اشاعتیں

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 51

میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 51  وہ سب سے مل کر باہر آئ تو وہ بائیک سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا ۔ اور اب اسے آتا دیکھ رہا تھا ۔اسکے قدموں کی آہٹ دل میں محسوس کر تا ہوا ۔ اسکے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے ۔  " چلیں ۔ "  وہ جب قریب آئ تھی تو وہ سیدھا ہوا تھا ۔اس نے اٹبات میں سر ہلایا تھا ۔اور بیٹھ گئ تھی ۔  راستے بھر دونوں نے کوئ بات نہیں کی تھی ۔ وہ ناراض تھی ۔ اس پر اپنی ناراضگی جتانا چاہ رہی تھی۔ جب اس نے بائیک روکی تو وہ چونکی تھی ۔ ایک بے حد جدید طرز کے بنے ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے وہ دونوں کھڑے تھے ۔ طہ نے اب آگے ہو کر اس گھر کے گیٹ کا لاک کھولا تھا ۔وہ بے تابی سے اندر جانا چاہ رہی تھی۔ مگر اس نے روکا ۔ " کتنی جلدی ہے ۔ایسے ہی چلی جائینگی ۔ رکیں ۔" وہ کنفیوز سی ٹہری تھی ۔اس نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلا یا تھا ۔ " اب چلیں ۔ " اس نے چونک کر اس ہاتھ کو دیکھا تھا ۔ وہ منتظر تھا ۔اس نے ہاتھ تھامنا ہی تھا ۔ جو رشتہ بندھا تھا یہ اسکے تقاضے تھے ۔ اس نے جھجھک کر اپنا نم ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا تھا اب دونوں اندر قدم رکھ رہے تھے ۔  طہ نے ہال کی لائٹس جلائ تھیں ۔ اور تہذیب دم ب...

وہ انعام ہے میرا

 ۔اسکی تائ تو ہر رمضان نۓ برقعہ سلواتی تھیں پھر ان پر  مختلف رنگ  کے سکارف ۔ اسکی کزنز کا بھی وہی حال ہوتا تھا ۔ وہ بھی نت نۓ اسکارف پہن کر جاتیں ۔اور پھر اس سے کہتیں تھیں ۔ " روحی ۔تم تو رمضان میں باہر نکلتی ہی نہیں ہو ۔ ذرا باہر نکلو تو دیکھو ۔کتنی رونقیں ہو تی ہیں رمضان میں ۔ کتنا اچھا لگتا ہے ۔ اور بازار وں کا تو پوچھو مت ۔ اف ۔ کیا سماں ہوتا ہے" ۔ وہ سب اتنی پرجوش ہوتیں کہ وہ انہیں حیرانی سے دیکھنے لگتی ۔‌وہ کونسی رونق کی بات کر رہی تھیں  ۔رمضان کی رونق تو راتوں میں نمازوں میں ہو تی ہے ۔ تراویح میں ہو تی ہے ۔تہجد میں محسوس ہو تی ہے ۔رمضان کا حسن تو سجدوں میں ہوتا ہے بازاروں میں نہیں ۔  اسے تو بازاروں سے نفرت ہو گئ تھی ۔  اس وقت سے جب دو تین سال پہلے  رمضان میں یونہی کزنز کے کہنے پر چوڑیوں کے لیۓ نکلی تھی ۔ اس وقت وہ ا بھی اتنی باشعور نہیں تھی ۔ وہ سب کی سب چوڑیاں دیکھ رہی تھیں ۔ وہ بھی ایک جانب ٹہری چوڑیاں دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر ا ایک کمسن لڑکی پر پڑی ۔ وہ چوڑی والے انکل کو چوڑیاں پہنانے کے لیے کہہ رہی تھی ۔ یہ ایک عام بات تھی اکثر چوڑی والے یون...

رمضان ۔۔ماہ رحمت. وہ انعام ہے میرا

وہ انعام ہے  میرا  جیسے ہی مغرب کی نماز ختم ہو ئ وہ سب چاند دیکھنے چھت پر چلی گئیں تھیں ۔ وہ ،حمنہ ،علیزہ اور کشف ۔ان سب کو چاند دیکھنے کی شدید چاہ تھی ۔  " ارے وہ دیکھو ۔ چاند ۔"حمنہ چلائ اور وہ سب اس چاند کو دیکھنے لگے جو ماہ رحمت کی نوید لیکر آ یا تھا ۔ " ہاۓ اللہ ۔ کتنا باریک سا ہے ۔" "نظر آگیا غنیمت ہے ۔ " "چلو کل سے روزے شروع ۔" وہ تینوں "امی چچی رمضان مبارک کا چاند نظر آگیا "پکارتی نیچے چلی بھی گئیں اور وہ یعنی روحی اکیلی رہ گئ۔ اس نے اپنا دوپٹہ سر پر لیا تھا اور  چاند کو دیکھ کر اپنی مخصوص دعا مانگی ۔ "حرام سے بچنے کی ۔اور حلال پانے کی دعا ۔" وہ دعا مانگ کر نیچے آئ تھی تو سب کی چیخ و پکار بھی سنائ دے رہی تھی ۔  حمنہ کشف اب اپنے فرینڈز کو رمضان مبارک کا پیغام دے رہی تھیں۔  تائ تھیں تو انکے اپنے مسئلے  تھے ۔ " میں نے تو کچھ بھی تیاری نہی کی سحر کی اور چاند نظر آگیا ۔ اب کیا پکاؤں سحر کو ۔ "  "آج کے بجاۓ کل نظر آتا تو اجھا تھا ۔ مرغ تو منگوا لیتی "  "چلو ۔کچھ نہیں قیمہ تو ہے "۔ وہ بولتی اب اپ...

چار مینار ۔۔۔۔۔حیدرآباد کا دل

 چار مینار ہم حیدرآبادیوں کے لیۓ اتنا ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا تاج محل آگرہ کے لیۓ یا ایفل ٹاور پیرس کے لیۓ ۔یہ چار سو سالہ قدیم عمارت ہماری تہذیبی ورثہ اور تعمیرات کی ایک بہترین مثال ہے ۔ اس لیۓ اس کو ہم شہر حیدراباد کا دل کہیں تو غلط نا ہو گا ۔ ہم بھی بحیثیت حیدرآبادی چار مینار کے مداح ہیں اور بحیثیت خاتون اسے خریداری کا مرکز قرار دینے میں ہمیں کوئ مضائقہ نہیں ۔ ہم اس تہذیبی عمارت کے اتنے بڑے عاشق ہیں کہ اسکے خواب ہمیں  اکثر آتے رہتے ہیں اور یہ ہمارے خواب میں اکثر جلوہ نما ہو تا ہے ۔اس رات بھی چار مینار اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے خواب میں جلوہ نما تھا اور ہم اس خوب صورت عمارت کے دیدہ زیب جلؤں کو دیکھ کر محو حیرت تھے۔ " تم ۔یہاں کیوں آۓ ہو ۔":یہ ہمارا پہلا سوال تھا چار مینار سے ۔ " جب تم ہر دوسرے دن میرے یہاں آ سکتی ہو تو میں کیوں نہیں آ سکتا ۔ " وہ بڑے کر وفر سے بولا ۔ اچھا ۔آ گۓ ہو تواپنا تعارف بھی کر وادو ۔ " ہم نے لگے ہاتھوں اپنا بھی مسئلہ حل کرنا چاہا ۔ " کیوں ۔ "  " کچھ نہیں دراصل ہمیں تعمیر نیوز کے لیۓ تم پر مطلب چار مینار پر اپنا مضم...

میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط پچاس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط پچاس  " تہذیب باجی تہذیب باجی ۔ آپ کو آپا جان نے تیار ہونے کے لییۓ کہا ہے ۔ " عابد اسے آواز دیتا آیا تھا جو صبح سے سر جھاڑ منہ پھاڑ بیٹھی تھی ۔  " میں نے کہا نا ۔مجھے تیار نہیں ہونا ۔ " وہ چڑ کر بولی تھی ۔ " لیکن وہاں صابرہ پھپھو وغیرہ سب آئیں ہیں سارے مہمان بھی آنے شروع ہو گۓ ہیں ۔ تو آپا جان نے مجھے بھیجا ۔ " عابد نے اسکے کپڑے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا تھا ۔ " صابرہ پھوپھو ۔ آگئ ہیں ۔ اور کون کون آۓ ہیں ۔ " اس کا دل دھڑک گیا تھا ۔ " جی ۔پھو پھا ۔بھپھو اربیہ اظہار سب ہی " عابد جیسے یاد کرنے لگا ۔ " یہ سب ہی ہے ۔ " اس کا موڈ آف ہوا ۔ " ہاں سب ہی تو ہیں ۔ عابد حیران تھا کہ اس نے کس کا نام مس کیا ۔ " اب تم جاؤ ۔ میں ابھی تھوڑی دیر سے آ رہی ہوں ۔ " وہ اسے غصہ سے باہر بھیج کر خود پھر سے لیٹ گئ تھی ۔ " انا پرست ۔ میں نے بھی تیار ہی نہیں ہونا ۔ چاہے دنیا ہی ادھر کی ادھر ہو جاۓ ۔ " وہ پھر سے منصوبے بنا نے لگی تھی ۔ ":کتنا ضدی ہے ۔ اگر آ جاتا تو ۔۔۔" اس کی آنکھ نم ہوئ تھی ۔ **********...

میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 49

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 49   آج جمعہ تھا ۔ امی کی تیاری صبح سے ہی زور و شور سے تھی جبکہ وہ کچھ لو فیل کر رہا تھا ۔امی  بھائ کے لیۓ کپڑے ،بھاوج کو سوٹ اور تہذیب کے لیۓ بھی سوٹ لیۓ جا رہی تھیں ۔ آج ان کے پاؤں یوں بھی زمین پر  نہیں ٹک رہے تھے ۔ عصر ہوتے ہی وہ اس کے پاس آئ تھیں ۔ " طہ ۔ تم نے اپنی تیاری کر لی ۔ "  " نہیں ۔ " وہ مختصر کہہ کر صوفہ پر لیٹ گیا تھا ۔ " کیا مطلب نہیں ۔ تم نیں چل رہے ہمارے ساتھ ۔ " وہ اب  تھوڑا پریشان ہوئیں ۔ " نہیں ۔ " اس نے پھر مختصر کہا ۔ ": لیکن کیوں ۔ طہ "  وہ چڑ کر بولیں تھیں ۔ " بھائ نے خاص طور پر بلایا ہے ۔ اور تم ۔"  " امی آپکے بھائ نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے ۔ مجھے نہیں ۔ آپ جائیں ۔ " وہ پھر  سے وہی طہ بن گیا تھا ۔ ضدی اور اکھڑ سا ۔ " تو میرا بھائ تمہارا کچھ نہیں لگتا ۔ کیا کوئ رشتہ نہیں ہے تمہارا ان کے ساتھ ۔ " وہ اپنے غصہ کو ضبط کر نے لگیں تھیں ۔ " پتا نہیں ۔ اب آپ پلیز مجھ پر دباؤ مت ڈالیں ۔ویسے بھی میرے سر میں درد ہے ۔ " وہ جڑ بھی گیا تھا اور عاجز بھی ۔ " ط...

میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 48

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 48  وہ سب رات کا کھانا کھا کر بیٹھے تھے ۔اربیہ چاۓ بنا رہی تھی ۔ " امی ۔ اب گھر کا کام تقریباً مکمل ہو گیا ہے ۔ تو میں کہہ رہا تھا پہلی تاریخ کے آنے  تک ہم اپنا سامان شفٹ کرنا شروع کر دیں تو اچھا رہے گا ۔ " طہ نے ماں کو دیکھ کر کہا تھا  " اچھا ۔سچ میں گھر مکمل بن گیا ۔ " وہ حیران ہوئ  تھیں ۔بلکہ سب ہی حیران تھے کافی کم وقت میں گھر مکمل ہوا تھا ۔ ہاں ۔ اس لیۓ اچھا ہے شفٹنگ بھی دھیرے دھیرے شروع کر لیں تاکہ کام کا بوجھ بھی نا ہو ۔ " وہ اداس مسکراہٹ سے بو لا تھا ۔ " بہو ۔آ جاتی تو ۔سارا کام کر لیتی ۔میری  بوڑھی ہڈیوں میں دم نہیں ۔ " صابرہ بیگم نے کچھ اس طرح کہا کہ وہ مسکرایا ۔ " ہر چیز کی تان بہو پر آ کر ہی ٹوٹتی ہے ۔ ہم سب ہیں نا ۔ ہم ملکر کر لیں گے ۔ آپ بس نگرانی کریں ۔ "  " لیکن طہ ۔ وہاں پانی لائٹ وغیرہ کا انتظام ہوا بھی کہ نہیں ۔ "  نظیر صاحب کو یاد آیا ۔ " ابا ۔وہ تو سب سے پہلے کر وایا ہے ۔ آپ بے فکر رہیں ۔ بس کچھ باہر کی  فنشنگ ہے زیادہ کچھ کام نہیں اب ۔ پندرہ بیس دن میں سب ہو جائیگا ۔" اس نے کہتے ...