اشاعتیں

سوشل میڈیا تیری کونسی کل سیدھی تنقیدی جایزہ

سوشل میڈیا   تیری کونسی کل سیدھی تنقیدی جایزہ سوشل میڈیا کا نام سنتے ہی ساری" امیوں" (ماؤں) کی تلوہ کو لگتی  سر پر جا بجھتی ہے۔ ۔"نام مت لینا اسکا،فیس بک ،ٹویٹر اور وہ کیا بلا ہے انسٹا ،دل کرتا ہے ان سب کے کرتا دھرتا کو ایک لائن میں کھڑا کریں اور گولی ماردیں۔ ۔"کہیں کا نا رکھا. ہمارے گدھوں کو،پہلے بھی کونسے کام کے بندے تھے،اب تو گھر کے رہے  نا گھاٹ کے۔"  "۔چیٹنگ" کے نام پر "چیٹنگ" ہوتی ہے۔لڑکے لڑکیاں بن جاتے ہیں۔اور لڑکیاں پریاں،گنجے،بوڑھے' اپنے آپ کو شاہ رخ بتارہے ہوتے ہیں۔اور شادی شدہ کنوارے بن کر دوسری تیسری شادی کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔"ارے توبہ توبہ " "کوئ تک ہے بھلا،کتنا الو بنائیں گے اور کتنوں کو،اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ سب کو پتا ہو تا ہے کہ یہاں سب ایک دوسرے کو الو ہی بنارہے ہیں اور سب خوشی خوشی الو بن رہے ہیں۔کیا فرق پڑتا ہے ۔دھوکہ جھوٹ یہ سب تو چلتا ہےیہاں،اب کیا فیس بک پر سادھو سنت بن جائیں ۔اونہہ۔اپنی ماں کی خیر خبر نہیں لینگے لیکن فیسبکی کی سونیا پر جان نچھاور کرینگے چاہے وہ گدھی ہی کیوں نہ ہو۔فادرز...

گڈ باے۶ ٹو پھاپھا کٹنی ایک مزاحیہ تحریر

گڈ باۓ ۔۔گڈ باۓ ٹو پھاپھا کٹنی رشتے میں تو وہ ہماری کچھ نہیں لگتی تھیں،نام تھا زبیدہ ، لیکن یہ زبیدہ وہ مامون رشید والی زبیدہ جیسی بلکل نہیں تھی ۔کہاں وہ سڑکیں تعمیر کرنے والی،اور کہاں یہ سڑکوں پر کوڑا ڈالنے والی،وہ سہولتیں دینے والی اور ہماری زبیدہ ہمارے ہر کام میں روڑے اٹکانے والی،نہ شکل وصورت نہ حسن اخلاق،اڑتے اڑتے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انکی حسن صورت کی تاب نا لاکر شوہر بیچارا انہیں چھوڑ کر چلا گیاتھا لیکن ہمارے خیال میں عزت والا تھا چھوڑ کر چلا گیا،ورنہ انہیں کہاں کہاں تک بھگتا بےچارہ۔ہمارا انکا سامنا گھر کرایہ پر لینے کے لیے ہوا۔ورنہ ان جیسوں کی ہم شکل تک نہ دیکھتے۔ ہم گھر کرایہ پر لینے کے لیے گۓاب وہ ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہم انہیں،ہمیں لگ رہا تھا اتنا معقول گھر کی ایک ایسی نامعقول مکان مالکن،وہ ہمیں کیوں گھور رہی تھی ،ہمیں نہیں پتا،آپ خود پوچھ لیجےگا۔ ہم نے مکان کے تعلق سے سب بات چیت کردی ۔ایڈوانس پچاس ہزار طۓ پایا اور کرایہ دس ہزار،وہ بے اولاد تھی،لیکن پیسہ کو ہی اپنی سگی اولاد سمجھتی تھی شاید،جونہی ہم نے پیسے ادا کۓ اس نے اپنی گود اپنی اولاد سے بھر لی ہمارا مطلب ہے پ...

باتونی عورت فایدہ ہی فایدہ

باتونی عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فایدہ ہی فایدہ ایک مزاحیہ تحریر عورت کا وجود زندگی میں اتنا ہی ضروری ہے جتنا باورچی خانہ میں نمک،جس طرح نمک کے بغیر ہمارا ہر پکوان پھیکا پڑ جاتا ہے۔اسی طرح عورت کے بغیر زندگی پھیکی،بے مزہ سی ،لگتی ہے۔ایسی زندگی جس میں کوی۶ چارم نہیں،جوش نہیں،بڑی سادہ سی زندگی،جیسے سادہ سا ورق ،بلکل کورا۔ ع          وجودزن سے ہے تصویر کاینات میں رنگ          عورت کے دم سے رونق ہے خوبصورتی ہے زندگی رنگین ہے۔اررررر ہم کچھ زیادہ ہی شاعری نہیں کرنے لگے،عورت یہ ہے،عورت وہ ہے ۔عورت کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاے۶ جارہے ہیں۔لیکن عورت کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ بہت باتونی ہوتی ہے۔یہ مردوں کی عام شکایت ہے۔چلیے مان لیتے ہیں ۔ہم اسکے بدلے میں یہ بلکل نہیں کہینگےکہ آپ لوگوں کی تان جو سیاست سے چھڑ جاتی ہے تو کھیل پر ختم ہوتی ہے۔فلم سے شروع کرتے ہیں تو مذہب پر جا رکتے ہیں۔گھنٹوں دیوان خانہ میں بیٹھےچاے۶ پر چاے۶ لٹاے۶ جارہے ہیں ۔بحث ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی،ادھر عورت غریب ،چاے۶ پتی ختم ہو گی۶،چاے۶ پتی ختم ہو گی۶ ،چلاتے ہی رہ...

سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں ایک مزاحیہ تحریر

سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں ،یہ کیا آتی نہیں جاتی نہیں لگا رکھا ہے۔وہ بڑبڑارہی تھی کہ شانو جھلا اٹھی۔آپ کو دیکھنے آرہے ہیں لڑکے والے،امی نے آپ کو تیار رہنے کے لیے کہا ہے۔ آپو،ویسے کیا آپ دیکھنے والی چیز ہیں؟ ہاں ٹکٹ لگانے کا سوچ رہی ہوں۔مانو جل کر بولی۔ مہمان آچکے تھے۔مانو مکمل تیاری میں تھی۔آپ کا نام ؟ نام؟نام میں کیا رکھا ہے آنٹی جی، (آپ کو تو دھن دولت سے غرض ہوگی۔) جی مانو ۔ مانو ،برا مت ماننا بیٹا،یہ نام تمہارا نہیں بلی کا زیادہ لگ رہا ہے۔ جی جی،(بلی کے خاندان سے ہی ہوں ،پنجہ جھاڑ آپ کے پیچھے پڑ جاو۶ں گی دیکھ لینا۔) کیا پکا لیتی ہو؟ جی کسی کا بھی دماغ ، جی ؟ آں سب پکاتی ہوں ۔ اچھا کیا پڑھتی ہو۔؟ (آپ جیسوں کی نیت اچھے سے پڑھ لیتی ہوں۔) جی بس ،اخبار ، اوہ،ہمارے بیٹے نے انجینیرنگ کیا ہوا ہے کہتے ہوے۶ آنٹی کچھ اور پھولیں۔ ہاں،؟ مانو کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔وہ پانی پیتے پیتے رک گی۶ تھی۔لگتا ہے بیٹی تمہیں فرج کے پانی کی عادت ہے سادہ پانی پی نہیں پارہی تم ؟ وہ اپنے مطلب پر آگی۶ تھیں۔ جی نہیں مجھے فرج کے پانی کی عادت بلکل نہیں ہ...

عیار یاروں کا یار ایک مزاحیہ تحریر

Mazameen-e-Naaz عیار یاروں کا یار دسمبر 01, 2018 عیار    یاروں کا یار  اگر یار عیار نہ ہو تو پھر کہاں کا یار ،یاری اور عیاری کا چولی دامن اوہ ہو سوری جی چولی دامن نہیں بلکہ کرتا پاجامہ کا ساتھ ہوتا ہے۔(اگر یار مذکر ہو تو)۔خیر ہمیں اس سے کیا غرض ،چولی ہو کہ کرتا،یہاں تو بات ہو رہی ہے عیاری کی،ایک یار اور اسکی عیاری کی، اگر آج ٹارگٹ نہ کرسکے تو تم دونوں اپنی شکل مت دکھانا مجھے،مینیجر برس پڑا۔(ہاں ہم تو مرے جارہے ہیں اسے اپنی شکل دکھانے)  یار ،ہماری شکل بھی ایسی نہیں کہ کو ی۶ ہم پر مر مٹے۔اور یہ باس کہ رہا ہے اپنی شکل مت دکھانا،اب ہم اپنی شکل کا اچار ڈالیں،اسکو نا دکھایں تو کسکو دکھایں ،اجو کو ہمیشہ قلق رہتا تھا اپنی کم صورتی کا، چلو بھر پانی میں ڈوب مر،یہاں نوکری کے لالے پڑے ہیں اور تجھے بڑی فکر پڑی ہے عشق کے پینچ لگانے کی،تھوڑا دماغ لگا کہ کیسے کرینگے ٹارگٹ،مجو نے اسکے سر پر دو لگاے اجو سر سہلانے لگا۔ میرادل کر رہا ہے کہ ایک پسٹل لوں اور ڈھایں کروں باس پر ،میرا تو اب یہی ٹارگٹ لگ رہا ہے فی الحال،کافی دیر کی سوچ ب...

تین ٹانگ کے گھوڑے ایک مزاحیہ تحریر

تین ٹانگ کا گھوڑا۔        ایک مزاحیہ تحریر از نازنین فردوس گھوڑا اور وہ بھی تین ٹانگ کا ،اب ہم کیا کریں یہ تین ٹانگ کے گھوڑے کو لے کر،تین تو چھوڑیں اگر چار ٹانگوں کا بھی گھوڑا ہو تو بھی ہمارے کس کام کا،ہمارے پاس کونسا پچاس ایکڑ کا کھیت ہے کہ چلو اس میں گھڑ سواری ہی کر لیں۔ہم مختصر تہ ہمارا گھر مختصر ترین،کہاں کا گھوڑا اور کہاں کی گھڑ سواری،ہم ایسی بے سر پیر کا سوچتے بھی نہیں ،سو چین گے بھی کیسے ،سوچنے کے لیے بھی تھوڑا بہت دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تو اس معاملہ میں کچھ کچھ خالی خالی سے ہیں۔ہمارے گھر میں بھی تین ٹانگ کے گھوڑے رہتے ہیں ۔بلکہ ہمارے خیال میں ہر گھر میں رہتے ہیں اور ہر اچھے کام میں یہ اپنی لنگڑی ٹانگ اڑایںنگے ضرور، ہم انہیں کسی مخصوص صنف میں قید نہیں کر سکتے  چونکہ یہ ہر صنف میں موجود ہو تے ہیں۔ہمارے گھر میں تو ہم اپنے آپ ہی کو اس میں فٹ محسوس کرتے ہیں لیکن فی الحال کے لیے ہم اپنے آپ کو اس سے الگ رکھیں گے ،تو ہم کہ رہے تھے ایسے تین ٹانگ کے گھوڑے تو ہر گھر میں ہوتے ہیں بھی۶ ہمارے ہٹے کٹے بے روزگار،بےکار نوجوان،جو اپنے آپ کو کسی رستم گھوڑے سے کم ...

کچھ عمیرہ احمد کے ناول پیر کامل کے بارے میں

کچھ عمیرہ احمد کے ناول پیر کامل کے بارے میں جولائی 03, 2018 کچھ عمیرہ احمد کے ناول  پیر کامل کے بارے میں عمیرہ احمد کا یہ ناول بے انتہا مقبول ہواہے۔اور یہ ناول اس قابل ہے کہ اسے آپ بار بار پڑھیں۔ عمیرہ احمد نے اس ناول کو بہت خوبصورتی سے لکھا ہے۔بنیادی طور پر یہ ناول ایک قادیانی لڑکی اور ایک سنی مسلمان کے گرد گھومتی ہے۔امامہ اور سالار کے گرد۔امامہ دین حق کو پا کر مسلمان تو بنتی ہے مگر اسے اپنے تمام قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے۔سالار اگرچیکہ ایک غیر مزہبی ،مغرور اکھڑ انا پرست انسان ہوتے ہوے امامہ جیسی تنہا بےبس لڑکی کی مدد کرتا ہے یہاں سالار کے کردار کی ایک جھلک نظر آتی ہے کہ وہ بدکردار ہوتے ہوئے بھی کچھ اخلاق رکھتا ہے۔ وہیں دوسری طرف امامہ سالار کو سخت ناپسند کرتی ہے۔لیکن حالات کے مدنظر اسے سالار جیسے شخص سے مدد لینی پڑتی ہے۔وہ اسلام کے لیے آخری حد تک سنجیدہ ہے۔اور اسکا ہر قدم فیصلہ کن ہے۔ عمیرہ احمد نے اس ناول میں ان دونوں کی عمر ظاہر نہی کی ہے البتہ ناول پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ہی اٹھارہ انیس کے لگ بھگ ہونگے۔یہاں ان دونوں کردا...