آسماں سے پار

وہ کچن میں کام کر رہی تھی ۔گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال رہی تھی ۔وہ صوفہ پر دونوں بازو ڈھیلے ڈھالے انداز میں چھوڑے متفکر سا بیٹھا تھا۔اس کی پیشانی پر تفکر کی گہری لکیریں اسکے اندرونی خلفشار کو ظاہر کر رہی تھیں
۔"کیا ہوا۔" وہ بلآخر پوچھ بیٹھی۔ 
"کچھ نہیں بس ڈاکٹر نے گردوں کے ٹسٹ کا کہا ہے ۔ تو بس اسی لیۓ پریشان ہوں کہ اگر گردوں کا مرض نکل آیا تو میرے لیۓ اور مشکلیں بڑھیں گی"۔ اس نے پریسکریپشن سامنے ٹیبل پر رکھ دی تھی اور خود صوفہ کو ٹیک لگا دی تھی۔ 
"اوہ" ۔ اسکے منہ سے اتنا ہی نکلا ۔ 
"لیکن آپ پریشان نا ہوں ۔ضروری تو نہیں کہ آپ کے کڈنی خراب ہی ہوں" ۔ وہ اسے ہمت بندھانا چاہتی تھی۔ حالانکہ وہ خود اندر ہی اندر ٹوٹ سی جا رہی تھی۔ وہ پچھلے پانچ سال سے ذیابطیس کے مرض میں مبتلا تھا۔
"شزا۔ تم بھی ۔ تمہیں پتا نہیں کہ ذیابطیس میں سب سے زیادہ گردے متاثر ہو تے ہیں ۔اور میں ایک پریکٹکل انسان ہوں ۔اب تم مجھے یہ مت بتاؤ کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں ہوگا" ۔ وہ چڑ کر بو لا تھا ۔
"لیکن زوہیب دعا بھی ایک چیز ہو تی ہے ۔ اس سے تو ہر مرض ہر بیماری ٹل جاتی ہے ۔   تو نا امیدی کیسی۔" وہ ہمت ہارنے والی نا تھی ۔ 
"ہاں ۔میں کب انکار کر رہا ہوں ۔مگر حقیقت سے نظریں نہیں  چرا نا چاہتا۔۔ جو حقیقت ہو تی ہے وہ اٹل ہو تی ہے"۔ 
"ٹسٹ کے لیۓ کب جا رہے ہیں آپ "۔ اس نے بات سمیٹنی چاہی ۔ 
"کل صبح۔ٹسٹ کرواکر وہیں سے آفس چلا جاؤوں گا ۔ شام میں رپورٹ لیکر ہی گھر آؤوں گا"۔ پتا  نہیں وہ اسے بتا رہا تھا کہ اپنا پروگرام سٹ کر رہا تھا ۔۔
اچھا ۔ اسکے اٹھتے ہی وہ بھی اٹھی تھی ۔ 
جس طرح زوہیب نے اپنا پروگرام سوچ کر رکھا تھا ۔شزا نے بھی اپنے سارے دن کا لائحہ عمل تیار کر لءا تھا ۔
اگلی صبح جب زوہیب ٹسٹ کے لیۓ نکلا ۔اس نے بھی کچھ ہلکا پھلکا  بنا لیا ۔اور پھر اپنی تسبیح نکالی ۔وہاپنا مخصوص وظیفہ پڑھنے کے لیۓ بیٹھ گئ ۔۔
شام تک وہ  دس ہزار ر تسبیح یا سلام یا وکیل کے پڑھ چکی تھی ۔اور بعد نماز مغرب اس نے رو رو کر دعا کی ۔ اسے اپنے شوہر کے لیۓ ۔اسکی صحت کے لیۓ دعا کرنا تھا ۔ 
رات میں زوہیب آیا تو اسے مصلے پر دیکھ کر ایک لمحے کے لیۓ رک گیا ۔
شزا ۔تم صبح سے اب تک مصلے پر تھیں ۔ وہ صبح جاتے ہوۓ اسے مصلے پر بیٹھے دیکھ چکا تھا  ۔اسی لیۓ حیران تھا ۔ 
پہلے آپ بتائیں ۔رپورٹ کیا آئ۔اسکی اواز سے ہی اسکی بے تابی ہوئدا تھی ۔ 
تمہاری دعائیں رنگ لائیں ۔شزا ۔ساری رپورٹ نارمل ہیں۔ ذیابطیس نے میرے گردوں کو خراب نہیں کیا ۔اور جو ڈاکٹر کو گردے خراب ہونے کی علامتیں نظر آرہی تھیں وہ دراصل بلڈ پریشر کی وجہہ سے تھیں۔ اسکے لیۓ اس نے دواییں دی ہیں ۔اور کہا ہے کہ پریشانی کی کوئ بات نہیں ۔ وہ خوش تھا ۔ 
اللہ کا شکر ہے ۔اس کی بےساختہ نظر آسمان کی جانب اٹھی تھی ۔
"میں بہت حیران ہوں شزا۔ کہ یہ سب کیسے ہوا ۔مجھے تو یقین ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔  میرے گردے ناکارہ ہوگۓ ہیں. 
"لیکن  جب ڈاکٹر نے کہا کہ ایسی کوئ بات نہیں تو مجھے بس تم یاد آگئیں تھیں" ۔ 
"زوہیب ۔دعا میں بہت اثر ہوتا ہے اور جب دعا آسمان کے پار جاتی ہے تو پتا ہے اسے کیا کہتے ہیں ۔ "
"کیا ۔" 
"معجزہ "۔ خلوص دل سے کی گئ دعا بھی معجزہ میں ڈھل جاتی ہے" ۔وہ بڑے جزب سے بول رہی تھی ۔اور زوہیب کبھی اسے اور کبھی اپنی رپورٹ کو دیکھ رہا تھا ۔ 
ختم شد  

 ۔ 
 
 ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ