تیرے لیۓ ۔۔۔قسط 14completed
تین مہینے گذر گۓ اور اریشہ کے لیۓ ایک ایک لمحہ کاٹنا مشکل لگ رہا تھا ۔آپی ہر مہینہ اسے ہاسپٹل لے جا رہی تھیں ۔
فوزان کے روز فون آتے ۔ وہ اسے ہدایتیں دیتے رہتا ۔ وہ سب سنتی اور جہاں تک ہو سکے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ۔
اریشہ کو دیکھ کر ایک نفرت کا احسا س تھا جو رحیمہ پر حاوی ہوتا جا رہا تھا ۔
اریشہ اسے دیکھ کر مایوس ہو تی ۔ اس نے رحیمہ کو ہمیشہ بہن کی طرح مانا تھا ۔ لیکن پھر کہاں اس سے بھول ہو گئ جو رحیمہ اس سے نفرت کر رہی تھی ۔ یہ سب سو چ کر اس کے دل میں درد محسوس ہو تا ۔ وہ فطرتاً بہت نرم اور حساس تھی اسے یہ بات کھاۓ جا رہی تھی کہ رحیمہ نے اس پر الزام لگا یا تھا کہ اس نے اسے اپنے مقصد کے لیۓ استعمال کیا ۔
"میں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا ۔پروردگار" ۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔ وہ بہت دیر تک روتی رہی ۔
"نہیں رحیمہ ۔ میں تمہارے ساتھ کوئ زیادتی ہونے نہیں دوں گی ۔ میں تم لوگوں کے بیچ نہیں آؤں گی "۔ اس نے جیسے ایک فیصلہ لے لیا تھا ۔اس سے آگے وہ کچھ سوچتی وہ ایک شدید درد سے دوچار ہوئ۔ ایک چیخ تھی جو اسکے حلق سے نکلی تھی ۔
********
"ہیلو ۔فوزان ۔" آپی کی گھبرائ ہوئ آواز تھی ۔ اس وقت دن کے دو بج رہے تھے ۔فوزان لنچ کے لیے بیٹھا تھا ۔
"فوزان ۔اریشہ کی طبعیت خراب ہو گئ ہے۔ اسے ایڈمٹ کر لیا ہے ڈاکٹر نے ۔ تم فوراً آو "۔
"کیا ۔" اس کے ہاتھ میں ریسیور لرزا ۔
اس کا بی پی ہائ ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر کہہ رہی تھیں کہ دونوں کی جان کو خطرہ ہے" ۔ وہ روتے روتے بتا رہی تھیں ۔
فوزان کے ہاتھ سے ریسیور چھوٹ کر گر گیا تھا ۔
*************
رحیمہ اریشہ کے کمرے میں کھڑی تھی ۔ اس کی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ۔وہیں سائیڈ میں اریشہ اور فوزان کی شادی کی تصویر بھی تھی ۔ وہ دونوں ہنستے ہوۓ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
ایک لہر سی اٹھی تھی ۔رحیمہ کے دل میں ۔اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ مار کر تصویر توڑتی ۔دھاڑ سے دروازہ کھلا تھا ۔ وہ ڈر کر پلٹی تو فوزان کھڑا تھا ۔
وہ سیدھا کبرڈ کی طرف گیا تھا اور کچھ فائیلز وغیرہ نکالنے لگا ۔ اس نے اسے مکمل نظراندازکیا تھا ۔
"آپ کب آۓ۔" وہ حیران ہوئ۔ کہ وہ اتنی جلد آ بھی گیا ۔
اس نے کچھ فائلز لیۓ کھٹ سے دراز بند کی تھی اور اس کی طرف پلٹا تھا ۔
ا"اگر اریشہ کو کچھ ہوا تو رحیمہ میں تمہارا حشر کر دوں گا "۔ اس کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں سے رحیمہ کانپ کر رہ گئ۔
"میں نے کیا کیا ہے" ۔ وہ بولی تو اس کی آواز کمزور تھی ۔
"میں اپنی بچیوں کی وجہہ سے تمہیں برداشت کر رہا تھا لیکن اب نہیں ۔ میں اپنی بچیوں کو سنبھال لوں گا ۔ تم کہیں بھی جا سکتی ہو ۔" وہ درشتی سے اسے گھورتا باہر نکل گیا تھا ۔ رحیمہ اس کے پیچھے بھاگی ۔مگر وہ کار لے کر جا چکا تھا ۔تبھی اسے دروازہ سے اپنی ماں آتی نظر آئ ۔اس کے ساتھ اس کی بہن بھی تھی۔
"ماں ۔تم ۔کیوں آئ ہو تم یہاں ۔ کیا کرنے آئ ہو اب ۔" و ہ اسے دیکھ کر چیخنے لگی ۔
ا ابھی کچھ دیر پہلے فوزان اس پر برسا تھا تو وہ اس کا غصہ ماں پر نکالنے لگی تھی ۔
"تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔ میری شادی ایک شادی شدہ شخص سے کر دی ۔اور پھر میری خیر خبر تک نا لی ۔ کہ میں جی رہی ہوں کہ مر گئ ۔" اس کی آواز اونچی ہو گئ تھی ۔
اس کے غصہ پر اس کی ماں پہلے تو چپ رہی تھی ۔ مگر جب وہ اس پر مسلسل چلانے لگی تو اس نے اسے روک دیا ۔
"بس رحیمہ بس ۔تو کہہ رہی ہے کہ ہم نے تیرے ساتھ زیادتی کی ۔ کیا کمی ہے فوزان میں ۔اس نے تو تجھے بڑے ٹھاٹھ سے رکھا ہے ۔ بنگلہ گاڑی سب تو ہے تیرے پاس ۔
اور جیسے گھر میں تو رہتی تھی وہاں کوئ شہزادہ تو تجھے بیاہ کے واسطے آنے سے رہا ۔پھر بھی تیری سوکن وہ تو فرشتہ جیسی. وہ اپنے ہاتھوں تجھے بیاہ لائ ۔تیرا خیال رکھا ۔ اب ذرا میری بیٹی کو دیکھ ۔اس سے کون شادی کرے گا "۔ یہ کہہ کر اس کی ماں نے اس کی بہن کے ہاتھ سے چادر ہٹائ تھی ۔ رحیمہ دیکھ کر سن رہ گئ۔ اس کی بہن کے ہاتھوں پر برص کے داغ تھے ۔
"یہ کیسے ہوا۔ "اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔
"یہ میرے اپنے گناہوں کی سزا ہے ۔ میں نے ایک بن ماں کی بچی کے ساتھ زیادتی کی ۔ تو اللہ نے میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیا "۔وہ رونے لگی تھی ۔
ا"اب بول رحیمہ۔ میری بچی کو کون بیاہے گا ۔"
"میںتو اپنی مردہ سوکن سے ،اس کی بچی سے نفرت کرتی تھی ۔تیری سوکن کس مٹی کی بنی تھی ۔ وہ خود اپنی سوکن بیاہ کر لے گئ۔ اور اسے بہنجیسامان دیا ۔ کون کرتا ہے رحیمہ ایسا ۔ اور تو ۔۔۔"۔اس نے ایک نفرت بھری نظر رحیمہ پر ڈالی ۔
ا"اور تو نے اس فرشتہ صفت عورت کے ساتھ کیا کیا ۔ اسی کے ساتھ تو نے دغا بازی کی ۔یہ مت سمجھ مجھے کچھ خبر نہیں تھی ۔مجھے تیری خبریں ملتی تھیں ۔تو نے اس عورت کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔کیا تجھے اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں آیا ۔آخر تیری بھی تین تین بیٹیاں ہیں ۔اگر انہیں بد دعالگ گئ تو ۔۔۔۔"
"نہیں ۔" وہ چیخی ۔
"میری بچیوںکا نام بھی مت لو ۔"
"میںنے تیرے ساتھ زیادتی کی اورآج یہ سزا مجھے ملی ہے ۔ میری بیٹی کو تو کوئ شادی شدہ بو ڑھا بھی پسند نا کرے ۔ میری بچی کو کون قبول کرے گا ۔" اپنی بیٹی کے دکھ سے وہ جیسے ہلکان ہو گئ تھی ۔
اس کے رونے کو دیکھ کر رحیمہ کی آنکھیں کھلی تھیں ۔ وہ اپنی بچیوں کے پاس بھاگ کر گئ تھی ۔اور روتے روتے انہیں لپٹا لیا تھا
"کیا ہوا ۔مما آپ کیوںرو رہی ہیں ۔" پری پریشانہو کر پوچھ رہی تھی ۔
"بیٹا ۔بڑی مما بیمار ہیں۔انہیں دعاؤں کی ضرورت ہے ۔آؤ ۔ہم دعا کریں ۔"اس نے انہیں بانہوں میںبھر لیا تھا۔
************
ہاسپٹل کے اس انتہائ نگہداشت وارڈ کے سامنے وہ سب کھڑے تھے ۔فوزان بےقراری سے ٹہل رہا تھا ۔ اس کی نظریں وقفہ وقفہ سے گھڑی پر ٹک جاتی تھیں ۔ اریشہ کو آپریشن تھیٹر لے جا یا گیا تھا ۔
اور اب تقریباً تین گھنٹے سے وہ سب ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔
فوزان کی آپی دوپٹہ او ڑھے تسبیح پڑھ رہی تھیں ۔ جبکہ فوزان کے بھائ فون پر صدقہ خیر خیرات کرنے کی ہدایات دے رہے تھے ۔
فوزان بہت خاموش گھڑی کی ٹک ٹک پر نظر جماۓ بیٹھا تھا اس کے دل کی دھڑکنیں بھی اس گھڑی کے ساتھ دھڑ ک رہی تھیں ۔وہ رات سے سویا نہیں تھا اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوا کہ اسے اریشہ کو اس حال میں چھوڑ کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا ۔
"کیوں گیا وہ "۔اس کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگی تھیں ۔جس کو وہ روکنے میں مصروف تھا ۔
"مسٹر فوزان ۔"۔۔ڈاکٹر باہر آگئ تھی ۔ وہ لپک کر گیا تھا ۔
آ"آپکو بیٹا ہوا ہے چونکہ یہ پری میچیور ڈلیوری ہے اس لیے بچہ کچھ کمزور ہے۔۔ ہم نے بچہ کو انکیو بیٹر میں رکھا ہے ۔لیکن وہ خیریت سے ہے ۔ "۔ ڈاکٹر نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔" اوہ ۔۔اسکی خوشی سے آنکھیں چمک گئیں ۔
"اور اریشہ "۔۔۔اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ پو چھا ۔۔
"وہ "۔۔۔ڈاکٹر خاموش ہو گئ ۔
"دیکھیں ۔ ہم نے بچے کو تو بچا لیا ۔مگر ۔۔۔"
"مگر "۔۔اس کا دل حلق میں آ گیا ۔
"وہ ابھی بے ہو ش ہیں ۔ہم انہیں مانیٹر کر رہے ہیں ۔ ابھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ۔ انہیں ہو ش آ گیا تو ہم کچھ کہہ سکتے ہیں ۔"
وہ دھیمے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
فوزان نے صرف اتنا سنا تھا ۔
ا"ابھی انکی جان کو خطرہ ہے ۔"
"وہ ابھی بے ہوش ہیں ۔ کچھ کہہ نہیں سکتے "۔۔ وہ بے دم سا بیٹھتا چلا گیا تھا ۔
******
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں