اشاعتیں

رم جھم بارش۔۔۔

 رم جھم بارش  جس وقت میں بس سے اتر رہا تھا اس وقت میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں میں  مکمل بارش میں بھیگ کر ماموں کے گھر پہنچوں گا ۔ جس وقت میں میں اپنے گاؤں کی بس سے اترا اس وقت رم جھم‌بارش برس رہی تھی ۔ماموں کا گھر زیادہ دور تو نا تھا ۔اس لیۓ میں نے اپنا چھوٹا سا اٹیچی کیس ہاتھوں میں لے لیا اور پیدل ہی گھر کے لیۓ نکل پڑا ۔لیکن دو قدم بھی نا چل پایا اور رم جھم بارش تیز طوفانی بارش میں بدلنے لگی ۔ میں نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کرلی ۔ ماموں کا گھر قریب تھا لیکن ایسی گلیوں میں تھا جہاں زرا بارش ہو ئی اور گلیاں جھیل بن جاتیں ۔  ٹپ ٹپ ٹپ ۔۔۔اتنے زور سے بارش کے قطرے گرنے لگے کہ جی چاہا کہ" اب بس ۔آٹو کر لیتا ہوں ۔بھلے سے کرایہ زیادہ مانگیں گے مگر صحیح سلامت گھر تو پہنچ جاؤں گا" ۔ لیکن پھر ماموں کا خیال آیا ۔اگر انہیں پتا چل گیا کہ میں تین گنا کرایہ دے کرگھر پہنچا ہوں تو ان سے کچھ بعید نہیں کہ ںہ پورے مہینہ کا راشن بند کردیں  ۔کہ "جتنے پیسے تم زیادہ دے آۓ ہو اتنے میں تو تمہارا سارا مہینہ کا خرچہ چل جاتا ۔۔" "نمک کے تو نہیں تھے جو زرا سی بارش م...
می رقصم  می رقصم می رقصم  دل رقصم دل رقصم  آج سے بیس سال پہلے ۔۔۔ پہلا افسانہ پاکیزہ آنچل میں شائع ہوا تھا ۔اس وقت دل یہی کہہ رہا تھا ۔ می رقصم می رقصم  اخبارات میں مضامین ،مختصر افسانے شائع ہونا شروع ہوۓ تب بھی دل کی یہی آواز تھی ۔ می رقصم می رقصم  افوہ ۔۔۔۔لیکن‌مضامین افسانہ شائع ہونا الگ بات ۔ دل چاہتا تھا ۔اس سے کچھ پیسے بھی کماۓ جائیں  لیکن  اردو اور اردو داں طبقہ ۔۔۔ایک پھوٹی کوڑی بھی کما نا سکے ۔ اور اور  اور پھر آج سے ایک سال پہلے گوگل سرچ کر پرتلپی مل گیا ۔لکھا تھا ۔آپ یعنی ہم لکھ کر کما بھی سکتے ہیں ۔رائٹرز لاکھوں کما رہے ہیں ۔تو آپ کیوں نہیں ۔ آپ بھی پرتلپی جوائن کریں ۔اور لاکھوں کمائیں ۔ تب پھر دل کی وہی حالت ۔ می رقصم می رقصم ۔ جھٹ جوائن کر لیا ۔اور شیخ چلی بن کر ایک انڈے سے دو ،دو سے چار ،اور پھر سو ،ہزار ،دس ہزار ،اور پھر لاکھ چوزوں سے انڈے اور انڈوں سے چوزے ۔۔وہی دل تھا اور وہی خواب ۔۔ لیکن جب حقیقت کھلی ۔تب پتا چلا ۔ دل کے  بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔  پرتلپی اکاؤنٹ میں سولہ روپے اٹھارہ پیسے پڑے ہیں پچاس روپے ہونے ت...

تیرے لیۓ ۔۔۔پارٹ ٹو

 تیرے لیۓ ۔۔۔پارٹ ٹو ۔ "رحیمہ ۔۔۔رحیمہ تیری ماں مر گئ "۔باہر کھیلتی رحیمہ کے کانوں میں یہ آواز آئ تو رحیمہ کی سمجھ ہی نہیں آیا کہ ماں کیسے مر جاتی ہے ۔ وہ آٹھ سال کی بچی اس نے تو ابھی ابھی زندگی کو دیکھنا شروع کیا تھا اور اب لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کی ماں مر گئ۔  ماں ۔۔ماں۔وہ تو ہر بات کے لیۓ ماں کو دیکھا کرتی تھی ۔ماں یہ کر دوں ۔ ماں وہ کردوں ۔  ماں یہ کیا ہے ۔ اور ماں اس کی ہر بات پر مسکراتے مسکراتے جواب دیا کرتی تھی ۔اور اب وہ ماں کی لاش کے پاس بیٹھی ماں کو دیکھ رہی تھی۔ اور دل ہی دل میں ماں سے پوچھ رہی تھی ۔ "ماں ۔یہ موت کیا ہو تی ہے۔ " اور ماں نے تو نہیں بتایا مگر دنیا نے بتادیا کہ موت کیا ہو تی ہے ۔اور ایک ماں کے مر جانے سے کتنے لوگ بن موت مر جاتے ہیں ۔ ماں ڈلیوری میں مرگئ تھی اس لیے وہ شہید ہو گئ ۔تھی لیکن جو بچ گئ تھی وہ زندہ درگور ہو گئ تھی۔  اباپ  نے دوسری شادی کر لی ۔ماں نے آنکھیں بند کر لیں تو باپ نے آنکھیں ہی پھیر لیں ۔اس سے۔اور وہ ماں کو مردہ سمجھتے سمجھتے اب باپ کو بھی زندہ سمجھنا چھوڑ چکی تھی۔  ا"اے رحیمہ" ۔اس کی سوتیلی ماں چیخ اٹھتی ۔ "...
 تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ۔ ٹھیک ہی کہتے ہو ! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں  جو پہنادو وہ مجھ پہ سجے گا ۔ میرا کوئ رنگ نہیں جس بچے کے ہاتھ تھمادو میری کسی سے جنگ نہیں  سوچتی جاگتی آنکھیں میری   جب چاہے بینائ لے لو  کوک بھرو باتیں سن لو  یا میری گویائ لے لو مانگ بھرو سیندور لگاؤ  پیار کرو آنکھوں میں بساؤ اور پھر جب دل بھر جاۓ تو دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو  تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو  ٹھیک ہی کہتے ہو ۔ پروین شاکر 

آ ئیڈیل

 وہ کالج سے جیسے ہی گھر میں داخل ہوئ "۔اسلام علیکم" کی آواز آئ ۔اس نے سن کر بھی نظر انداز کر دیا ۔بھوکی پیاسی آئ تھی اور آتے ہی سامنا کس سے ہو گیا۔وہ غصہ میں آندھی کی طرح اندر کی سمت لپکی تھی ۔اور ۔۔۔۔۔گفٹ پیک پکڑے ،آنکھوں میں جذبے اور تمنا ؤں کے دیۓ امیدوار کے بجھ گۓ اور ہاتھ نیچے گر گۓ تھے ۔ "آخر کیا ضرورت ہے روز روز کے آنے کی جبکہ پتا بھی ہو تا ہے کہ کوئ خاطر میں نہیں لاتا۔"وہ بیگ ایک طرف پٹخ کے غصہ سے بڑبڑا ئ تھی "کون ،کس کی بات کر رہی ہو تم "طاہرہ جو چاول چن رہی تھی حیرانگی سے اسکے تپے تپے چہرے کو دیکھا تھا ۔ "وہی ۔اتنی بڑی آزمائش مزمل کی صورت سے لی جاتی ہے بار بار ۔۔۔۔"وہ دانت پیس کر بولی۔  "مزمل۔۔۔۔وہ تو پورے ایک سال بعد آیا ہے اور صرف تمہیں سالگرہ کی مبارکباد دینے "وہ تاسف سے بولی ۔وہ اسکی بہترین دوست تھی اور چاہتی تھی کہ اس کا دل مزمل کے لیۓ صاف ہو جاۓ ۔ "حالانکہ یہ اسکی خالہ کا گھر ہے کو ئ روک نہیں سکتا اسے یہاں آنے سے ۔۔۔۔" "معلوم ہے مجھے ۔بتانے یا جتانے کی ضرورت نہیں ۔رشتہ چاہے کچھ ہو مگر مجھے کالے کوے سے ناطہ...

آسماں سے پار

وہ کچن میں کام کر رہی تھی ۔گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال رہی تھی ۔وہ صوفہ پر دونوں بازو ڈھیلے ڈھالے انداز میں چھوڑے متفکر سا بیٹھا تھا۔اس کی پیشانی پر تفکر کی گہری لکیریں اسکے اندرونی خلفشار کو ظاہر کر رہی تھیں ۔"کیا ہوا۔" وہ بلآخر پوچھ بیٹھی۔  "کچھ نہیں بس ڈاکٹر نے گردوں کے ٹسٹ کا کہا ہے ۔ تو بس اسی لیۓ پریشان ہوں کہ اگر گردوں کا مرض نکل آیا تو میرے لیۓ اور مشکلیں بڑھیں گی"۔ اس نے پریسکریپشن سامنے ٹیبل پر رکھ دی تھی اور خود صوفہ کو ٹیک لگا دی تھی۔  "اوہ" ۔ اسکے منہ سے اتنا ہی نکلا ۔  "لیکن آپ پریشان نا ہوں ۔ضروری تو نہیں کہ آپ کے کڈنی خراب ہی ہوں" ۔ وہ اسے ہمت بندھانا چاہتی تھی۔ حالانکہ وہ خود اندر ہی اندر ٹوٹ سی جا رہی تھی۔ وہ پچھلے پانچ سال سے ذیابطیس کے مرض میں مبتلا تھا۔ "شزا۔ تم بھی ۔ تمہیں پتا نہیں کہ ذیابطیس میں سب سے زیادہ گردے متاثر ہو تے ہیں ۔اور میں ایک پریکٹکل انسان ہوں ۔اب تم مجھے یہ مت بتاؤ کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں ہوگا" ۔ وہ چڑ کر بو لا تھا ۔ "لیکن زوہیب دعا بھی ایک چیز ہو تی ہے ۔ اس سے تو ہر مرض ہر بیماری ٹل جاتی ہ...