رم جھم بارش۔۔۔

 رم جھم بارش 

جس وقت میں بس سے اتر رہا تھا اس وقت میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے وقت میں میں  مکمل بارش میں بھیگ کر ماموں کے گھر پہنچوں گا ۔

جس وقت میں میں اپنے گاؤں کی بس سے اترا اس وقت رم جھم‌بارش برس رہی تھی ۔ماموں کا گھر زیادہ دور تو نا تھا ۔اس لیۓ میں نے اپنا چھوٹا سا اٹیچی کیس ہاتھوں میں لے لیا اور پیدل ہی گھر کے لیۓ نکل پڑا ۔لیکن دو قدم بھی نا چل پایا اور رم جھم بارش تیز طوفانی بارش میں بدلنے لگی ۔

میں نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کرلی ۔ ماموں کا گھر قریب تھا لیکن ایسی گلیوں میں تھا جہاں زرا بارش ہو ئی اور گلیاں جھیل بن جاتیں ۔ 

ٹپ ٹپ ٹپ ۔۔۔اتنے زور سے بارش کے قطرے گرنے لگے کہ جی چاہا کہ" اب بس ۔آٹو کر لیتا ہوں ۔بھلے سے کرایہ زیادہ مانگیں گے مگر صحیح سلامت گھر تو پہنچ جاؤں گا" ۔

لیکن پھر ماموں کا خیال آیا ۔اگر انہیں پتا چل گیا کہ میں تین گنا کرایہ دے کرگھر پہنچا ہوں تو ان سے کچھ بعید نہیں کہ ںہ پورے مہینہ کا راشن بند کردیں  ۔کہ "جتنے پیسے تم زیادہ دے آۓ ہو اتنے میں تو تمہارا سارا مہینہ کا خرچہ چل جاتا ۔۔"

"نمک کے تو نہیں تھے جو زرا سی بارش میں پگھل کر بہہ جاتے ۔کیا ضرورت تھی اتنے زیادہ کرایہ دے کر آنے کی "۔

 بارش آرہی تھی تو رک جاتے ۔یہاں آکر کونسا تم نے ملکی مسائل کرنے تھے ۔"

اف وہ اور انکے طعنے۔

انکے  طعنے سننے سے مجھے بارش میں بھیگنا زیادہ بہتر لگا ۔" چلو ٹھیک ہے تھوڑا زیادہ بھیگ جاؤں گا مگر گھر تو پہنچ جاؤں گا ۔

یہ سوچتے میں چلا جارہا تھا لیکن بارش نے بھی میرے ساتھ ہمیشہ کی طرح ضد باندھ لی تھی ۔کہ کچھ بھی ہو ۔ وہ مجھے بھگاۓ بنا  تو گھر پہنچنے نہیں دے گی ۔میں جیسے جیسے قدم بڑھا رہا تھا پانی کا زور بڑھ رہا تھا ۔اور جو ماموں کا گھر دو قدم لگتا تھا اب میلوں دور لگ رہا تھا ۔

پانی بڑھتے بڑھتے میرے گھٹنوں تک آ پہنچا تھا ۔میں نے سڑک پار کر لی تھی اب بس گلیاں رہ گئ تھیں ۔اور  گلیاں در گلیاں پانی میں ڈوبی ہوئ تھیں  ۔خیر جیسے تیسے  میں  کھر پہنچا ۔اٹیچی بائیں ہاتھ میں لی اور دائیں ہاتھ سے بیل بجائ اور شدت سے  دعا مانگنے میں لگ گیا کہ دروازہ شیدا رشید  کھولے ماموں زاد ندرت صاحبہ نہیں ۔ 

دراصل ندرت صاحبہ کو مجھ سے اور مجھے ندرت صاحبہ سے ایک عجیب سی چڑ ہے ۔مجھے انکی بے موقعہ مسکراہٹ سے چڑ ہوتی ہے ۔انکی طنزیہ مسکراہٹ پر اب تک سو بار تو لاحول پڑھ چکا ہوں ۔لیکن ہر بار ان صاحبہ کو مجھ پر ہنسنے کا موقعہ مل ہی جاتا ہے ۔ دو موقعے تو بارش میں بھیگ کر دے چکا ہوں ۔اور اب  پھر ۔۔۔۔۔

لیکن‌ندرت صاحبہ کو مجھ سے کیوں چڑ ہے ۔یہ میں نہیں جانتا ۔البتہ بچپن میں میں نے انکی جھاڑو سے تواضع ضرور کی تھی ۔شاید وہی بات دل میں دبا کر بیٹھی ہوں ۔ 

دروازہ کھلا اور سامنے تھیں ندرت ۔اور انکی طنزیہ ہنسی ۔ کچھ کہتی بھی نہیں اور بہت کچھ کہہ جانے والی ہنسی۔ 

"السلام علیکم ۔ ماموں ہیں "۔  اندر جاتے جاتے بات کرنے بلکہ اپنی بارش سے بری طرح بھیگی حالت کو   ندرت کی نظروں سے  بچانے کی کوشش میں نکلتا  یہ میرا ایک  جملہ تھا ۔

"وہ سرکاری دورے پر گۓ ہیں معلوم تو تھا آپ کو" ۔سیدھا کھرا لہجہ ۔

"معلوم تھا۔ "

پھر "پوچھا کیوں" ۔ میری بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئ تھی اس نے سوال نما میزایل داغا تھا ۔

"غلطی ہوگئ" ۔میں نے اسے غصہ سےدیکھآ اور اپنے کمرہ کی طرف بڑھا ۔وہ اپنے والے حصہ میں چلی گئ اور دروازہ لگا دیا ۔

میں اپنے کمرے میں پہنچا ۔بال وغیرہ تولیہ سے صاف کیۓ ۔اور کپڑے بدل کر خود بستر پر لیٹ گیا کھانا تو کھا کر آیا تھا کہ ماموں کے گھر کا۔ اصول تھا ۔وہ نو بجے کے اندر کھانا کھا لیتے اور پھر باورچی خانہ بند ہو جاتا تھا ۔اس لیۓ میں  راستہ  میں کھانا کھا لیا کرتا  تھا ۔

لیکن آج چونکہ بارش میں بھیگ کر گھر پہنچا تھا تو چاۓکی شدید طلب ہو رہی تھی ۔لیکن یہ بھی پتا تھا مامی صاحبہ سر پر دوپٹہ لپیٹے سو گئ ہونگی اور رہ گئیں ندرت صاحبہ تو وہ تو ایسی توفیق کرنے سے رہیں ۔ چاۓ پر اناللہ پڑھتے میں سو گیا تھا ۔

صبح دستر خوان پر ماموں سے ملاقات ہوئ تھی۔

"برخوردار۔کیسے آۓ ۔"

"جی ماموں ۔بس ٹھیک ٹھاک ۔گھر پہنچتے پہنچتے بارش تیز ہو گئ تو ۔۔۔۔"۔میں نے بات ادھوری چھوڑی ۔

"کمرے میں چاۓ بھجوا ئ تھی ندرت نے ۔لیکن پتا چلا تم نے نہیں پی ۔ پی لیتے ۔بھیگ کر آے تھے آخر ۔۔"

ماموں کی اس بات پر میری نظر بے ساختہ باورچی خانہ پر چلی گئ  تھی ۔جہاں  مامی اور ندرت مصروف تھیں ۔اس سفید جھوٹ پر  میں بل کھا کر رہ گیا ۔ 

"جی دل نہیں چاہا ماموں ۔پھر نیند بھی تو نہیں آتی"  مجھے بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑا ۔دراصل سچ بولنے کا کوئ فائدہ نہیں ہوتا تھاکیونکہ ندرت ماموں کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھیں ۔اور وہ دن کو رات کہہتیں تو دن دن نہیں رات بن جاتا تھا ۔ویسے وہ منتقم مزاج بھی تھیں ۔میں سچ بولتا تب مجھے تین مہینہ تک مرچوں والی چاۓ ۔اور جلی ہوئ روٹیاں ملتیں اس لیۓ بات کو چھپالینے میں ہی بھلائ تھی۔ 

ماموں نے پھر کچھ نہیں کہا تھا اور میں بھی کھانے میں مصروف ہو گیاتھا 

۔مجھےاماموں کے پاس بھیجنے کا خیال ابا کو آیا تھا ۔میں انٹر فرسٹ ڈویزن میں پاس کر کہ کالج میں ایڈمشن کا سوچ رہا تھا لیکن گاوں کی   مجبوری تھی کہ کالج ہی نہیں تھا ابا کو ماموں کا خیال آیا ۔کہ شہر میں ماموں ہیں تو پھر کیسی ٹنشن ۔لیکن میں بلکل بھی راضی نہیں تھا ۔دراصل جب تک امی تھیں تب بھی امی ماموں کے پاس ہم کم ہی آتے تھے ۔وجہہ ماموں کی اصول پسندی تھی وہ کبھی کبھی اصولوں کو لیکر سخت ہو جاتے تھے جن سے سب خائف ہو تے تھے ۔میں نے بھی جب سے ہوش سنبھالا تھا ۔ماموں کے ہاں آنا تقریباً ترک کر چکا تھا ۔پھر امی کا انتقال ہوا اور ابو نے دوسری شادی کر لی تو پھر یہاں آنا ہی بند ہو گیا تھا ۔

لیکن‌اب گریجویشن کے لیۓ مجھے ماموں کے پاس رہنا پڑے گا یہ سوچ کر ہی میری طبعیت مکدر ہو گئ تھی ۔۔ 

" میں ہاسٹل  میں رہ لوں گا ۔"میں نے احتجاج کیا تھا چونکہ میری فطرت  کسی کا احسان لینا گوارا نا کرتی تھی۔

" ۔ اگر تمہارے ماموں  کو پتا چلا  وہ برا مان جائیں گے کہ انکے گھر کے ہو تے ہوۓ ہاسٹل میں کیوں رہ رہے ہو ۔" ۔ ابا سمجھارہے تھے ۔

"لیکن‌مجھے انکی سخت مزاجی بلکل بھی نہیں پسند "۔ 

"سخت ہیں۔ لیکن دل کے  اچھے ہیں ۔اب زیادہ بحث مت کرو میں خط لکھ چکا ہوں تم جانے کی تیاری کر لو۔ "

"بس انکے پاس غیر ضروری باتیں مذاق ۔قہقہے وغیرہ لگانے سے باز رہنا اور خواتین سے بھی غیر ضروری بات  کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بس اب نکلو تم "۔ابا نے ایسے کہا جیسے مجھے دھکا دے رہے ہوں . 

اور میں چار نا چار شہر کے لیۓ نکل پڑا تھا ۔دو سوٹ کیس چار چھوٹے بیگ لیۓ میں بس میں بیٹھا اپنی آنے والی زندگی کی پلاننگ کر رہا تھا ۔ میرا ارادہ گریجویشن کے ساتھ ہی جاب کے لیۓ اپلائ کرنا تھا ۔میں جلد از جلد اپنی پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتا تھا ۔ 

جب بس میرے مطلوبہ بس اسٹیشن پر رکی تو ماموں کا فون آیا تھا کہ وہ بس اسٹینڈ نہیں آ سکتے ۔کہ دفتر کے ضروری کام سے انہیں جانا تھا "۔میں آجاؤں گا ماموں ۔ میں  نے  انہیں تسلی دی تھی اور سامنے ایک آٹو والے کو روک لیا اور کرایہ بات کر  کے بیٹھ گیا ۔اس دن بھی آج کی طرح آسمان پربادل سیاہ ہو گۓ تھے ۔تیز ہوائیں چلنے لگیں تھیں  ۔دن رات کا سماں پیش کرنے لگا تھا میں خیریت سے  گھر پہنچنے کی دعائیں کر رہا تھا ۔یہ میرا  پہلا طویل سفر تھا اور میں حواس باختہ سا تھا ۔۔

بھلا گاؤں کا سیدھا سادھا سا لڑکا اور شہر کی تیز ہوائیں ۔۔

میں جب ماموں کے گھر پہنچا تو ندرت سے ہی پہلا سامنا ہوا تھا ۔وہ مجھے سر سے پیر تک دیکھ رہی تھی اور عجیب عجیب چہرہ بناتے ہوۓ مجھے گھور رہی تھی ۔ 

" کیا  کہا آپ نے ۔کس کے بیٹے ہیں "۔ 

میں شیخ قادر( آپ کے منجھلے پھوپھا) کا بیٹا ہوں ۔ مجھے باپ کا حوالہ دینا پڑا ۔

" اچھا ۔" وہ مجھے بدستور گھورتی رہی پھر کہا تو یہ کہ ۔۔

"۔لیکن آپ آٹو سے آۓ اور پھر بھی اتنے کیسے بھیگ گۓ۔' مجھے اسکا سوال عجب لگا ۔ 

ہاں میں کافی بھیگ گیا تھا ۔مجھے جو آٹو ملا تھا اس میں تین بندے پہلے سے بیٹھےہوۓ تھے ۔مجھے بالکل کارنر میں ٹھونسا گیا تھا جس کی وجہہ سے تیز پانی مجھ پر بوجھاڑ کی طرح برس رہا تھا اور میں ابنے آپ کو بھیگنے سے بچا نا سکا تھا ۔اور اب یہ ماموں کی اکلوتی بجاۓ مجھے جلدی سے اندر بلاتی ہیں آنگن میں ٹہراۓ مجھ سے سوال جواب کر رہی تھی ۔میری کوفت اس بے تکے سوال پر اور بڑھ گئ تھی ۔

"بارش ہو تو بھیگتے تو ہیں ۔چاہے آٹو ہو کہ نا ہو ۔ "

"مطلب اکرایہ دے کر بھی آپ سر سے پیر تک بھیگ گۓ  ۔واہ ۔" وہ  ہنسی ۔پھر اس نے میرے چہرے پر ایک نظر ڈالی ۔اور چونک کر پھر سے دیکھا اور پھر ہنستی چلی گئ ۔ 

"کیا کہا تھا  آپ نے" ۔وہ رکی "بارش ہو تو بھیگ ہی جاتے ہیں "۔ وہ جملہ دہراتے پھر سے ہنسنے لگی تھی ۔ 

ٹہرے ٹہرے میرے اعصاب اسکی بے ہودہ ہنسی سے جیسے چٹخ گۓ لیکن میں  ضبط کرتا بڑی مشکل سے گو یا ہوا ۔ 

"مامی کہا ں ہیں ۔ "

"آمی امی" ۔وہ مامی کو آواز دینے لگی ۔لیکن اسکی ہنسی اسکے قابو میں ہی نہیں آرہی تھی۔ 

"ارے فصیح بیٹا !آو ۔بھئ اس طرح آنگن میں کیوں کھڑے ہو ۔" تبھی مامی آئ تھیں ۔  

"تم تو پورے بھیگ گۓ ہو بیٹے ۔" انہوں نے بڑے افسوس سے مجھے دیکھا تھا ۔

"امی ۔بارش ہو تو بھیگ ہی جاتے ہیں ۔"  اپنا قہقہہ روک کر اس نے اپنا  جملہ مکمل کیا تھا اور ہنستی ہوئ ہی اندر کی جانب بڑھی۔ پھر رک کر پلٹ کر مجھے دیکھا ۔

"بارشوں میں ڈائ لگانے سے پرہیز کریں ۔ورنہ ۔۔۔۔بارش ہو تو کچے رنگ بہہ جاتے ہیں ۔" اس نے اپنی ہنسی روکنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا اور اندر چلی گئ تھی۔

میں مامی سے بات کر کے انکے بتاۓ ہوۓ کمرہ کی جانب چل پڑا ۔کمرہ بہت کشادہ تو نہیں تھا لیکن فرد واحد کے لیۓ بہت موزوں تھا ۔سلیقے سے دیوار سے لگا تخت جس پر سفید براق چادر بچھی تھی ۔۔ایک راییٹنگ ٹیبل جس پر اخبارات اور سٹیشنری کی کچھ اشیا رکھی تھیں ۔ڈریسنگ ٹیبل اور اس پر مختلف بالوں کے تیل وغیرہ رکھے تھے ۔شیونگ کٹ تک رکھی گی تھی ۔ 

واہ ۔کمرہ مجھے پسند آگیا تھا ۔

لیکن جب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا تو بےساختہ ہی اپنے چہرہ پر نظر پڑی ۔ 

 چہرہ پر سیاہ خضاب ریلوں کی صورت بہہ چکا تھا گو کہ رنگ ہلکا تھا لیکن چہرہ پر اسکے نشان  واضح تھے ۔ اب مجھے سمجھ آیا تھا کہ وہ کیوں اتنا ہنس رہی تھی ۔ 

میرا چہرہ ایک  نوآمیز آرٹسٹ کا نمونہ پیش کر رہا تھا ۔ 

مجھے اپنے آپ پر شدید غصہ آیا تھا ۔ 

کیا ضرورت تھی ۔ڈائ کر نے کی ۔میں کونسا  بر دکھوا کو آرہا تھا ۔اپنے آپ کو کوستا میں سیدھا ملحقہ باتھ روم میں گھسا تھا اور خوب رگڑ رگڑ کر چہرہ دھولیا ۔۔ 

میں نہیں چاہتا تھا کہ ندرت کے بعد ماموں کوئ چبھتا ہوا جملہ  کہیں‌جو مجھے نا قابل برداشت لگے ۔ ۔  ۔ 

تو یہ تھی میری اور ندرت کی پہلی ملاقات ۔ 

اور میں ندرت سے بدظن ہو چکا تھا سارے خاندان میں ندرت اور مامی کی تنک مزاجی مشہور تھی۔ ندرت کو خصوصی امتیاز تھا نک چڑھے ہونے کا شاید اس لیۓ کہ وہ اکلوتی بیٹی تھی اور  ماموں کی کوئ اولاد نرینہ نہیں تھی ۔

۔ اسکے بارے میں مشہور تھا وہ ہر دم ہر کسی کا مذاق اڑاتی رہتی ہے ۔پڑھنے کا کوئ شوق نہیں ہے ۔پکوان سے انجان اور کام سے دور بھاگتی ہے۔‌ اور ندرت کے بارے میں جتنا سنا تھا اس سے کہیں زیادہ ماموں کے بارے میں سنا تھا ۔وہ سخت مزاج ،غصیلے اور پندخو ہیں ۔ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے ۔ اور کافی بخیل ہیں کسی رشتہ دار پر پیسہ خرچنا نہیں جانتے ۔پیسہ پر جن کی طرح قابض ہیں ۔ 

اللہ کا‌دیا سب کچھ ہے مگر دل نہیں ۔وغیرہ ۔ 

میں نے بھی یہ سب باتیں سنی تھیں اور میرے اپنے خیالات بھی ماموں کے بارے میں‌ایسے ہی تھے ۔

 میں نے ابا کو فون کیا اور اپنی خیریت کی اطلاع دی۔

شام  میں اپنے کمرہ میں بیٹھا تھا تو رشید آگیا ۔"پھوپھا آگۓ ہیں آپ کو بلارہے ہیں کھانے کا وقت بھی تو ہو گیا ہے"

 ۔ "لیکن مجھے ابھی بھوک نہیں ہے ۔"

میں نے چونکہ  راستے میں  کھا لیا تھا تو اٹھتے ہوے بولا ۔ یہاں ہر کام وقت پر  ہی ہوتا ہے اور کھانے کا بھی ایک وقت مقرر  ہے ۔اگر آپ کو کھانا ہے تو آپ کو اسی مقررہ وقت پر ہی کھانا ملے گا آپکی مرضی کے مطابق آپ کو کھانا نہیں ملےگا" ۔میں‌تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

"مطلب۔ " 

" مطلب یہی کہ اگر آپ کو بھوک نا بھی ہو تب بھی آپ کو کھانا کھا لینا چاہیۓ۔ ورنہ آپ کو بھوکا ہی سونا پڑے گا ۔" وہ  بڑے آرام سے اس گھر کے اصول بتا رہا تھا ۔ وہ مامی کے بھائ کا بیٹا تھا وہ بھی گاؤں سے آیا تھا ۔اسکے والد نہیں تھے تو ماموں نے گھر کی دیکھ بھال سودا سلف لانے کے لیۓ رکھ لیا تھا ۔وہ شاید نو دس سال کا تھا ۔ 

"آور کیا کیا یہاں کے طور طریقہ ہیں جنہیں مجھے فالو کرنا ہے "۔وہ ہنسا تھاا میرے انداز پر ۔ 

"بس اب چلیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو بہت ساری باتیں خود ہی پتا چل جائینگی "۔‌

"ہمممم۔" میں  اسکے پیچھے چل پڑا ۔

ماموں۔ایک بڑے ہال میں کونے میں رکھے تخت پر بیٹھے تھے ۔ انکا چہرہ رعب دار تھا ۔رنگ گورا  تھا ۔اور ساری سختی آنکھو ں سے ظاہر ہورہی تھی ۔ انہوں نے ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنا تھا میں  نے دھیمے لہجے میں سلام کیا ۔

"والسلام ۔کہیۓ جناب ۔سفر کیسا رہا آپ کا ۔" 

"جی ماموں ۔سفر تو شاندار ہی تھا ۔لیکن‌یہاں تک آتے آتے بارش نے  سارا ماحول ہی تر تبتر کر دیا۔‌"مجھے سفر کے نام پر بارش میں بھیگنا یاد آیا تو میں نے بھی کہا ۔‌ 

"سفر ہمیشہ سبق دیتا ہے اچھا یا برا ۔ اور یقینا تم سبق یاد رکھنے والوں میں سے ہو گے" ۔ وہ بردباری سے بولے ۔

سفر اور سبق ہمیشہ یادگار ہو تے ہیں " یہ میرا ماننا ہے ۔میں نے  مضبوط انداذ سے کہا۔

میری بات سن کر وہ مسکراۓ ۔ 

"بر خوردار ۔ لگتا ہے تم بھی کافی غور و خوض سے کتا بیں پڑھتے ہو۔ "

مجھے کتابیں پڑھنے سے زیادہ برتنا  اور اس پر عمل کرنا  اچھا لگتا ہے ۔" میں  اپنی بات مکمل کر کے بیٹھ چکا تھا۔ 

میری یہ بات سن کر ماموں ایک لمحہ کو خاموش ہو گۓ تھے ۔ 

آآگے کیا ارادہ ہے ۔ گورنمنٹ جاب کے لیۓ ٹرآئ کروگے۔ یا‌۔۔۔ "انہوں نے بات ادھوری چھوڑی ۔ 

" نہیں  گورنمنٹ جاب  کا ملنا لوہے کے چنے چبانا جیسا ہو گیا ہے ۔  اس لیۓ پرائیوٹ میں ہی کوشش کروں گا ۔" 

"ہمممم ۔ویسے بھی ہر کسی کو نہیں ملتی گورنمنٹ جاب ۔"۔۔ ان کا الہجہ کچھ فخریہ سا تھا۔چونکہ وہ خود ایک گورنمنٹ امپلائ تھے۔

لیکن مجھے گورنمنٹ جاب پسند بھی نہیں ۔سرکاری ملازمتوں کا مئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ حلال رزق کم ہو تا ہے اور حرام وافر مقدار میں مل جاتا ہے ۔اور مجھے حرام رزق نہیں حلال رزق ہی چاہیۓ ۔میں نے مضبوطی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا لیکن ۔۔۔۔۔ماموں نے اس بات کو ذاتی چملہ سمجھا‌۔ان کا چہرہ سرخ ہوا۔ 

"تم جو روٹی کا لقمہ لے رہے ہو ۔وہ حق حلال کی کمائ کا ہے ۔میرا کردار بے داغ اور نوکری شفاف ہے ۔اس میں کوی دو راۓ نہیں ۔ "

آپ کو شاید غلط فہمی ہوئ میں نے آپ کو یا آپکی نوکری کو کچھ نہیں کہا بس ایک عام سی بات تھی" ۔مجھے حقیقتاً انکے سامنے شرمندگی محسوس ہوئ تھی ۔ 

وہ چپ رہے ۔ 

"یہ ۔"۔۔میں نے ایک روٹی کا نوالہ توڑا تھا ۔

"اگر حرام ہوتا تو میں ہر گز اس کو نا توڑتا "۔  میری اس بات سے انکے چہرے کے تاثرات بدل گۓ اور وہ مجھ سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔دراصل اگر خاندان میں کسی کو گورنمنٹ جاب ملی تھی تو وہ ماموں ہی تھے ۔وہ ایک قابل اور بہت زیادہ محنتی طالبعلم تھے ۔گریجویشن میں انہوں نے ڈسٹنکشن لیا تھا اور چونکہ اس زمانہ میں سرکاری ملازمت قابلیت کی بنا پر مل جاتی تھی ۔ سفارش سے نہیں ۔تو محکمہ آب  میں‌ان کا تقرر ہو گیا تھا۔ اور جتنی چادر اتنے پیر والے فارمولہ پر چلتے تھے اس لیۓ انکی زندگی چین‌سے  گذر رہی تھی۔

میں بھی گریجویشن کے فائنل ایر میں‌آ گیا تھا ۔میرا ارادہ کالج ٹاپ کرنے کا تھا اس لیۓ میں ساری دنیا بھول کر پڑھائ میں غرق تھا ۔اب نا مجھے ندرت سے کوئ مطلب تھا نا مامی۔ سے نا ماموں سے ۔ویسے بھی گریجویشن ہوتے ہی میں ماموں کا گھر چھوڑ کر کسی بھی اپارٹمنٹ میں رہ سکتا تھا بس نوکری ملنے کی دیر تھی ۔ میں‌پڑھائ کے ساتھ ساتھ روزآنہ اردو انگریزی اخبارات بھی کھنگال رہا تھا ۔جہاں جہاں مجھے نوکری مل سکتی تھی ۔ان پر ٹک لگا کر محفوظ بھی کرتا جارہا تھا ۔ امتحانات کے ختم ہونے کے بعد  مجھے انٹرویوز  کی تیاری بھی کرنی تھی۔


 


اا

۔ 

 ۔


 


 

۔۔

E





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ