دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔یہاں الو بولتے ہیں
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔یہاں الو بولتے ہیں
بیل بجتی رہی ۔رونے کی آواز آتی رہی ۔ اسکے بعد ایک سناٹا ۔۔۔
سناٹا ایسا کہ سانس بھی رک گئ تھی۔ ۔
وہ زور زور سے سانس لینے بھی ڈرنے لگے ۔
کچھ دیر ہوئ اور ڈیرک نے آہستگی سے دروازہ دھکیلا ۔ مہیب سناٹے میں دروازہ دھکیلنے کی آواز سے دل کانپنے لگے ۔
ڈیرک اندر قدم رکھ چکا تھا ۔ وہ تینوں اسکے پیچھے ہی تھے ۔۔یہاں سناٹے کے ساتھ ساتھ ایک گہری تاریکی نے ان کا استقبال کیا تھا ۔
اتنی صبح ہونے کے باوجود یہاں رات کا سماں تھا ۔ تااریکی میں انہیں ایک دوسرے کے چہرے بھی نظر نہیں آ رہے تھے ۔
یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے ۔ ہنری کی ڈری ڈری آواز آئ ۔
کیونکہ یہ ایک ڈارک ہاؤس ہے ۔ یہاں چوبیس گھنٹے اندھیرا ہوتا ہے ۔ اس گھر کو روشنی سے نفرت ہے ۔ آپ کو اس اندھیرے کے ساتھ ہی رہنا ہے ۔ہاں ۔کبھی کبھی آپ موم بتی جلا سکتے ہیں ۔اپنے لیۓ ۔وہ ہنری کی طرف پلٹا تھا اور ہنری اسے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا تھا ۔
اس تاریکی میں اسکی آنکھیں بلی کی طرح چمک رہی تھیں ۔
مسٹر جارج۔ وہ اب جارج کو دیکھ رہا تھا ۔ اور ان تینوں کو حیرت تھی کہ اس اندھیرے میں بھی اسے صاف صاف نظر آرہا تھا ۔
آپکو ایگریمنٹ کے مطابق ۔یہاں ہر چیز مفت ملے گی۔ آپ کو آپکے رہنے کا کمرہ بھی دکھا دیا جاۓ گا ۔ چلیں ۔ وہ اب انکے آگے آگے چلنے لگا ۔ اس سناٹے میں اس کے کپڑوں کی سرسراہٹ بھی ہیبت ناک لگ رہی تھی ۔
اب وہ ایک کمرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ جس کے دروازے پر چمگاڈریں الٹی لٹکی ہو ٔٔئ تھیں ۔ جیسے ہی دروازہ کھلا وہ ایک خوفناک آواز کے ساتھ انکے سامنے سے زن کر کے گذر گئیں ۔
وہ دم سادھے اس کو دیکھ کر رہ گۓ۔
ایک پل کو ڈیرک نے اپنالایٹر سلگایا تھا ۔ گہری تاریکی کچھ پل کے لیۓ غائب ہو ئ۔
یہ ایک بہت بڑا کمرا تھا جس میں تین الگ الگ بیڈ رکھے گۓ تھے ۔اسکے ساتھ اٹیچڈ باتھ روم تھے ۔اس کمرے میں کوئ کھڑکی نہیں تھی ۔
کھٹ ۔ لائٹر بجھ گیا ۔اور کمرا پھر سے تاریکی میں ڈوب گیا ۔
آپ یہاں آرام کر لیں ۔ اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔ گہری خوفناک سرسراہٹ کے ساتھ ڈیرک نے کہا تھا ۔
مسٹر ڈیرک ۔آپ نے یہ نہیں بتا یا کہ اگر ہم میں سے کسی کو کچھ مدد چاہیے تو ہم کیا کریں گے ۔
آخر ہماری جان کی ضمانت کون دے گا ۔ جارج کو اب خیال آیا تھا کہ اس نے اپنے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں کی جان بھی خطرے میں ڈالی تھی ۔
جان ۔۔۔۔ڈیرک ہنسا اور اسکی ہنسی کی آواز سارے کمرے میں گونجنے لگی۔
کیا تم ایک مرے ہوۓ انسان سے جان کی ضمانت لو گے ۔ ہاہا ہا ۔۔۔۔وہ ہنستے ہنستے ہوا میں تحلیل ہونا شروع ہو چکا تھا ۔ ہنری اور پال کو سانپ سونگھ گیا تھا جبکہ جارج بت کی طرح اسے ہوا میں غائب ہو تے دیکھ رہا تھا ۔ پہلے اسکے پیر ،پھر اسکے ہاتھ اور پھر چہرہ غائب ہوا تھا ۔آخر میں اس کے چہرے پر صرف اسکی سفید آنکھیں رہ گئیں ۔
جارج ۔بسٹ آف لک ۔وہ اب مکمل ہوا میں تحلیل ہو گیا ۔
اب وہ تینوں اس کمرے میں تھے ۔جس کی فرش عجیب تھی ۔ اس فرش پر بڑے بڑے سانپ بنے ہوۓ تھے ۔جو اندھیرے میں زندہ محسوس ہو رہے تھے ۔
ایک چھوٹی موم بتی کو جارج نے سلگا یا ۔
آؤ ۔ وہاں ہال میںچلتے ہیں ۔ اب وہ تینوں ہی تھے ۔ اب انہیں اس اندھیرے بنگلہ میں پورے پانچ دن گذارنے تھے ۔
اور ابھی صرف آدھا گھنٹا ہوا تھا ۔
موم بتی لیۓ وہ ہال میں آۓ۔ اور ایک صوفے پر بیٹھ گۓ۔
جارج نے فرج کھولی اور کچھ فروٹ لے کر آیا اور ان دونوں کو دے کر خود بھی کھا نے لگا ۔
تم لوگ خوامخواہ ڈر رہے ہو ۔ وہ سب فضول باتیں ہیں ۔ کھاؤ پیو اور عیش کرو ۔ ۔ وہ اپنے دانتوں سے سیب کا ٹکڑا توڑ کر کھاتے ہوے بولا ۔
مگر وہ دونوں ایک جامد سکوت کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ انکی پلکیں تک ساکت تھیں ۔
کیا ہوا ۔ تم لوگ کھاتے کیوں نہیں ۔ وہ انکے قریب گیا تھا ۔
ہنری ۔۔پال ۔۔۔وہ انکے قریب چلایا ۔
الو ۔۔۔وہاں الو ہیں ۔ہنری کی پھنسی پھنسی آواز پر جارج بھی سامنے دیکھنے پر مجبور ہو گیا ۔
ہال کے بالکل سامنے دروازہ کے اوپر ایک الو کا جوڑا بیٹھا تھا ۔ جو انہیں ہی گھور رہا تھا ۔
جارج کو الو کبھی پسند نہیں تھے ۔ وہ قریب گیا اور انہیں ایک کپڑے کی مدد سے اڑانے کی کوشش کرنے لگا ۔
ہشش ۔ہششش ۔ جاؤ ۔بھاگو ۔ مگر وہ جوڑا ہل کر نا دیا ۔
ہششش ۔جارج نے پوری قوت سے اس جوڑے کو مارنا چاہا ۔
مگر وہ اڑے نہیں ۔ویسے ہی گھورنے لگے ۔
جاؤ یہاں سے ۔ وہ چلایا ۔
جانا تمہیں ہے ۔۔۔تبھی ایک الو کی آواز آئ۔ اسکی گول گول انکھیں ان پر ہی مر تکز تھیں ۔
اسکی آواز سن کر ایک جھٹکا لگا تھا ۔ان تینوں کو ۔
جانا تمہیں ہے ۔ ہمیں نہیں ۔ یہ کہہ کر الو بہت تیزی سے پھڑ پھڑایا ۔ اسکے ساتھ ہی سارا کمرا الوؤں سے بھر گیا ۔
اور سب جاؤ جاؤ کی صدا دے رہے تھے ۔
پروں کی پھڑ پھڑاہٹ نے سارے ماحول کو ڈراؤنا بنا دیا تھا ۔ ایک پل میں الوؤں نے انہیںبھاگنے پر مجبور کیا ۔ وہ تینوں وہاں سے بھاگے ۔انہیں بھاگنا ہی تھا ۔ مگر کہاں ۔
وہ بس بھاگ رہے تھے ۔ الو انکے پیچھے تھے ۔ دائیں بائیں ۔ الو کھڑے تھے ۔
جاؤ ۔ایک الو زور سے بولا تو اسکی آواز انکے کان کے پردے پھاڑ گئ۔
اب وہ ہال کی سیدھ میں بھاگتے جارہے تھے ۔
بھاگتے بھاگتے وہ اس بنگلہ کے آخری کنارے آ گۓ تھے ۔ یہاں ایک ویران باغ تھا ۔ جس میں کوئ بھی سبز درخت نہیں تھا ۔۔اور اس سے آگے وہ مین گیٹ تھا جہاں سے وہ ڈیرک کے ساتھ اندر آۓ تھے ۔
وہ اب تھک گۓ تھے ۔یہاں آنے تک حیرت انگیز طور پر الوؤں نے بھی پیچھا کر نا چھو ڑ دیا تھا ۔
وہ تینوں ہانپتے ہانپتے ایک سنگی بنچ پربیٹھ گۓ تھے ۔ ان کا سانس ابھی بھی ہموار نہیں تھا ۔
جارج ۔تو نے کس جنم کا بدلہ لیا ہے ۔ہمیں ایسی جگہ لے آیا جہاں الو ۔۔۔الو بولتے ہیں ۔ ہنری نے دانت پیستے ہو ۓ کہا تھا ۔
میرا خیال بس اڈونچر کا تھا ۔مگر یہاں تو ہر چیز اڈونچر سے آگے کی ہے ۔ یہاں تو سالے الوؤں نے ہی جان نکال دی ۔ابھی تو پتا نہیں کیا کیا باقی ہے ۔ جارج کے لہجے سے بھی فکر مندی جھلک رہی تھی ۔
ہمیں یہاں پورے پانچ دن گذارنے ہیں ۔اور ابھی ایک دیڑھ گھنٹہ میں ہی ہمارے کس بل نکل گۓ۔ پال نے اسے جیسے یاد دلایا ۔
ہممممم ۔ جارج جیسے کچھ سوچ رہا تھا ۔
یار ۔میرا ارادہ یہاں نا پہلے آنے کا تھا نا اب ہے ۔اس لیۓ میں جا رہا ہوں ۔ ہنری کو ہر کامکی جلدی ہو تی تھی ۔ وہ گیٹ کی طرف لپکا تھا ۔۔ یہاں اندر کی نسبت اجالا تھا لیکن روشن نہیں ۔
جاؤ ۔ میں تمہیں روکوں گا نہیں ۔ جارج نے شانے اچکاۓ تھے۔
ہنری گیٹ کو کھولنے لگا ۔ لیکنوہ نا کام رہا ۔ اس نے کئ بار کوشش کی ۔ گیٹ دھڑدھڑایا مگر بے سود ۔ گیٹ نا کھلا ۔
اس نے قریب کی دیوار پر اپنے۔ قدم جماۓ ۔وہ اب دیوار پھا ندنا چاہ رہا تھا ۔
ہم انکی قید میں ہیں ۔یہ اسے کونسمجھاۓ ہم بظاہر خود سے آۓ ہیں ۔لیکن ۔۔۔۔جارج رکا ۔ پال اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
لیکن ۔۔۔
لیکن یہ کہ وہ ہمیں کھینچ کر یہاں لاۓ ہیں۔اب ہم انکی مرضی کے بغیر یہاں سے نہیں جا سکتے ۔ جارج نے اپنی بات مکمل کی تھی ۔
تبھی انہیں ہنری کی چیخیں سنائ دی تھیں ۔
وہ اٹھ کر اسکے قریب گۓ ۔تو دیکھا ہنری جس دیوار کو چھوٹی سمجھ کر پھلاندنے چلا تھا وہ دیوار اب دیوار چینبنگئ تھی ۔ چوڑائ میں نہیں لمبائ میں۔
اور ہنری نے اپنے ہاتھوں سے دیوار کو پکڑا تھا ۔اور اب اسکے ہاتھ دیوار پر سے پھسلتے جا رہے تھے ۔
جارج جارج پال بچاؤ ۔میںگر جاؤںگا اسکی چیخوں سے ماحول کا سناٹا ٹوٹنے لگا تھا ۔
دیوار بڑھتی جا رہی تھی ۔ اونچی اور اونچی ۔۔ہنری کی چیخیں دل چیرنے لگی تھیں ۔
جارج ۔ پال بےچین ہو اٹھا ۔ وہ بےچین سا ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ شاید کچھ ملے کچھ ایسی چیز جس سے وہ ہنری کو بچا سکے ۔
جارج ۔وہ چیخا ۔
ہنری کو کچھ نہیں ہو نا چاہیۓ ۔ وہ ہمارا بچپن کا دوست ہے ہم اسے یوں کھو نہیں سکتے ۔
جارج کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہنری کو نیچے کیسے اتارے ۔ دیوار اتنی اونچی ہو چکی تھی کہ ان کا ہاتھ بمشکل ہی پہنچ سکتا ۔ لیکن کوشش تو انہیں کرنی تھی ۔
ہنری کے ہاتھ دیوار پکڑے شل ہو چکے تھے ۔
جارج وہ کمزور آواز میں پکار رہا تھا ۔
پال ۔۔۔وہ اب رونے لگا تھا ۔
نیچے جارج اس باغ کے اطراف چکر کاٹنے لگا تھا ۔
وہاں کچھ بے کار سامان پڑا تھا ۔کچھ ٹوٹی لکڑیاں ٹوٹی کرسی ،بےکار سامان وغیرہ ۔ وہ اس میں ٹٹولنے لگا کہ کچھ ملے ۔
وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہا تھا ۔اسکی تیز ہو تی دھڑکنیں اسے خود سنای دے رہی تھیں ۔
پال بھی وہیں کھڑا ہنری کی ہمت بڑھا رہا تھا ۔
ہنری ۔ اپنے آپ کو قابومیں رکھو ۔ ہاتھ چھوڑنا مت ۔
ہنری کی آنکھیں بند ہو گئیں تھیں ۔ اب اسکا ہاتھ ڈھیلا پڑھتے پڑھتے چھوٹنے لگا تھا ۔
ماں ۔میری ماں بچاؤ ماں ۔ یہ آخری چیخ ہنری نے ماری تھی ۔ اور لفظ ماں سے سارے ماحول کا سحر ٹوٹ گیا تھا ۔
وہ جو دیوار کوپکڑا تھا ۔آہستہ آہستہ چھوٹی ہونا شروع ہو گئ تھی ۔
جارج ۔ اس نے دیکھا وہ نیچے آرہا تھا ۔ مارے خوشی کے وہ پھر جارج پکار رہا تھا ۔
میں نیچے آرہا ہوں ۔
اور وہ دونوں جو ساری کوششیں ترک کر بیٹھے تھے .اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نیچے آتے دیکھ رہے تھے ۔
لیکن ۔ یہ کیسے ہوا ۔ پال ابھی بھی سکتہ میں تھا ۔
ماں ۔۔۔جارج بڑبڑایا ۔
اسکی ماں کی دعا نے اسے بچا لیا ۔
ہنری نیچے اتر گیا تھا ۔ اور اب ان دونوں کے پاس تھا ۔
"وہ کافی طاقتور ہے ۔ جارج ۔" ہنری اور پال نے بیک وقت کہا تھا ۔
ہممم ۔ یہ لو ۔ اس نے اپنے بیگ سے دو رومال انہیں دیۓ تھے جو سیاہ رنگ کے تھے۔۔
اوڑھ لو اسے۔ اب ہمیںاندر جانا چاہیۓ ۔ ہم اندر باہر دونوں طرف سے خطرے میں ہیں ۔مگر اندر تو جانا ہی ہے ۔ وہ اطراف میںایک پر سوچ نظر ڈالتا خود بھی سیاہ رومال سر پر ڈال چکا تھا ۔
رومال کے سر پر ڈالتے ہی وہ انہیں پورا ڈھک چکا تھا ۔ ایسا کہ وہ تاریک ماحول کا ایک حصہ لگ رہے تھے ۔
وہ دھیرے دھیرے بڑھ رہے تھے ۔ لیکن انکے قریب ہی دو سرخ آنکھیںانہیں گھور ہی تھیں ۔ وہ آگے بڑھنے لگے تو وہ سرخ آنکھوں والا سایہ بھی انکے ساتھ بڑھنے لگا تھا ۔ جو کہ انہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔
انہیںپتا نہیں تھا کہ وہ تین سے چار ہو گۓ ہیں ۔
جاری ۔
۔۔ ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں