میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 51
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 51
وہ سب سے مل کر باہر آئ تو وہ بائیک سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا ۔ اور اب اسے آتا دیکھ رہا تھا ۔اسکے قدموں کی آہٹ دل میں محسوس کر تا ہوا ۔
اسکے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے ۔
" چلیں ۔ " وہ جب قریب آئ تھی تو وہ سیدھا ہوا تھا ۔اس نے اٹبات میں سر ہلایا تھا ۔اور بیٹھ گئ تھی ۔
راستے بھر دونوں نے کوئ بات نہیں کی تھی ۔ وہ ناراض تھی ۔ اس پر اپنی ناراضگی جتانا چاہ رہی تھی۔
جب اس نے بائیک روکی تو وہ چونکی تھی ۔
ایک بے حد جدید طرز کے بنے ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے وہ دونوں کھڑے تھے ۔
طہ نے اب آگے ہو کر اس گھر کے گیٹ کا لاک کھولا تھا ۔وہ بے تابی سے اندر جانا چاہ رہی تھی۔ مگر اس نے روکا ۔
" کتنی جلدی ہے ۔ایسے ہی چلی جائینگی ۔ رکیں ۔" وہ کنفیوز سی ٹہری تھی ۔اس نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلا یا تھا ۔
" اب چلیں ۔ " اس نے چونک کر اس ہاتھ کو دیکھا تھا ۔ وہ منتظر تھا ۔اس نے ہاتھ تھامنا ہی تھا ۔ جو رشتہ بندھا تھا یہ اسکے تقاضے تھے ۔
اس نے جھجھک کر اپنا نم ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا تھا اب دونوں اندر قدم رکھ رہے تھے ۔
طہ نے ہال کی لائٹس جلائ تھیں ۔ اور تہذیب دم بخود دیکھ رہی تھی ۔ بڑے ہی آرٹستک انداز میں بنایا گیا یہ ہال جس کی آرائش بھی دیکھنے لائق تھی۔
اب وہ ایک ایک کمرہ بتا رہا تھا ۔
" یہ امی ابا کا کمرہ ،یہ اظہار کا اور یہ اربیہ اگر شادی کے بعد کبھی آۓ گی تو اس کے لیۓ ۔ وہ ایک ایک کمرہ کھولتا جا رہا تھا اور وہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ۔ گھر کی خوبصورتی نے اسے گنگ کر دیا تھا ۔
اور یہ اپنا مطلب ہمارا بیڈ روم ۔"۔ کچھ رک کر وہ کمرہ کھول رہا تھا ۔جو لاکڈ تھا ۔
" یہ کمرہ لاکڈ کیوں رکھا ہے ۔جبکہ سب تو ان لاک ہیں ۔ " وہ کچھ حیرانی سے بولی تھی ۔
" بس جس کا کمرہ ہو اس کے آنے پر ہی کھولنے کا ارادہ تھا تو یہ اب تک لاکڈ رکھا ۔ " وہ اسے گہری نگاہوںسے دیکھ کر بو لا تو وہ یکدم بلش سی ہو گئ ۔
وہ لاک کھول کر اب لائٹس کھولنے لگا تھا ۔اور جب کمرہ روشن ہوا تو وہ کمرہ کی سجاوٹ ،کلر سکیم پر مبہوت سی ہو گئ ۔
سارا کمرہ ہلکے آسمانی اور گلابی رنگ کے امتزاج میں سجا تھا ۔ ہلکے آسمانی رنگ کے پردے کمرہ کا حسن بڑھا رہے تھے ۔ جبکہ خوبصورت سے آرائشی پودوں نے کمرہ کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا ۔
ایک ایک چیز کو اتنی نفاست سے سٹ کیا گیا تھا کہ وہ لب بستہ سی کھڑی رہ گى تھی جبکہ وہ اسکی حیرانی کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔
" یہ ۔۔کلر تو میرے فیورٹ ہیں ۔تمہیں کیسے پتا چلے ۔ " اس نے سارے کمرے بر ایک بار اور تفصیلی نظر ڈالی تھی تو سمجھ آیا تھا وہ کمرہ تو اسکے پسندیدہ رنگوں سے سجا یا گیا تھا ۔
" ہممم ۔ جب ہفتہ میں ہر دوسرا ڈریس آسمانی رنگ کا ہو تو ۔۔۔پتا چل جاتا ہے ۔ " اسکے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔
ایک منٹ ۔" وہ اسکی طرف گھومی تھی ۔
" تم نے کب دیکھا تھا ۔ بلکہ تم مجھے دیکھتے بھی تھے ۔ " وہ الٹا اس سے سوال کر رہی تھی ۔ حیرت ہی اتنی شدید تھی ۔
" ہمم ۔ دیکھتا تو تھا ۔ " وہ ہنسا تھا ۔
اوہ ۔رئیلی ۔ " وہ اب کھڑکی کے پاس جا کر ٹہرگئ تھی اور کھڑکی کھول دی تھی ۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا تھا ۔ باہر چاند اپنی آب و تاب کے ساتھ آسمان پر جلوہ افروز تھا ۔ وہ چانددیکھتی رہیاور طہ اسے ۔ایک چاند اسکی سیاہ راتوں میں روشنی کا پیغام لے کر آیا تھا۔
پھر اس نے پلٹ کر کمرہ کے فرنیجر پر نظر دوڑائ تھی ۔
" میں نے صو فہ یہاں نہیں رکھوایا ۔ باہر ہال میں ہےاور ڈرائینگ روم میں ۔ " وہ اسکی نظروں کا مفہوم پڑھ رہا تھا ۔
وہ اب نروس سی ہو گئ تھی ۔
میرے خیال میں بیڈ روم میں صوفہ نہیں ہو نے جاہیۓ ۔ " وہ اسکے پیچھے آکر ٹہرا تھا
" اور میرے خیال میں بیڈ رومز میں شک کی فضا بھی نہیں ہونی چاییۓ ۔ " اسکی آنکھیں بھر آنے لگیں ۔
" شک ۔؟ میں نے تو کبھی آپ پرشک نہیں کیا ۔ " اسکی آنکھوں میں حیرانی تھی ۔
" مجھے لگا تم مجھے چھوڑ دو گے ۔ " اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ ڈھانپا تھا اور رونے لگی تھی ۔
" ارے ۔لیکن میں نے تو سب کچھ آپ پر چھوڑا تھا ۔ " وہ اس کے رونے پر پریشان ہو گیا تھا ۔
" پھر محتشم بھائ کے آنے پر اس طرح کیوں برتاؤ کیا تھا ۔ میں کتنا ہرٹ ہوئ ۔ " وہ کھڑکی سے لگی ہچکیوں پر آگئ ۔تھی ۔
" اچھا ۔ آپ ادھر تو بیٹھ جائیں ۔ " اس نے اسے بیڈ پر بٹھا دیا تھا ۔اور خود اس کے قریب بیٹھ گیا ۔
" اتنا کم ظرف نہیں ہوں کہ اپنی بیوی پر شک کروں ۔ اور رہی محتشم بھائ ۔میری ان سے بعد میں بات ہوئ تھی ۔ وہ جانے سے پہلے مجھ سے مل کر گۓ تھے ۔ " اسکے کہنے پر اس نے جھٹکے سے اپنا سر اٹھا یا تھا ۔
" تمہیں علم ہی ہوگا کہ انہوں نے شادی کر لی تھی اپنے باس کی بیٹی سے ۔ "
" ہاں ۔ جانتا تھا ۔"
پھر ۔۔۔میرے ساتھ وہ تمہارا رویہ " وہ وہیں اٹک گئ تھی۔
وہ بات دو سری تھی۔ " اسکی بات پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔پھر اس نے کہا تھا ۔
" دولت کی خاطر اپنی باس کی بیٹی سے شادی کی انہوں نے ۔ کتنے خود غرض تھے وہ ۔ "
" ہممم ۔ "
" تمہیں نہیں لگتا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیۓ تھا ۔ آخر انہوںنے دولت کو ترجیح دی ۔ " اس نے اپنے آنسو پونچھے تھے۔
ہممم ۔ ان کی اپنی ترجیحات تھیں ۔ اس بارے میں کچھ بھی کہنا فضول ہے "۔ وہ اب سنجیدہ تھا ۔
"محتشم بھائ میرے لیۓ ہمیشہ قابل احترام رہیں گے۔ انہوں نے برے وقتوں میں میری بہت مدد کی تھی ۔"
" تم نے کہا وہ دوسری بات تھی وہ کونسی بات تھی ۔ " اب اسے یاد آیا ۔
" ہاں ۔وہ ۔۔۔میں مطلب "۔وہ کچھ دیر تک اسے دیکھنے کے بعد بولا تو اس کا لہجہ شکستہ ساتھا ۔
آ"پ تھوڑا اطمینان سے سننا ۔ " وہ رکا تھا ۔وہ اب بغور اسے دیکھ رہی تھی ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں