می رقصم
می رقصم می رقصم
دل رقصم دل رقصم
آج سے بیس سال پہلے ۔۔۔
پہلا افسانہ پاکیزہ آنچل میں شائع ہوا تھا ۔اس وقت دل یہی کہہ رہا تھا ۔
می رقصم می رقصم
اخبارات میں مضامین ،مختصر افسانے شائع ہونا شروع ہوۓ تب بھی دل کی یہی آواز تھی ۔
می رقصم می رقصم
افوہ ۔۔۔۔لیکنمضامین افسانہ شائع ہونا الگ بات ۔
دل چاہتا تھا ۔اس سے کچھ پیسے بھی کماۓ جائیں
لیکن
اردو اور اردو داں طبقہ ۔۔۔ایک پھوٹی کوڑی بھی کما نا سکے ۔ اور اور
اور پھر آج سے ایک سال پہلے گوگل سرچ کر پرتلپی مل گیا ۔لکھا تھا ۔آپ یعنی ہم لکھ کر کما بھی سکتے ہیں ۔رائٹرز لاکھوں کما رہے ہیں ۔تو آپ کیوں نہیں ۔
آپ بھی پرتلپی جوائن کریں ۔اور لاکھوں کمائیں ۔
تب پھر دل کی وہی حالت ۔
می رقصم می رقصم ۔
جھٹ جوائن کر لیا ۔اور شیخ چلی بن کر ایک انڈے سے دو ،دو سے چار ،اور پھر سو ،ہزار ،دس ہزار ،اور پھر لاکھ چوزوں سے انڈے اور انڈوں سے چوزے ۔۔وہی دل تھا اور وہی خواب ۔۔
لیکن جب حقیقت کھلی ۔تب پتا چلا ۔
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔
پرتلپی اکاؤنٹ میں سولہ روپے اٹھارہ پیسے پڑے ہیں پچاس روپے ہونے تک بنک سے نکال بھی نہیں سکتے ۔ہاۓ ری قسمت ۔
کل تک جو دل" می رقصم می رقصم ک"کہہ کر اچھل رہا تھا ۔اب مایوسی کی دلدل میں گر رہا ہے ۔
دھڑام دھڑام دھڑام ۔۔۔
ختم شد ۔
۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں