گاؤں کے گھر
گاؤں کا گھر
گاؤں اور گاوں کے گھر اور لوگوں کے بارے میں ہماری معلومات بہت ناقص تھیں ۔ لیکن شادی کے بعد ایک بار اتفاق سےایک ہفتہ کے لیے گاوں جانا پڑ گیا ۔جانے سے پہلے ہی شوہر صاحب نے ڈرا دیا کہ۔ کام والی نہیں ہو تی ۔ کپڑے برتن خود دھونے پڑیں گے ۔
ٹھیک ہے ۔ دھو دیں گے ۔ ہم ڈرتے ہیں کیا ۔ ہم نے اپنے آپ کو تسلی دی ۔
گاؤں پہنچے اور ہماری چچی ساس کے گھرمیں ہم نے قدم رکھا ۔
اتنا بڑا گھر ۔۔۔ہم حیرانی سے نظریں دوڑانے لگے ۔
بڑے بڑے کمرے اور آنگن در آنگن ۔۔۔۔آنگن تو اتنا بڑا تھا کہ شہر کا ایک گھر آرام سے بن جاۓ۔
دوسری صبح ہم نے ایک کمرے کو جھاڑو لگائ ۔اور
ایک بار جھاڑا ہے دوسری بار جھاڑنے کی ہمت نہیں ۔
کہتے جھاڑو ہی پھینک دی۔
اب سوچا باورچی خانہ میں اپنے خیالی جھنڈے لہرا لیں گے ۔یہ سو چکر اندر جھانکا تو دن میں تارے نظر آۓ ۔
وہاں گیس کا چولہا ہی ندارد ۔ لکڑی کا چولہا ہماری ہمت کو چیلنج کرتا نظر آ رہا تھا ۔ ہم نے وہاں سے بھی چپکے سے کھسک لینے میں ہی عافیت سمجھی۔
آخر ہم اور ہماری ایک چھوٹی نند نے برتن اور کپڑوں کا چارج لے لیا ۔ چونکہ کام زیادہ تھا لوگ بھی زیادہ تھے ۔ آخر ہمیں کچھ نا کچھ تو کرنا تھا ۔
صبح صبح نل آرہا تھا ۔ تو ہم اور ہماری نند کپڑے دھونے بیٹھے۔ گرمی کے دن تھے ۔سب ہی روز کپڑے بدل رہے تھے ۔ اور جان ہماری جا رہی تھی ۔
ٹب بھر کپڑے دھونے تھے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی ٹارگٹ تھا ۔ کپڑے جلدی جلدی ٹھکانے لگا نے کا ۔ سو ہم وہ کر رہے تھے ۔ ایک کپڑا لیا ۔صابن لگا یا اور بس پانی میں ڈالا ۔
کافی دیر تک ہماری چچی ساس اپنی عقابی نظروں سے ہمارا جائزہ لیتی رہیں ۔ پھر کہا ۔
واشنگ مشینوں میں کپڑے دھونے والوں کو پتا ہی نہیں کہ کپڑے کیسے دھوتے ہیں ۔
ہم نے انکی بات سنی ہی نہیں ۔ ہم ہمارے ٹارگٹ کو پورا کرنے میں جو لگے تھے ۔
چھوٹی نند نے ہمیں ٹہوکا دیا ۔
کیا کر رہی ہو ۔ اچھے سے دھوؤ ۔ چچی دیکھ رہی ہیں ۔
انکی اس بات پر ہم نے بھی دیدہ دلیری سے سوچا ۔
کپڑے دھو رہے ہیں یہی غنیمت ہے۔اور وہ بھی خالی پیٹ ۔ کہتی ہیں تو کہتی رہیں ۔ ہم نے مطلق اثر نا لیا ۔
ہماری بڑی نند جو قریب ہی تھیں ۔ہم دونوں کی حات زار پر مسکرا تے کہنے لگیں ۔
چچی ۔ان دونوں نے پوری زندگی میں اتنے کپڑے نہیں دھوۓ ۔یہاں دھو رہی ہیں ۔ غنیمت جانیۓ۔ سب ہنسنے لگیں تھیں ۔
انکے گھر میں نا گیس تھی اور نا گرینڈر ،فرج تھا جسے اکثر بجلی کی بچت کی خاطر بند کر دیا تھا ۔ فرج اکثر خالی رہتی تھی ۔چونکہ ہر چیز تازی تازی خریدی جاتی۔
سردیوں میں فرج کو تالا لگا دیا جاتا ۔
اس دن چچی ساس نے ہمیں میٹھے چاول بنانے کو کہا ۔
چولہا انہوں نے خود ہی سلگا یا تھا ۔ورنہ تو چولہاجلانا ہی بڑا مرحلہ ہو تا ۔
ہم نے کہا آپ بتا دیں کتنی شکر وغیرہ ڈالنی ہے۔ تو انہوں نے ہمیں گھور کر دیکھا ۔اور کہا ۔
تمہیں جتنی مناسب لگے اتنی ڈال دو ۔ صاف مطلب تھا وہ ہمارا امتحان لینا چاہتی ہیں ۔
ہم نے بھی اللہ کا نام لیا اور آدھے گھنٹے میں بنا کر ہٹ گۓ ۔ بعد میں وہ ہماری تعریف کر رہی تھیں کہ ہر چیز برابر ڈالی تھی اور یہ کہ پکاتی اچھا ہے ۔
گاوں کی آب و ہوا بہت اچھی ہو تی ہے ۔ماحول پر سکون ہو تا ہے ۔ یہاں ٹریفک کے شور شرابہ نہیں ہوتا ۔ اور سب سے مزے کی یہ بات کہ یہاں کا سادہ کھانا بھی بہت مزے کا ہو تا ہے ۔ شہر کے مرغن غزاوں سے گاؤں کی روٹی چٹنی کا الگ ہی لطف ہو تا ہے ۔
گاؤں کے لوگوں کو عام طور پر سیدھے سادے کہتے ہیں۔ ہمیں تو گاؤں کے لوگ بہت چا لاک نظر آۓ ۔ انکے اندر ایک عجیب سی مکااری نظر آتی ہے ۔لیکن عزت کے معاملے میں وہ بہت حساس ہوتے ہیں ۔ کہیں کہیں تو کچھ زیادہ ہی حساس ہوتے ہیں ۔
انکی اکثر یہی کوشش ہو تی ہے کہ یہ شہر کے لوگ ہمیں کمتر نا سمجھیں ۔
گاوں کے نام پر ہمیں بہت کچھ یاد آرہا ہے لیکن ہمارے پاس وقت کی کمی ہے ۔
ہاں جاتے جاتے آخری بات یاد آئ ۔ہمارے دونوں بچے گاوں کو دیکھ کر بڑے پرجوش تھے اور وہاں جاتے ہی انہوں نے نعرہ لگا یا تھا ۔
مما ۔ وہ دیکھیں ۔ٹوکیو ٹاور ۔۔ ہم حیران بھلا کرناٹک کے چھوٹے سے گاوں میں جاپان کا ٹوکیو ٹاور ۔دیکھا تو وہ گاؤں کی چمنی تھی جو عام طور پر بہت اونچی ہو تی۔ ہے ۔ خدا بھلا کرے ۔تم لوگوں کا ۔ ڈوریمون ، نوبیتا دیکھ دیکھ کر ہر چیز تمہیں وہی نظر آتی ہے ۔ حد ہے ۔۔ہم ہنس پڑے تھے ۔
یوں گاؤں اور گاوں کی زندگی سے ہمارا سابقہ پڑا تھا ۔
ختم شد ۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں