وہ انعام ہے میرا
۔اسکی تائ تو ہر رمضان نۓ برقعہ سلواتی تھیں پھر ان پر مختلف رنگ کے سکارف ۔ اسکی کزنز کا بھی وہی حال ہوتا تھا ۔ وہ بھی نت نۓ اسکارف پہن کر جاتیں ۔اور پھر اس سے کہتیں تھیں ۔
" روحی ۔تم تو رمضان میں باہر نکلتی ہی نہیں ہو ۔ ذرا باہر نکلو تو دیکھو ۔کتنی رونقیں ہو تی ہیں رمضان میں ۔ کتنا اچھا لگتا ہے ۔ اور بازار وں کا تو پوچھو مت ۔ اف ۔ کیا سماں ہوتا ہے" ۔ وہ سب اتنی پرجوش ہوتیں کہ وہ انہیں حیرانی سے دیکھنے لگتی ۔وہ کونسی رونق کی بات کر رہی تھیں
۔رمضان کی رونق تو راتوں میں نمازوں میں ہو تی ہے ۔ تراویح میں ہو تی ہے ۔تہجد میں محسوس ہو تی ہے ۔رمضان کا حسن تو سجدوں میں ہوتا ہے بازاروں میں نہیں ۔
اسے تو بازاروں سے نفرت ہو گئ تھی ۔
اس وقت سے جب دو تین سال پہلے رمضان میں یونہی کزنز کے کہنے پر چوڑیوں کے لیۓ نکلی تھی ۔ اس وقت وہ ا بھی اتنی باشعور نہیں تھی ۔ وہ سب کی سب چوڑیاں دیکھ رہی تھیں ۔ وہ بھی ایک جانب ٹہری چوڑیاں دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر ا ایک کمسن لڑکی پر پڑی ۔ وہ چوڑی والے انکل کو چوڑیاں پہنانے کے لیے کہہ رہی تھی ۔
یہ ایک عام بات تھی اکثر چوڑی والے یونہی پہناتے ہیں ۔
اس نے دیکھا ۔ان انکل نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تھا اور چوڑیاں پہنانے لگے تھے ۔ لیکن وہ چوڑیاں پہنانے سے زیادہ اس لڑکی کا ہاتھ مروڑ رہے تھے ۔ انداز اتنا گھٹیا تھا کہ وہ دنگ رہ گئ تھی ۔و ہ لڑکی اپنا ہاتھ چھڑانا چاہ رہی تھی ۔لیکن ان انکل کی گرفت مضبوط تھی ۔
روحی یہ سب دیکھ کر دنگ رہ گئ تھی ۔
اس انکل نے ٹوپی پہنی تھی ۔ روزہ بھی ہوگا ۔ کرتا باجامہ اور داڑھی بھی تھی ۔ تو یہ کیسا روزہ تھا یہ کونسا روزہ انہوں نےرکھا تھا جو تقوی سے خالی تھا ۔
۔اس نے جا کر سختی سے اس لڑکی کا ہاتھ چھڑایا تھا ۔
لیکن اس دن اسے بازار سے نفرت ہو گی تھی ۔
ہر بازار میں جسم فروشی نہیں ہو تی لیکن ہر بازار میں ایسے ہوس پرست ضرور ہو تے ہیں ۔
**********۔
اسکی رسم منگنی کے کپڑے آگۓ تھے ۔ جس پر سب نے ناک ھوں چڑھائ تھیں ۔
" اتنے معمولی کپڑے روحی ۔ابھی بھی وقت ہے چچا کو بول دو ۔"
مگر اس نے خاموشی اختیار کی تھی ۔ اسے کچھ بھی نہیں کہنا تھا ۔نا معمولی کپڑوں پر ۔نا ہی معمولی دعوت پر ۔
تائ نے ساتھ ہی فرہاد کی شادی طۓ کر دی تھی۔ رمضان کے بعد شادی مقرر ہو گئ تھی ۔اب وہ ساری کزنز مکمل تیاری میں تھیں ۔شادی کے دن فرہاد کی دلہن دیکھ کر علیزہ چیخ پڑی ۔
" ارے کیا ہوا ۔"
" یہ دلہن تو ٹک ٹاک اسٹار ہے "
" اوہ نو۔ " وہ سب دنگ رہ گئیں تھیں ۔
" اب تائ کیا کریں گی ۔ اور فرہاد بھائ ۔ " ان سب نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
زیادہ دن نہیں گذرے اورتائ کا ہنگامہ شروع ۔
"ہمیں نہیں پتا تھا ٹک ٹاک اسٹار ہے یہ ۔تو بہ توبہ ۔کیسا دھوکہ ہو ا ۔ فرہاد تو طلاق ہی دینے بیٹھا ہے ۔ اور ذرا سینہ زوری تو دیکھو ۔ اپنی کوئ غلطی ماننے ہی تیار نہیں ۔ "
اب سارے خاندان میں بس اسی رشتہ پر ہنگامہ آرائ چل رہی تھی۔الزام تراشی جوابی حملے بات بہت زیادہ بڑھ گئ تھی ۔ اور وہ سب دم بخود ۔
اور پھر سارے ڈرامہ کا ڈراپ سین بھی ہو گیا ۔
فرہاد بھائ نے طلاق دے دی ۔
امی دادی افسردہ ہو گئیں ۔ اور وہ ڈائری میں سر ڈال کر بیٹھ گئ۔
" فرہاد بھائ ۔ یہ آپ نے کیا کر دیا ۔ وہ آپکی منکوحہ تھیں ۔ جیسی بھی تھیں ۔ گو ٹک ٹاک اسٹار تھیں لیکن تھیں تو آپ کی بیوی ۔ ۔ آپ کو تو اس رشتہ کو نبھانا تھا ۔ کیا ایک عورت کو معافی کی گنجائش نہیں دینی چاہیۓ۔جبکہ آپ آخود" ٹک ٹاک "یوز کرتے ہیں اور کبھی کبھی تائ بھی ۔ پھر یہ دوغلا پن کیوں ۔ کیا دین داری اسی کو کہتے ہیں ۔ آپ بھی تو ٹک ٹاک پر تھے.ہاں ہم سب کو معلوم تھا ۔پھر ۔۔۔۔آپ نے خود کو ہر گناہ سے بری الذمہ سمجھ لیا اور ایک عورت کو گناہ گار ٹہرایا ۔ یہ کیسی پرہیزگاری ہے ۔ ۔۔۔
اس دن وہ بہت روئ تھی ۔
****
"روحی ۔۔۔آج پاسپورٹ آفس چلنا ہے " ابو اس کے پاس آکر بولے تو وہ حیران رہ گئ ۔
" لیکن کیوں ابو ۔"
" وہ دراصل انعام نے کہا ہے وہ نکاح کے ٹھیک ایک مہینہ بعد عمرہ جانے کا پلان کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا یہ اسکی خواہش ہے ۔ "
" جی ۔۔ابو ۔میں چادر لاتی ہوں ۔ " وہ جھپاک سے اندر گئ تھی ۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ وہ ڈائری کھولے بیٹھی تھی ۔
جس میں آج سے تین سال پہلے اس نے اپنی ایک خواہش لکھ رکھی تھی ۔
" یا اللہ ۔ نکاح کے بعد میرا جو پہلا سفر ہو۔وہ تیرے در کاہو۔ "
اور اور اب یہ کیا تھا ۔
اس نے ایک خواہش کی تھی اور اس کی خواہش کوئ اور پورا کرنے میں لگا تھا ۔اس کے لیۓ پیسے بچا رہا تھا ۔
کس نے اسکی خواہش کو کسی اور کی خواہش بنا یا تھا ۔
اس کے رب نے ۔
ہمیں ہم سے زیادہ ہمارا رب جانتا ہے ۔
وہ رو رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی ۔
اسے اب انعام کو دیکھنا نہیں تھا ۔وہ گورا تھا یا کالا ۔
لمبا تھا یا ٹھگنا ۔
موٹا تھا یا دبلا ۔
خوبصورت تھا یا نہیں ۔
امیر تھا کہ غریب
اس نے اپنی ترجیحات سیٹ کی تھیں اور اللہ نے اسی کے مطابق اسے عطا کیا تھا ۔
وہ اس کا انعام تھا ۔اور انعام ہمیشہ اچھا ہو تا ہے ۔اس بات پر اس کا ایمان تھا ۔
ختم شد
۔
"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں