تین ٹانگ کے گھوڑے ایک مزاحیہ تحریر
تین ٹانگ کا گھوڑا۔ ایک مزاحیہ تحریر
از نازنین فردوس
گھوڑا اور وہ بھی تین ٹانگ کا ،اب ہم کیا کریں یہ تین ٹانگ کے گھوڑے کو لے کر،تین تو چھوڑیں اگر چار ٹانگوں کا بھی گھوڑا ہو تو بھی ہمارے کس کام کا،ہمارے پاس کونسا پچاس ایکڑ کا کھیت ہے کہ چلو اس میں گھڑ سواری ہی کر لیں۔ہم مختصر تہ ہمارا گھر مختصر ترین،کہاں کا گھوڑا اور کہاں کی گھڑ سواری،ہم ایسی بے سر پیر کا سوچتے بھی نہیں ،سو چین گے بھی کیسے ،سوچنے کے لیے بھی تھوڑا بہت دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تو اس معاملہ میں کچھ کچھ خالی خالی سے ہیں۔ہمارے گھر میں بھی تین ٹانگ کے گھوڑے رہتے ہیں ۔بلکہ ہمارے خیال میں ہر گھر میں رہتے ہیں اور ہر اچھے کام میں یہ اپنی لنگڑی ٹانگ اڑایںنگے ضرور، ہم انہیں کسی مخصوص صنف میں قید نہیں کر سکتے چونکہ یہ ہر صنف میں موجود ہو تے ہیں۔ہمارے گھر میں تو ہم اپنے آپ ہی کو اس میں فٹ محسوس کرتے ہیں لیکن فی الحال کے لیے ہم اپنے آپ کو اس سے الگ رکھیں گے ،تو ہم کہ رہے تھے ایسے تین ٹانگ کے گھوڑے تو ہر گھر میں ہوتے ہیں بھی۶ ہمارے ہٹے کٹے بے روزگار،بےکار نوجوان،جو اپنے آپ کو کسی رستم گھوڑے سے کم نہیں سمجھتے۔انکو اگر کسی کام کے لیے کہیں تو اول تو یہی کہینگے کہ یہ ہمارے شایان شان نہیں، جیسے یہ کسی بادشاہ کے اولاد ہوں ،اور سارے تخت و تاج کے اکلوتے وارث ہوں۔ انکے شایان شان کام ہم دے بھی دیں تو کہینگے کہ یہ تو ہمارے بایں ہاتھ کا کام ہے۔وہ چٹکی بجا بجا کر کہینگے اور جب یہ کام کرینگے تو سچ مچ نہ بایں ہاتھ کو خبر ہوگی نہ دایں کو ،سامنے سے بندہ پوچھے کہ کیا ہوا آپ تو اس کام میں ماہر تھے ،بڑی بڑی ڈینگیں مار رہے تھے تو بڑی ادا سے کہینگے ،
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
تو انکا گھوڑا پن تو ہر جگہ عود کر آتا ہے۔یہ ہوتے تین ٹانگ کے گھوڑے لیکن خود کو میدان جنگ کے گھوڑے سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ایسے جیسے ہار جیت تو بس ان ہی پر منحصر ہے۔
گھوڑوں کی مرغوب غزا چنا ہے انکی مرغوب غزا انٹرنٹ ہوتی ہے۔رات بھر گھوڑوں کی طرح انٹرنٹ کھایں گے اور اطراف کی آب و ہوا گندی کریں گے۔انکے لیے زندگی ٹایم پاس سے زیادہ کچھ نہی۔بس ٹایم پاس کے لیے دوستیاں کریں گے ٹایم پاس کے لیے محبت،اور ٹایم پاس ہی کے لیے شادی، نہ ہی انہیں کوی۶ کام ذمہ داری سے کرنا آتا ہے اور نہ یہ کرنا چاہتے ہیں ۔ایسے گھوڑوں کی شادی کریں تو انکی بیویاں بہت اچھی طرح سے قابو میں کر لیتی ہیں۔آخر وہ پوری ٹریننگ لے کر آی۶ ہو تی ہیں۔یہ وہ گھوڑے نہیں ہوتے جو جیتنے کے لیے دریا میں اتر لیے تھے۔یہ تو چاروں شانے چت ہو نے والے ہیں ۔ان سے بھلا کیا امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ملک کے لیے کچھ کرینگے،الٹا ملک کو ہی انکے لیے کچھ کرنا ہوگا ورنہ یہ تین ٹانگ والے تو ملک کے لیے بھی خطرہ ہیں۔آخر ملک کی باگ ڈور بھی تو انہیں ہی سنبھالنا ہے۔پتا چلے سرپٹ دوڑ رہے ہیں تین ٹانگ لے کر،گرجاینگے اسکی بھی خبر نہیں۔خود کہیں بھی کریں ہمیں اسکی فکر نہیں لیکن ان سے ہمارے ملک کو کوی۶ نقصان نہ پہنچے بس اسکی فکر ہے۔بات کدھر سے کدھر چلی گی۶ پتا ہی نہیں چلا ،خیر ہم نے تو اپنی کوشش کر ڈالی ۔ویسے تین ٹانگوں کے گھوڑوں سے اللہ محفوظ ہی رکھے۔
از نازنین فردوس
گھوڑا اور وہ بھی تین ٹانگ کا ،اب ہم کیا کریں یہ تین ٹانگ کے گھوڑے کو لے کر،تین تو چھوڑیں اگر چار ٹانگوں کا بھی گھوڑا ہو تو بھی ہمارے کس کام کا،ہمارے پاس کونسا پچاس ایکڑ کا کھیت ہے کہ چلو اس میں گھڑ سواری ہی کر لیں۔ہم مختصر تہ ہمارا گھر مختصر ترین،کہاں کا گھوڑا اور کہاں کی گھڑ سواری،ہم ایسی بے سر پیر کا سوچتے بھی نہیں ،سو چین گے بھی کیسے ،سوچنے کے لیے بھی تھوڑا بہت دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم تو اس معاملہ میں کچھ کچھ خالی خالی سے ہیں۔ہمارے گھر میں بھی تین ٹانگ کے گھوڑے رہتے ہیں ۔بلکہ ہمارے خیال میں ہر گھر میں رہتے ہیں اور ہر اچھے کام میں یہ اپنی لنگڑی ٹانگ اڑایںنگے ضرور، ہم انہیں کسی مخصوص صنف میں قید نہیں کر سکتے چونکہ یہ ہر صنف میں موجود ہو تے ہیں۔ہمارے گھر میں تو ہم اپنے آپ ہی کو اس میں فٹ محسوس کرتے ہیں لیکن فی الحال کے لیے ہم اپنے آپ کو اس سے الگ رکھیں گے ،تو ہم کہ رہے تھے ایسے تین ٹانگ کے گھوڑے تو ہر گھر میں ہوتے ہیں بھی۶ ہمارے ہٹے کٹے بے روزگار،بےکار نوجوان،جو اپنے آپ کو کسی رستم گھوڑے سے کم نہیں سمجھتے۔انکو اگر کسی کام کے لیے کہیں تو اول تو یہی کہینگے کہ یہ ہمارے شایان شان نہیں، جیسے یہ کسی بادشاہ کے اولاد ہوں ،اور سارے تخت و تاج کے اکلوتے وارث ہوں۔ انکے شایان شان کام ہم دے بھی دیں تو کہینگے کہ یہ تو ہمارے بایں ہاتھ کا کام ہے۔وہ چٹکی بجا بجا کر کہینگے اور جب یہ کام کرینگے تو سچ مچ نہ بایں ہاتھ کو خبر ہوگی نہ دایں کو ،سامنے سے بندہ پوچھے کہ کیا ہوا آپ تو اس کام میں ماہر تھے ،بڑی بڑی ڈینگیں مار رہے تھے تو بڑی ادا سے کہینگے ،
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
تو انکا گھوڑا پن تو ہر جگہ عود کر آتا ہے۔یہ ہوتے تین ٹانگ کے گھوڑے لیکن خود کو میدان جنگ کے گھوڑے سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ایسے جیسے ہار جیت تو بس ان ہی پر منحصر ہے۔
گھوڑوں کی مرغوب غزا چنا ہے انکی مرغوب غزا انٹرنٹ ہوتی ہے۔رات بھر گھوڑوں کی طرح انٹرنٹ کھایں گے اور اطراف کی آب و ہوا گندی کریں گے۔انکے لیے زندگی ٹایم پاس سے زیادہ کچھ نہی۔بس ٹایم پاس کے لیے دوستیاں کریں گے ٹایم پاس کے لیے محبت،اور ٹایم پاس ہی کے لیے شادی، نہ ہی انہیں کوی۶ کام ذمہ داری سے کرنا آتا ہے اور نہ یہ کرنا چاہتے ہیں ۔ایسے گھوڑوں کی شادی کریں تو انکی بیویاں بہت اچھی طرح سے قابو میں کر لیتی ہیں۔آخر وہ پوری ٹریننگ لے کر آی۶ ہو تی ہیں۔یہ وہ گھوڑے نہیں ہوتے جو جیتنے کے لیے دریا میں اتر لیے تھے۔یہ تو چاروں شانے چت ہو نے والے ہیں ۔ان سے بھلا کیا امید کی جا سکتی ہے کہ یہ ملک کے لیے کچھ کرینگے،الٹا ملک کو ہی انکے لیے کچھ کرنا ہوگا ورنہ یہ تین ٹانگ والے تو ملک کے لیے بھی خطرہ ہیں۔آخر ملک کی باگ ڈور بھی تو انہیں ہی سنبھالنا ہے۔پتا چلے سرپٹ دوڑ رہے ہیں تین ٹانگ لے کر،گرجاینگے اسکی بھی خبر نہیں۔خود کہیں بھی کریں ہمیں اسکی فکر نہیں لیکن ان سے ہمارے ملک کو کوی۶ نقصان نہ پہنچے بس اسکی فکر ہے۔بات کدھر سے کدھر چلی گی۶ پتا ہی نہیں چلا ،خیر ہم نے تو اپنی کوشش کر ڈالی ۔ویسے تین ٹانگوں کے گھوڑوں سے اللہ محفوظ ہی رکھے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں