میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 48

 میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 48 

وہ سب رات کا کھانا کھا کر بیٹھے تھے ۔اربیہ چاۓ بنا رہی تھی ۔ " امی ۔ اب گھر کا کام تقریباً مکمل ہو گیا ہے ۔ تو میں کہہ رہا تھا پہلی تاریخ کے آنے  تک ہم اپنا سامان شفٹ کرنا شروع کر دیں تو اچھا رہے گا ۔ " طہ نے ماں کو دیکھ کر کہا تھا 

" اچھا ۔سچ میں گھر مکمل بن گیا ۔ " وہ حیران ہوئ  تھیں ۔بلکہ سب ہی حیران تھے کافی کم وقت میں گھر مکمل ہوا تھا ۔

ہاں ۔ اس لیۓ اچھا ہے شفٹنگ بھی دھیرے دھیرے شروع کر لیں تاکہ کام کا بوجھ بھی نا ہو ۔ " وہ اداس مسکراہٹ سے بو لا تھا ۔

" بہو ۔آ جاتی تو ۔سارا کام کر لیتی ۔میری  بوڑھی ہڈیوں میں دم نہیں ۔ " صابرہ بیگم نے کچھ اس طرح کہا کہ وہ مسکرایا ۔

" ہر چیز کی تان بہو پر آ کر ہی ٹوٹتی ہے ۔ ہم سب ہیں نا ۔ ہم ملکر کر لیں گے ۔ آپ بس نگرانی کریں ۔ " 

" لیکن طہ ۔ وہاں پانی لائٹ وغیرہ کا انتظام ہوا بھی کہ نہیں ۔ " 

نظیر صاحب کو یاد آیا ۔

" ابا ۔وہ تو سب سے پہلے کر وایا ہے ۔ آپ بے فکر رہیں ۔ بس کچھ باہر کی  فنشنگ ہے زیادہ کچھ کام نہیں اب ۔ پندرہ بیس دن میں سب ہو جائیگا ۔" اس نے کہتے ہوۓ اظہار کو دیکھا تھا جو کافی چپ چپ تھا ۔

" کیا ہوا ۔ تم کیوں منہ لٹکاۓ ہوۓ ہو ۔ " 

" تہذیب آپی کے بغیر نۓ کھر میں جانے کا مزہ نہیں آۓ گا ۔ " وہ دھیمے سے بولا تھا طہ چپ ہوا۔

" میں کیا کر سکتا ہوں ۔ اگر وہ خود ہی نا آنا جاہے ۔ " اس نے بھی دھیمے انداز میں کہا تھا 

" آپ ایک بار ان سے بات تو کر لیں ۔ آپ نے کچھ بھی نہیں پوچھا کہ وہ کیوں گئیں اور نا انہوں نے آپ سے کہا ۔یہ کیا بات ہوئ ۔

   وہ کافی نا راض  لگ رہا تھا ۔

طہ نے اسے کوئ جواب نہیں دیا مگر ایک سوچ کا در تھا جو کھلا تھا ۔

ابھی وہ لوگ کچھ دیر بات کر رہے تھے کہ ابوالکلام کا فون نظیر صاحب کو آیا تھا ۔

" جی ۔ بھائ صاحب اللہ مبارک کرے ۔ ہاں ہاں ہم آجائیں گے ۔ جی ۔ ٹھیک ہے طہ کو بول دوں گا ۔ٹھیک ہے ۔"

انہوں نےفون رکھ دیا تھا 

" کیا کہہ رہے تھے ماموں ۔ " طہ کی تمام تر توجہ اس فون پر تھی ۔

انہوں نے اس جمعہ دعوت رکھی ہے ۔ حج کو جانے کی خوشی میں ۔ ہم سب کو بلایا ہے ۔ " انہوں نے کہا تو وہ خاموش ہوا تھا ۔

ماموں نے اس سے بات تک نہیں کی تھی ۔ یہ بات وہ محسوس کر گیا تھا ۔

کیا وہ اب ایک بیٹی کے باپ بن گئے تھے ۔ وہ سوچنے لگا تھا ۔

" لیکن میں نے ان کی بیٹی کو کوئ تکلیف نہیں پہنچائ تھی جس سے وہ مجھ سے بد گمان ہیں " وہ دل ہی دل میں سوال جواب کر رہا تھا ۔

" اگر ان کی بیٹی کی کوئ غلطی نہیں تو میری بھی  کوئ غلطی نہیں ۔ " وہ اب ایک نتیجہ پر پہنچ چکا تھا اور اب کافی پر سکون پھا ۔

********

وہ لوگ اب سامان شفٹ کرنے میں لگے تھے ۔ اگلے چار دنوں میں انہیں پورا سامان شفٹ کر دینا تھا ۔اس کے لیے طہ اظہار نے چھٹی لے لی تھی ۔اور کاموں میں لگے تھے ۔

ان دنوں کسی چیز کا ہو ش نہیں رہا تھا ۔بس جس کو جیسے سمجھ آرہا تھا سامان ٹھکانے  میں لگا ہوا  تھا ۔

جب پورا سامان شفٹ ہو گیا اور پرانے گھر کو لاک کر دیا تب ان سب کی جان میں جان آ ئ تھی ۔ اب وہ نۓ گھر میں آڑھے ٹیڑھے لیٹ گۓ تھے ۔طہ اور اظہار ساتھ لیٹے تھے جبکہ اربیہ اور صابرہ بیگم دونوں اب سارے سامان کو ڈھنک سے جما رہی تھیں ۔

طہ مسلسل چھت کو گھورے جا رہا تھا ۔ اسکی آنکھوں میں جانے کونسا نارسائ کا دکھ ہلکورے لے رہا تھا کہ اظہار تڑپ گیا ۔

" بھائ ۔ " 

" ہوں " 

" میاں بیوی میں کمینیکیشن گیپ نہیں آنا چاہیۓ " 

" ہوں ۔ مگر میرے ایشوز دوسرے ہیں ۔ وہ کوئ بھی بات چیت سے حل نہیں ہو نے " وہ کچھ مایوس سا ٹو ٹا سا لگ رہا تھا ۔

" آپ اگر ہمیں بتائیں گے نہیں تو ہم کیسے سمجھ پائیں گے ۔کہ و ہ کیا چیز ہے جو  آپ کو ہرٹ کر رہی ہے " وہ بہت غور سے طہ کو دیکھ رہا تھا ۔

" نہیں ۔ یہ ایسی بات ہے کہ میں شاید کسی کو بتا نا  پاؤں ۔ " وہ زیر لب کہتا وہاں سے اٹھ گیا تھا ۔

*******

جاری ہے ۔








تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ