تیرے لیۓ ۔۔۔پارٹ ٹو

 تیرے لیۓ ۔۔۔پارٹ ٹو ۔

"رحیمہ ۔۔۔رحیمہ تیری ماں مر گئ "۔باہر کھیلتی رحیمہ کے کانوں میں یہ آواز آئ تو رحیمہ کی سمجھ ہی نہیں آیا کہ ماں کیسے مر جاتی ہے ۔ وہ آٹھ سال کی بچی اس نے تو ابھی ابھی زندگی کو دیکھنا شروع کیا تھا اور اب لوگ کہہ رہے تھے کہ اس کی ماں مر گئ۔ 

ماں ۔۔ماں۔وہ تو ہر بات کے لیۓ ماں کو دیکھا کرتی تھی ۔ماں یہ کر دوں ۔

ماں وہ کردوں ۔ 

ماں یہ کیا ہے ۔

اور ماں اس کی ہر بات پر مسکراتے مسکراتے جواب دیا کرتی تھی ۔اور اب وہ ماں کی لاش کے پاس بیٹھی ماں کو دیکھ رہی تھی۔ اور دل ہی دل میں ماں سے پوچھ رہی تھی ۔

"ماں ۔یہ موت کیا ہو تی ہے۔ "

اور ماں نے تو نہیں بتایا مگر دنیا نے بتادیا کہ موت کیا ہو تی ہے ۔اور ایک ماں کے مر جانے سے کتنے لوگ بن موت مر جاتے ہیں ۔

ماں ڈلیوری میں مرگئ تھی اس لیے وہ شہید ہو گئ ۔تھی لیکن جو بچ گئ تھی وہ زندہ درگور ہو گئ تھی۔ 

اباپ  نے دوسری شادی کر لی ۔ماں نے آنکھیں بند کر لیں تو باپ نے آنکھیں ہی پھیر لیں ۔اس سے۔اور وہ ماں کو مردہ سمجھتے سمجھتے اب باپ کو بھی زندہ سمجھنا چھوڑ چکی تھی۔ 

ا"اے رحیمہ" ۔اس کی سوتیلی ماں چیخ اٹھتی ۔

"جا باہر آنگن میں برتن پڑے ہیں ۔کب دھوۓ گی۔ شام تک باسی رکھے گی کیا ۔" 

اور رحیمہ ساڑھے آٹھ سال کی عمر میں سخت دھوپ میں برتن دھونے لگتی ۔تب اسے  اپنی ماں  یاد آتی ۔ 

ا"اے رحیمہ ۔ ۔۔۔۔باہر کیا کر رہی ہے ایسی تیز دھوپ میں ۔ چل اندر آکر کھیل ۔"

اور چھاؤں  میں بلاتی ماں اسے زندگی کی کڑی دھوپ میں تنہا کر گئ تھی ۔ 

اب قہر برساتی دوپہر میں سوتیلی ماں کے قہر سے بچنے برتن دھوتی تو اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ ماں کے آگے صرف سوتیلی لگنے سے سب کچھ اتنا بدل کیوں جاتا ہے ۔ 

"رحیمہ جھاڑو مار دے ۔ رحیمہ کپڑے دھو دیۓ کہ نہیں ۔ "

"رحیمہ ہانڈی بھون لی ۔ "

"چاول کو ابھی تک بھگویا نہیں ۔کام چور ۔اب جلدی جلدی ہاتھ چلانا سیکھ لے ۔ورنہ تیرا کھانا ہی بند کر دوں گی۔" اس کی سوتیلی ماں چیختی رہتی ۔ہر دوسرے دن وہ اسے صرف ایک وقت کا کھانا دیتی ۔کیونکہ تین وقت کھانے سے وہ کام چور نکمی بن رہی تھی اور تین وقت کے کھانے کے لیۓ رحیمہ۔دس دس گھنٹے کام کرتی رہتی ۔ماں کے تین پے در پے بچوں کی وجہہ سے گھر کا کام بڑھ گیاتھا اور رحیمہ کو اس چکی میں روز ہی پسنا تھا ۔۔ 

...................

"اریشہ جلدی سے میرا لنچ پیک کردو۔" فوزان کچن کے دروازہ میں کھڑا اس سے کہہ رہا تھا۔ وہ جلدی جلدی روٹی ڈال کر ٹفن پیک کرنے لگی۔

 "اوکے ۔تھینک یو ڈیر ۔"

اس کے ہاتھ سے لنچ باکس لیۓ فوزان اس کے شرارت سے بال بگاڑ کر جا بھی چکا تھا ۔وہ مسکراہٹ دباتی باہر آئ تھی ۔

"امی ۔۔میں آج امی کے ہاں چلی جاؤں ۔وہ ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ کرتی ہو ئ  اپنی ساس سے پوچھنے لگی ۔ 

"ہاں چلی جاؤ بیٹے میں نے کب منع کیا تمہیں "۔ انہوں نے شفقت سے کہا ۔ 

"فوزان کو پوچھ لیا ناں"۔ 

"جی ۔ان سے تو اجازت لے لی تھی ۔وہ شام میں لینے انے والے ہیں "۔ 

"اچھا چلو پھر کوی بات نہیں ۔اب سکون سے ناشتہ کر لو "۔ انہوں نے اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ ۔ 


*******

"تو امی جان ۔یہ وجہہ تھی آپ کی میری اتنی جلد شادی کرنے کی۔ "وہ اپنی امی کے گلے لگی بولی تھی ۔ ناشتہ کر تے ہی وہ تیار ہو کر ادھر ہی آگئ تھی۔ 

"ہاں ۔تمہارے ابو نے فوزان سے ملاقات کی ۔بات چیت کی تو انہیں فوزان اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے فوراً شادی کی ہامی بھری۔" امی بھی اس کو خوش دیکھ کر نہال تھیں ۔

"ہمممم ۔تو فوزان صاحب نے ہمارے ابو پر بھی جادو کر دیا تھا "۔اس کی شوخی سے کہنے  پر امی نے اسے پکڑا ۔ 

"بھی ۔تو یعنی تم بھی ۔فوزان کی اسیر ہو گئ ہو ۔" 

"امی وہ اتنے اچھے ہیں کہ میں بتا نہیں سکتی ۔میں ان کی زندگی میں آنے والی بہلی لڑکی ہو ں۔ اور وہ مجھ پر بس فدا ہیں ۔تو میں کیوں ان پر فدا نا  ہوں" ۔وہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بتارہی تھی۔ 

"ہممم۔اریشہ بس دعا کرتی رہنا ۔یہ محبت ہمیشہ قائم رہے"۔ اس کی امی نے اسے گلے لکا یا تو وہ بھی اثبات میں سر ہلا رہی تھی

۰***********

 اس وقت وہ دونوں اس مشہور کلینک میں بیتھے تھے۔ جو اپنی نیک نامی و  دیانت داری کے لیۓ مشہور تھا ۔

ان دونوں کا ایک ہی سوال تھا اور جواب اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس تھا ۔اور جواب کیا تھا۔وہ دونوں جاننے کے لیۓ بے تاب تھے۔ 

*************

آج پھر رحیمہ کو اس کی ماں نے ایک وقت کا کھانا بند کر دیا تھا۔ کیونکہ اس نے چھوٹے بھائی کو تھپڑ مار دیا تھا ۔وہ اسے اس کی ماں کے انداز میں گالیاں دے رہا تھا ۔

ا"اری او تو بڑی کہیں کی افسر ۔اتنی سی بات پر تو نے میرے معصوم پر ہاتھ اٹھایا ۔اب دیکھ میں تیرے ہاتھ کیسے توڑتی ہوں ۔"

ا"ماں ۔اسے گالی نہیں دینی چاہیۓ تھی۔"

ا"ارے تو تو ہے ہی منحوس۔ گالی نا دیں تجھے تو کیا دیں" ۔ انہوں نے اس کی چوٹی پکڑی تھی اور زور زور سے اسے جھٹکے دینے لگیں ۔ 

ا"اماں اماں درد درد ہو رہا ہے "۔وہ رونے لگی۔مگر اماں کو اس کے رونے سے فرق تو نہیں پڑنا تھا۔ مگر ۔۔۔۔۔

اس نے دیکھا اس کے باپ کو بھی کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔ 

ا"ابا ابا جی" ۔اسے رونا آگیا ۔پتا نہیں کس بات پر ۔اماں کی سنگدلی پر یا ابا کی بے حسی پر ۔

اور اس نے اپنے سارے آنسو اندر اتارنے شروع کر دیۓ۔

###############

اس کی زندگی بہت خوبصورت انداز سے آگے بڑھ رہی تھی ۔اسے فوزان کی محبت تو حاصل تھی ہی ۔مگر سسرال میں بھی سب اس سے بہت  محبت کرتے تھے۔ اس کی ساس کا رویہ مشفقانہ تھا ۔اس کی دونوں نندیں بھی ہر پندرہ دن آتیں اور وہ انکی مہمان نوازی خوش دلی سے کرتی۔ دونوں جٹھانیوں کے الگ گھر تھے ۔وہ بھی مہینہ دو مہینہ میں اس کے یہاں چکر لگاتیں اور سب ہنستے بولتے رہتے ۔کام کے لیے  گھر میں دو ملازمائیں بھی تھیں ۔ایسے میں وہ کام سے جلدی فری ہو جاتی ۔

فوزان کا  ہر مہینہ کا ٹور ہو تا تھا ۔وہ بنگلور چلے جاتا اور وہ اس کے آنے تک بولائ بولای پھرتی ۔

"فوزان" ۔وہ آج صبح ہی بنگلور سے آیا تھا ۔ 

"کیوں نا میں اپنی تعلیم کنٹینیو کر لوں "۔وہ ناشتہ کی ٹیبل پر بیٹھی اسے روٹی دیتی ہوئ بولی ۔

"کیوں بھئ ۔ایسے کیا ہو گیا اچانک ۔کہ پڑھائ کا خیال آیا تمہیں "۔ وہ منہ میں نوالہ لیتے لیتے بولا ۔

"میں سارا دن بور ہو رہی ہوں ۔سارا کام بھی دس بجے تک ختم ہو جاتا ہے ۔اور مجھے سمجھ  نہیں آتا کہ سارا دن گھر میں بیٹھ کر کروں کیا ۔"اس نے امی کو روٹی دے کر سالن کا باؤل اٹھا یا تھا اور انکی پلیٹ میں سالن ڈالنے لگی۔

"تو بیٹی ۔اچھی بات ہے تمہاری تعلیم بھی تو ادھوری رہ گئ تھی۔ اسی بہانے تعلیم مکمل کر لو ۔ تعلیم تو زندگی بھر کام آنے والی چیز ہے۔" ہمیشہ کی طرح اس کی ساس نے اسے سپورٹ کیا تھا ۔

"ہاں ۔مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ کل ہی جا کر اڈمشن کروالو ۔بلکہ میں بھی ساتھ ہی چلتا ہوں" ۔فوزان نے بات ہی ختم کردی ۔اس کی رضامندی ملنے کی دیر تھی ۔ اسے  ڈگری پورا کرنے کا خواب اب پورا ہو تا نظر آرہا تھا ۔ 

یوں اس نے سکنڈ ایر ڈگری میں اڈمشن لے لیا اور کلاسس بھی جوائن کر لیں۔ 

اب یوں وہ تھوڑا مصوف بھی ہو گئ تھی اور تعلیم کا سلسلہ بھی چل نکلا ۔دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دو سال کالج میں مکمل کر لیۓ اور اب بی ایڈ میں داخلہ بھی لے لیا ۔ اس کے بعد اس کا ارادہ گورنمنٹ جاب کا تھا ۔

#################################

آج پوری فیملی اریشہ کے گھر جمع تھی ۔آج فوزان نے اریشہ کی گورنمنٹ جاب کی  خوشی میں سب کو مدعو کیا تھا ۔اس کی دونوں نندیں اپنے بچوں کے ساتھ آئ تھیں ۔جبکہ اس کی جٹھانی رعنا بھی آی ہوئ تھی۔ 

"اریشہ" اچانک رعنا نے اسے مخاطب کیا تھا ۔وہ ابھی ابھی کھانے سے  اٹھے تھے ۔اریشہ سب کو چاۓ سرو کر رہی تھی۔ "جی بھابھی ۔" 

"یہ کیا تم دونوں کافی سلو جارہے ہو ۔" انہوں نے  معنی خیز سی ہنسی کے ساتھ کہا ۔ 

"جی   میں سمجھی نہیں بھابھی۔ "

"افوہ ۔ادھر فوزان کو تو دیکھو "۔انہوں نے بچوں میں گھرے فوزان ۔کی جانب اشارہ کیا اس کے ساتھ ساتھ سب کی نظریں فوزان کی جانب اٹھی تھیں ۔ وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر عجیب عجیب صورتیں بناتا کھیل رہا تھا ۔

"فوزان کو ہمیشہ بچے بہت اچھے لگتے ہیں ۔اور ایک تم ہو کہ ۔"۔۔۔۔رعنا نے بات ادھوری چھوڑی ۔

" بھابھی اب ۔اتنے بچے کافی نہیں ہیں کیا ہمارے اور آپ کے ۔۔آپ اور اضافہ چاہ رہی ہیں ۔زندگی کو  انجواۓ کرنے دیں انہیں ۔پھر کہاں آئیں گے ایسے دن ۔ "اس کی  نندجو لگاتار تین بچے پیدا کر بے زار ہو جکی تھی ۔اسکی حمایت میں بول پڑی

۔ ۔اریشہ کو تو ایک دم شرمندگی نے آ گھیرا تھا ۔اس بارے میں تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔شادی کو ساڑھے چار سال ہونے کو آئے تھے۔ اور وہ اب تک خواب غفلت میں پڑی تھی۔ 

"زیادہ نہیں۔مگر ایک تو ہونا چاہیۓ نا۔ اب ایسی بھی انجواۓمنٹ اچھی نہیں لگتی ۔" رعنا اپنی بات پر بضد تھی ۔

ا"اریشہ ۔اریشہ "۔فوزان پکار رہا تھا ۔

"بچوں کے لیۓ جوس تو لے آؤ "۔ 

اور وہ دل ہی دل میں شکر ادا کرتی اٹھ گئ تھی ۔لیکن رات میں فوزان سے اس  نے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔

_________##################

"فوزان" ۔اس نے کمرہ میں داخل ہوتے ہی فوزان کو پکارا ۔

"میں یہیں ہوں ۔اریشہ" ۔وہ کچھ فائل الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔

"آپ میری بات سنیں نا" ۔وہ اس کی مصروفیت سے بےزار تھی 

"دو منٹ دو" ۔وہ بوری فائلز سمیٹنے لگا. 

"ہاں اب بو لو" ۔وہ فایلز ایک جانب رکھ چکا تھا ۔

"ہماری شادی کو ساڑھے چار سال ہونے کو آرہے ۔اب تک ہم نے اپنا جیک اپ نہیں کروایا "۔وہ ہونٹ کاٹتے ہوے گویا ہوئ۔ ۔

"چیک اپ ۔کس چیز کا "۔وہ اسے حیرانی سے دیکھنے لگا ۔

ا"اولاد کے بارے میں ہم نے کبھی ڈسکس نہیں کیا ۔ کبھی سنجیدہ نہیں ہو ۓ ۔اور۔۔۔۔۔"

" اریشہ" ۔اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔

"کیا کسی نے کچھ کہا تم سے ۔"

" نہیں ۔لیکن ہمیں کچھ تو سوچنا چاہیۓ ۔"

"مجھےنہیں لگتا کہ ہمیں چیک اپ کی ضرورت ہے ۔یہ سب تو نعمت خداوندی ہے ۔اس میں بندوں کا کیا دخل۔" 

"اور ویسے میں مطمئن ہوں اپنی زندگی سے ۔تم سے ۔مجھے کوئ پرابلم نہیں ہے ۔اولاد  بھی ہو جاۓ گی ۔آج نہیں تو کل" ۔

"نہیں فوزان ۔اب انتظار کرنا ٹھیک نہیں ۔ہمیں اب علاج کی طرف توجہ دینا چاہیۓ" ۔اس نے فوزان کی بات کاٹی تو فوزان اسے دیکھنے لگا ۔وہ اپنی جگہ مصمم تھی ۔

"ٹھیک ہے ۔بھئ ۔جیسی تمہاری مرضی ۔کل ہی لیڈی ڈاکٹر کا اپائٹمنٹ لے لیتا ہوں" ۔اس نے ہتھیار ہی ڈال دیۓ تو وہ بے ساختہ مسکرا اٹھی.

" ۔ آں ہاں ایسے نہیں" ۔وہ اسکے قریب آیا ۔

د"دور سے مسکراتی ہو تو اچھی نہیں لگتیں ۔" 

اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی وہ اس کے قریب آ گیا تھا .

*****************

۔آج اس کی بہن کا اسکول کا پہلا دن تھا ۔اماں اسے تیار کر رہی تھی ۔وہ آنگن میں ڈھیر سارے کپڑے لیۓ بیٹھی تھی ۔آنگن کے ہی ایک کونے میں نل تھا جس سے پانی مسلسل آرہا تھا ۔وہ پائپ لگاکر اب کپڑے دھونے بیٹھی تھی۔ 

د"دیکھ فمو ۔یہ بسکٹ رکھ لے ۔اور یہ چاکلیٹ ۔ہاں ۔آج پہلا دن ہے ناں تیرے اسکول کا ۔اچھے سے پڑھ کر آنا" ۔فمو جو مسلسل رو رہی تھی ۔ اور رونے لگی۔ 

"اماں مجھے اسکول نہیں جانا ۔میرے بجاۓ رحیمہ کو بھیج دے" ۔فمو نے ہر کام کی طرح یہ کام بھی رحیمہ کے سر ڈالنے کی کوشش کی ۔ 

کپڑے دھوتی رحیمہ کے ہاتھ رک گۓ ۔ 

اسکول ۔اسے بھی وہ جگہ کچھ خاص پسند نہیں تھی۔ اور کتابوں سے تو سر میں درد ہو تا تھا ۔ امی جب تک تھیں وہ مارے باندھے اسکول جاتی تھی ۔امی کو شوق تھا اسے پڑھانے کا ۔

ہاں ۔جب یہ اماں آ ئ تھی۔تو اسکول اسے ایک پناہ گاہ کی طرح لگتا تھا ۔جہاں اسے کم از کم اسے کو ئ کام نہیں لگاتا تھا ۔کلاس کے تمام بچوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو تا تھا ۔اور کھانے کا کبھی ناغہ نہیں ہو تا تھا ۔

ر"رحیمہ کو اسکول نہیں جانا تھا اس لیۓ نہیں بھیج رہی اسے ۔سمجھی ۔خبردار جو آگے سے ایسی بات کی تو۔۔۔۔۔۔۔"۔اماں نے فمو کو پکڑا اور اسے گھسیٹتے باہر لے جانے لگیں ۔ 

نل کا پانی مسلسل آرہا تھا ۔اور رحیمہ کے خیالات بھی مسلسل ایک تواتر سے آرہے تھے ۔

اسکول جا نے سے میری قسمت تو بدل نا جائیگی۔ میری کیا اس فمو کی بھی قسمت نہیں بدلے گی ۔

اماں کی بےکار کی کوششیشیں ہیں نری ۔چل رحیمہ دھولے کپڑے ۔تیری قسمت میں تو ہر دوسرے دن کپڑے دھونا ہی لکھا ہے ۔اس نے زور سے کپڑے پتھر پر پٹکے اور کپڑوں کو جلدی جلدی صابن لگانے لگی۔ 

کبھی کبھی قسمت انسان کو ایک جست میں فرش سے عرش پر پہنچا سکتی ہے ۔ اس موقعہ پر رحیمہ یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔

***********


"نہیں ۔"وہ ایک چیخ مار کر اٹھی ۔ 

"کیا ہوا اریشہ" ۔اس کی چیخ سے فوزان بھی گھبرا کر اٹھا ۔

اس نے فوزان کو دیکھا ۔ چہرہ سے وحشت ٹپک رہی تھی اور بے حد  خوف کے عالم میں وہ اسے پکڑ ے بیٹھی تھی۔ "کیا ہوا ۔بولو نا "۔

"میں نے ایک عجیب خواب دیکھا فوزان" ۔وہ اس کے کندھے سے سر ٹکاۓ رونے لگی 

"کیسا خواب "۔وہ اس کے خوف سے پریشان ہوا ۔

"میں‌نے دیکھا کوئ آپ کو مجھ سے چھین کر لیۓ جا رہا ہے ۔"

" اوہ ۔تم نے تو ڈرا ہی دیا "وہ مسکرایا ۔

۔ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔اب تم چھوٹی بچی تو  نہیں جو خوابوں کو لے کر ڈرنے لگ جاؤ۔ "

وہ اسے تسلی دے رہا تھا ۔اس کے سر کو سہلا رہا تھا ۔اور وہ  سوچ رہی تھی ۔ 

کوئ آپ کی پوری دنیا چھین کر لے جارہا ہو اور آپ روئیں بھی ناں ۔ ۔۔۔۔۔۔

**************


" رحیمہ کے  ابا مجھے لگتا ہے اب رحیمہ کی شادی کر دینی چاہیۓ "۔

وہ آنگن میں بیٹھی اپنی بہنوں کے پھیلاۓ گند صاف کر رہی تھی جب اس کے کان میں اس کی ماں کی آواز آئ۔ 

"تو کوئ  رشتہ وغیرہ دیکھ رکھا ہے   کیا ۔"

"ہاں "۔اب کے اماں کی آواز اسے کم سنائ دی ۔اس کے کان اب ان کی باتوں میں ہی لگے تھے ۔

"وہ اپنا محسن ہے ناں ۔وہ کہہ رہا تھا کہ اسے شادی کرنی ہے ۔کوئ لڑکی دیکھو  ممانی ۔"

" تو میں نے کہا یہ اپنی رحیمہ ہے نا  کر لے شادی ۔بہت خوش ہوا یہ سنکر ۔ "

"محسن وہ تو دو بچوں کا باپ ہے ۔ ظلم و زیادتی کر کے ہی   تو مار دیا  اس نےاپنی بیوی کو "۔ابا کو بہت شدید غصہ آیا تھا ۔اس لیۓ ان کی آواز بھی تیز ہو گئ تھی ۔

" کس نے  کہا آپ کو کہ وہ ظلم کرتا تھا اپنی بیوی پر "۔

آ"آپ کو نہیں پتا وہ تو پیدایشی بیمار تھی ۔شادی جب سے تو ٹی بی تھی اسے ۔اب وہ بیماری میں مر گئ تو اس بیچارے کا کیا قصور "۔ ان کی آواز میں جھنجلاہٹ تھی ۔۔

"ہونہہ۔ میں نہیں دوں گا اس کمبخت کو ۔چاہے کچھ بھی ہو ۔ اپنی بیٹی۔ اس کی عمر تو دیکھ ۔وہ تو ابھی پندرہ سن میں ہے اور تو کہہ رہی ہے ۔اس چالیس سال کے بڈھے کو دوں ." ابا کی بات سن کر اسے احساس ہوا کہ اس کا باپ ابھی مرا نہیں ۔ 

"تو اب پندرہ کی شہزادی کے لیۓ بیس کا کم عمر بانکا سجیلا شہزادہ ڈھونڈ لو ۔ اور ۔۔۔"۔اس کی اماں رکی ۔

"ساتھ   سونا ۔گاڑی ۔جہیز کا بھی انتظام کر لو ۔پھر کہنا جو  بھی کہناہو ۔" وہ غصہ سے اٹھ کئیں تو وہ جلدی جلدی اپنے ہاتھ چلانے لگی۔ وہ نہیں چاہتی تھی ۔کہ اس کی ماں دیکھ لے کہ وہ ان کی باتیں سن رہی تھی ۔ 

########################۔ 

۔"کیا ہوا اریشہ ۔کیا سوچ رہی ہو ۔"وہ جانے کب سے اسے دیکھ رہا تھا ۔دونوں ہاتھوں کو گود میں رکھے وہ گہری سوچ میں گم تھی ۔ان دونوں کو کل کلینک جانا تھا ۔ان دونوں کے ٹسٹ ہوۓ تھے ۔اور ڈاکٹر نے کہا تھا کہ فائنل ربورٹ آنے کے بعد ہی وہ علاج شروع کرے گی ۔

اور تب سے وہ گم صم  سی ہوگئ تھی ۔ 

ا"اب کیا ہوگا ۔رپورٹ میں کیا آئے گا ۔اور وہ اس تمام صورتحال کو کیسے سنبھال پاۓ گی۔ "

"کیا اس کا خواب پورا ہو گا ۔وہ جو آنگن میں بچوں کے کھیلنے کا منظر دیکھتی آرہی تھی وہ کیا سچ ہو گا۔ "

" اریشہ۔اے اریشہ ۔" فوزان نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائ تو وہ چونک گئ ۔

"جی ۔"

"میں نے کہا کیا سوچ رہی ہو ۔ "

"فوزان ۔میں نے ہمیشہ زندگی کو مثبت لیا ہے ۔میں کبھی نا امید نہیں ہوئ ۔لیکن اب ایسا کیوں لگ رہا ہے  کہ میں ۔۔۔۔۔"

وہ بات مکمل بھی نا کر پائ اور اس کی آواز بھرا گئ ۔ 

"زندگی کو  ہمیشہ مثبت ہی لینا چاہیۓ ڈیر ۔مجھے دیکھو ۔میں کتنا مطمین ہوں ۔مجھے اس سارے معاملے میں دلچسپی ہے تو بس تمہاری حد تک "۔وہ اس کی قریب بیٹھ کر اس کے ہاتھوں کو تھام کر کہہ رہا تھا

" زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ۔اریشہ ۔میں بغیر اولاد کے بھی تمہارے ساتھ خوش رہوں گا ۔"

"پلیز ۔فوزان "۔اس نے فوراً اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا ۔

"ایسا  کچھ مت  کہنا میں میں ۔۔۔۔۔"۔

" میرے  اندر اتنا صبر نہیں ۔نہیں ہے میرے اندر اتنا ضبط "۔وہ اپنے ہاتھوں میں چہرا چھپا  ۓ رونے  لگی تو فوزان اسے سنبھالنے لگا تھا ۔

۔"ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔"

"تم حوصلہ رکھو" ۔اور اسے کیوں لگ رہا تھا کہ وہ  حوصلہ  ہار رہی ہے ۔

###################

۔ ماں کی باتیں سن کر رحیمہ چھت پر چلی گئ تھی ۔ڈوبتا سورج اور شام کا احساس ۔وہ پہلی بار ڈوبتے سورج کو دیکھ کر اداس ہو ئ تھی ۔اورابھرتی شام  اسکے دل پر بھی چھائ تھی ۔

"کیا سچ میں  اس کے لیۓ اللہ نے چالیس کا محسن رکھا ہے ۔یا شاید اس سے بھی کوئی گیا گذرا ۔"

میں  نے تو ماں کے مرنے کے بعد کبھی دعا نہیں مانگی ۔کبھی اللہ سے کچھ نہیں سوال کیا ۔

مگر کیا کوئ معجزہ ہو سکتا ہے اس کے  ساتھ کہ  وہ محسن جیسے شخص سے بہتر شخص کے ساتھ زندگی گزارے ۔

وہ اداس ہوئ ۔اس نے آخری بار ڈوبتے سورج کو دیکھا  ۔۔زرد سورج کی  اداس کرنیں اس کے چہرہ پر پڑ رہی تھیں ۔ وہ کتنی دیر اس سورج کو دیکھتی رہی ۔یہاں تک کہ وہ ڈوب گیا اور کچھ منٹ بعد اذانیں شروع ہوئیں ۔

اس نے دوپٹہ سر پر لیا ۔اور  دعا مانگ کر وہ  نیچے اتر گئ

کبھی کبھی دعا کی قبولیت صرف چند لمحوں میں ہو جاتی ہے ۔رحیمہ کے لیۓ بھی ایسا ہی ہوا ۔ 

*********************** 

وہ دونوں اس مشہور ہاسپٹل میں اس ڈاکٹر کے کلینک میں بیٹھے تھے ۔یہ ہاسپٹل اپنی کار کردگی کے لیۓ پورے ۔شہر میں جانا جاتا تھا۔ شہر  کے اس  مشہور ہاسپٹل  میں وہ دونوں ایک آس امید کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ رہے تھے ۔اریشہ باوجود فوزان کے ساتھ کے بےحد اضطراب محسوس کر رہی تھی۔ اس نے اپنی ہتھیلیاں کرسی پر اتنی مضبوطی سے جمائیں تھیں جیسے وہ اس طرح نا پکڑے گی  تو گر جائیگی۔

لیڈی ڈاکٹر نے مسکرا کر انہیں دیکھا ۔

"ڈاکٹر کیا ہم دونوں کی رپورٹ آگئ" ۔فوزان نے جلدی سے پوچھا ۔

"جی ۔میں وہی بتانے جارہی ہوں" ۔اس نے اپنا چشمہ درست کیا ۔دراز کھولی اور اندر سے  ایک خاکی لفافہ نکالا ۔

ڈاکٹر نے جیسے ہی فائل نکالی ۔اور پڑھنے کے لیۓ تھوڑا سا ہاتھ اوپر کیا ۔

تو اریشہ کے لیۓ جیسے بیٹھنا دوبھر ہو گیا ۔

اس کا دل اچانک دھڑ دھڑ کرنے لگا اور ہونٹ جیسے خشک ہو گۓ ۔

"دیکھیۓ مسٹر فوزان ۔"ڈاکٹر نے فوزان کی سمت دیکھا۔

"ہم نے آپ دونوں کے ٹسٹ اس لیۓ کرواۓ تھے کہ کسی قسم کا کوئ شک نا رہے ۔۔۔۔۔"۔وہ رکیں ۔

اب وہ دونوں بلکل دم سادھے ڈاکٹر کی جانب دیکھ رہے تھے ۔"اس ربورٹ کے مطابق آپ کی مسز کبھی ماں نہیں بن سکتیں  "۔ اس نے لفافہ فوزان کے ہاتھ میں تھمایا ۔

"لیکن ڈاکتر کوئ تو امید ہو گی ۔کچھ تو آپ امید بندھائیں۔ بڑ ی مشکل سے فوزان نے یہ جملہ کہا تھا ۔وہ دانستہ اریشہ کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا 

"دیکھیۓ ہم ڈاکٹر ہیں آپ کو ایسی جھوٹی امید دلانا ہمارا پیشہ نہیں ۔آپ کو حقیقت قبول کرنا چاہیۓ ۔آج سائینس بہت اڈوانس ہو چکی ہے ۔آپ کے لیۓ کی آپشنز ہیں ۔آپ وہ ٹرائ کر سکتے ہیں "۔ 

"ایکسکیوزمی ۔۔آپ لوگ بیٹھیں ۔میں ذرا ہاسپٹل کا راؤنڈ لگا کر آتی ہوں "۔ وہ پیشہ ورانہ انداز میں بات کرتی  باہر چلی گئ۔

 ۔فوزان  خود بھی کرسی دھکیلتا اٹھا تھا  ۔اور اریشہ کو بھی چلنے کا اشارہ کیا تھا ۔ ۔وہ جو آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لیۓ بیٹھی تھی ۔اس کی ایک نظر پڑتے ہی وہ سارے آنسو بھل بھل گرنے لگے۔ 

ا"اریشہ ۔اب یہاں نہیں پلیز ۔"۔۔فوزان نے اسے رونے سے منع کر دیا ۔اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آیا ۔

وہ دونوں کار میں بیٹھے تو فوزان نے کار اسٹارٹ کر دی ۔ وہ اپنے ہو نٹ بھینچ کر بہت ضبط سے ڈرائیونگ کررہا تھا۔ جبکہ وہ بازو بیٹھی مسلسل روۓ جارہی تھی ۔ 

وہ دونوں گھر پہنچے اریشہ سیدھی اپنے روم میں چلی گئ تھی ۔وہ  روتی آنکھیں لے کر امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔جبکہ فوزان بہت آہستہ آہستہ امی کے سامنے اپنا دکھ ظاہر کر رہا تھا ۔

"دیکھو بیٹے ۔اس میں اللہ کی مرضی ہے ۔تم اریشہ کو کچھ مت کہنا اور نا کوئ الزام دینا ۔ "

ا"امی ۔میں آپ کو ایسا لگتا ہوں کیا ۔"وہ شکوہ آمیز نظروں سے امی کو دیکھنے لگا ۔

"بیٹے ۔اولاد ایک نعمت ہوتی ہے اور اور نعمت سے محرومی بھی ایک آزمائش ہوتی ہے ۔اب اس پر صبر کرنا تم دونوں کا کام ہے لیکن اس میں مرد کا کردار بہت اہم ہو تا ہے ۔یہ ضروری تو نہیں کہ عورت ہی مرد کی دل جوئ کرے ایک مرد بھی تو عورت کے غم میں شریک ہو سکتا ہے جبکہ غم بھی مشترکہ ہو ۔" انہوں نے نم آنکھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ ان کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگاۓ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔اسے یہ غم کھا ۓ جا رہا تھا کہ وہ اریشہ کو کیسے اس صدمہ سے نکال پاۓ گا ۔

*********************

بڑی مشکلوں سے اریشہ یہ غم سنبھال پائ تھی۔ اس نے امی بابا کو کال کی تھی ۔وہ دونوں اپنے بیٹے کے پاس دبئ گۓ تھے ۔اور ابھی انکی واپسی ناممکن سی تھی۔ ورنہ وہ ایشہ کے غم میں ضرور شریک ہو تے۔ جبکہ خاندان میں یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائ گئ تھی کہ وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔ 

ا"اریشہ ۔۔۔۔آج اسکول نہیں جانا کیا ۔چلو میں چھوڑ آتا ہوں تمہیں ۔" وہ گم صم کچن میں چاۓ چڑھاۓ کھڑی تھی ۔یوں جیسے یہاں موجود ہو اور نہیں بھی ۔ 

ا"اریشہ ۔۔"۔اس نے اس کی آنکھوں  کے سامنے  چٹکی بجائ تو وہ چونک گئ۔ 

"جی ۔۔۔۔"

"کیا کہہ رہے تھے آپ ۔" چاۓ چھان کر کیتلی میں ڈال کر وہ اسے دیکھنے لگی۔ 

آ"آج میں تمہیں چھوڑ دوں گا اسکول۔ آج ما بدولت کو کام سے  باس نے چھٹی دے دی ہے" ۔اس نے اس کے ہاتھ سے چاۓ کی کیتلی لی اوراسے باہر چلنے کا اشارہ کیا ۔ 

"اچھا تھیک ہے میں تیار ہو جاتی ہوں" ۔ اس کو بھی خوشی ہوئ کہ کئ دن بعد وہ دونوں اکٹھے نکل رہے تھے۔

۔فوزان نے کار نکالی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

"ہممم  بتایۓ کیا سننا پسند کریں گی آپ "۔وہ اسکے بیٹھتے ہی ترنگ میں آگیا ۔

"مطلب ۔"اس کی بات پر وہ حیران ہو ئ۔ 

"ارے بابا ۔میں گانے کی بات کر رہا ہوں ۔کونسا گانا لگاؤں" ۔ وہ فون پر چیک کرنے لگا ۔ 

"دس پندرہ منٹ کا تو رستہ ہے ۔آپ کیا گانا لگائیں گے اور میں کیا سنوں گی ۔میں‌تو بس باہر دیکھوں گی ۔" اس نے کھڑکی کھولی اور سرد ہوا نے اس کے چہرہ کو چوم لیا ۔

لیکن‌فوزان نے پلے کر دیا اور خود بھی گانے کے بولوں سے لطف اندوز ہو نے لگا ۔

"لو سفر شروع ہو گیا ۔ لو سفر ۔۔۔۔"

ا"اررے ہمارا سفر تو بہت پہلے شروع ہو گیا ۔اب آپ  نۓ سفر کی شروعات کر رہے ہیں ۔کیا" ۔وہ گانے کے بول پر ہنسی تھی ۔آج اس کا موڈ ویسے بھی فریش تھا ۔ 

"میرے سارے سفر تم‌سے شروع ہو تے ہیں اور تم پر ہی ختم ہو تے ہیں ۔"وہ فوزان تھا اس کا ہمسفر جو اس سے ٹوٹ کر محبت کرتا تھا۔ اس کی گہری بات پر وہ بنا پلک جھپکاۓ اسے دیکھتی رہ گئ تھی۔ 

ا"اس طرح دیکھو گی تو ۔۔۔۔"۔۔ وہ شرارت سے اس کی جانب جھکا تب ہی اریشہ نے سامنے کی جانب توجہ مبزول کروائ ۔ 

"فوزان دھیان سے ۔وہ لڑکی۔۔۔۔۔ ۔"

فوزان نے جلدی سے بریک لگاۓ ورنہ سامنے آتی لڑکی زخمی ہو جاتی ۔ 

"سوری سوری ۔۔"۔وہ اسے  کار سے ہی سوری کرتا گاڑی آگے بڑھا گیا تھا۔ 

ا"اگر میں نا دیکھتی تو وہ لڑکی کار سے ٹکرا جاتی" ۔اس نے فوزان کو گھورا ۔

"تم ساتھ رہو گی تو کوئ مجھ سے کیسے ٹکرا سکتی ہے"۔ وہ ذومعنی لہجہ میں بولا ۔

"وہ آپ سے نہیں کار سے ٹکرا سکتی تھی "۔اس نے تصحیح کی تو وہ ہنس پڑا ۔

آ"آپ کی منزل آگئ "۔اس نے کار روک دی۔ 

"تھینک یو ۔شام میں زحمت نا کریں ۔میں خود ہی آ جاؤں گی"۔ اس نے کارکا دروازہ کھٹ سے بند کر دیا اور خود اسے خدا حافظ کہتی اندر کی جانب بڑھ گئ ۔


********

وہ جب کلاس میں داخل ہوئ تو کلاس میں بچوں نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا ۔

"خاموش  خاموش ۔سایلنٹ" ۔اس نے چھڑی زور سے میز پر بجائ تو ساری کلاس ایک پل میں خاموش ہو گئ ۔ مگر ایک اچھوٹی بچی تھی جو گلا پھاڑ پھاڑ کر روۓ جارہی تھی۔ 

"یہ چپ کیوں نہیں ہو رہی ۔"اس نے دوسرے بچوں کو دیکھا تو ایک نے کہا ۔

"معلوم  نہیں  ٹیچر ۔ "

"آے کیوں رو رہی ہو تم "۔ اس نے براہ راست بچی کو پوچھا تو وہ اماں اماں کہتی اور زور زور سے رونے لگی۔

ا"اس کے ساتھ کون ہے ۔اس نے باہر کھڑی آیا ماں سے پوچھا تو آیا ماں کے ساتھ ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی اندر آئ تھی ۔اریشہ اسے دیکھ کر چونک گئ ۔یہ وہی لڑکی تھی جو ان کی کار سے ٹکراگئ تھی ۔ 

"  تم اس کی ماں  ہو ۔"  اس کی کم عمری پر حیران ہو تی پو چھ رہی تھی ۔ 

"نہیں جی ۔یہ تو میری بہن ہے ۔ آج اس کا پہلا دن ہے تو اس لیۓ اتنا رو رہی ہے ۔" 

"کھانا تو کھایا ہے ناں اس نے "۔ 

 "جی مس ۔گھر سے خوب ٹھونس کر نکلی ہے آپ اس کے کھانے کی فکر مت کرو." ۔ اس کی بات پر اریشہ کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ تھی۔ 

ٹھیک ہے ۔اب تم اپنی کلاس میں جاؤ میں اسے دیکھتی  ہوں ۔لنچ آورز میں آکر اس سے مل لینا۔ "

"میں باہر بیٹھ جاتی ہوں ۔"

"باہر کیوں‌۔تمہاری کلاس کونسی ہے اس میں بیٹھو ۔" وہ حیران ہو کر بولی ۔ 

"میں یہاں پڑھتی وڑھتی نہیں ہوں ۔جی ۔میں تو بس اسے داخل کرانے آئ تھی"۔ اس لڑکی نے اس کی غلط فہمی دور کر دی۔

 جب کلاس ختم ہوئ تو وہ باہر آگئ ۔وہ  بنچ پر بیٹھی تھی۔ 

"تم نے میٹرک کر لیا "۔وہ اس کو دیکھتی پوچھ رہی تھی۔ 

"نہیں جی میں نے تو بس دو تین جماعتیں پڑھی ہیں "۔ اس نے اپنے آپ شرمندہ ہوتے کہا تھا ۔ 

"کیوں ۔ آگے کیوں‌نہیں‌پڑھا "۔ نجانے کیوں اسے اس لڑکی سے دلچسپی ہو گئ تھی ۔ 

"ماں سوتیلی ہے اس نے کہا گھر میں کام بہت ہو تا ہے اس لیۓ "۔وہ اپنے اطراف بچے بچیوں کو بھاگتے دوڑتے دیکھ رہی تھی ۔

۔" اوہ ۔۔"۔ وہ ایک دم خاموش ہو گئ۔ جب کلاس ختم ہوئ تو اس لڑکی نے اپنی بہن کو لیا اور گھر چل دی ۔

اریشہ کتنی دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی تھی ۔

*************

وقت گزرتا جارہا تھا ۔اریشہ دن بہ دن رحیمہ سے قریب ہوتی جارہی تھی ۔وہ باتوں باتوں میں رحیمہ کے بارے میں اس کی فیملی اور اس کے ماں کے ظلم و ستم سے واقف ہو گئ تھی ۔اور اس کے دل میں رحیمہ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گۓ تھے۔ وہ دو سال میں‌رحیمہ رحیمہ کی سوتیلی ماں اور گھر کے حالات سے واقف ہوگئ تھی ۔اور شاید یہی آگاہی اس کے لیۓ فیصلہ کن نتیجہ پر پہنچنے میں مدد کر گئ تھی۔ 

⁦***********************

"وہاٹ۔  "وہ جو اپنا آئ پیڈ بیڈ پر لیۓ اپنے کام میں مصروف تھا ۔اریشہ کی بات پر اس کا رد عمل شدید تھا ۔اس نے آئ بیڈ بازو کھسکا دیا تھا اور اسے شدید غصہ سے گھور رہا تھا ۔ وہ بہت پرسکون بیٹھی تھی جبکہ دل و دماغ میں ایک طوفان بپا تھا ۔ 

آ"آپ رحیمہ سے شادی کر لیں ۔" اس نے ایک اور بار اپنی بات دہرائ تھی۔یہ سوچ کر کہ شاید اسے بات سنائ نا دی ہو ۔ فوزان کو بات نا صرف سنائ دی تھی بلکہ وہ اس کے پس پردہ بات کو بھی سممجھ گیا تھا ۔لب بھینچے وہ اپنے آپ پر ضبط کے پہرے بٹھا رہا تھا ۔ 

"کیوں ۔کیوں کروں میں اس بچی سے شادی "۔اس نے دانت پیسے تھے۔ 

"کیونکہ وہ ایک مجبور بے سہارا سوتیلی ماں کے ظلم و ستم میں پھنسی لڑکی ہے ۔وہ بچی نہیں وہ تو اکیس پار کر چکی ہے ۔ "

اس نے نظر نیچی رکھ کر ہی بات کی تھی ۔

"تو اب دنیامیں جو بھی سوتیلی ماں کے ظلم وستم  کے شکار لڑکیاں ہو ں گی ۔تم میری شادی ان سے کرواتی جاؤگی۔" بات مزاحیہ تھی لیکن لہجہ حد درجہ کڑوا تھا .

وہ پہلے تو چپ رہی ۔پھر جیسے خود ہی اس نے اپنا دفاع کرنا چاہا .

۔" نہیں ۔جب آپ کے سامنے کوئ اس طرح مجبور ہو اور آپ اس کے لیۓ کچھ نا کریں تو ہم اور آپ گناہگار ہونگے "۔ 

"تم صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتیں کہ یہ سب تم اپنی غرض کے لیۓ کر رہی ہو اس سے ہمدردی کی آڑ میں ۔" وہ آس پر پہلی بار برسا تھا ۔

وہ کچھ دیر خاموش رہی ۔پھر اس نے اپنی نم آنکھوں سے اسے دیکھا ۔

"ہاں فوزان میں خودغرض ہو گئ ہوں ۔ میں صرف اور صرف ہماری اولاد کے لیۓ آپ کو رحیمہ سے شادی کرنے کے لیۓ کہہ رہی ہوں ۔ اور آپ کو یہ شادی کرنی ہوگی ۔ ورنہ میں ۔۔۔۔۔۔"

وہ رک گئ ۔فوزان اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

"ورنہ کیا آریشہ ۔۔۔۔۔۔۔"

"ورنہ میں یہ گھر چھوڑ دوں گی۔" آس نے اتنی مضبوطی سے کہا کہ وہ دم بخود بیٹھا رہا ۔

*******

اریشہ نے ضد باندھ لی تو فوزان نے بھی ناراضی میں اس سے بات کرنا ہی چھوڑ دیا۔وہ دونوں ایک ہی چھت تلے اجنبی بن گۓ ۔فوزان نے ایک دو بار کوشش کی اس سے بات کرنے کی ۔مگر اریشہ نے تو قسم لے رکھی تھی اپنی بات منوانے تک بات  نا کرنے کی ۔ وہ اپنی جگہ اٹل رہی۔

ا"امی آپ اس بے وقوف کو سمجھاتی کیوں نہیں "۔تنگ آۓ فوزان نے امی سے شکایت  کرڈالی۔ 

"لیکن‌ہوا کیا ۔تم دونوں کو ۔"وہ بے چاری حیران سی تھیں کہ دونوں نے بات ہی بند کی تھی۔

ا"امی اریشہ مجھے دوسری شادی کرنے کے لیۓ زور ڈال رہی ہے "۔وہ برہم تھا ۔اسکے لہجہ سے برہمی جھلک رہی تھی ۔

ا"امی ۔میں انہیں شرعا دوسری شادی کرنے کے لیۓ کہہ رہی ہوں یہ مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے میں نے خدانخواستہ کوئ گناہ کرنے کے لیۓ کہا ہو ۔"اریشہ نے بھی اپنا لہجہ سخت رکھا ۔

"میرے لیۓ دوسری شادی گناہ جیسا ہی ہے ۔"فوزان جیسے پھٹ پڑنے پر تھا ۔اس کی آواز بھی اونچی ہو گئ تھی۔

" لیکن گناہ تو نہیں "۔ اریشہ بھی تیزی سے بولی تھی ۔اس کی بات پر فوزان ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور کرسی کو بہت زور سے ٹھوکر مار کر چلا گیا تھا ۔

فوزان کی اس حرکت سے جہاں اریشہ سہم گئ تھی امی بھی گم صم‌سی ہو گئیں ۔ 

ا"اریشہ ۔اریشہ ۔ بیٹے یہ کیا کرنے جارہی ہو تم ۔ "وہ بدقت اپنی بات پوری کر پائی تھیں ۔

"امی ۔"اس نے انکی گود میں سر رکھا ۔ 

"مجھے یہ سونا گھر کاٹ کھا رہا ہے ۔درودیوار  سے ٹپکتی مایوسی  میرے دل کو بنجر کر رہی ہے ۔" 


۔ 



 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ