رمضان ۔۔ماہ رحمت. وہ انعام ہے میرا

وہ انعام ہے  میرا 

جیسے ہی مغرب کی نماز ختم ہو ئ وہ سب چاند دیکھنے چھت پر چلی گئیں تھیں ۔ وہ ،حمنہ ،علیزہ اور کشف ۔ان سب کو چاند دیکھنے کی شدید چاہ تھی ۔ 

" ارے وہ دیکھو ۔ چاند ۔"حمنہ چلائ اور وہ سب اس چاند کو دیکھنے لگے جو ماہ رحمت کی نوید لیکر آ یا تھا ۔

" ہاۓ اللہ ۔ کتنا باریک سا ہے ۔"

"نظر آگیا غنیمت ہے ۔ "

"چلو کل سے روزے شروع ۔" وہ تینوں "امی چچی رمضان مبارک کا چاند نظر آگیا "پکارتی نیچے چلی بھی گئیں اور وہ یعنی روحی اکیلی رہ گئ۔ اس نے اپنا دوپٹہ سر پر لیا تھا اور  چاند کو دیکھ کر اپنی مخصوص دعا مانگی ۔

"حرام سے بچنے کی ۔اور حلال پانے کی دعا ۔"

وہ دعا مانگ کر نیچے آئ تھی تو سب کی چیخ و پکار بھی سنائ دے رہی تھی ۔ 

حمنہ کشف اب اپنے فرینڈز کو رمضان مبارک کا پیغام دے رہی تھیں۔ 

تائ تھیں تو انکے اپنے مسئلے  تھے ۔

" میں نے تو کچھ بھی تیاری نہی کی سحر کی اور چاند نظر آگیا ۔ اب کیا پکاؤں سحر کو ۔ " 

"آج کے بجاۓ کل نظر آتا تو اجھا تھا ۔ مرغ تو منگوا لیتی "

 "چلو ۔کچھ نہیں قیمہ تو ہے "۔ وہ بولتی اب اپنے گروپ میں رمضان مبارک کی پوسٹ لگانے جا رہی تھیں ۔

چچی امی سے التجا کر رہی تھی۔

"بھابھی ۔ اگر شامی کباب بناۓ تو تھوڑے ادھر بھی دے دیں ۔نا" ۔ 

اور وہ اپنی امی کو دیکھ رہی تھی جو سب ہنگامے سے دور اب چولہے پر قیمہ چڑھا رہی تھیں ۔

" امی ۔ " وہ انکے نزدیک آئ ۔

" رمضان مبارک ۔ " اس نے جھک کر اپنی ماں سے کہا تو وہ سب چھوڑ چھاڑ اسکو دعا دینے میں لگ گئیں ۔

" امی ۔آپ کیوں ہلکان ہو رہی ہیں ۔ میں اور ابو تو کچھ بھی کھا لیں گے ۔ پھر اتنا تردد کیوں ۔ " اس نے چولہے پر چڑھے قیمہ کو دیکھا تھا ۔

" ہاں پتا ہے مجھے ۔ مگر رمضان میں تو اللہ نے اپنا دستر خوان وسیع  کرنے کا کہا ہے ۔ اور رمضان میں  انواع و اقسام کے کھانوں پر اللہ کی بوچھ بھی نہیں ۔تو اس لیۓ اہتمام کر رہی ہوں ۔ اب دیکھا نہیں تمہاری چچی  کی فرمائش ۔ " وہ مسکراتے اب قیمہ میں گرم مصالحے وغیرہ ڈال رہی تھیں ۔

" وہ انہیں چھوڑ کر خود اندر آگئ تھی ۔سب کی اپنی اپنی ترجیحات تھیں ۔رمضان کو لیکر ۔ اسکی بھی تھیں ۔ اس نے اپنی ڈائری نکالی اور اس میں اپنی ترجیحات لکھنے لگی 

وہ ہر رمضان اپنا مخصوص شیڈیول بناتی تھی جس میں فرائض کی ادایگی سب سے اول مقام پر تھی ۔

اس کے بعد وہ تلاوت قرآن نفل نمازیں ذکر اذکار رکھتی تھی ۔۔ وہ ہر رمضان ہر حرام سے بچنے کی اپنی کوشش جاری رکھتی ۔ٹی وی  پر پورا رمضان مکمل پابندی ہو تی ۔ جبکہ اسکی کزنز کچھ مخصوص تفریحی پروگرام دیکھ رہی ہوتی تھیں ۔۔

اسے بہت خراب لگتا تھا جب وہ روزے میں یہ سب کر رہے ہوتے تھے ۔ کیا روزہ  وقت گذارنا ٹائم پاس کرنے کا نام ہے ۔ نہیں ۔ روزہ جیسی عبادت جو کہ خالص اللہ کے لیۓ ہو ۔اس کو یوں گذارنا اس کو نہایت گراں گزرتا تھا ۔مگر وہ کسی کو کچھ بھی نہیں کہتی تھی۔ یہ اسکی اپنی امی کی ہدایت تھی ۔ وہ مقابل پر انگلی اٹھانا اسکو الزام کی نوک پر رکھنا گناہ مانتی تھیں ۔۔

اس لیۓ وہ سب کو چھوڑ کر اپنی الگ دنیا بناتی تھی جس میں وہ یا تو فرائض ادا کر رہی ہوتی یا نفل یا پھر وہ سو جاتی ۔ لیکن کسی کی غیبت چغلی سے بچنا اس کا سب سے بڑا امتحان ہوتا تھا ۔ وہ اس امتحان میں پاس ہو نے کے لییۓ چپ کا بھی روزہ رکھ لیتی تھی۔

اسکی فرینڈز فون کرتیں تب اس کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ۔"روزہ ہو جانے دو ۔ بھر بات کروں گی ۔" یا 

"بعد افطار فون کرو ۔ میں روزہ ہوں ۔" 

اسکی انہی باتوں سے چڑ کر اکثر اسکی فرینڈز رمضان میں فون  نہیں کرتی تھیں ۔

لیکن وہ کیا کرتی ۔ یہ اس کا اپنا شیڈیول تھا جو وہ بہت سختی سے فالو کرتی تھی ۔

وہ سب اس بڑے سے گھر میں رہتے تھے جس میں ایک پورشن تایا کا تھا جن کا ایک ہی اکلوتا بیٹا تھا فرہاد ۔جو نہایت قابل اور ایک بہت بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک اچھی پوسٹ پر تھا ۔ جبکہ دوسرے نمبر پر خود اسکی فیملی تھی جس میں اسکی امی جو نہایت سادہ گھریلو سی خاتون تھیں ۔جبکہ ابو ایک  پرائوٹ اسکول کے  پرنسپل تھے ۔ انہوں‌نے  اپنے خاندانی بزنس کو چھوڑ کر استاد والا پیشہ اپنایا تھا ۔ یہ انکی ترجیح تھی ۔ جس پر کسی نے بھی کوئ اعتراض نہیں کیا یوں انہوں نے اپنی زندگی کا رخ تعین کیا تھا ۔جبکہ سب سے چھوٹے چچا نے بزنس کو ہی چنا  وہ کپڑوں کے بجاۓ ہارڈ ویر بزنس میں‌آگۓ تھے اور وہ بھی کافی خوش حال تھے ۔۔

چچا کی تین بیٹیاں تھیں ۔اور وہ تینوں اس سے عمر میں ایک سال بڑی چھوٹی تھیں ۔اس لیۓ اس کی سب سے بہت جمتی تھی جبکہ دادی تھیں جو انکے پاس ہی قیام پذیر تھیں ۔کیونکہ تائ اکثر باہر ہوتی تھیں ۔ وہ بہت زیادہ سوشل تھیں ۔

" ارےرفیعہ ۔ تم نے بتول کو زکوا تہ کی رقم نہیں دی ۔ " دادی تائ سے پوچھ رہی تھیں ۔

" اماں ۔دے دی تھی ۔"وہ بے زاری سے بولی تھیں ۔

" لیکن وہ کہہ رہی تھی کہ کم ہیں " 


"اس کو تو کم ہی نظر آتی ہے ۔ " تائ کی جھلائ ہوئ آواز پر دادی اور وہ بس تاسف سے دیکھ کر رہ گئ تھیں ۔

تائ زکوٰۃ اپنے حساب سے دیتی تھیں جو بقول دادی ڈنڈی مارنا کہلاتی تھی۔ ۔انکے پاس جتنا زیور تھا اور رقم ہو تی تھی اسکے حساب سے ان کی کم از کم  پچاس ہزار روپیۓ زکوٰۃ  بنتی تھی ۔مگر تائ اکثر دو تین ہزار دے کر بیٹھ جاتی تھیں ۔پوچھنے پر انکے پاس انکے اپنے خود ساختہ حیلے ہوتے تھے کہ " اب میرے پاس کیش اتنے ہی ہیں ۔ کیا کروں ۔ " 

" میں دوسری کئ جگہوں پر رقم دیتی رہتی ہوں ۔ وہ سب زکوٰۃ ‌میں ہی شامل ہو تی ہے ۔ " اس طرح وہ اپنا دامن بچاتی تھیں ۔ 

رمضان اپنی رحمتوں کے ساتھ گذر رہا تھا ۔آج پندرھواں روزہ تھا ۔تائ بازار گئ تھیں ۔اور آنے کے بعد ان کا رونا دھونا ۔۔۔۔

" ہاۓ امی ۔۔میرا سونے کا کنگن۔ ۔۔۔ہاۓ پورے دو تولے کا تھا ۔پتا نہیں کیسے بازار میں گر گیا ۔ہاۓ مجھے پتا ہی نہیں چلا ۔"

یہ سن کر وہ  دادی اورامی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں تھیں۔ 

اس نے اس دن اپنی ڈائری میں لکھا تھا ۔

" تائ جی ۔اگر آپ اپنے سونے کی صحیح زکوٰۃ نکالتیں تو یوں نقصان نا اٹھا رہی ہو تیں ۔ اللہ نے تو اس مال کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے جس پر زکوٰۃ دی گئ ہو ۔ تو یہ کنگن بھی نا کھوتا اگر آپ اسکی زکوٰۃ صحیح دے دیتیں ۔ 

" ایک تو آپ زکوٰۃ نا دے کر گناہ گار ہوئیں ۔ دوسرا زکواۃ دینے کے ثواب سے محروم رہیں ۔اور جتنا نقصان آپ نے اٹھایا اتنے میں تو آپکی زکوٰۃ آرام سے نکل جاتی ۔۔۔اس نے افسوس کرتے لکھا تھا۔

******

"روحی ۔ہاۓ کتنا اچھا ہو ۔اگر فرہاد ہم میں سے کسی کو پسند کر لیں ۔ " حمنہ کی بات بر وہ تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئ تھی ۔ آج کل تائ فرہاد کے لیۓ لڑکیاں دیکھ رہی تھیں ۔ جس پر سب لڑکیوں کے دل مچل رہے تھے۔ اس نے اپنے لیے کبھی فرہاد جیسے ہمسفر کی خواہش نہیں کی تھی مگر اس کی خواہش کیا تھی وہ خود بھی نا جان پائ تھی ۔ 

لیکن جب ان لڑکیوں سے پتا چلا کہ فرہاد نے اس کا نام لیا ہے تو اس کو بے حد تعجب ہوا تھا جبکہ ساری کزنز اس کی قسمت پر رشک کر رہی تھیں ۔

" ہاۓ ۔روحی ۔تمہاری تو لاٹری ہی نکل آئ ۔ خاندان کا سب سے خوبصورت لڑکا اور قابل ۔اس نے تمہارا نام لیا ۔ کیا بات ہے ۔ " وہ چپ ہو گئ تھی ۔اسے اپنے ابو پر بھروسہ تھا ۔وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ۔ اسے منظور ہوگا ۔اور وہی ہوا ۔ابو نے انکار کر دیا ۔

" میرے پاس ایک اور رشتہ ہے روحی کے لیۓ میں اس پر غور کروں گا " 

ابو کی اس بات پر توتائ سمیت سب کو غصہ آیا تھا ۔

" بھائ صاحب ۔گھر کا بچہ ہے فرہاد ۔اس کو چھوڑ کر آپ غیر کو فوقیت دے رہے ہیں ۔ یہ کیا بات ہوئ بھلا ۔ فرہاد کے ٹکر کا تو کوئ لڑکا ہی نہیں ہے خاندان میں ۔ " یہ اسکے چچانے کہا تھا ۔

" جو بھی ہو ۔ یہ جو لڑکا ہے وہ بھی قابل ہے ۔ بینک میں پچاس ہزار تنخواہ پر ملازم تھا مگر جب پتا چلا کہ بینک میں  کام کرنا ،سود  کے لین دین کا حساب رکھنا ، لکھنا بھی حرام ہے  تو نوکری چھوڑ دی اور اب عارضی طور پر ہمارے اسکول میں کام کر رہا ہے ۔ " 

 اور سب ابو کی اس بات پر ایک دوسرے کو تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے رہ گۓ تھے ۔


********


ابو نے اسی رشتہ کو فائنل کر دیا تھا ۔جبکہ تائ کو اس بات پر اتنا غصہ آیا  کہ وہ اپنے جاننے والوں میں بہت اونچے گھرانہ کی لڑکی سے  فرہاد کی بات طۓ کر آئیں ۔ یہ لڑکی اس خاندان کی تھی جہاں وہ اکثر رمضان میں تراویح پڑھنے جایا کرتی تھیں  یہ لوگ گھر میں تراویح کا انتظام کرتے تھے ۔۔

وہ ہر رمضان میں تراویح گھر پر پڑھنے کے بجاۓ باہر باجماعت تراویح خواتین کے لیۓ مخصوص مسجد میں  ادا کرتی تھیں ۔ اسکی دوسری کزنز بھی ان کے ساتھ ہی جاتی تھیں ۔ 





۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ