میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔قسط پچاس

 میرے ہم نوا ۔۔۔قسط پچاس 

" تہذیب باجی تہذیب باجی ۔ آپ کو آپا جان نے تیار ہونے کے لییۓ کہا ہے ۔ " عابد اسے آواز دیتا آیا تھا جو صبح سے سر جھاڑ منہ پھاڑ بیٹھی تھی ۔ 

" میں نے کہا نا ۔مجھے تیار نہیں ہونا ۔ " وہ چڑ کر بولی تھی ۔

" لیکن وہاں صابرہ پھپھو وغیرہ سب آئیں ہیں سارے مہمان بھی آنے شروع ہو گۓ ہیں ۔ تو آپا جان نے مجھے بھیجا ۔ " عابد نے اسکے کپڑے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا تھا ۔

" صابرہ پھوپھو ۔ آگئ ہیں ۔ اور کون کون آۓ ہیں ۔ " اس کا دل دھڑک گیا تھا ۔

" جی ۔پھو پھا ۔بھپھو اربیہ اظہار سب ہی " عابد جیسے یاد کرنے لگا ۔

" یہ سب ہی ہے ۔ " اس کا موڈ آف ہوا ۔

" ہاں سب ہی تو ہیں ۔ عابد حیران تھا کہ اس نے کس کا نام مس کیا ۔

" اب تم جاؤ ۔ میں ابھی تھوڑی دیر سے آ رہی ہوں ۔ " وہ اسے غصہ سے باہر بھیج کر خود پھر سے لیٹ گئ تھی ۔

" انا پرست ۔ میں نے بھی تیار ہی نہیں ہونا ۔ چاہے دنیا ہی ادھر کی ادھر ہو جاۓ ۔ " وہ پھر سے منصوبے بنا نے لگی تھی ۔

":کتنا ضدی ہے ۔ اگر آ جاتا تو ۔۔۔" اس کی آنکھ نم ہوئ تھی ۔

**********

 اس وقت دعوت پورے شباب پر تھی ۔ابوالکلام کے بنگلہ میں تہذیب کی شادی کے بعد یہ دوسری دعوت تھی جو بڑے پیمانے پر منعقد ہو ئ تھی ۔ سارے بنگلہ میں نوکر چا کر مستعد پھر رہے تھے  ۔اس وقت خوش گوار ماحول تھا ۔اکبر سیٹھ اور انکی فیملی بھی آگئ تھی ۔ جبکہ اکبر سیٹھ ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ وہ اب نارمل ہو رہے تھے ۔

صابرہ بیگم اور رابعہ دونوں بچھڑی بہنیں بنیں نجانے کون کون سے قصے سنا رہی تھیں ۔ جبکہ امینہ ارببہ نے اپنی جوڑی بنائ تھی ۔ صابرہ بیگم کو تہذیب کی کمی کھل رہی تھی مگر وہ نظر انداز کیۓ باتوں میں مشغول تھیں ۔

اظہار اشعر سے باتوں میں مصروف تھا جب اس نے طہ  کو گیٹ پر دیکھا تھا ۔وہ اشعر سے معذرت کرتا بھاگ کر اسکے پاس آیا تھا ۔

" آخر آ ہی گۓ ۔آپ ۔" وہ خوشدلی سے پوچھ رہا تھا ۔

" اجھا یہ لو ۔تمہاری آپی کو دے آؤ ۔ میں ماموں سے مل آتا ہوں ۔ " وہ کچھ جھجھک کر اسے ایک پیکٹ پکڑا رہا تھا ۔ 

" تو آپ ہی دے آئیں نا ۔ میں کیوں دوں " اس نے پیکٹ لینے کے بجاۓ مشورہ دیا تھا ۔

" اگر اب میں جاؤں گا تو وہ میرا سر پھاڑ دے گی ۔ اس لیۓ " 

وہ اسے پیکٹ دے کر خود اندر قدم بڑھا چکا تھا ۔جہاں سب  نے اسے دیکھ کر اطمینان کی سانس لی تھی ۔

ماموں اسے گلے لگاۓ آبدیدہ ہو گۓ تھے ۔

" گھر کا راستہ ہی بھولے تھے ۔تم تو "  انکی بات پر وہ شرمندہ ہوا تھا ۔

" ماموں گھر کا بھی کام چل رہا تھا ۔ تو ۔۔۔"  اسکی بات  پر ابوالکلام نے بھی کچھ نہیں کہا ۔

اب سب اس کے گھر کے متعلق ہی پو چھنے لگے تھے ۔

******* 

تہذیب آپی ۔۔۔اظہار اس کے کمرے کے باہر کھڑا پکار رہا تھا ۔ وہ بیڈ سے اتری تھی اور باہر آگئ ۔

" تم ۔یاد آکئ تم لو گوں کو میری ۔ " اس نے شکوہ کیا ۔

" صرف ہمیں ہی نہیں بہت خاص لوگوں کو آپ کی یاد آگئ ہے ۔یہ لیں اپنی امانت ۔ بھیا لاۓ ہیں ۔ آپ کے لیۓ " وہ اسے پیکٹ پکڑا کر بولا تھا ۔جو ہونق اسے دیکھ رہی تھی ۔

" کیا کہا تم نے ۔ " 

" طہ بھائ آۓ ہیں آپی ۔انہوں نے جلدی تیار ہونے کے لیۓ کہا ہے وہاں سب انتظار کر رہے ہیں آپ کا ۔ " وہ جلدی سے بول کر یہ جا وہ جا ۔ اور وہ واپس اپنے کمرے میں آگئ تھی ۔اور بے صبری سے پیکٹ پھاڑا تھا ۔ وہاں ایک بہت ہی خوبصورت ہلکے نیلے رنگ کا  سوٹ تھا جس پر چھوٹے چھوٹے سرخ موتی سے ٹنکے پھول پتے تھے ۔ جو کپڑے پر بھی اصلی جیسی بہار دے رہے تھے ۔

" ہمیشہ کی طرح خوبصورت چوائس ۔"  وہ داد دیۓ بنا نا رہ سکی ۔ دوسرے کور میں ہم رنگ جیولری اور سینڈل تھے ۔

" کمال ہے ۔کتنا کچھ پتا ہے اسے ۔ " وہ ہنس ہی پڑی تھی ۔پل میں سارا غصہ اڑن چھو ہو گیا تھا ۔ وہ اب کپڑے لیکر تیار ہونے چل دی تھی ۔ 

" اسلام علیکم پھپھو ۔ " وہ اس کے لاۓ ڈریس پہنے باہر آئ تو کئ ستائشی نظریں اس پر جم گئ تھیں ۔

" وعلیکم اسلام ۔ مجھ سے ناراض ہو کر بیٹھی تھیں ۔ " صابرہ بیگم نے اسے گلے لگایا تھا ۔ 

" نہیں ۔ تیار ہو رہی تھی تو دیر ہو گئ ۔" وہ مسکراتے ان کے گلے لگی تھی ۔ 

اب وہ سب سے مل رہی تھی ۔اربیہ سے گلے  ملتے ہوۓ اس نے طہ کو اربیہ کے پیچھے ٹہرے دیکھا تھا ۔ دونوں کی نظریں ایک لحظہ کو ملی تھیں ۔ وہ نظر جرا گئ تھی ۔ 

طہ کو لگا نظروں کی پیاس پتا نہیں بجھی کہ بڑھی ۔

وہ اسے اسلام علیکم کہتی واپس مڑ گئ تھی ۔ جتنی  شکایتیں تھیں ثو اسی دشمن جان سے تھیں ۔

طہ نے بھی روکا نہیں تھا ۔ 

اب وہ سب پھر سے ریلیکس ہو کر خوش گپیوں میں مگن ہو گۓ تھے ۔ یہاں تک کہ سارے مہمان ایک ایک کر کے جانے لگے تھے ۔ اکبر سیٹھ اور ان کی فیملی بھی اب جا چکی تھی ۔ اشعر اب اتنا مہذب ہو گیا تھا کہ وہ سب سے ملکر طہ اور تہذیب کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دے کر چلا گیا تھا ۔جسے طہ نے خوش دلی سے قبول بھی کیا تھا ۔

اب صابرہ بیگم بھی نکلنے کی تیاری کر رہی تھیں تب شمیم آرا نے انکے ہاتھ پکڑ لیۓ ۔

" آپ آج یہیں رک جائیں ۔ آپا ۔ یوں تو ہمارے یہاں رکتی ںہیں ۔ آج آپ سب یہیں رک جائیں ۔ " 

صابرہ بیگم شش و پنج میں پڑ گئیں ان کی یہ بات سن کر ۔

" ہاں ۔ صابرہ رک جاؤ۔ بہت دن ہو گۓ ہیں ۔اب حج کو چلے گۓ تو پھر کب موقعہ ملے ۔ " ابوالکلام نے بھی انہیں روکا ۔وہ آبدیدہ ہوگئیں  ۔کیا کچھ نا یاد آیا تھا انہیں ۔

" لیکن بھائ۔ نیا گھر  ہے اس طرح لاک ڈال کر نہیں آسکتے ۔ ابھی اس ایریا کا پتا نہیں ۔چوری وغیرہ کا ڈر ہے ۔ " وہ ہچکچاتے بو لی تھیں ۔

" امی ۔بھیا بھابھی کو بھیج دیں وہاں ۔ ہم سب یہاں رکیں گے ۔ بھابھی نے گھر بھی تو نہیں دیکھا ۔ " اظہار نے مشورہ دیا تھا جو اس وقت سب کو پسند آیا ۔

" یہ ٹھیک ہے ۔تم دونوں چلے جاؤ ۔ ہم آج رکتے ہیں ۔ تم دو نوں  صبح آجانا ۔ " اب انہوں نے طہ کو دیکھا تھا ۔ 

" ٹھیک ہے امی ۔ " 

" پھپھو ۔ مجھے آپ کے ساتھ رہنا ۔ " تہذیب نے انکے گلے میں ہاتھ ڈالے لاڈ کیا ۔

" میرے لاڈ بعد میں کرنا ۔ پہلے شوہر کو تو دیکھ لو ۔" انہوں نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔ ۔ جسے سن کر اس کا چہرہ لال ہو گیا  تھا۔۔ 




 ۔



۔ 

 ۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ