ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔موت کے در پر دستک

 وہ تینوں نیو یارک شہر کے ایک پارک میں کھڑے تھے ۔ ۔ جارج ،پال اور ہنری ۔۔۔

جارج سنڈے اخبار پکڑے اشتہارات دیکھ رہا تھا  اسکی نظر ایک عجیب و غریب اشتہار پر پڑی ۔ اور وہ چونک کر اس اشتہار کو دوبارہ پڑھنے لگا ۔پڑھتے ہوے اسکی آنکھیں چمکنے لگیں ۔

تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم فیوچر میں کیا کر رہے ہو گے ۔ 

اس نے اچانک اپنے قریب بیٹھے پال کو پوچھا ۔ 

میں ضرور روزانہ کی  بنیاد پر   کام کرنے والا ایک مزدور ہوں گا ۔ وہ مایوسی سے بولا ۔‌

اور تم ۔۔۔اب اس نے ہنری کی جانب نظر کی تھی ۔

میں ۔یار میں فیوچر میں اپنی نناویں گرل فرینڈ کے چھوڑنے کا غم منارہا ہو گا ۔ اس نے ایک پتھر کھینچ کر پھینکا تھا ۔

اور تو ۔۔۔تو کیا کرے گا ۔ وہ دونوں اب اسے دیکھ رہے تھے ۔ 

میں‌۔۔۔اس کی آنکھیں پراسرار سی ہو گئیں ۔ 

میں ون ملین ڈالر کو دو ملین ڈالرز  کیسے بناتے ہیں  سوچ رہا ہوں گا ۔‌

کیا ۔۔۔وہ دونوں اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پاگل ہو 

بتاتا ہوں ۔اب میرے ساتھ چلو ۔ اس نے وہ اخبار اٹھایا اور ان دونوں کو لیۓاٹھا ۔‌

جارج ایک تیس پینتیس کی عمر کا  ایک نڈر بہادر مرد  تھا اسکے۔ دونوں ساتھی بھی تقریباً اسکے ہی ہم  عمر کے تھے ۔ وہ اونچے ڈیل ڈول کا مالک تھا اسکی آنکھیں ذہین تھیں اور  ۔اسے اڈونجرز پسند تھے ۔ 

ان تینوں نے آس اشتہار والے کے پاس جانے کا  ارادہ کیا اور اب وہ اس فلک بوس عمارت کے سامنے کھڑے تھے ۔ 

اس وقت گھڑی بارہ بجارہی تھی ۔اور سورج کی کرنیں ان پر پڑ رہی تھیں ۔ وہ تینوں اس عمارت کے اندر چلے گۓ۔جہاں پر 

ایک کاونٹر بنا  ہوا   تھا۔جس کے سامنے رکھی ایک کرسی پر  بوڑھی ریسیپشنسٹ بیتھی تھی ۔جسکے سر کے بال پورے سفید تھے  وہ تینوں ایسی بو ڑھی ریسیپشنسٹ کو دیکھ کر بد مزہ ہو گۓ ۔ ۔

ایکسیوزمی ۔ جارج نے ہاتھ بڑھایا ۔

آی ایم ۔جارج ۔  اور یہ میرے فرینڈز ہیں ۔ ہمیں اس جگہ  پر جانا ہے ۔ 

اس نے اخبار سے نکالا وہ تراشہ بتا یا ۔

ڈیمن ہاؤس ۔۔۔ہمیں اس مکان کے مالک سے ملنا ہے ۔ جارج نے بوڑھی کو جلدی جلدی بتایا ۔

بوڑھی یکایک اٹھی اور گھبرا گئ۔ اسکے چہرے پر پسینہ چمکنے لگا ۔

آپ کو  یہ اشتہار کیسے ملا ۔ اسکی آواز سے لگ رہا تھا ۔وہ گھبرائ ہو ئ ہے۔ 

اس اخبار کے ساتھ یہ ہمیں ملا ۔ اور اب ہم اس اشتہار کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں ۔ اب کہ جارج نے تفصیل سے بتایا تھا ۔ساتھ ساتھ اسکی نظریں اس بوڑھی کی حرکات و سکنات پر تھیں ۔ 

اس نے اپنے کپڑے خوامخواہ ٹھیک کۓ تھے ۔ ۔

آپ   دائیں سے سیدھا   جائیں۔ آپ کو مسٹر ڈیرک وہیں ملیں گے ۔ اس نے کہا۔ اور بیٹھ گئ۔

اسکے رویہ  پر وہ تینوں تھوڑا حیران ہو ۓ مگر کندھے اچکاۓ وہ لفٹ کی طرف بڑھے تھے ۔ لفٹ میں بٹن پش کرکے وہ لوگ اب منتظر تھے کہ لفٹ چلے مگر لفٹ رکی کی رکی  رہی ۔ وہ  بٹن دباتے دباتے پریشان ہو گۓ۔ 

کیا ہوا ۔ آخر ہنری کو پوچھنا پڑا ۔

یار لفٹ خراب ہے شاید ۔ہمیں سیڑھیوں سے جانا ہو گا ۔ جارج نے آخری بار بٹن دبایا تھا ۔مگر لفٹ میں حرکت نہیں ہوئ تو 

 ۔ وہ دونوں سیدھا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گۓ تو نا چار اسے بھی جانا پڑا ۔

جب وہ تینوں اوپر پہنچے تو تینوں ہانپ رہے تھے ۔ یہ بارھویں فلور تھی اب ایک فلور باقی تھا ۔

کسی دن مجھے موقعہ ملا تو میں اسکا گلا دبادوں گا ۔ 

نہیں اسکا خون میرے ہاتھ ہو گا ۔دیکھ لو ۔ وہ دونوں جارج پر غصہ سے ابل پڑے تھے ۔ 

مر جاؤ یار ۔میں توتم لوگوں کو عیش کی زندگی دینا چا ہتا ہوں اور تم ہو کہ ۔۔۔۔وہ اس فلور پر پہنچ چکے تھے ۔

سامنے ہی آفس تھا جس پر لیٹ ڈیرک کا نام چمچما رہا تھا ۔

لیٹ ۔ ؟ ہنری کی نظر پڑی ۔

اوہ نو ۔پال نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا 

ارے غلطی سے لکھا ہو گا ۔تم کو کیا لگا ۔ وہ مر ا ہوا آدمی ہمارا انٹرویو لے گا ۔‌

وہ ایکسیوزمی کہتا اندر چلا گیا تھا اسکے ساتھ وہ دونوں بھی پیچھے تھے ۔

ہاۓ آی ۔ایم جارج ۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھایا ۔ سامنے کرسی پر  مسٹر ڈیرک عمر پچاس سال کے لگ بھگ ، سیاہ چشمہ آنکھوں پر چڑھاے نجانے نیچے  کیا دیکھ  رہا تھا ۔‌

اس کی آواز پر بھی اس نے سر نہیں اٹھا یا اور نا اس نے ہاتھ بڑھایا ۔

سارا آفس ایک پر اسرار سی خاموشی میں ڈوبا تھا ۔ کمرا اے سی ہونے کے باوجود گرم محسوس ہو رہا تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا کوی گرم ہوا پھینک رہا ہو ۔ 

جارج اسکے ردعمل کو نا پا کر کھنکھارا ۔‌

سکوت ٹوٹ گیا اور اس نے اپنا سر اوپر کیا ۔ ہنری اور پال کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئ۔ 

انکے سامنے ایک بے حد سیاہ شخص  سفید آنکھءں لیۓ انہیں گھور رہا تھا ۔ اسکی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ وہ تینوں منجمد ہو گۓ تھے۔

۔سر آی ایم جارج ۔مجھے اس ایڈ کے بارے⁦ میں بات کرنی تھی ۔ جارج  اپنے اندر بہت ہمت مجتمع  کر کے مخاطب ہوا تھا ۔ لیکن‌اسکی آواز میں ابھی بھی  لرزش محسوس ہو رہی تھی ۔ 

لیٹ ڈیرک نے ایک نظر جارج کے ہاتھ میں مو جود   اس  اشتہار کو  دیکھا ۔اسکی سفید آنکھیں کچھ اور سفیدی مائل ہو گئیں ۔ 

آپ نے اسے اچھے سے پڑھ لیا ۔ جارج ہی اسکا مخاطب تھا ۔

جی ۔ 

میرے سامنے اس اشتہار کو ایک اور بار پڑھیں ۔ لیٹ ڈیرک کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھا تو اسکا قد بہت زیادہ لمبا محسوس ہو رہا تھا ۔ 

ایک گھر   پانچ دن کی رہائش مفت ،کھانا پینا مفت ،جہاں ہر قسم کی شراب مفت ۔ یہاں رہیۓ پانچ دن  صرف پانچ دن ۔آپ کو یہاں پانچ دن مکمل گذارنے پر ون ملین ڈالر کا نقد انعام ملے گا ۔ کنڈیشنز اپلائ ۔

جارج نے زور سے سارا اشتہار دہرایا تھا ۔

آپ کو لگتا ہے⁦⁩کہ آپ اس گھر میں پانچ دن رہ پائیں گے ۔ مسٹر لیٹ ڈیرک معنی خیز سی مسکراہٹ اپنے سیاہ ہنٹوں پر لا  کر پو چھ رہا تھا ۔‌

ہاں ۔ جارج نے یقین‌سے کہا ۔ 

اوہ ۔ریلی ۔ وہ پھر سے کرسی کی بیک کوٹیک لگا چکا تھا ۔ اب کہ اسکے انکھوں  میں  واضح تمسخر نظر آ رہا تھا ۔  جارج کچھ نہیں بولا اورودونوں تو ویسے بھی ماحول کے تناؤ میں خود کو ان فٹ محسوس کر رہے تھے ۔ 

اوکے ۔آپ ابھی چلیں گے میرے ساتھ ۔ یا ابھی کچھ پوچھنا ہے ۔ 

مجھے ان کنڈءشنز کے بارے میں بات کرنی ہے ۔ 

وہ دھیرے دھیرے تمہیں خود بخود پتا چل جائیں  گی۔ 

ٹھیک ہے ۔ میں کل آؤں گا اور ایگریمنٹ بھی سائن کرو ں گا اور ساری ٹرمز اینڈ کنڈیشنز بھی⁦ پڑھ لوں گا ۔‌


اوکے۔ ۔آپ تینوں جا سکتے ہیں ۔‌وہ پھر سے نیچے اپناسر جھکا کر بولا تھا ۔

اس نےایک کاغذ انہیں دیا اور خود کسی گڑھے میں جیسے غائب ہوا ۔ 

وہ لوگ اب اپنے فلیٹ میں بیٹھے جارج سے لڑ رہے تھے ۔

مجھے اس کھیل سے آؤٹ ہو نا ہے ۔مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ کر سکوں گا  ۔ ہنری نے اپنا موقف واضح کیا ۔

اور میں بھی ۔آؤٹ ہی ہونا چاہوں گا ۔مجھے کنوارا مرنا نہیں پسند ۔ پال نے مسکین‌سی صورت بنا‌لی ۔

کیوں ۔ جارج نے ان کی طرف گھوم کر دیکھا ۔

یہ تو کہانی ہی الٹی ہے ۔کوئ لیٹ ڈیرک اشتہار دیتا ہے اور ایک بوڑھی رسیشپشنسٹ ہمیں اسکا پتا بتاتی ہے ۔ اور جب ہم جاتے ہیں تو وہ ہمیں یہ بھی نہیں بتاتا کہ آخر اس سب کا راز کیا ہے ۔ 

ڈارک ڈیمن  ہاؤس ۔ کیا تم نے کبھی یہ نام نہیں سنا ۔ اب کہ جارج سنجیدہ ہوا ۔اس کا لہجہ پراسرار سا تھا ۔

نہیں ۔ وہ دونوں بیک وقت بولے ۔

یہ ایک پچاس سالہ  قدیم مکان ہے جو کہ ایک     گاوں میں ہے  ۔ اس کے بارے میں کئ کہانیاں میں نے پڑھی ہیں ۔ اور ہر کہانی میں‌ایک بات کامن ہے ۔

کیا ۔

ڈیمن ۔یعنی شیطان ۔‌اس گھر کے مالک کو اس گھر سے بہت سارا روپیہ پیسہ ملا تھا جب اس نے یہ گھر خریدا تھا ۔لیکن‌پھر نجانے کیا ہوا کہ وہ مالک اچانک غایب ہوا ۔ اسکی فیملی میں بیوی ایک بیٹا اور بیٹی تھے جو کہ پراسرار طور پر غایب ہوۓ۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ اس گھر نے ان سب کی جان‌لے لی۔ 

جارج جب بول رہا تھا تو وہ دونوں کے چہرے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے ۔

مطلب ۔شیطان ۔۔اور تم ہم لوگوں کو اس شیطان سے ملاقات کرروانے لے جارہے ہو ۔ ہنری کی پھنسی پھنسی آواز نکلی۔

نہیں ۔ میں اور تم دونوں اس شیطان سے مقابلہ کریں گے ۔اور یہ انعام جیتیں گے ۔ جارج نے بڑے اطمینان سے کہا ۔

مقابلہ ۔۔۔۔یہ بولو موت سے آمنا سامنا ۔نہیں میں نے کہا نا ۔میں اس مقابلہ میں حصہ نہیں لوں گا ۔ پال نے خوفزدہ ہو کر کہا تو جارج نے اسے گھورا ۔

ٹھیک ہے تم جاؤ ۔لیکن تم ان کی نظر میں آچکے ہو ۔ وہ اتنی آسانی سے جانے نہیں دیں گے ۔ 

کیا مطلب ۔ کس کی نظروں میں آۓ ہیں ہم ۔ ہنری بھی ڈر کر پوچھ بیٹھا ۔

ان ڈیمن‌کی ۔کیونکہ میں جب تم لوگوں کو لے کر  آیا تھا تو بہت کچھ قید ہو گیا ۔اب میں اور تم کچھ نہیں کر سکتے ۔ اسکی بات پر ان دونوں کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔

مطلب ۔دونوں کی پھنسی پھنسی آواز نکلی ۔

ہم کل صبح اس گھر کے لیۓ نکل رہے ہیں ۔ تیار رہنا ۔ مسٹر ڈیرک کی گاڑی آرہی ہے ہمیں لینے ۔

جارج قطعی بات کرکے جا چکا تھا جبکہ  دونوں کے  فق چہروں  پر ہوائیاں اڑنے لگیں تھیں ۔‌

آج  پچیس فروری تھی   ۔ وہ دونوں جارج کے ہمراہ اپارٹمنٹ کی کھڑکی پر کھڑے تھے ۔‌

تبھی زن سے ایک گاڑی آئ تھی اور کھڑکی کے قریب اس نے ہارن دیا تھا ۔

جارج اپنا بیگ لیۓ ان دونوں کو اشارہ کرتا اندر گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔ مرتے کیا نا کرتے کے مصداق وہ دونوں بھی اس کھڑکی سے کود کر اس گاری میں بیٹھ گۓ تھے ۔جسکا کوئ چلانے والا نہیں تھا ۔

ایک لمحہ کی دیر تھی ۔وہ دونوں آنکھیں بند کر کے بیٹھے تھے کہ انکی منزل آ گئ تھی ۔

اور وہ تینوں اس ڈیمن ہاؤس کے سامنے آ کر رک گۓ تھے ۔ 

ابھی  صبح کے آٹھ بج رہے تھے لیکن سرد موسم اور کہر نے بالکل اندھیرا سا کر دیا تھا ۔

ڈیمن‌ہاؤس ایک بہت بڑے رقبے پر بنا یا گیا بنگلہ  لگ رہا تھا ۔سارا بنگلہ  جگہ جگہ سبز سبز بیلو ں سے ڈھکا ہوا تھا ۔ ایک بڑے سے آہنی گیٹ کے سیدھے جانب ڈارک ڈیمن ہاؤس لکھا صاف نظر آ رہا تھا ۔

ویلکم مسٹر جارج ۔‌۔ ایکدم سے انکے کانوں میں مسٹر لیٹ ڈیرک کی آواز ابھری تھی ۔ 

وہ اچھل کر پلٹے تھے ۔ 

مسٹر ڈیرک نے آج بھی سیاہ بڑا سا کوٹ پہنا تھا ۔اور آنکھوں پر سیاہ چشمہ تھا ۔‌وہ  اتنےلمبے نظر آ رہے تھے کہ انکے چہرے کو دیکھنا بھی مشکل لگ  رہا تھا ۔

انکے ہاتھ میں  چابی تھی ۔ وہ دروازہ کی طرف بڑھے اور تالا کھول دیا ۔

اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتے انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔

رکو ۔ میں پہلے بیل بجاؤں ۔

بیل ۔لیکن دروازہ تو باہر سے بند تھا ۔ آپ بیل کس کے لیۓ بجائیںں گے ۔‌جارج کو ایک گہرا جھٹکا لگا ۔

مسٹر ڈیرک نے کچھ نہیں کہا بس بیل پر ہاتھ رکھا ۔

ایک عجیب سی حزن بھری بیل ہو نے لگی ۔جیسے کسی کے رونے کی آواز ۔ 

وہ تینوں ششدر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کھڑے تھے ۔

مسٹر ڈیرک نے تین بار بیل بجائ ۔ 

ہاں ۔وہ دستک تھی موت کے دروازہ پر دستک ۔

اور ان تینوں کی جان حلق میں آ گئ تھی ۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ