تیرے لیۓ ۔۔قسط 15 ۔۔آخری قسط
تیرے لیۓ۔۔
وہ جب گھر میں داخل ہوا تو رحیمہ سر پر دوپٹہ لیۓ پری اور دونوں بچیوں کو لیۓ کچھ دینی اذکار پڑھ رہی تھی ۔ پڑھتے پڑھتے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر میں صاف کرتی جا رہی تھی ۔
وہ اوپر سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا ۔
رحیمہ نے اسے دیکھا تو اس کے پیچھے پیچھے اوپر چلی آئ۔
"کیسی ہیں باجی ۔ ہو ش آ یا انہیں" ۔ بے تابی اس کے لہجے سے ہویدا تھی ۔
فوزان کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا ۔ بالکل ساکت ۔
باہر دیکھتے ہوۓ ۔اور کچھ نا دیکھنے کی کیفیت میں ۔
آ"آپ بتاتے کیوں نہیں ۔ کیسی ہیں وہ "۔اس کی آواز بھرا گئ ۔تھی ۔
"آج دو دن ہو گۓ تھے ۔اریشہ کو ہو ش نہیں آیا تھا ۔ڈاکٹرز اپنی کوشش میں لگے تھے۔
ا"ابھی تک نہیں آیا اسے ہوش۔ وہ رسپانڈ نہیں کر رہی ۔" اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہو ئ تھی ۔
رحیمہ کے دل کو جیسے کسی نے زور سے مسل دیا ۔
وہ بے آواز رونے لگی ۔
"مجھے معاف کر دیں فوزان ۔ مجھے معاف کر دیں ۔" اس کی ہچکی بندھ گئ تھی ۔
"میں نے باجی کا خیال نہیں رکھا "۔ وہ روتے روتے بولتی جا رہی تھی ۔
"میں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔ میں ان سے حسد کرنے لگی تھی ۔ مجھے ان کی اچھائ سے بھی چڑ ہونے لگی تھی ۔ وہ اتنی اچھی کیوں تھیں ۔ کہ آپ کو ان کے سوا کوئ نظر نہیں آتا تھا ۔ میں آپ کو نظر نہیں آتی تھی ۔ مجھے غصہ آتا تھا جب آپ مجھے نظرانداز کر کے ان کو فوقیت دیتے تھے ۔کیونکہ ۔۔"۔اس نے روتے روتے اسے دیکھا تھا ۔
"مجھے آپ سے محبت ہو گئ تھی"۔ اس نے اپنا جملہ مکمل کیا تھا ۔
" مجھے علم ہے "۔ ۔ وہ بے تاثر لہجہ میں بول کر اس کی طرف پلٹا تھا وہ جو رو رہی تھی اس بات پر تعجب سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
"مجھ پر یہ انکشاف بہت پہلے ہو گیا تھا "۔۔۔وہ ابھی بھی کھڑکی سے باہر ہی دیکھ رہا تھا ۔
آ"آپ مجھ سے بے شک محبت نا کریں لیکن مجھے طلاق مت دیں ۔ مجھے بس اپنا نام دے دیں ۔ "
"میں تمہیں طلاق نہیں دے سکتا کیونکہ میں تمہیں طلاق دوں گا تو وہ مجھ سے لڑے گی۔ مجھ سے بات کرنا چھوڑ دے گی" ۔
" پری کی پیدائش کے بعد میں تمہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا مگر وہ مجھ سے ناراض ہو گئ کہ میں نے ایسا سوچا بھی کیسے ۔"
"اگر اسے تمہیں استعمال ہی کرنا ہو تا تو پری کے بعد وہ اپنی زندگی سے تمہیں نکال دیتی مگر اسے تو تمہیں بہن کی طرح پورے مان کے ساتھ گھر میں رکھنا تھا ۔"
"وہ مجھ سے تمہارے لیۓ لڑا کرتی تھی۔" اسکا لہجہ زخم خوردہ تھا۔
"وہ میرے لیۓ آپ سے لڑا کرتی تھیں ۔" رحیمہ نے دہرایا اور اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا ۔
"ہاں ۔ تمہارے ساتھ کچھ بھی زیادتی کرتا تو وہ مجھ سے بات بند کر دیتی ۔ مجھے چھوڑنے کی بات کر تی ۔ میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دے سکتا ۔ میں اسے ناراض نہیں کر سکتا "۔اس کی آنکھوں میں بھی پانی تیرنے لگا تھا ۔
"مجھے اس سے محبت ہے ۔ ایسی محبت جو صرف تسکین کا نام نہیں ہو تی ۔ ہم ایک دوسرے کی بات بنا کہے جان جاتے ہیں "۔ ۔ وہ مسکرایا ۔
"میں نے اسے بہت ٹوٹ کر محبت کی ہے ۔ویسی محبت میں کبھی کسی اور سے نہیں کر سکتا ۔" وہ واپس پلٹ گیا تھا ۔
"لیکن میں تمہاری محبت کی قدر کرتا ہوں ۔" وہ رکا ۔ ۔ ا"اسکی جگہ میں کسی کو نہیں دے سکتا ۔بس دعا کرنا کہ
اسے جلد سے جلد ہو ش آجاۓ"۔وہ اب رونے لگا تھا ۔
رحیمہ بس اسے دیکھتی رہ گئ تھی۔
اسے محبت کا ادراک اب ہو ا تھا۔ اسے اب سمجھ آ گیا تھا کہ محبت ایسی کیفیت کا نام ہے جسے ہم صرف حاصل حصول میں قید نہیں کر سکتے ۔
اور اسے جب فوزان سے محبت ہوئ تو اب احسا س ہو رہا تھا کہ اپنی محبت کو یوں کوئ بھی اتنی آسانی سے کسی کی جھولی میں نہیں ڈالتا ۔
اریشہ نے اپنی محبت اسے سونپی تھی۔ اب وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اریشہ کی جگہ وہ ہوتی تو وہ شاید کبھی اتنا بڑا دل نا کرتی ۔ وہ اب خود محبت کے سفر میں تھی تو اسے لگ رہا تھا کہ یہ سفر قربانیاں مانگتا ہے ۔
**********
وہ دونوں ابھی ہاسپٹل میں آۓ تھے ۔ آج تیسرا دن تھا ۔ اریشہ ابھی آی سی یو میں تھی۔
وہ آپی کی جانب بڑھا تھا ۔ وہ اور آپی ہی تھیں جو تین راتوں میں با لکل سو نہیں پاۓ تھے ۔
"آپی ۔کیا کہا ڈاکٹر نے "۔ رحیمہ نے آگے بڑھ کر پوچھا۔
"ابھی کچھ نہیں کہا بی پی بڑھنے سے وہ کوما میں چلی گئ ہے ۔ وہ دیکھ رہے ہیں ۔ ۔"
ان کی آواز روئ روئ تھی ۔رحیمہ کرسی پر بیٹھ گئ تھی ۔
جبکہ فوزان آج بھی مسلسل ٹہل رہا تھا ۔اس کے چہرے پر گہری سوچ کی لکیریں بن گئ تھیں ۔
وہ مختلف ڈاکٹرز کے پاس جا کر بات کر رہا تھا ۔آخر میں اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی اور ہاسپٹل میں اریشہ کو اڈمٹ کرواۓ گا ۔
دوپہر میں بھی کسی سے کھانا نہیں کھایا گیا تھا ۔ آپی رحیمہ بھی بس ایک ٹک فوزان کو یہاں سے وہاں ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگتے دیکھ رہی تھیں ۔ رحیمہ بھی بے جان سی کرسی پر بیٹھی ہو ئ تھی ۔
شام کے سات بجے تھے ۔جب ڈاکٹر نے فوزان کو اندر بلایا تھا پندرہ بیس منٹ سے اوپر ہو گۓ تھے فوزان کو گۓ ۔ آپی رحیمہ بے چینی سے اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھیں ۔ بلآخر فوزان باہر آیا ۔وہ سیدھا آپی کے پاس آیا تھا ۔
آ"آپی ۔اریشہ کو ہوش آگیا" ۔اس کی کپکپاتی آواز خوشی سے لرز رہی تھی ۔
"شکر اللہ کا" ۔ آپی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا ۔
"ابھی وہ اسے آئ سی یو میں ہی رکھیں گے ۔ جب اس کی حالت سٹبلائزڈ ہوجاے گی تو وہ اسے جنرل وارڈ میں شفٹ کریں گے۔" وہ انہیں بتا رہا تھا ۔
"اللہ نے رحم فر ما یا ہم سب پر "۔ آپی کو بھی رونا آیا تھا ۔
"۔اللہ نے اسے نئی زندگی عطا کی ۔فوزان" ۔۔۔۔۔
"ہاں ۔ نئ زندگی اللہ نے اسے نہیں مجھے دی ہے آپی" ۔اس کی اواز گھمبیر سی تھی ۔
"تم نے اسے دیکھا ۔فوزان بات کی اس نے" ۔ آپی بے تابی سے پوچھ رہی تھیں ۔
"ابھی بات نہیں کر رہی وہ ۔ بس کچھ دیر کے لیۓ آنکھیں کھولیں تھیں اس نے ۔ "
"ہم سب کب دیکھیں گے انہیں ۔" رحیمہ کی آواز میں تڑپ تھی۔
"ابھی تو شاید ڈاکٹر اس کی اجازت نا دیں ۔ شاید کل تک وہ اسے جنرل وارڈ میں شفٹ کریں تب ملنے دیں گے۔" وہ رحیمہ کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔
"میں گھر جاوں گی فوزان ۔میں نے منت مانگی تھی۔ اریشہ کے لیۓ۔ غریبوں کو کھانا کھلانے کی ۔ میں جا کر انتظام کر تی ہوں" ۔ آپی کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا ۔
آ"آپ جائیں اور رحیمہ تم بھی جاؤ ۔ میں یہاں رکتا ہوں ۔ وہاں بچیاں اکیلی ہوں گی۔" فوزان کی بات پر رحیمہ چپ ہوئ ۔
اس کا دل رکنا چاہ رہا تھا ۔ وہ اریشہ کو ایک نظر دیکھنے کے لیۓ بے تاب تھی ۔
"کل صبح مل لینا ۔ اب آپی کے ساتھ چلی جاؤ ۔" وہ اسے نرمی سے کہہ رہا تھا ۔۔ رحیمہ کو اس کی بات ماننی پڑی ۔
"فوزان ۔ آپ نے بچے کے بارے میں نہیں بتا یا ۔کہاں ہے وہ "۔ رحیمہ کی آواز میں مامتا کی تڑپ تھی ۔
"وہ ان کیوبیٹرمیں ہی ہے ۔آؤ دیکھ لو "۔ وہ اسے دوسری سمت میں بنے پچوں کے اسپیشل وارڈ میں لے گیا تھا ۔
اس نے بچے کو دیکھا ۔ وہ بلکل نحیف سا تھا ۔ اسے بڑی حفاظت میں رکھا گیا تھا ۔
"بہت پیارا ہے ۔" رحیمہ کے منہ سے نکلا تھا ۔
"با لکل باجی جیسا ۔"
"ہاں "۔ اس نے بھی جھک کر اپنے بیٹے کو مسکرا کر دیکھا تھا ۔
"بہت پیارا اریشہ جیسا۔" اسے دیکھتے ہوۓ اس کا چہرا جگمگارہا تھا.
****************************************** ۔وہ بہت آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ۔ اریشہ اپنا ایک ہاتھ پیشانی پر رکھے آنکھیں بند کیۓ لیٹی تھی ۔ "اریشہ "۔ اس نے اسے پکارا تھا ۔
ایسے جیسے صدیوں سے پکار رہا ہو ۔
اس نے جھٹ آنکھیں کھولی تھیں ۔
اس کی آ نکھوں میں صدیوں کی تھکن تھی ۔ چہرہ ماند بڑ گیا تھا اورگلابی رنگ زرد زرد لگ رہا تھا ۔
"کیسی ہو ۔ "
"ہممم ٹھیک ہوں فوزان" ۔ اس کی آواز بھی کمزور سی تھی ۔
"میں کتنے دن سے بے ہو ش تھی ۔ "
"تین دن سے "۔ اس کے جواب پر وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
"تین دن سے اور ۔ وہ کیسا ہے ۔ میرا بیٹا ۔" اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی ۔
ا"اچھا ہے ۔ اریشہ اس کی فکر مت کرو "۔ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوے بولا تو وہ ناراض ہوئ ۔
"کیسے فکر نا کروں ۔وہ تین دن سے بھوکا ہو گا ۔ اسے کیا پلا رہے تھے یہ لوگ ۔ "
" ان کیو بیٹر میں رکھا ہوا ہے اسے ۔ بہت نازک ہے وہ ابھی" ۔
"اچھا ۔ مگر پھر بھی ۔" اسے جیسے تسلی نا ہوئ۔
"میرے پاس لائیں نا اسے ۔"
" مجھے اسے چھو کر دیکھنا ہے ۔اس کا لمس محسوس کر نا ہے مجھے۔۔ "
"رکو ۔میں لاتا ہوں"۔ وہ اسے اشارہ کرتا باہر چلا گیا تھا ۔کچھ دیر بعد وہ آیا تو وہ اکیلا تھا ۔
"کہاں ہے میرا بچہ ۔فوزان ۔ آپ اسے لے کر نہیں آۓ۔" وہ ایکدم سے پریشان ہو گئ تھی ۔
فوزان نے دروازہ کو اپنے پیچھے سے کھولا تو رحیمہ اس کے بچے کو گود میں لیۓ کھڑی تھی ۔
"باجی ۔۔ یہ لیں ۔آپ کا بیٹا مگر یہ صرف آپ کا نہیں میرا بھی بیٹا ہے ۔ میں نے اسے اپنا دودھ پلا یا ہے ۔ صبح سے بہت رو رہا تھا تو میں نے لے لیا ۔" رحیمہ کی آواز میں بھی ممتا کی جھلک صاف محسوس ہو رہی تھی ۔
"رحیمہ "۔۔۔اریشہ ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی ۔
"باجی" ۔وہ اس کے پاس لپک کر آگئ تھی ۔
"مجھے معاف کر دیں ۔ مجھ سے غلطیاں ہوئ ہیں ۔ مگر آپ دونوں مجھے معاف کر دیں" ۔ وہ اب اریشہ کے گلے لپٹ کر رونے لگی تھی ۔
"رحیمہ "۔۔اس کی آواز میں انجانی سی خوشی تھی۔
"میری بہن ۔میرے بچے کو اپنا دودھ پلا کر تم نے مجھے خرید لیا "۔ وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ رونے لگی تھی ۔
*******************
آج گھر میں گہما گہمی تھی ۔ آج اریشہ کو گھر آۓ تین مہینے ہو گۓ تھے ۔وہ اور اذہان اب صحت کی طرف لوٹ چکے تھے۔
پری افرحہ ننھے اذہان سے بڑی مانوس تھیں ۔ وہ اس کے ساتھ کھیلتی رہتیں ۔
رحیمہ کی اربیہ بھی اب آٹھ مہینے کی ہو گئ تھی۔ جو فوزان اور اریشہ کی جان تھی ۔
۔ رحیمہ نے بیوٹی پارلر جا نا چھوڑ دیا تھا ۔
وہ اب سلائ سنٹر جا رہی تھی۔ یہاں وہ ایک نئ زندگی دیکھ رہی تھی ۔ ضرورت مندوں کی دنیا ۔
غریب بچیاں اپنے جہیز کے کپڑے خود سیتی ہوئیں۔
کچھ لڑکیاں سلائ سیکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو نا چاہتی تھیں ۔
کچھ لڑکیاں تھوڑے تھوڑے پیسے بچا کر اپنے بڑے بڑے خواب پورا کرنا چاہتی تھیں ۔
یہاں ضرورت تھی ۔عیش نہیں تھا ۔ اور رحیمہ کوان لڑکیوں میں اپنا عکس نظر آتا۔ وہ بھی شاید ایسے ہی دو پیسے بچانے کی فکر میں دن رات سلائ کر رہی ہو تی ۔اگر اریشہ اور فوزان اسے نا ملتے ۔ آج وہ اپنی بچیوں کے ساتھ اعتماد سے اس گھر میں تھی تو اریشہ کی وجہہ سے ۔ اس کی پلکیں بار احسان سے اریشہ اور فوزان کے آگے جھک جھک جاتیں ۔
انہوں نے اسے ایک ایسی زندگی سے متعارف کروایا تھا جس کو وہ صرف خواب سمجھتی تھی ۔ ۔ بھلا دو سوتنیں بھی بہنوں کی طرح رہ سکتی ہیں ۔ مگر آج وہ بہت محبت سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں ۔یہ ایک خواب جیسا تھا .
********
فوزان کی پروموشن ہو گئ تھی ۔جسکی خوشی میں اس نے ایک مختصر سی دعوت رکھی تھی۔
آج اسی کی رونق تھی ۔اس کے بھائ ،آپی ،رعنا سبھی یہاں موجود تھے ۔ سارے گھر میں رنگ نور کا ماحول تھا ۔
پری گلابی فراک میں پری کی طرح سجی بنی پھر رہی تھی۔
آپی ،رعنا وغیرہ ہال میں بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں ۔
"آخر یہ دونوں ہیں کہاں "۔ آپی نے ادھر ادھر نظریں دوڑائ تھیں ۔ اریشہ ،رحیمہ کہیں بھی نظر نہیں آئیں تو وہ آس پاس دیکھنے لگی تھیں ۔ تبھی رعنا نے سیڑھیوں سے اترتی اریشہ اور رحیمہ کو دیکھا تھا ۔
وہ دونوں سہج سہج کر اتر رہی تھیں ۔
ان دونوں نےمیرون کلر کی ساڑیاں پہنی تھیں جس پر یکساں نفیس سا ورک تھا ۔ ان دونوں کی ساڑیاں ایک جیسی تھیں ۔
کلائیوں میں چوڑیاں پہنے بالوں میں گجرے سجاۓ وہ مسکراتے اتر رہی تھیں ۔ دونوں ساتھ ساتھ ۔
"واہ ۔ کیا لگ رہی ہیں یہ دونوں "۔ رعنا نے رشک سے دیکھا ۔
"ماشاءاللہ" آپی نے بھی بے ساختہ کہا ۔
"واقعی آپی ۔اریشہ نے بہت زیادہ صبر اور ہمت کا مظاہرہ کیا ۔اگر فوزان کے لیۓ وہ یہ قدم نا اٹھاتی تو آج اس کا گھر ویران ہو تا ۔ بچوں کی کھلکھلاہٹیں اس گھر کی دیواروں کو سننے کو نا ملتی۔ "
رعنا بھابھی ان دونوں کو دیکھتے کہہ رہی تھیں ۔ اریشہ نیچے آ چکی تھی۔ اس نے بھابھی کی بات سنی تھی۔
آ"آپی۔بھابھی۔" وہ دونوں ان سے جھک کر ملنے لگیں ۔
ا"اذہان کہاں ہے "۔ رحیمہ آپی کو پوچھ رہی تھی۔
"وہ تو جی اپنے پاپا کے پاس بیٹھا ہے ۔ہم بلا رہے ہیں تو آنے سے صاف انکاری ہے۔ بڑا طوطا چشم ہے وہ ۔" آپی شکایتا ہنستے کہہ رہی تھیں ۔رحیمہ ہنسنے لگی ۔
"پتا ہے آپی اذہان ۔اتنا چلبلا ہے کل اربیہ کو میری گود میں دیکھ کر خود آنے کے لیۓ ضد کرنے لگا تھا ۔" رحیمہ وہیں بیٹھ گئ تھی۔
*********
انسب کا کھانا ہو گیا تھا ۔ اس کے بھائ بھی اب جانے کے لیے تیاری کر رہے تھے
"فوزان ۔خیر سے تم نے سارے مرحلے خوشگوار انداز میں طۓ کر لیۓ۔ گڈ لک بھئ۔ "
"کہاں بھائ۔ سب ٹھیک تو چل رہا ہے مگر میرا بجٹ کافی بگڑ گیا ہے ۔" و ہ مسکین سی صورت بنا کر بو لا تھا ۔
"مطلب ۔ "وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
آ"آپ ذرا سامنے دیکھیں ۔ اب مجھے ایک نہیں دو کے فنانس سنبھالنے ہیں ۔ اللہ رحم کرے "۔ اس کی بات پر انہوں نے سامنے دیکھا تھا ۔ وہاں اریشہ اور رحیمہ دونوں ایک جیسی ساڑیوں میں ملبوس کھڑی تھیں ۔
بات سمجھ کر انہوں نے بے ساختہ قہقہہ لگا یا تھا ۔
*********************
اریشہ مسکراتے آگے جارہی تھی ۔لیکن اس کے کانوں میں رعنا کے الفاظ گونج رہے تھے۔
"فوزان کے لیۓ۔" وہ مسکرائ۔
"نہیں بھابھی۔۔ رات کے کسی پہر مجھ پر انکشاف ہوا تھا ۔ میں جو سجدے میں گری رو رہی تھی ۔ اپنی خالی جھولی لیۓ گڑگڑا کر روتے ہوۓ ۔ ایسے میں جیسے کسی نے کان میں سر گوشی کی تھی ۔
"کیا میرے لیۓ اپنی محبت کی قربانی دے سکتی ہو ۔"
اس آواز نے میرے دل کو عجیب کیفیت میں ڈال دیا ۔
"ہم جو بھی کرتے ہیں صرف اپنے لیۓ کرتے ہیں ۔اپنے مفاد کے لیۓ کرتے ہیں ۔ ہر کام میں ہماری ہی غرض چھپی ہو تی ہے۔ ہم کوئ کام اللہ کے لیۓ نہیں کرتے ۔ اس کی محبت میں نہیں کرتے ۔ تو اس پل میں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ میں اپنے لیۓ نہیں اللہ کے لیۓ کروں گی ۔ جو بھی میں نے فیصلہ لیا میں نے اللہ کے لیۓ لیا ۔
اس کی ذات سے محبت ہو تو سارے راستے روشن ہو جاتے ہیں۔
میں نے اللہ کے لیۓ ،اللہ کے فیصلہ کو قبول کیا ۔
اس کی رضا میں اپنی رضا کو جانا ۔
اور اس کے لیۓ فوزان کو دوسرے نکاح کے لیۓ کہا ۔
ہاں ۔یہ فیصلہ بہت لوگوں کو صحیح نہیں لگا تھا ۔
کچھ کہہ رہے تھے کہ یہ خسارہ کا سودا ہے ۔ مگر میرے اللہ کے لیۓ کیا گیا فیصلہ خسارا نہیں بنتا ۔ اس کے لیۓ اٹھا یا گیا قدم نقصان نہیں دیتا ۔ معتبر کرتا ہے ۔
آج میں سرخرو ہوں ۔ اللہ نے مجھے معتبر کیا ۔
مجھے ایک بیٹے کی ماں بنا کر اللہ نے میرے فیصلہ کو قبولیت بخشی ۔
میںآج سرخ رو ہوں اپنے خدا کے آگے اور اپنے مجازی خدا کے آگے ۔
اور آگے بھی میں اپنے رب کی رضا کے لیۓ ہی کام کروں گی ۔
وہ مسکراتے آگے بڑھ رہی تھی ۔ پھر اسکی نگاہ سامنے فوزان پر پڑی تھی وہ اذہان کو ہوا میں اچھال رہا تھا ۔ اذہان کھلکھلاتا تو وہ اور اسے اچھال رہا تھا جبکہ اسکے ساتھ پری افرحہ بھی ہنستے جا رہی تھیں ۔
اس کی آنکھوں نے اس حسین منظر کو ہمیشہ کے لیۓ قید کر لیا تھا ۔
ختم شد
************************************************
۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں