آ ئیڈیل
وہ کالج سے جیسے ہی گھر میں داخل ہوئ "۔اسلام علیکم" کی آواز آئ ۔اس نے سن کر بھی نظر انداز کر دیا ۔بھوکی پیاسی آئ تھی اور آتے ہی سامنا کس سے ہو گیا۔وہ غصہ میں آندھی کی طرح اندر کی سمت لپکی تھی ۔اور ۔۔۔۔۔گفٹ پیک پکڑے ،آنکھوں میں جذبے اور تمنا ؤں کے دیۓ امیدوار کے بجھ گۓ اور ہاتھ نیچے گر گۓ تھے ۔
"آخر کیا ضرورت ہے روز روز کے آنے کی جبکہ پتا بھی ہو تا ہے کہ کوئ خاطر میں نہیں لاتا۔"وہ بیگ ایک طرف پٹخ کے غصہ سے بڑبڑا ئ تھی
"کون ،کس کی بات کر رہی ہو تم "طاہرہ جو چاول چن رہی تھی حیرانگی سے اسکے تپے تپے چہرے کو دیکھا تھا ۔
"وہی ۔اتنی بڑی آزمائش مزمل کی صورت سے لی جاتی ہے بار بار ۔۔۔۔"وہ دانت پیس کر بولی۔
"مزمل۔۔۔۔وہ تو پورے ایک سال بعد آیا ہے اور صرف تمہیں سالگرہ کی مبارکباد دینے "وہ تاسف سے بولی ۔وہ اسکی بہترین دوست تھی اور چاہتی تھی کہ اس کا دل مزمل کے لیۓ صاف ہو جاۓ ۔
"حالانکہ یہ اسکی خالہ کا گھر ہے کو ئ روک نہیں سکتا اسے یہاں آنے سے ۔۔۔۔"
"معلوم ہے مجھے ۔بتانے یا جتانے کی ضرورت نہیں ۔رشتہ چاہے کچھ ہو مگر مجھے کالے کوے سے ناطہ نہیں رکھنا بس ۔"اس نے حقارت سے کہا۔
"اور اتنے خاص موقعہ پر تو میں اسے کبھی برداشت نہیں کروںگی۔ ۔۔"اس نے اور اضافہ کیا ۔
طاہرہ نے ٹھنڈی سانس لی ۔ اس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئ تھی ۔حالانکہ مزمل نے صرف اسکی خواہش کی بنا پر سال میں صرف ایک بار آنے کا جبرا"وعدہ کیا تھا ۔وہ تو روز ہی آتا تھا صرف اسکی خوشی کی خاطر کہ شاید موم سی نازک لڑکی کا پتھر دل پگھل جاۓ ۔کیا پتا دوریوں سے قربت کا دھیان آۓ۔آج جو لڑکی اسکی صورت سے بیزار ہے وہی اس کے لیۓ مشتاق نظر آۓ ۔اس کو ہر چہرہ میں کھوجنا شروع کردے ۔مگر یہ لڑکی نا بدلنا تھا نا بدلے گی۔
"اب جا کر کہہ دو اس سے ۔آنے کا شکریہ ،نوازش ۔اب تشریف لے جائیں ۔میں نے اپنی فرینڈز کو مدعو کیا ہے ۔وہ فوراً سے پیشتر چلے جائیں۔تاکہ میں بھی سکون کی سانس لے سکوں ۔۔۔"
میں تو نہیں کہہ سکتی ۔جاؤ ۔خود ہی کہہ دو ۔طاہرہ نے صاف انکار کر دیا۔ وہ دراصل مزمل کو ایک سال کے بعد ایسی دل توڑنے والی بات نہیں کہنا چاہتی تھی۔
"میں اسکی صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتی ۔ وہ چڑ کر بولی ۔
"کیوں ۔اگر مل کر اسکا شکریہ کرو گی تو کیا فرق پڑے گا ۔۔۔۔۔"
میں اسے ایک منٹ بھی برداشت نہیں کر سکتی اور تم کہہ رہی ہو کہ ۔۔۔ویسے بھی مجھے اسے جھوٹی آس نہیں دلانا ہے اگر میرادل آمادہ ہوا تبھی میں اس سے ملوں گی ۔اور یہ اس صدی میں کبھی نہیں ہو گا ۔"اس نے اسکی بات کاٹ دی تھی ۔
"تو میں کیا کروں ۔"طاہرہ جھلا گئ ۔
"جاؤ اور اسے دفع کرو ۔۔۔"
"میں ایسا نہیں کر سکتی ۔..."طاہرہ کا قطعی دو ٹوک انداز تھا ۔
"بھاڑ میں جاؤ سب ۔"وہ بری طرح چلا اٹھی۔
اور اس کا انداز تو مزمل ہر بار برداشت کر ہی لیتا تھا مگر آج نجانے کیا ہوا ۔طاہرہ نے باہر آکر دیکھا تو وہاں خالی کمرہ بھائیں بھائیں کر رہا تھا ۔
فضا میں ابھی بھی نجانے کتنے شکوے بسے تھے ۔جو طاہرہ کو مزمل کی خوشبو کا احساس دلارہے تھے ۔
"اس خضری نے بیچارے مزمل کو ناراض کر دیا بلکہ مایوس کر دیا ۔اب آگے پتا نہیں کیا ہو ۔خضری بڑی ناشکری کر رہی ہے اس آئیڈل کے چکر میں ۔"طاہرہ خود کلامی کر نے لگی۔ ۔۔۔
#####################################
خضری اور وہ دونوں کزن ہونے کے ساتھ ساتھ دیرینہ رفیق بھی تھیں ۔طاہرہ کے سامنے خضری کھلی کتاب کی طرح تھی ۔خضری بھی وہی عام لڑکیوں کی طرح اس دنیا میں بستی تھی۔وہی ماحول،وہی معاشرہ ،وہی والدین کی شفقت اور اصول مگر ان سب کے ساتھ شخصی آزادی خضری کو میسر تھی ۔وہ آزادانہ اپنی راے کا اظہار کرتی رہتی ۔خصوصا اپنی زندگی کے بارے میں ۔وہ رنگ پرستی میں مبتلا تھی۔
اسے سیاہ رنگ والے سخت نا پسند تھے بطور لائف پارٹنر کے۔اور مزمل بدقسمتی سے گندمی رنگ کا بے حد دراز شخص تھا جو خضری کا امیدوار تھا مگر خضری اس سے سخت خار کھاتی تھی ۔
۔ اسکے دل نے ایک آئیڈیل بنایا تھا اور اس آئیڈیل پر مزمل تو کیا کوئ ڈھی شخص پورا اترتا دکھائ نہیں دے رہا تھا ۔خضری کے والدین نے مزمل کو کہہ دیا تھا کہ جہاں انکی بیٹی کی مرضی ہو گی وہ وہیں رشتہ کریں گے ۔وہ اس پر جبر کرنے کے قائل نہیں تھے ۔ اور مزمل اسکے مرضی بننے کی تگ و دو میں لگا ہوا تھا ۔
لیکن آج وہ پوری طرح سے ٹوٹ کر واپس چلا گیا تھا ۔اسکی نا امیدی کی انتہا یہ تھی کہ وہ وہ گفٹ بھی لے گیا تھا جو اسے خضری کو دینے تھے ۔اب شاید وہ کبھی گفٹ نا دینے کا اور نا آنے کا عہد کر کے گیا تھا ۔سبھی پرندے اپنے آشیانے کو لوٹ رہے تھے ۔شام کے سلونے سیاہ ہاتھ آنگن پر بھی چھاتے جا رہے تھے ۔ادھر خضری اپنی سالگرہ کی تیاریوں میں مصروف ادھر سے ادھر دوڑ لگا رہی تھی۔ اسکے فرینڈز کو جو آنا تھا ۔
######################################
" ۔خضری کالج چل رہی ہو ۔تیار ہو گئیں۔"
طاہرہ اپنے گھر سے تیار ہو کر ادھر ہی آ گئ تھی۔ خضری آنگن میں تخت پر جماہی لیتی ہوئ بیٹھی تھی ۔اسکی حالت سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ ابھی جاگی ہے ۔
محترمہ خضری ۔ابھی نیند میں ہو کالج کا ٹائم نکلا جا رہا ہے ۔طاہر نے عجلت میں کہا وہ ہمیشہ وقت پر قالج جانا چاہتی تھی ۔
افوہ طاہر ایسی بھی کیا عجلت ۔جسٹ اٹھی ہوں میں ۔کل سالگرہ میں تو تم تھیں نہیں ۔وہ سب رات دس بجے گئیں ۔سونے تک دیڑھ بج گۓ۔ اب اتنی صبح کیسے اٹھ سکتی تھی ۔اس نے پھر منہ پھاڑ کر جماہی لی۔طاہرہ بھنا گئ۔"
"تو اب جلدی کرو ۔پندرہ منٹ میں ریڈی ہو سکتی ہو تو چلو ۔ورنہ میں چلی۔"
" بڑی آئیں ۔چلی جاؤ ۔میں نہیں آتی آج ،خضری کو غصہ ہی تو آگیا۔
"بصد شوق ۔بعد میں میڈم اور سر کی ڈانٹ کھا لینا ۔وہ آج کل ایسے ہی موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔"طاہرہ نے اسے جلایا ۔خضری کو چڑ سی ہوئ۔
"عجب مصیبت ہے ۔"خضری جل کڑھ کر اٹھی۔۔طاہرہ ہنسنے لگی۔اسے پتا تھا ۔خضری ایک ڈانٹ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔پندرہ منٹ میں اس نے جلدی سے لباس بدلا ۔سادہ سا سفید فراک پر نیلا دوبٹہ اوڑھے وہ آگئ تھی ۔
"چلو اب ۔بڑی گڑ بڑی مچاتی ہو تم ۔۔۔"وہ بالوں میں ربڑ بینڈ جکڑتی آگئ تھی ۔اتنے عرصہ میں طاہرہ نے تین چار بار اسے "جلدی کرو " کی آواز دے ڈالی تھی۔
"وقت کی پابندی کرنا سیکھو محترمہ ۔"طاہرہ اپنے مخصوص انداز میں بولی ۔
"تم اب مجھ سے بات مت کرو ۔کل بڑے کام یاد آگۓ تھے آپ کو ۔"خضری اس سے خفا تھی۔
"کل بتا کر تو گئ تھی ۔ضروری ہی تھا ۔باجی کی طبیعت بڑی خراب تھی ۔اگر میںیہاں آ جاتی تو پھر وہاں کون رہتا ۔"طاہرہ نے اپنی صفائ پیش کی۔
"اچھا چلو اب جانے دو ۔مگر میرا گفٹ ادھار رہا وہ بعد میں دے دےنا ۔وہ جلدی مان جاتی تھی جیسے اب۔
"واہ ۔گفٹ کیسا ۔سالگرہ گئ ۔گفٹ بھی گیا ۔"طاہرہ نے بھی ہنس کر اسکی شرارت کا ساتھ دیا۔خضری نے پہلے آنکھیں نکالیں ۔پھر خود بھی ہنس دی ۔
وہ لوگ وقت پر کالج پہنچ چکی تھیں ۔دونوں نے پہلا پریڈ جیسے تیسے اٹنڈ کیا مگر وہ طاہرہ کے سر ہو گئ ۔بھوک کے مارے برا حال ہو گیا تھا ۔کیونکہ وہ بنا کھاۓ آ گئ تھی ۔
"اب چلو ۔میں بھوک سے مر جاؤں گی۔ "وہ واقعی بہت زیادہ کمزوری محسوس کر رہی تھی ۔
طاہرہ نوٹس لکھنے میں مگن تھی۔مگر جب سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر رحم آیا ۔واقعی چہرہ پر تھکن ،آنکھوں میں بیزارگی کی سرخی تھی ۔
"اچھا چلو ۔"اس نے نوٹس بیگ میں رکھے ۔مگر اتے ہی وقفہ میں سر اندر آ چکے تھے ۔وہ بڑے پنکچول سے تھے ۔پانچ منٹ بھی لیٹ نا ہو تے تھے۔سر کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود اپنی کلائ گھڑی میں وقت دیکھ رہے تھے۔
نعطاہرہ نے ترحم بھری نظر خضری پر ڈالی تھی ۔۔۔اور چپ چاپ بیٹھ گئ تھی ۔اور خضری ۔۔۔۔
وہ تو ۔۔۔۔
بس کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی ۔
بنا اپنی پلکیں جھپکاۓ وہ ۔۔۔۔
بس سر کو دیکھے جارہی تھی ۔ ۔۔۔
"اوہ خدایا ۔اسکا آئیڈیل واقعی اسکے سامنے مجسم کھڑا تھا ۔اونچی ناک ،میانہ قد، چمکتا ہوا رنگ اور بے حد سنجیدہ آنکھیں ۔
"یا اللہ ۔"اس نے آنکھیں جھپکیں ۔
"پتا نہیں یہ سر کب آۓ۔طاہرہ بول تو رہی تھی کہ نۓ سر آۓ ہیں ۔بڑے اصول پرست ہیں ۔وقت کے پابند اور بہت ہی ہینڈسم ،پڑھانے میں پر وقار اور انداز میں سنجیدگی ،وہ انکی کتنی تعریف کر رہی تھی ۔مگر وہ تعریف انکے مقابلے میں کچھ بھی نہیں لگ رہی ۔یہاں تو اسکے خواب مکمل تعبیر کی شکل میں کھڑے تھے۔
اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے ان سے ملایا ۔وہ بے انتہا مسرت میں بے خود سی کھڑی تھی ۔بھوک وغیرہ تو نجانے کہاں چلی گئ۔
"یس ۔آپ کھڑی کیوں ہیں ۔"سر نے اچانک اسے مخاطب کیا ۔وہ بے خودی سے ہو ش میں آئ۔
"وہ سر میں ۔۔۔وہ ۔۔۔۔" اسکی زبان سے بے ربط جملے نکلنے لگے ۔
"جی "اس کے بے ربط جملے جیسے انکے سر سے گزر گۓ ۔
تبھی طاہر نے پہلے اسے دیکھا ۔پھر جلدی سے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا ۔وہ تو کچھ بول ہی نا سکی تھی۔ بس انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
"تھوڑی دیر صبر کر لو ۔اس پیریڈ کے آف ہو تے ہی نکلیں گے ۔پھر جتنے چاہے سموسے کھا لینا ۔مگر سر کے سامنے یوں ہونق تو نا بنو ۔"طاہرہ اسکے کان میں سرگوشی کر رہی تھی۔ وہ چونکی اور اسے گھور کر دیکھا ۔
"اب ایسی ندیدی بھی نہیں ہوں ۔۔یہ سر کب آۓ۔اور انکا نام کیا ہے ۔"وہ سر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔
خطیب سر ہیں تین دن ہی ہوۓ ہیں آۓ ہوۓ۔۔۔"
"اچھا ۔اللہ کتنے اچھے،کتنے پروقار سے ہیں "اس کا دل جانے کب سے تعریف کرنا چاہ رہا تھا ۔طاہرہ نے صرف اثبات میں سر ہلا یا تھا۔ "آج تعارف کا باقی مرحلہ بھی طۓ ہو جاۓ ۔کیونکہ کی نۓ چہرے بھی ہیں جن سے متعارف ہو نا باقی ہے ۔"سر کہہ رہے تھے ۔
"اوکے"؟انہوں نے پوچھا اور ایک ایک لڑکی کو اٹھا کر نام وغیرہ پوچھنے لگے ۔
خضری کی باری آئ تو وہ ہونقوں کی طرح سر کو دیکھے گئ۔اسکے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اپنا تعارف کس طرح کر واۓ ۔
وہائٹ شرٹ ،بلیک پینٹ میں ملبوس وہ اسکی الجھی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔پورے دو منٹ ہو گۓ ۔خضری تو جیسے بت بن گئ تھی ۔طاہرہ نے تو بس سر ہی تھام رکھا تھا ۔سر کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ چمک رہی تھی ۔ جبکہ لڑکیاں دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھیں ۔
طاہرہ نے بنا وقت ضائع کۓ خضری کے زور سے چٹکی کاٹی ۔
"اف " خضری نے پلکیں جھپکائیں۔
اور اس نے جلدی سے کہا ۔
"سر میں خضری ۔۔۔آپ سر ۔۔۔" وہ کہنا کیا چاہ رہی ہے خود اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔سر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوسری لڑکیوں کی طرف متوجہ ہو گے تھے۔
خضری خجل ہو گئ تھی ۔سر نے کتنا اگنور کیا ۔حالانکہ سب سے سبجیکٹ وغیرہ بھی پوچھ رہے تھے ۔اس سے وہ بھی نا پوچھا ۔نام بھی سنا یا نہیں معلوم نہیں ۔اسے تو رونا ہی آیا ۔سر لیکچر شروع کر چکے تھے ۔اتنے دھیمے انداز میں لفظ لفظ لڑی میں جیسے موتی پرو رہے ہوں ۔سب ہمہ تن گوش تھے۔پوری دلچسپی سے سر کے لیکچر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔سر نے لیکچر ختم کیا ۔وقت دوبارہ دیکھا اور ہاتھ میں بکس وغیرہ لیکر پین جیب میں اٹکاتے چلے گے تھے ۔لڑکیاں ابھی بھی ہنس رہی تھیں ۔طاہرہ اسے پکڑے باہر لے آئ۔
"آخر ہو کیا گیا تھا محترمہ ،ہوش چلے گے تھے یا واقعی بھوک سے آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا تھا ۔؟"طاہرہ کچھ حیرت سے پوچھ رہی تھی ۔
"کیا بھوک بھوک لگا رہی ہو ۔پچھلے ایک گھنٹہ سے سن رہی ہوں ۔کان میں برابر یہی کہہ جارہی ہو ۔ اب تو بس کرو ۔"اس نے کتابیں گھاس پر پٹخی تھیں اور وہیں دھم سے بیٹھ گئ تھی ۔ طاہرہ بھی اسکے قریب ہی بیٹھ گئ تھی ۔وہ بڑے تعجب سے اسے دیکھ رہی تھی ۔"پھر۔۔۔۔۔؟"
"پھر کیا ۔میں سر سے مرعوب ہو گئ تھی ۔سر میرے آئیڈیل کے بالکل مطابق ہیں۔ طاہرہ ۔سچی میں اب نہیں دیکھ کر دنگ رہ گئ تھی ۔ "خضری آنکھیں بند کۓ بول رہی تھی ۔
"یو مین ۔سر تمہارے آئیڈیل ہیں "طاہرہ کتنی ہی دیر کے بعد بولی تھی ۔اسے بڑا عجیب لگا تھا ۔
"ہوں ۔"خضری مسکرائ۔
"اوہ میرے خدا "طاہرہ نے دونوں ہاتھوں سے سر تھاما ۔"اب تو تمہارا خدا ہی حافظ ہے ۔ "
"کیوں ۔کیوں ۔ایسی کیا انوکھی بات ہوئ ."وہ تو اس سے لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئ تھی ۔
طاہرہ خاموش ہو گئ تھی اور موضوع بدل دیا ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔خضری جیسی ہوش مند اور باشعور لڑکی ایسی حماقت کرے گی۔ ایک تو آئیڈیل اور دوسرے استاد ۔بھلا کہاں ممکن ہو سکے گی خضری کی تمنا ۔وہ اپنی سوچوں میں گم ہو چکی تھی ۔
####################################
خضری اپنی پڑھائ میں مگن ہو گئ تھی ۔امی نے جب مزمل کے بارے میں راۓ لی تو اس نے صرف اتنا کہا ۔
"امی ۔مزمل نہیں آپ تھوڑا انتظار کر لیں ۔"
طاہرہ نے سنا تو ہونٹ چبا کر رہ گئ۔
دراصل مزمل اسے خضری جیسی سر پھری لڑکی کے لیۓ بہت مناسب لگتا تھا ۔وہ اسے سمجھتا بھی تھا اور بڑے سلجھے انداز میں سمجھا تا بھی تھا۔
"پتا نہیں ۔چچی امی اور چچا نے تمہیں اتنی ڈھیل کیوں دی ہے ۔اتنے اچھے پروپوزل کو صرف تمہاری نادانی کی بنا ء پر رد کر رہے ہیں۔ میں ہوتی ناں تو تمہارا سر توڑ دیتی اور زبردستی مزمل کے سپرد کر دیتی ۔"وہ خضری سے کہہ رہی تھی ۔اور کہتی ۔"جاؤ اب بہت ستا لیا ہمیں ۔"
"تم تو ہو ہی بے مروت ۔اپنے بچوں کے لیۓ ایسے مظالم سنبھال کر رکھو ۔میرے والدین ایسے ظالم نہیں ۔"خضری نےمزمل کو صاف ظلم کہہ دیا تھا ۔
طاہرہ نے بھی اس پتھر سے سر پھوڑنا ترک کر دیا تھا ۔اور اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔
خضری خطیب سر کے پیریڈ کا بے چینی سے انتظار کرتی اور سر آجاتے تو اس سے احمقانہ حرکتیں سرزد ہو نے لگتیں ۔سر نے بھی اچھا نظر میں رکھ لیا تھا ۔احمق ،ہونق سی شاگرد کے طور پر ۔
# #################################
وہ اپنی سنہری رسٹ واچ پر نظر ڈال رہی تھی اور پھر بے چین ہو جاتی تھی ۔طاہرہ اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔مگر بظاہر انجان بنی نوٹ بک پر کچھ لکھ رہی تھی ۔
"میرے خیال میں سر آج بھی نہیں آئیں گے ۔"اس کے لہجہ میں اک بے چینی سی تھی۔
"ہوں ۔ لگتا تو یہی ہے ۔اچھا موقعہ ہے ہم سارے نوٹس مکمل کر سکتے ہیں ۔"وہ ہنوز مصروف سے انداز میں بولی ۔ خضری آگ ہی تو ہوگئ اس کے اس انداز پر ۔
"تم سے تو کوی اچھی بات کی توقع کرنی ہی نہیں چاہیۓ۔ ""لو اب میں نے کیا برا کہا ۔"طاہرہ نے اسے حیرانی سے دیکھا ۔
"پتا نہیں سر کو کیا ہو گیا ۔آج پورے پانچ دن ہو گۓ ہیں وہ کالج ہی نہیں آۓ۔ ہمارا کتنا نقصان ہو رہا ہے انہیں تو پرواہ ہی نہیں ۔بس گھرمیں بیٹھے ہیں ۔"خضری کی الگ ہی کیفیت تھی ۔
"انہیں کچھ کام پڑ گیا ہو گا گھر کا ۔ویسے بھی وہ بڑے ذمہ دار ہیں ۔"
"ذمہ داری نبھانا اچھی بات ہے اب یہاں دیکھو کیسی لاپرواہی ہو رہی ہے ۔میں تو پوری تیاری کر آئ تھی۔مگر یہاں سر ہی غائب ۔"خضری نے ایک نظر گیٹ پر بھی ڈالی تھی۔اور مایوس ہو کر سر جھٹک کر رہ گئ تھی۔
طاہرہ اسکے لفظ "تیاری "کو کچھ اور ہی معنی پہنارہی تھی۔ اس نے چبھتی نظروں سے خضری کو دیکھا ۔سبز رنگ کے پلین سوٹ پر سرخ پرنٹڈ دوپٹہ کے ساتھ معمولی سی جیولری میں بھی وہ جاذب نظر لگ رہی تھی۔
اب خضری بےچاری اپنے اسائنمنٹ کے بارے میں بات کر رہی تھی۔جسے اس نے کل مکمل کر لیا تھا۔ اور اسکا خیال تھا کہ اس کا ڈل اسٹوڈنٹ والا امپریشن اس اسائنمنٹ سے ذہین شاگردہ میں بدل جائیگا اور سر اس سے خوش ہو جائیں گے۔
"اچھا"؟طاہرہ کی معنی خیز سی ہنسی تھی۔
"ہاں اور نہیں تو ۔۔۔۔"اس نے دوپٹہ سیدھا کیا اور بال پیچھے کیۓ اسے اسکی ہنسی سے کوئ فرق نہیں پڑا تھا ۔بلکہ وہ شاید سمجھ ہی نا پائ تھی ۔
"خضری ۔ اپنے آئیڈیل کے قصے ہر ایک کو سنانے نا بیٹھ جانا ۔"اسے خضری کی لا ابالی فطرت سے اندیشے ہو رہے تھے ۔کہیں بدنام ہی نا ہو جاے اپنی معصومیت کی بنا پر ۔
"کیوں بھلا ۔سر میرے آییڈیل ہیں اور میں سب کو کہوں گی ۔چھپاؤوں گی کیوں ۔"وہ یونہی بحث کرتی رہتی تھی۔ طاہرہ نے اسے غصہ سے دیکھا ۔
"خوامخواہ میں لڑکیاں غلط ۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے تمہارا مذاق اڑائیں گی ۔"وہ غلط مطلب کہتے کہتے صرف اسی پر اکتفا کر گئ تھی۔
"مذاق کی کیا بات ،ہر لڑکی کا ایک خواب ہو تا ہے سر اگر میرے ۔۔"
"خضری ۔اب بس کرو ۔مجھے تمہاری اس بکواس سے کوئ دلچسپی نہیں ۔"اس نے خضری کی بات کاٹ دی ۔پھر کہا ۔"اور تم کوی بھی اوٹ پٹانگ بات لڑکیوں کے سامنے نہیں کہو گی۔ "
"آخر تم کہنا کیا چاہتی ہو ہاں ۔ خضری جو ذرا کچھ سمجھی ہو ۔بس طیش میں آنا آتا تھا اسے ۔
"کچھ نہیں "اس نے مختصراً کہا۔
"تم ناں طاہرہ خود کو ہی بڑا اسمارٹ سمجھتی ہو ۔اور مجھے نری بدھو ۔تم یہی کہنا چاہ رہی ہو کہ نا کہ میں کسی سے بھی نا کہوں کہ سر خطیب میرے آئیڈیل ہیں اور خطیب سر کا مقبولیت کا گراف اونچا جانے لگے گا ۔اور تم شاید یہی نہیں چاہتی ہو ۔مجھے لگتا ہے تم سر سے جیلس ہو مگر کیوں خدا معلوم ۔۔۔"
"حد ہو گئ ۔۔۔۔"اس نے سر ہی تو تھام لیا خضری کی بچکانہ سی بات پر ۔
######################################
"مزمل نے کہیں بھے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے اور گھر والے اسے سمجھا کر تھک چکے ہیں مگر اس نے ضد سی باندھ دی ہے کہ شادی کرے گا تو بس تم سے ورنہ کنوارا رہ جائیگا ۔"
"انشاءاللہ ساری عمر یونہی رہے گا۔ "خضری نے ٹکڑا لگایا ۔طاہرہ اسے مزمل کے بارے میں بتارہی تھی۔
"خالہ وغیرہ تو رونا شروع کر چکی ہیں ۔شکر کرو اس نے تمہارا نام نہیں لیا ۔سب کے سامنے ۔صرف یہاں ہی پتا ہے ورنہ خالہ جان تو تمہاری ایسی مرمت کرتیں کہ تم ۔۔۔۔۔"قبول ہے "کے سوا کچھ نا کہتیں ۔۔۔۔طاہرہ کو اس کے اطمینان پر غصہ آیا ۔
"اچھا ۔ایسے کیسے قبول کرواتیں ۔میرے والدین سلامت ہیں ۔ان کا بیٹا عقل سے پیدل نکلا تو میرا کیا قصور ۔میں کوئ
مجبور تو نہیں کر رہی اسے کہ میرے نام پر عمر بتاۓ ۔اب وہ ساری عمر بنا کسی سہارے کے گذار سکتا ہے تو میں کیا کر سکتی ہوں ۔ "وہ ذرا بھی متاثر نہیں تھی ۔
"سہارا کیا کہتی ہو ۔بس عورت ہی کو سہارے کی ضرورت رہتی ہے ۔کبھی باپ کے ،بیٹا یا شوہر محتاج عورت ہی ہوتی ہے۔
"یہ تم کہہ رہی ہو ۔کوئ فلاسفر نہیں اصل میں دونوں پارٹی کو سہارے کی ضرورت رہتی ہے ۔عورت ظاہری طور پر کمزور نظر آتی ہے مگر باطن سے وہ بہت مضبوط ہوتی ہے۔ مگر مرد اتنے کمزور ہو تے ہیں کہ وہ عورت کے سہارے کے بغیر رہ نہیں سکتے ۔"
"ذرا وضاحت فرمائیں ۔فلاسفر صاحبہ ۔"طاہرہ نے اسے طنزیہ انداز میں دیکھا ۔
"تم اگر معاشرہ پر نظر دوڑاؤگی تو پتا چلے گا کہ بہت کم بیواؤں نے عقد ثانی کیا ۔اور وہ بھی اس حالت میں کہ بہت کم عمر ہیں اولاد بھی نہیں تب ۔لیکنایسی سچویشن کسی مرد کے ساتھ ہو تو ہر مرد (سواۓ چند )کےعقد ثانی کرتا ہے وہ عورت کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ۔اولاد ہو تب بھی ۔اور اولادنا ہو تب بھی۔ پھر بو لو ۔مرد ہے نا سہارے کامتلاشی ۔"خضری آج بڑی ہی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔ کچھ لمحے طاہرہ خاموش ہو گئ تھی ۔ پھر کہا ۔
"تمہاری بات سے میں متفق ہوں ۔کیونکہ مزمل نے ایک یتیم بچے کو گود لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اور اس بچہ کو زندگی کی ساری خوشیاںدینے کا عزم رکھتا ہے ۔"
اسکی اس بات پر خضری نے ستائشی انداز میں پلکیں جھپکائیں تھیں۔ پھر کہا ۔
"کوا چلے ہنس کی چال ۔"
تم نے غلط موقعہ پر بول صحیح محاورہو ل دیا ۔طاہرہ کو ہنسی آئ۔
"چلو صحیح غلط بعد میں کریں گے ۔میں چاۓ لے آتی ہوں تم بیٹھو ۔جب سے سر کھارہی ہو میرا ۔"وہ اسے چھیڑنے سے باز ہی نا آرہی تھی۔ جاتے جاتے طاہرہ کو منہ بںناتے دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
#####################################
آج تو طاہرہ بھی تشویش میں مبتلا ہو گئ تھی ۔کوی دس دن ہو گے تھے ۔سر کو آۓ۔ اسٹوڈنٹ میں چہ میگویاں ہو رہی تھیں۔ ہر کوئ اپنی اپنی راے دے رہا تھا ۔خضری ،طاہرہ کی منتیں کر کر کہ تھک گی تھی وہ سر کے گھر جانا چاہ رہی تھی ۔مگر ہر بار طاہرہ نے اسے قطعی انکار کذ دیا تھا ۔بلکہ اسے بھی نا جانے کی تنبیہہ کی تھی ۔خضری اب لاکھ اس سے جھگڑتی مگر اس کے بنا ،وہ جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔
"آج تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ سر کی طبعیت ٹھیک نہیں ۔کیونکہ آج ہی پتا چلا سر کا فون آیا تھا ۔وہ اتنے دن بخار میں پڑے تھے ۔"انکی ہم جماعت فرخندہ نے بیٹھے پیٹھے ہی کہا ۔خضری اچھل پڑی ۔
"کیا سچ ؟"سر کا فون آیا تھا ۔"
"ہاں بھئ ۔کیوں ۔"اسکے اچھلنے پر فرخندہ کو حیرت ہوئ ۔طاہرہ نے ناگواری سے اسے دیکھا اور آنکھوں سے اشارہ کیا ۔خضری بھی اسکی ہی طرف دیکھ رہی تھی۔جلدی سے بولی ۔"سن لیا طاہرہ ہمیں اب سر کی عیادت کو جانا چاہیۓ۔"
"کوئ ضرورت نہیں ۔یہاں ہر کوی بیمار ہو تا ہے ضروری نہیں کہ ہر ایک کی عیادت کو جا یا جاۓ۔ وہ بزرگانہ انداز میں بولی ۔
"وہ ہمارے استاد ہیں اور قابل اب ایسی بھی بے مروتی اچھی نہیں "فرخندہ درمیان میں ٹپک پڑی ۔
"استاد قابل ہیں انکی عزت کرنا بھی ہمارا فرض ہے ۔لیکن انکی پرسنل زندگی میں دخل اندازی مناسب نہیں ۔اس لیے جب وہ کالج آییں تو ہمیں خیریت دریافت کر لینی چاہیے اور بس ۔۔"
"چلو فرخندہ ہم دونوں ہی جائیں گے ۔یہ یہیں خیریت دریافت کر لیں گی۔ "وہ چڑ کر غصہ سے بولی تھی ۔پھر بعد میں فرخندہ تو چلی گئ ۔اور خضری بیٹھی رہ گئ۔مگر طاہرہ نے اچانک خوشی سے دوچار کیا ۔"چلو دو بجے تک واپس آ جائیں گے ۔وہ گھڑی دیکھتے ہوۓ بولی ۔
"واقعی ؟خضری خوشی سے کھڑی ہوگئ۔
"ہاں بھئ وہ صرف تمہارے نہیں ہمارے بھی استاد ہیں ۔ "اس نے مسکرا کر کہا ۔تو خضری جلدی جلدی جادر اوڑھنے لگی۔
مگر طاہرہ گھر میں کسی کو معلوم ہی نہیں سب انتظار کریں گے ۔"اسے نئ پریشانی نے آ گھیرا ۔
"اسکی فکر کرنے کی ضرورت نہیں میں نے گھر فون کر کہ اطلاع دی تھی ۔اور اجازت بھی مل گی ہے ۔"اس نے بھی بیگ وغیرہ اٹھا لیا ۔
"گڈ ۔بہانے بنا کر کہیں بھی جانا بہت غلط بات ہو تی ہے۔ اور شریف باکردار لڑکیاں کبھی یوں غلط بہانہ بنا کر کہیں بھی نہیں جاتی ہیں ۔ہے ناں ۔"اس نے پوری چا در اچھی طرح سر پر جمالی تھی۔اور طاہرہ سے پوچھ رہی تھی ۔
"ہاں ہاں چلو بڑی نصیحت قرنا آتاہے تمہیں ۔جیسے مجھے کچھ معلوم ہی نہیں ۔دونوں جلدی جلدی قدم بڑھانے لگیں ۔#####################################
وہ دونوں اس دروازہ کے آگے کھڑی تھیں جسکے نیم پلیٹ پر خطیب احمد نام چمک رہا تھا۔ ساتھ میں ڈگریوں کی قطار سی تھی ۔
"آہاہ سر کتنے ایجوکیٹد ہیں "
"اور نہیں تو کیا جاہل ہو نگے تمہاری طرح۔ "طاہرہ نے بیل پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
"مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ سر کے سامنے جاتے ہوۓ "خضری نے اپنے ہاتھوں کو خود ہی دبادیا ۔
"احمقانہ حرکتیں کرنے سے پرہیز کرو ۔سر ہی ہیں کوئ بھوت نہیں ۔وہ کہہ رہی تھی۔اتنے میں دروازہ کھل گیا خضری تو بےہوش ہی ہو جاتی ۔انکے بلکل روبرو سیاہ شال کندھے پر ڈالے خطیب سر ہی کھڑے تھے ۔ان کے چہرے سے نقاہت ٹپک رہی تھی۔
"آپ لوگ ۔آئیۓ ۔"انکے چہرے سے حیرت کا تاثر نہیں ملا ۔طاہرہ نے جلدی سے سلام کیا ۔
یہاں پر آرائشی سامان کی اپنی خصوصیات تھیں ۔دیوار پر مونا لیزا کی پینٹنگ عین دروازہ کے سامنے لگا ئ تھی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے ہر آنے والے کا استقبال کر رہی ہو ۔ٹیبل پر تازہ پھولوں کا گلدستہ سجاے گۓ تھے ۔اور اردو اور انگریزی کے اخبار ترتیب سے رکھے ہوے تھے۔ایک طرف بڑا سا دریچہ تھا ۔جس پر نیلے پردے سر کے خوبصورت ذوق کی مثال لگ رہے تھے۔ غرض کمرہ میں کوئ چیز فضول یا اووور نہیں لگ رہی تھی۔ سادگی ہی آرائش مسوس ہو رہی تھی۔دونوں تعریفی نظروں سے چاروں جانب دیکھ رہی تھیں ۔اور حسین سجاوٹ پر مبہوت تھیں۔
"بیٹھیۓ ۔آپ لوگ ۔"وہ شال سنبھالتے خود ایک صوفہ پر بیٹھ گۓ تھے۔ جبکہ وہ دونوں کر سییوں پر ٹک گئ تھیں ۔کتنی دیر تک دونوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہیں ۔خضری کی سٹی گم ہو گئ تھی ۔طاہرہ ہی جملوں کو ترتیب دے رہی تھی۔
"سر آپ کی اتنے دن کی غیر حاضری پر طالب علموں کو تشویش لاحق ہو گئ تھی۔ گہاذہ ہم لوگوں نے سوچا کہ آپکی عیادت کو جاییں ۔اس لیۓ ۔۔۔۔ طاہرہ نے بڑی محنت سے جملہ تیار کیا تھا۔مگر خضری نے چوپٹ کر دیا ۔
"ہاں سر ۔طاہرہ کو میں نے ہی کہا تھا کہ آپکی تعزیت کو چلیں "اس نے اتنی جلدی سے جملہ مکمل کیا تھا کہ طاہرہ روک نا سکی ۔جبکہ سر بے ساختہ قہقہہ لگانے پر مجبور ہو گۓ تھے۔ خضری خجل ہو کر اپنی انگلیاں مروڑنے لگی ۔ طاہرہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے یہاں سے اٹھا ۓ۔
"خضری آپ ہمیشہ یوں بوکھلا کیوں جاتی ہیں ۔سر اس سے براہ راست مخاطب تھے۔
"سر وہ میں ۔۔۔بس ۔۔۔اردو میری ویک ہے ناں ۔اس نے ہکلا کر کہا تھا۔
"ہممم۔ مگر کلاس میں تو انگریزی ہی چلتی ہے ۔"سر نے اس طرح کہا تھا جیسے کہہ رہے ہوں کلاس میں بھی آپ کا یہی حال ہوتا ہے ۔
"یونہی سر "اس نے طاہرہ کی جانب دیکھا تھا اس نے سر جھکا لیا تھا ۔وہ شاید اپنی ہنسی روک رہی تھی یا پھر غصہ ۔۔۔۔۔۔
"اب آپکی طبعیت وغیرہ کیسی ہے ۔طاہرہ نے پوچھا۔
"ابھی فی الحال ٹھیک ہوں افاقہ ہوا ہے ورنہ بخار نے پریشان کر دیا تھا ۔"سر نے شال دوبارہ سے اچھی طرح لپیٹ لیا ۔
"مجھے تو لگتا ہے سر کو نظر لگ گئ ہو گی۔ "خضری نے سرگوشی کی۔
"جپ کر "طاہرہ نے ڈانٹا ۔
"آپ لوگوں کی تعلیم کیسی چل رہی ہے ۔"
"عمدہ سر "۔دونوں نے کورس میں کہا ۔"مگر آپ کے سبجیکٹ میں پیچھے رہ گۓ ۔"
"میں ایکسٹرا کلاسس لینا سوچ رہا ہوں ۔تاکہ سبجکٹ کور ہو جاۓ۔ انہوں نے اپنے آگے کے پروگرام سے آگاہ کیا ۔
ان دونوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
اتنے میں نیلا پردہ ہٹا کر دھانی رنگ کا سوٹ پہنے ایک لڑکی داخل ہوئ۔ معمولی سے نقوش ،سانولی رنگت ،مگر نگاہوں میں روشنی کی لپک محسوس ہو رہی تھی۔
خضری اور طاہرہ نے بیک وقت چونک کر اسے دیکھا تھا ۔معمو لی چہرہ نے تو کوئ خاص مرعوب نہیں کیا ۔مگر وہ مسکراتے ہو ۓ آئ تھی ۔اور اسکی مسکراہٹ میں کوئ خاص بات تھی۔ جو بہت اچھی لگ رہی تھی۔
"اسٹوڈنٹس ہیں آپکے ۔"وہ سر سے مخاطب تھی۔
"جی ہاں آپ چاۓ وغیرہ لے آیۓ۔"سر نے ایٹی کیٹ نبھانے چاہے۔ان دونوں نے پہلو بدلا۔
"نہیں سر ۔اسکا تکلف مت کریں ۔اب ہم چلنا چاہیں گے۔ "طاہرہ نے جلدی سے اپنا بیگ اٹھا یا تھا۔
"مس طاہرہ ۔آپ اتنی دیر سے یہاں بیٹھی ہیں ۔کچھ دیر اور بیٹھ جائیے۔میں آپ کو نوٹس دے رہا ہوں ۔ساری کلاس میں تقسیم کیجئیے گا۔ وہ خود اٹھ گۓ تھے اور بک ریک سے بکس نکالنے لگے ۔ساتھ ہی انہوں نے اس لڑکی کو اشارہ کیا تھا ۔وہ الٹے قدم واپس پلٹ گئ تھی۔ گویا سر کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ لیا ہو ۔
سر ٹیبل پر کچھ بکس الٹ پلٹ کرنے لگے۔ آنکھوں پر چشمہ چڑھا لیا تھا ۔ایسے میں وہ بڑے پروقار سے لگ رہے تھے خضری بغور انہیں دیکھ رہی تھی ۔طاہرہ بیگ ہاتھ میں پکڑے اطراف میں نظریں دوڑا رہی تھی ۔وہی دھانی سی لڑکی دوبارہ اندر آی تھی ۔اس وقت اسکے ہاتھ خالی نہیں تھے ۔ہاتھ میں ٹرے لیۓ وہ اندر آگئ تھی ۔
"لیجیۓ آپ انہیں یہاں اکیلے بٹھا کر اپنی کتابوں میں مگن ہیں ۔"وہ ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ پوچھ رہی تھی۔
"جی نہیں بھئ۔ انہی کے نوٹس دیکھ رہا تھا ۔"خطیب سر ایک بک لیۓ دوبارہ بیٹھ گئے تھے ۔
"اچھا ۔طاہرہ یہ لیجیۓ ۔"اس نے طاہرہ کی طرف نمکین کی پلیٹ بڑھائ ۔طاہرہ تکلف میں پڑ گئ۔ مگر خضری نے چپکے سے لے لیا۔ اور طاہرہ کو بھی ٹہوکا دیا ۔
"دراصل نمکین ہم دونوں کی بہت پسند ہے ۔"اس لیۓ اس میں تکلف تو میں قطعی نہیں کرتی ۔خضری اہستہ سے سر سے بچ کر کہہ رہی تھی۔وہ لڑکی بے ساختہ مسکرا اٹھی۔ اسے بہت ہی اچھی لگی خضری ۔
"یہ میںنے گھر میں ہی بناۓ ہیں ۔آپ کے سر بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔شام کی چاۓ کے ساتھ تو ہونا ضروری ہے۔"اس نے جواباً کہا اور پھر انکی پڑھائ وغیرہ کے بارے میںبات کرنے لگی۔باتوں سے پتا چلا ۔اس لڑکی کا نام فلک ہے ۔سر نے نوٹس دیۓ تھے اور اسے مکمل کرنے کو کہا ۔
"جی سر ۔"انہوں نے تعمیل میں کہا ۔فلک اندر چلی گئ تھی۔ تب خضری اور طاہرہ نے بھی جانے کا ارادہ کر لیا طاہرہ نے جاتے جاتے یکدم ذاتی سوال کر دیا ۔
"سر آپکی وائف تھیں ۔؟"
"جی ہاں ۔فلک ہی ہیں میری رفیقہ حیات "سر نے مسکرا کر کہا تھا ۔
دوبارہ سے فلک اندر آئ تو دونوں نے اسے خاص زاوئ سے دیکھا تھا ۔وہ سر کے مقابل بڑی کمتر سی تھی۔ کچھ بھی تو ایسا نا تھا کہ اسکی تعریف کی جاۓ۔ مگر انداز شائستہ ،آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی۔اور لہجہ دل موہ لینے والا تھا ۔مگر یہ سب بھی قابل توجہ بات نہیں تھی ۔ اصل بات یہ تھی کہ سر کو کوئ ٹنشن ہے ایسا نہیں لگ رہا تھا ۔
"طاہر ہ ،خضری ،پھر آئیگا آپ لوگ ۔میںانتظار کروں گی۔ "وہ مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ "جی خدا حافظ "۔وہ لوگ خدا حافظ کہتے باہر آگۓ تھے ۔اور باہر آکر دونوں نے ٹھنڈی سانس لی تھی۔طاہرہ اسےے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔ خضری خاموش ساچوں میں گم ہو چکی تھی۔
"خضری"
"ہوں ۔۔۔"وہ چونک کر بولی۔
"ٹیکسی کر لیتے ہیں ۔ "اس نے صرف سر۔ ہلایا ۔
طاہرہ کو اس پر بے انتہا رحم آرہا تھا ۔بے فکری کے معصوم چہرہ پر فکر اور سوچ کی شکن پڑ گئ تھی۔
وہ اسے اس وقت چھیڑنا مناسب نہیںں سمجھ رہی تھی۔تمام راستہ خضری خاموش رہی طاہرہ بھی خاموشی اختیار کیۓ ہوۓ تھی۔گھر پہنچ کر خضری بھی اپنے کمرہ میں چلی گئ تھی اور دروازہ بند کیا تھا۔
##################################
طاہرہ نے سنا تو کتنے ہی پل وہ حیرت کا مجسمہ بنی کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی۔ اسے اپنی امی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ۔کیا واقعی ؟ایسا ہو گیا ۔وہ ایک ہفتہ سے خضری کے گھر نہیں گی تھی جان بوجھ کر ۔وہ چاہتی تھی اتنے دنوں میں وہ نارمل ہو جاۓ ۔مگر امی تو آج مٹھائ ہی لیکر آ گئیی تھیں ۔"
" سج کہرہی ہیں امی آپ ۔یہ خضری اور مزمل کی شادی کی مٹھای ہے۔"وہ بے پناہ خوشی سے کھاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
"اے تو کیا میں مذاق کروں گی۔ اس عمر ،تو تو لڑکی باؤلی ہے بلکہ وہ خضری بھی اب تک خوامخواہ پڑھائ کی رٹ لگاے بیٹھی تھی۔ورنہ تو اب تک شادی ہو جاتی ۔"اسکی امی مٹھائ کی پلیٹ رکھتے ہوۓ کہہ رہی تھیں ۔طاہرہ نے فوراً جانے کی تیاری کر لی۔اور امی کو کہہ کر وہ اسی دن خضری کے ہاں چلی آئ تھی۔
"اسلام علیکم "وہ لان میں ہی مل گی تھی ۔پنک کلر کے کلیوں والے کرتے میں وہ گلاب کی کلی لگ رہی تھی۔
"طاہرہ "وہ خوشی سے چلا پڑی ۔اور اسکے قریب بھاگتی ہو ئ آئ۔
"ماشاءاللہ بڑی خوبصورت لگ رہی ہو "اس نے گگابی گلابی سی خضری کو مسکراتے ہوے دیکھ کر دل ہی دل میں بے انتہا دعا دی تھی۔
"مذاق مت کرو ایسے پرانے سوٹ میں میں تمہیں خوبصورت لگ رہی ہوں ۔اب پتا چل گیا تم خوامخواہ بھی تعریف کرتی ہو ۔"وہ جھینپ کر بولی تھی اور اسے لیے اندر بڑھ رہی تھی ۔
"بڑی خوش بھی ہو ۔آخر راز کیا ہے ۔"طاہرہ کو واقعی حیرت ہو رہی تھی۔
"میں غمذدہ کب رہی تھی۔وہ بالوں کو کھولنے لپیٹنے لگی۔
" مزمل سے شادی مقرر کر لی اور مجھے ہواتک لگنے نا دی ۔"وہ اسکے بیڈ پر آرام سے لیٹ گئ تھی۔خضری نے دروازہ بند کیا تھا۔ اور ہلکی موسیقی لگا دی تھی۔ اور خود اسکے برابر بیٹھ گئ تھی۔
"بس فیصلہ کر لیا ۔"
"خضری تم نے فیصلہ کرنے میں جلد بازی تو نہیں کی۔ "اس نے اسے بغور دیکھا تھا ۔
"نہیں طاہرہ جلد بازی نہیں میں تو لیٹ ہو گئ اس فیصلہ کو کرنے میں ۔بہرحال دیر آید درست آید ۔۔"اک میگزین کو رول کرتے ہوۓ وہ مسکرارہی تھی۔
"خضری ۔تم نے سر سے مایوس ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے ۔جب تمہیں لگا کہ اب تمہاری سر سے شادی ممکن نہیں تو تم نے مزمل کے لیۓ ہامی بھر لی۔ اگر تم مزمل کو پہلے ہی قبول کرتیں تو وہ الگ بات تھی ۔ اگر تم مزمل سے محبت میں آکر یہ فیصلہ کرتیں تو کوئ غلط بات نا تھی ۔مگر تمہاری یہ خیرات کی محبت مزمل کو بھی قبول نہیں ہو گی۔ تم مزمل سے محبت کرتی ہو تو اس سے شادی کرو ورنہ اسے یوں دھوکہ مت دو ۔ "اس نے جیسے خضری کو جھنجھوڑنا چاہا تھا ۔خضری اسکی طرف ہکا بکا دیکھ رہی تھی۔
"کیا کہہ رہی ہو ۔میری سمجھ میں نہیں آیا ۔"
"تم ہوشمند ہو ۔میری بات سمجھ سکتی ہو ۔پھر یہ ناٹک کیوں ۔؟"وہ صرف محبت کے جذبہ پر یقین رکھنے والی تھی ۔اسے خضری کی یہ دل لگی سخت بری لگ رہی تھی۔
"ناٹک ؟کیا بک رہی ہو ۔"اسکا دماغ آؤٹ ہونے لگا تھا ۔
"سر تمہارے آئیڈیل تھے مگر جب تمہیں پتا چلا کہ وہ شادی شدہ ہیں تم انہیں حاصل نہیں کر سکتیں تب تم نے مزمل بیچارے کا نام کیوں لیا ۔"
"یہ سب بکواس بند کرو اور میری بات سنو ۔جانے کیا کہے جا رہی ہو ۔"اس نے پہلے اسے ٹوکا پھر کہا ۔
"سر میرے آئیڈیل تھے نہیں ہیں۔ میرے لیۓ وہ آئیڈیل ہی رہیں گے۔ فلک سے سر کی شادی کا ہونا میرے لیۓ باعث خوشی ہے ۔مقام افسوس نہیں ۔"
"تو کیا سر کی شادی سے تمہیں افسوس نہیں ہوا ۔"اس نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
"کیو ہوگا بھلا ۔"
"مگر ۔۔۔۔؟پھر مزمل کا چکر میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں تو تم اس صدی کی ناممکن بات کہتی تھیں اور کہاں اب تاریخ مقرر کیۓ بیٹھی ہو۔ "اسکے سوال پر وہ سنجیدہ ہوئ پھر اٹھ کر کہنے لگی۔
"طاہرہ میں تمہاری بات اب سمجھی ہوں ۔سر میرے آئیڈیل پر پورے اترتے ہیں مگر ہر آئیڈیل شادی کے لیۓ مقرر نہیں کۓ جاتے۔
طاہرہ میرے لیۓ آئیڈیل وہ شخصیت تھی جو میرے نزدیک خامیاں نہیں رکھتی ۔اور سر مجھے ویسے ہی لگے۔میں نے سر کو کبھی ایسی نظر سے نہیں دیکھا کہ ان سے شادی ۔۔۔۔۔۔""نہیں طاہرہ میں نے انہیں احترام کے اونچے مقام پر رکھا ہے۔ وہ صرف اور صرف استاد ہیں۔ میرے لیۓ ۔جن کا احترا م میرے لیۓ عبادت ہے ۔"طاہرہ حیرت سے بزرگانہ انداز میں بات کرتی خضری کو دیکھ رہی تھی۔
"اور رہی مزمل کی بات تو میں نے دباؤ میں آکر یہ فیصلہ نہیں کیا ۔اس دن جب ہم سر کے ہاں گۓ تب میری زندگی کی حقیقت سامنے آگئ۔
انہوں نے ایک جملے میں سر تا پا بدل دیا ۔مجھے سوچنے کے لیۓ ایک جہان دے دیا ۔انہوں نے استاد ہونے کا پورا پورا حق ادا کر دیا ۔
"فلک ہمارے نزدیک کتنی معمولی محسوس ہوئ تھی ۔مگر سر نے اسے میری "رفیقہ حیات "کہہ کر اسے کتنا مان دیا تھا۔ کتنا پیار تھا انکے لہجہ میں ،۔
"گھر کی سجاوٹ کو ہم سر کا ذوق کہہ رہے تھے ۔مگر یہ فلک کے سلیقہمند ہاتھوں کا جادو تھا جس سے سب مسحور ہو جاتے ہو نگے۔ اور بھی نجانے کتنی خوبیاں ہونگی اس میں کہ سر اس سے مطمئن ہیں ۔انہیں کوئ اسکا ذرا بھی اضطراب نہیں کہ انکی بیوی ان سے صورت میں کم ہے ۔وہ فلک کی شخصیت کو مکمل سیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔"
"انہوں نے مجھے وہ لمحہ دیا جب میں مزمل کی شخصیت کو صرف ظاہری حسن سےدیکھ رہی تھی ۔میں دنیا ایک خوبصورت ترین شخص سے نفرت کر تی تھی۔ مگر ۔۔۔۔"
"میرے آئیڈیل نے اپنی زندگی کو نمونہ بنا کر خود پیش کر دیا ۔کہ دیکھو میری زندگی دیکھو ۔پھر فیصلہ کر لو ۔پھر مجھے فیصلہ کرنا ہی تھا ۔اور ۔۔۔۔۔ اب میں کہہ رہی ہوں کہ ۔۔اس نے جیسے سانس لی ۔پھر کہا ۔"اگر مزمل نہیں تو کوئ نہیں ۔"اس نے جملہ مکمل کیا ۔طاہرہ نے اسے گلے لگایا ۔
"مجھے معاف کرنا خضری ۔میں نے غلط فہمی میں تجھ سے کچھ زیادہ ہی بدتمیزی کی۔تو نے وہ فیصلہ کیا ہے کہ مجھے تجھ پر پیار آرہا ہے ۔تو نے واقعی صحیح کہا ۔آئیڈیل صرف شادی کے لیۓ معیار نہیں ہو تے ۔اور مجھے بھی کہنا پڑ رہا ہے کہ سرواقعی میں میرے بھی آییڈیل ہیں ۔۔۔"
"واقعی ۔یہ آئیڈیل کا چکر بڑا دلچسپ تھا ۔۔جانے کیسے اچانک مزمل اندر آیا تھا شاید کھڑکی سے کیونکہ یہ کافی کشادہ کھڑکی تھی ۔خضری فوراً طاہرہ کے پیچھے چھپ گئ تھی ۔طاہرہ کی مترنم ہنسی کے ساتھ مزمل کا شوخ قہقہہ فضاؤں میں مو سیقی کی سر سراہٹ پیدا کر گیا تھا ۔
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں