوش دکھا یا تھا نا اس کے رشتہ داروں نے ۔ اور اب دیکھو ۔۔۔۔وہ انہیں  دیکھ دیکھ کر کلس رہی تھی ۔ مگر اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اریشہ  سب کے ساتھ بہت محبت سے رہی تھی ۔ اور سب لوگ اس کے اخلاق کی  وجہہ سے  اسے عزت دیا کرتے تھے ۔ 

اریشہ اور فوزان گھر آگۓ تھے ۔اریشہ سیدھے امی کے پاس چلی گئ تھی اور انکے گلے لگے رونے لگی تھی ۔ 

"میری بچی۔اریشہ ۔۔"۔انہوں نے اس کی پیشانی چومی ۔انہیں فوزان بتا چکا تھا ۔‌

"تمہارا صبر کام آ گیا ۔ میری بچی "۔ وہ اس کے سر کو ہلکے تھپک رہی تھیں ۔ 

"اریشہ ۔اب تم آرام کرو ۔ چلو ۔اٹھو "۔‌فوزان نے اسے اٹھنے کا اشارہ دیا ۔

"ہاں بچی جاؤ۔ اپنی صحت کا خیال رکھو ۔ "انہوں نے بھی اسے جانے کا کہا تو وہ اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئ ۔

"دودھ گرم کر کے لاتا ہوں ۔تمہارے لیۓ ۔" وہ واپس کچن میں جا نے لگا تو اس نے روک دیا ۔

ا"ابھی کچھ نہیں ۔ تھوڑی دیر سے پیوں گی ۔" 

"اوکے۔ "وہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔ پھر کچھ دیر ہوئ تو اٹھ گیا ۔

"اب لا دوں ۔ "

"نہیں ۔" اس نے وقت دیکھا ۔پانچ منٹ بھی نا ہو ۓ تھے ۔ 

ا"اوکے ۔ "وہ پھر بیٹھ گیا ۔‌ دو منٹ بعد   وہ پھر پوچھ رہا تھا ۔

ا"اب لا دوں" ۔ 

اریشہ کو ہنسی آ گئ۔ 

"فوزان ۔آپ  پہلی بار تو باپ  نہیں بن رہے "۔ اس کی ہنسی روکے نا رک رہی تھی ۔ 

"بے شک۔لیکن تم ماں پہلی بار ہی  ‌بن رہی ہو "۔ وہ اس کی طرف یوں‌دیکھ رہا تھا ۔ جیسے وہ اس کی پوری دنیا ہو ۔ 

ا"اچھا ۔ اب آپ جائیں ۔ میں خود دودھ لے کر پی لوں گی ۔ خوامخواہ پریشان ہوۓ جا رہے ہیں "۔ اس نے اسے اٹھا یا ۔

ا"اچھا ۔ مارکٹ جا رہا ہوں ۔ تمہارا دل اگر کھٹا کھانے کو چاہ رہا ہے تو ۔۔۔"۔اس نے شرارت سے بات  ادھوری چھوڑی تھی ۔ کیونکہ اریشہ اسے تنبیہی انداز میں دروازہ کی سمت اشارہ کر رہی تھی ۔ 

وہ ہنستا باہر چلا گیا تو اریشہ نے بھی مسکراتے ہوۓ آنکھیں بند کی تھیں ۔ 

****************

رحیمہ بھی گھر آگئ تھی ۔ اس کے ساتھ آپی بھی تھیں ۔‌اریشہ کو یوں تو ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ والی بات نہیں کی تھی ۔ لیکن گھر میں  اسے زیادہ کام کرنے بھی نہیں دے رہے تھے ۔  ۔

اریشہ نے میٹرنٹی لیو  لے  لی تھی اور وہ اب گھر پر ہی تھی ۔

رحیمہ کا بس نہیں چل رہا تھا  ورنہ اریشہ کے وجود کو تہس  نہس کردیتی ۔ 

فوزان واپس جا رہا تھا ۔اور اسے لگ رہا تھا وہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر جا رہا ہے ۔ 

اس نے رحیمہ کو اریشہ کا خیال رکھنے کا کہا ۔

"میں کیسے ان کا دھیان  رکھ  سکتی ہوں ۔ میرے تو ابھی اپنے ٹانکے کچے ہیں. " اسکی بے زاری سے کہے جملے سے فوزان سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذمہ کچھ لینا نہیں چاہ رہی ۔

"تم  ۔"۔وہ بتانا چاہتا تھا کہ کیسے اریشہ نے اس کی پریگننسی میں اس کے لیۓ محنت کی تھی ۔ دن رات اس نے ایک کر دیۓ تھے ۔اور وہ۔۔۔لیکن وہ کچھ بھی نا کہہ سکا ۔

ا"اریشہ ۔۔"۔وہ اریشہ کے پاس آیا تھا ۔‌

"میں کل جا رہا ہوں‌اپنا خیال رکھنا "۔  اسے دیکھ کر وہ مسکرایا تھا ۔

"جی ۔ میں خیال رکھوں گی۔ ویسے بھی آپی آتی رہیں گی۔ اور سب تو ہیں ۔۔۔آپ بالکل بھی پریشان نا ہوں "۔

ا"اگر میرے بس میں ہوتا تو اس نوکری کو لات مار دیتا "۔ اس کے عزائم سن کر وہ ہنسنے لگی تھی ۔

"جائیں فوزان ۔ کیوں اوور ریاکٹ کر رہے ہیں "۔

"رئییلی ۔ تمہیں ایسا لگ رہا ہے ۔ میں جو تمہارے لیۓ اتنا فکر مند ہوں ۔ وہ اوور ریایکٹ ہے" ۔وہ اسے گھورنے لگا تو اس نے چہرے کا رخ دوسری جانب کر لیا ۔

"اچھا جا کر فون ضرور کریں ۔"

ا"اوکے خدا حافظ ۔‌"   وہ اس کے ماتھے  پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا جا چکا تھا ۔

************


"پری .افرحہ ادھر آؤ ۔" اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو بلایا تھا ۔وہ اس کے قریب آگئی تھیں ۔

"میں جا  رہا ہوں‌۔تو آپ لوگ بڑی مما کا خیال رکھنا ۔انہیں بالکل بھی ستانا مت ۔ اور چھوٹے چھوٹے کام خود کر لینا ۔ ٹھیک ہے "۔ وہ انہیں سمجھا رہا تھا 

"جی پاپا "۔ ان دونوں نے سر ہلایا ۔تو وہ انہیں پیار کرکے اپنی چھوٹی اربیہ کے پاس آیا تھا ۔

ااسے گود میں لے کر وہ بہت جذباتی ہوا ۔اس کے لیۓ ان دونوں کے دل میں بہت زیادہ پیار تھا کیونکہ اس کی آمد کے بعد ہی  انہیں اللہ نے خوشی دی تھی ۔

"بچی کا خیال رکھنا رحیمہ ۔ وہ بیڈ پر اسے لٹاتا ہو ا بو لا ۔اور اپنا بھی ۔۔۔"وہ اس پر ایک نظر ڈالتا چلا گیا تھا ۔ رحیمہ نے کوئ جواب نہیں دیا تھا ۔


***********


اریشہ اپنے آپ ہی ہر چیز کا خیال رکھ رہی تھی۔ وہ کسی پر بھی بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی تھی ۔رحیمہ کے رویۓ میں کچھ فرق نہیں آ یا تھا ۔ وہ ہنوز طعنوں سے اس کا دل زخمی کرتی رہتی تھی۔ 

اریشہ کے لیۓ اب یہ سب معمول کی بات تھی ۔اس کی باتوں کا وہ اثر نہیں لینا چاہتی تھی لیکن بحیثیت ایک حساس انسان کے اس کا دل دکھتا تھا ۔ 

آج بھی رحیمہ اس پر چلارہی  تھی ۔

"آپ نے مجھے استعمال کیا اپنے مقصد کے لیۓ ۔‌"

"رحیمہ ۔ہم نے تمہارے ساتھ کوئ زیادتی نہیں کی ہے ۔" وہ تحمل سے  کہہ رہی تھی۔

"اونہہ۔ آپ کو اولاد مل گئ۔ فوزان کو دو بیویاں مل گیئں ۔ اور مجھے کیا۔  ۔۔ میں ایک خادمہ بن کر رہ گئ۔ "

"ایسا کیوں سوچتی ہو تم ۔" اس کے لہجے میں ہنوز دکھ تھا ۔

"کیوں نا سو چوں ۔آپ کے پاس تو سب ہے. شوہر‌آپکے گرد لٹو بنا پھرتا ہے ۔بچوں کو  آپ کے سوا کوئ نظر نہیں آتا ۔ اور رہے رشتہ دار تو انہیں تو میں ہمیشہ دوسری ہی نظر آئ ۔ وہ پہلے آپ کو پوچھتی ہیں آپ سے بات کرتی ہیں ۔ اور اس کے بعد مجھ سے ۔‌"

"وہ سب بہت محبت کرتے ہیں تم سے ۔ اور فوزان نے کبھی تمہارے ساتھ کوئ زیادتی نہیں کی ۔بچوں کو تو تم نے خود ہی دور کر لیا ہے ۔ "

لیکن وہ سب کچھ سن کر بھی اس کے ساتھ دشمنی نبھا ۓ جا رہی تھی ۔ 

*******


رات فوزان نے اسے فون کیا تھا ۔وہ کافی ڈپریسڈ تھا ۔ کیونکہ کمپنی اسے تین مہینے کے لیۓ جاپان بھیج رہی تھی ۔ٹریننگ کے لیۓ ۔ جبکہ وہ جانا نہیں چاہ رہا تھا ۔

"کوئ پریشانی کی بات نہیں ہے فوزان ۔یہاں آپی ہیں ۔بھیا ہیں آپ کیوں ٹنشن لے رہے ہیں ۔" اس کا لہجہ دھیما تھا ۔ 

"کیسے نا لوں ٹنشن ۔ تمہیں میری ضرورت ہو گی ۔اور میں ۔۔۔اتنے دن سے  جاپان جانے کی کوشش میں تھا لیکن ہو کے نہیں دے رہا تھا اور اب دیکھو ۔میں جانا نہیں چاہ رہا اور مجھے جانا پڑ رہا ہے ۔ "

"ٹھیک ہے آپ اطمینان سے جا کر آئیں ۔ یہاں سب دیکھ لیں گے  فون بھی تو کرتے رہیں گے۔" وہ اسے سمجھا رہی تھی ۔وہ چب ہو گیا تھا ۔لیکن آخر میں اس نے کہا ۔ 

ا"اپنا خیال رکھنا کیونکہ میری جان تم میں اٹکی ہو تی ہے۔" ۔ 

"ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا جیسا جملہ تھا وہ  اریشہ کے لئے ۔ وہ اس جملہ میں کھو سی گئ تھی ۔۔‌

 

ا





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ