نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عیار یاروں کا یار ایک مزاحیہ تحریر

عیار یاروں کا یار

عیار    یاروں کا یار 
اگر یار عیار نہ ہو تو پھر کہاں کا یار ،یاری اور عیاری کا چولی دامن اوہ ہو سوری جی چولی دامن نہیں بلکہ کرتا پاجامہ کا ساتھ ہوتا ہے۔(اگر یار مذکر ہو تو)۔خیر ہمیں اس سے کیا غرض ،چولی ہو کہ کرتا،یہاں تو بات ہو رہی ہے عیاری کی،ایک یار اور اسکی عیاری کی،
اگر آج ٹارگٹ نہ کرسکے تو تم دونوں اپنی شکل مت دکھانا مجھے،مینیجر برس پڑا۔(ہاں ہم تو مرے جارہے ہیں اسے اپنی شکل دکھانے) 
یار ،ہماری شکل بھی ایسی نہیں کہ کو ی۶ ہم پر مر مٹے۔اور یہ باس کہ رہا ہے اپنی شکل مت دکھانا،اب ہم اپنی شکل کا اچار ڈالیں،اسکو نا دکھایں تو کسکو دکھایں ،اجو کو ہمیشہ قلق رہتا تھا اپنی کم صورتی کا،
چلو بھر پانی میں ڈوب مر،یہاں نوکری کے لالے پڑے ہیں اور تجھے بڑی فکر پڑی ہے عشق کے پینچ لگانے کی،تھوڑا دماغ لگا کہ کیسے کرینگے ٹارگٹ،مجو نے اسکے سر پر دو لگاے اجو سر سہلانے لگا۔
میرادل کر رہا ہے کہ ایک پسٹل لوں اور ڈھایں کروں باس پر ،میرا تو اب یہی ٹارگٹ لگ رہا ہے فی الحال،کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد اجو بولا،ہاں بڑا آیا تو نشانہ باز،مہابھارت کے ارجن کی اولاد،ارے او،تجھے سیلس کا ٹارگٹ کرنا ہے سیلس کا،تو کہاں جا رہا ہے پسٹل لیکر نشانہ باندھنے،پھر سے اجو کو دو پڑی ،اب کہ اجو کا سر بری طرح جھٹکا کھا گیا،وہ پھر سے سر سہلانے میں لگا۔
باس تو ماننے والا نہیں ،ایسا لگ رہا ہے یا تو ٹارگٹ کرواےگا  یا جان لےگا۔ڈو اور ڈای۶ والی سچویشن ہو گی۶ ہے۔مجو بڑ بڑا رہا تھا۔
میں ڈای۶ وای۶ نہی کرواو۶ں گا،میں تو ایسے ہی اچھا ہوں۔اجو نے پھر منہ کھولا،
ویسے خضاب لگاوں گا تو اچھا لگوں گا کیا؟اب کہ مجو نے اسکے سر پر مکوں کی بارش کر دی تھی۔
وہ دونوں ایک فارما کمپنی میں کام کر رہے تھے اور چھ مہینے میں ہی انہیں دادی نانی سب یاد آگی۶ تھیں۔
مارکٹنگ نے انکے چھکے چھڑادیے تھے۔اجو کو اپنی نوکری سے زیادہ یہ فکر کھاے جارہی تھی کہ نوکری نہیں ہو گی تو کو ی۶ اسے چھو کری کیسے دے گا۔
وہ اب اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ چھوکری پر بھی فاتحہ پڑھ رہا تھا۔لیکن  مجو نے اچانک اسے آکر کہا کہ ٹارگٹ ہو گیا ہے بے فکر ہو جا پیارے،
کیسے ہوا کییسے،اجو کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا،
میں نے ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے ہر قسم کی کوشش کی۔مارا مارا پھرا،لیکن ہر جگہ ناں کی مار ہی سہنی پڑی آخر میں میری سرک گی۶ میں سیدھا باس کے پاس گیا۔
سر یہ ٹارگٹ صرف میرا نہیں آپکا بھی ہے آپ ہمیں یوں دھمکی نہیں دے سکتے۔ میں نے ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر کہا،
کیا مطلب ؟باس نے مجھے گھورا،
مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ٹارگٹ نہیں کرینگے تو خطرہ میں آپکی بھی نو کری ہو گی،آپ کو بھی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے اگرچیکہ آپ کے پاس ہینڈ واش بھی ہو،
مجو اپنی حد میں رہو ،باس غرایا۔
جی سر ،میری حد لا محدود ہے اور آپکی میرے تابع،اگر آپکو اپنی نوکری بچانی ہے تو آپکو ہمیں سپورٹ کرنا پڑےگا،یہ آپکے لیے لازمی ہے کوی۶ آپشن نہیں دے رہا ہوں ،آپ بھی تو کمپنی کو جوابدہ ہیں ،اگر میں نے آپکی پول کھول دی کہ آپ کام نا کر کہ سارا دن گھر میں برتن کپڑے دھوتے تھے میڈم کے ہاتھ کے نیچے،تو کمپنی آپ سے سیدھا سیدھا استعفیٰ ہی مانگے گی،اس لیے آپ میرے ساتھ چلیے اور ہر اسٹاکسٹ  کو کچھ دے دلا کر کمپنی کا ٹارگٹ کر لیجیے،اور ہاں جو بھی دینا ہو وہ اپنے پرسنل اکاونٹ سے دے دینا ہمارا تو کھاتا ابھی کھلا ہی نہیں،مجو فلمی ہیرو کی طرح اپنی عیاری بیان کر رہا تھا۔
پھر پھر اجو حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔پھر کیا،باس غر غر غراتے میرے ساتھ چل پڑا ۔اسکی اپنی نوکری کے لالے پڑ گے۶ تھے ناں۔
ویسے گھر میں بھی میڈم  کافی مرمت کرتی رہتی ہیں اسکی،بیچارہ مرتا کیا نا کرتا والا ہو گیا تھا مجو ہنسنے لگا۔
یار تیری عیاری کام آی،اب میں امی کو بولوں لڑکی دیکھنے کے لیے،اجو خوشی سے پھول  کر کپا ہو گیا ۔
تیرے لیے سچ میں چلو بھر پانی لاونگا اور اس میں تجھے ڈبکیاں دونگا گدھا کہیں کا،شادی کے لیے نہیں تو تو کپڑے ،برتن دھونے کے لیے مرا جارہا ہے ۔کر لے شادی اور بن جا بےدام غلام ،اجو کو پھر سے سر پر پڑی،مگر اجو یار کی یاری اور عیاری کا قایل ہو گیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ