میرے ہم نوا ۔۔۔قسط 49
میرے ہم نوا ۔۔۔۔قسط 49
آج جمعہ تھا ۔ امی کی تیاری صبح سے ہی زور و شور سے تھی جبکہ وہ کچھ لو فیل کر رہا تھا ۔امی بھائ کے لیۓ کپڑے ،بھاوج کو سوٹ اور تہذیب کے لیۓ بھی سوٹ لیۓ جا رہی تھیں ۔ آج ان کے پاؤں یوں بھی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔ عصر ہوتے ہی وہ اس کے پاس آئ تھیں ۔
" طہ ۔ تم نے اپنی تیاری کر لی ۔ "
" نہیں ۔ " وہ مختصر کہہ کر صوفہ پر لیٹ گیا تھا ۔
" کیا مطلب نہیں ۔ تم نیں چل رہے ہمارے ساتھ ۔ " وہ اب تھوڑا پریشان ہوئیں ۔
" نہیں ۔ " اس نے پھر مختصر کہا ۔
": لیکن کیوں ۔ طہ " وہ چڑ کر بولیں تھیں ۔
" بھائ نے خاص طور پر بلایا ہے ۔ اور تم ۔"
" امی آپکے بھائ نے آپ کو خاص طور پر بلایا ہے ۔ مجھے نہیں ۔ آپ جائیں ۔ " وہ پھر سے وہی طہ بن گیا تھا ۔ ضدی اور اکھڑ سا ۔
" تو میرا بھائ تمہارا کچھ نہیں لگتا ۔ کیا کوئ رشتہ نہیں ہے تمہارا ان کے ساتھ ۔ " وہ اپنے غصہ کو ضبط کر نے لگیں تھیں ۔
" پتا نہیں ۔ اب آپ پلیز مجھ پر دباؤ مت ڈالیں ۔ویسے بھی میرے سر میں درد ہے ۔ " وہ جڑ بھی گیا تھا اور عاجز بھی ۔
" طہ ۔ میں نے تمہیں خودداری سکھائ تھی ۔ انانیت نہیں ۔ تم کب اتنے انا پرست بن گۓ۔ " امی نے بڑے دکھ سے پو چھا تھا ۔
" امی پلیز ۔ اب آپ مجھ سے کوئ بات نا کریں ۔مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔ " اسکی آواز میں نجانے کیا تھا کہ وہ اسکےپاس رک نا سکیں ۔ ۔اور وہ سب اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گۓ تھے ۔ اظہار اس سے اتنا ناراض تھا کہ اسے دیکھنے کو بھی تیار نہیں تھا ۔ جبکہ اربیہ بھائ کے لیۓ چپکے چپکے روۓ جا رہی تھی ۔
نظیر صاحب نے ہی صابرہ بیگم کو سمجھایا تھا بلکہ اسے اکیلے چھوڑنے کو کہاآج
"
" پتا نہیں ۔ اب آپ پلیز مجھ پر دباؤ مت ڈالیں ۔ویسے بھی میرے سر میں درد ہے ۔ " وہ جڑ بھی گیا تھا اور عاجز بھی ۔
" طہ ۔ میں نے تمہیں خودداری سکھائ تھی ۔ انانیت نہیں ۔ تم کب اتنے انا پرست بن گۓ۔ " امی نے بڑے دکھ سے پو چھا تھا ۔
" امی پلیز ۔ اب آپ مجھ سے کوئ بات نا کریں ۔مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔ " اسکی آواز میں نجانے کیا تھا کہ وہ اسکےپاس رک نا سکیں ۔ ۔اور وہ سب اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گۓ تھے ۔ اظہار اس سے اتنا ناراض تھا کہ اسے دیکھنے کو بھی تیار نہیں تھا ۔ جبکہ اربیہ بھائ کے لیۓ چپکے چپکے روۓ جا رہی تھی ۔
نظیر صاحب نے ہی صابرہ بیگم کو سمجھایا تھا بلکہ اسے اکیلے چھوڑنے کو تھا ۔
" اب جا تو رہے ہیں ہم سب ۔ وہیں بات کر لیں گے ۔ ابوالکلام صاحب سے اور تہذیب کو بھی لے آئیں گے ۔ " انکی بات پر صابرہ بیگم خاموش ان کے ساتھ چلی تھیں ۔
*****
وہ نجانے کتنی دیر یونہی لیٹا رہا تھا ۔یہاں تک کہ مغرب کی آذانیں شروع ہو گئیں تھیں ۔ وہ اٹھا تھا ۔ سارے گھر کی لائٹس جلانی شروع کی تھیں ۔ اور چلتے چلتے باہر سیڑھیوں پر جا کر ٹہر گیا تھا ۔ یہاں مین گیٹ سے کچھ فاصلہ پر اس نے سارے پودے لگا دیۓ تھے جو وہ وہاں سے لے آیا تھا ۔
گلاب اور موتیا کے پودے گیٹ کے ا ایک سائڈ میں رکھے تھے جبکہ دوسری جانب منی پلانٹ کی بیل گیٹ پر چڑھا دی تھی جو ابھی تو چھوٹی تھی لیکن بعد میں وہ بہت اوپر تک جا سکٹی تھی ۔
ان گلاب کے پودوں کو دیکھ کر اسے ان کے لیۓ تڑپتا ایک چہرہ اسکے ذہن میں چمکا تھا ۔ وہ ان پودوں کو لیۓ لیۓ ساارے آنگن میں پھرا کرتی تھی ۔ جہاں جہاں دھوپ ہوتی وہاں وہاں وہ گملے اٹھاۓ پھرتی تھی ۔ اسے بہت ہنسی آئ تھی اس وقت ۔وجہہ پوچھی تو اس نے معصومیت سے کہا تھا ۔
" انہیں دھوپ بھی تو چاہیۓ ۔ اس لیۓ ۔ "
" تو اس کا مطلب ہے آپ جہاں جہاں دھوپ ہوگی وہاں گملے لیکر پھریں گی ۔اور جب اس نے سادگی سے سر ہلایا تھا تو وہ بہت ہنسا تھا ۔
۔ پھر اس نے ان پودوں میں کھاد ڈال کر نۓ سرے سے زمین میں لگا دیا تھا ۔
اور جب ان پودوں میں سے کوئ نئ کونپل پتہ بھی پھوٹتا وہ خوشی سے پاگل ہو جاتی بور سارے گھر کو خبر دیتی کہ فلاں پودے میں ایک بتہ پھوٹا ۔ایک کلی پھوٹی ۔وہ سب اسکی دیوانگی سے با خبر ہو گۓ تھے ۔ وہ پودوں اور خصوصی طور پر گلاب کے پودوں کی عاشق تھی ۔
ان پودوں کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ آ گئ تھی ۔
انہیں دیکھ کر ایک چاند چہرہ یاد آیا تھا ۔
جسکی آنکھیں ستارہ تھیں ۔
اور اسکے بال کالے گھنے جنگل تھے جسکے لب پر پھول کھلٹے تھے ۔
آنکھوں میں نجانے کتنی شمعیں جلتی تھیں
جس کا لہجہ ندی کی طرح رواں اور صاف شفاف
جس پر ایک خوبصورت صبح کا کمان ہوتا تھا ۔
واور ان سب کو وہ نظر انداز کر بھی دیتا مگر
اسکا سادہ انداز جن میں شاہزادیوں کا بانکپن
ا بار حیا سے اٹھتی جھکتی پلکیں
پر خلوص سی دل کو مہکاتی اسکی مسکراہٹ
اور دل کو لوٹ لینے والی اسکی سادگی
اسکی سادگی جو اسکی ادا محسوس ہوتی
ریشم سالہجہ ۔
جو زندگی کی دھوپ میں ایک سکون بھری چھاؤں جیسی
جیسے کوئ جاں فزا مشروب ۔۔
وہ کیا کیا نا یاد کرتا اور کس کس کو نظر انداز کرتا ۔
وہ تو اسکی سادگی کا اسیر ہو گیا تھا ۔خوبصورتی تو اضافی چیز تھی ۔
اسکے اندر نجانے کیا سمائ کہ اس نے کاڑی کی چابیاں لیں اور سڑکوں پر دوڑانے نکل پڑا ۔ وہ آوارہ کرد نہیں تھا مگر ایک اضطراب اسے یوں دوڑانے لگا جیسے اگر اب وہ یہاں رکا تو پتھر بن جائیگا ۔ ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں