گڈ باے۶ ٹو پھاپھا کٹنی ایک مزاحیہ تحریر
گڈ باۓ ۔۔گڈ باۓ ٹو پھاپھا کٹنی
رشتے میں تو وہ ہماری کچھ نہیں لگتی تھیں،نام تھا زبیدہ ، لیکن یہ زبیدہ وہ مامون رشید والی زبیدہ جیسی بلکل نہیں تھی ۔کہاں وہ سڑکیں تعمیر کرنے والی،اور کہاں یہ سڑکوں پر کوڑا ڈالنے والی،وہ سہولتیں دینے والی اور ہماری زبیدہ ہمارے ہر کام میں روڑے اٹکانے والی،نہ شکل وصورت نہ حسن اخلاق،اڑتے اڑتے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ انکی حسن صورت کی تاب نا لاکر شوہر بیچارا انہیں چھوڑ کر چلا گیاتھا لیکن ہمارے خیال میں عزت والا تھا چھوڑ کر چلا گیا،ورنہ انہیں کہاں کہاں تک بھگتا بےچارہ۔ہمارا انکا سامنا گھر کرایہ پر لینے کے لیے ہوا۔ورنہ ان جیسوں کی ہم شکل تک نہ دیکھتے۔
ہم گھر کرایہ پر لینے کے لیے گۓاب وہ ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہم انہیں،ہمیں لگ رہا تھا اتنا معقول گھر کی ایک ایسی نامعقول مکان مالکن،وہ ہمیں کیوں گھور رہی تھی ،ہمیں نہیں پتا،آپ خود پوچھ لیجےگا۔
ہم نے مکان کے تعلق سے سب بات چیت کردی ۔ایڈوانس پچاس ہزار طۓ پایا اور کرایہ دس ہزار،وہ بے اولاد تھی،لیکن پیسہ کو ہی اپنی سگی اولاد سمجھتی تھی شاید،جونہی ہم نے پیسے ادا کۓ اس نے اپنی گود اپنی اولاد سے بھر لی ہمارا مطلب ہے پیسوں سے۔
اب یہاں سے ہمارا آزمایشی دور شروع ہو گیا۔اتوار کا دن تھا،چھٹی تھی،گھر میں سبھی موجود تھے۔ہم نے بھی اتوار کے دن والے پروگرام کرنے تھے بھئ واشنگ مشین لگانا،مصالحہ جات پیسنا،وغیرہ لیکن لایٹ نے دھوکہ دے دیا،اب ہم گرمی سے پریشان ہو رہے ہیں پکانا بھی ہے اور گرمی سے بے حال بھی ہیں۔پسینہ میں شرابور ہم نے پکانے کا عظیم مرحلہ طۓ کیا،دھو بی گری کو مو قوف کردیا اور خود ہاتھ سے پنکھا جھلنے لگے۔شاید چار بجے تھے ہمارے منہ پر بھی چار ہی بجے تھے۔میاں نے کہا" ٹیرس پر چلی جاؤشاید حبس دور ہو"
اب یہاں سے ہمارا آزمایشی دور شروع ہو گیا۔اتوار کا دن تھا،چھٹی تھی،گھر میں سبھی موجود تھے۔ہم نے بھی اتوار کے دن والے پروگرام کرنے تھے بھئ واشنگ مشین لگانا،مصالحہ جات پیسنا،وغیرہ لیکن لایٹ نے دھوکہ دے دیا،اب ہم گرمی سے پریشان ہو رہے ہیں پکانا بھی ہے اور گرمی سے بے حال بھی ہیں۔پسینہ میں شرابور ہم نے پکانے کا عظیم مرحلہ طۓ کیا،دھو بی گری کو مو قوف کردیا اور خود ہاتھ سے پنکھا جھلنے لگے۔شاید چار بجے تھے ہمارے منہ پر بھی چار ہی بجے تھے۔میاں نے کہا" ٹیرس پر چلی جاؤشاید حبس دور ہو"
"،آنٹی زبیدہ کا گھر اور حبس نہ ہو،یہ کیسے ممکن ہے ۔ہم نے جل کر کہا ۔لیکن بات دل کو بھی لگی۔چلو اوپر تھوڑی ہوا تو ہوگی۔ہم سوچتے اوپر چلے گۓ۔
"اوہ بٹیا ،یہاں ہو ،کیسی ہو،شاید گرمی لگ رہی ہے اس لیے یہاں آئ ہو گی۔"وہ اچانک وارد ہوئ اور ہم بری طرح ڈر گۓ۔یہ تو شاید ڈرانے کے لیے ہی پیداہو ئ ہیں۔۔ہم نے گھورتے ہوۓ اسے سلام کیا۔
"جی آنٹی! لایٹ چلی گئ تو یہاں آۓ تھے"۔
"ہاں !بیٹے گرمی تو بہت ہے ،لیکن وہ لوگ بھی کیا کریں جب لوگ بے دھڑک لایٹس جلادیں اور بل دینے روئیں تو اس طرح تو ہو گا ناں ،ویسے اس مہینے کا بل آیا ہے۔ شاید تمہیں پتا نہیں کچھ زیادہ ہی آیا ہے ۔تھو ڑا تم بھی نہ دیکھ سمجھ کر کرنٹ کا استعمال کیا کرو ،ورنہ کیا پتا لایٹ اس طرح روز ہی جایا کرے۔میں نے بھی واشنگ مشین کے بجائے ہاتھ سے کپڑے دھونے شروع کۓ ہیں تاکہ بجلی کی بچت ہو۔یہ دیکھو کپڑے سکھانے لائ تھی۔وہ ہاتھ میں ایک دو جوڑے بتارہی تھی اور ہم سر ہلارہے تھے۔اچھا میں چلتی ہوں بیٹا ااااااااا"
"اوہ بٹیا ،یہاں ہو ،کیسی ہو،شاید گرمی لگ رہی ہے اس لیے یہاں آئ ہو گی۔"وہ اچانک وارد ہوئ اور ہم بری طرح ڈر گۓ۔یہ تو شاید ڈرانے کے لیے ہی پیداہو ئ ہیں۔۔ہم نے گھورتے ہوۓ اسے سلام کیا۔
"جی آنٹی! لایٹ چلی گئ تو یہاں آۓ تھے"۔
"ہاں !بیٹے گرمی تو بہت ہے ،لیکن وہ لوگ بھی کیا کریں جب لوگ بے دھڑک لایٹس جلادیں اور بل دینے روئیں تو اس طرح تو ہو گا ناں ،ویسے اس مہینے کا بل آیا ہے۔ شاید تمہیں پتا نہیں کچھ زیادہ ہی آیا ہے ۔تھو ڑا تم بھی نہ دیکھ سمجھ کر کرنٹ کا استعمال کیا کرو ،ورنہ کیا پتا لایٹ اس طرح روز ہی جایا کرے۔میں نے بھی واشنگ مشین کے بجائے ہاتھ سے کپڑے دھونے شروع کۓ ہیں تاکہ بجلی کی بچت ہو۔یہ دیکھو کپڑے سکھانے لائ تھی۔وہ ہاتھ میں ایک دو جوڑے بتارہی تھی اور ہم سر ہلارہے تھے۔اچھا میں چلتی ہوں بیٹا ااااااااا"
وہ خود میں خود بڑ بڑ کر تی چلی بھی گئیں اور ہم نے سوچا تو اس لایٹس کے چلے جانے میں آپ کا ہاتھ تھا۔ہمارا دل چاہا ہم اس زبیدہ کا گلا ہی دبا دیں ۔
مگر ہم بے بس تھے کیونکہ گلا دبانے کے سارے حقوق اسکے پاس تھے ہمارے پاس نہیں ،کیونکہ وہ مکان مالک ہے اور ہم نرے کرایہ دار،سو خون کے گھونٹ پینے پڑ رہے تھے۔
پھاپھا کٹنی زبیدہ کی پھوپھو گری ویسے ہی چل رہی تھی۔ہر روز اک نیا تماشا وہ کھڑا کرتی،اور ہم روز اس سے پیچھا چھڑانے کے سو سو طریقہ سوچتے۔لیکن اصل جڑ تو گھر تھا جو کہ نامناسب کرایہ پر بھی ہمیں دستیاب نہیں تھا۔اس لیے اس زبیدہ کے نامناسب رویہ کو برداشت کر رہے تھے۔
مہمانوں کا آنا انہیں یعنی آنٹی زبیدہ کو سخت ناگوار گزرتا۔وہ ہمارے مہمانوں پر بھی دھونس جمانے لگی تھیں۔کبھی ہمارے مہمانوں کو کہتیں" ،ارے !آپ یونہی خالی ہاتھ چلے آۓ،کسی کے گھر مہمان جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے جانا چاہیۓ۔ہمارے مہمان انکی اس بات پر بے حد شرمندہ ہوتے ۔اور ان سے زیادہ ہم ،انکے رویہ کی بدولت لوگوں نے ہمارے ہاں آنا جانا چھوڑ دیا تھا،اگر کوئ مہمان آتے بھی تو آگے سے ہم آنٹی زبیدہ کے پاس مٹھائ وغیرہ بھیج دیتے ،وہ مٹھائ لیتیں اور کہتیں،"بیٹا! نمکین میں کچھ نہیں ہے کیا؟ہماری جان جل جل جاتی انکی اس بات پر،بادل۔نخواستہ نمکو بھی پلیٹ میں رکھ کر بھیج دیتے ۔
اب جو مہمانوں کے ساتھ ایسا کرتی تھیں تو وہ ہماری نندوں کا آنا کیسے برداشت کرتیں،ہماری نند ں کو دیکھ کر ہی ان کا منہ بن جاتا ،پہلے تو چھوٹتے ہی کہہ دیتیں،ابھی پرسوں ہی تو آئ تھی تم،اس طرح بار بار نہیں آنا چاہیۓ،عزت نہیں رہتی ۔انکی نصیحت پر ہماری نندوں کا منہ پھو ل جاتا۔(آئ بڑی،عزت والی )وہ ہمیں بھی مشکوک نظروں سے دیکھتیں جیسے کہ یہ ہم دونوں کی ملی بھگت ہو۔ہم شرمندہ شرمندہ سے رہتے۔
آنٹی زبیدہ نے ہماری نندوں کے آنے پر وہ وہ قصیدے پڑھے کہ بیچاریاں کانوں کو ہاتھ لگاۓ ہمارے ہاں آنے سے انکار کرنے لگیں۔بقول زبیدہ آنٹی کے،نند وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے گھر کم میکہ میں زیادہ بستی ہے۔اور انکے آجانے سے ملک کا اور گھر کا دونوں کا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔ملکی وسایل جیسے پانی ،بجلی،غلہ وغیرہ صرف اور صرف گھر کی بیٹی آنے پر ہی زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔اس لیے نند کو دور سے ہی سلام کرنا چاہیے وغیرہ ،چونکہ اس بات میں ہمارا فائدہ تھا ہم نے بھی انکی اس بات پر بڑے دل سے سر تسلیم خم کیا تھا۔
اس دن ہم بالکونی میں کھڑے نیچے تاک جھانک کر رہے تھے کہ ہم نے آنٹی زبیدہ کو ہمارے میاں جی کے ساتھ دیکھ لیا۔وہ کچھ کہہ رہی تھیں اور ہمارے میاں بیل کی طرح سر ہلاۓ جارہے تھے۔نہیں نہیں،ہم میاں جی پر شک نہیں کر رہے تھے وہ تو بیچارے اللہ میاں کی گاۓہمارا مطلب ہے بیل جیسے ہی ہیں۔جیسے ہی وہ اندر آۓ ہم انکے سر پر جا پہنچے۔
"کیا کہ رہی تھی وہ چڑیل "،ہم نے حملہ کے انداز میں پوچھا۔
"چڑیل؟تمہارے سوا میں کسی چڑیل کو نہیں جانتا ،میاں کے بھولے بنکر جواب دینے پر ہماری تو جان جل کر خاک ہوگئ۔
"سر ہلا ہلا کر کیابات کر رہے تھے" ۔
"سر نہ ہلاتا تو کیا ھاتھ ہلا کر بات کرتا اچھا لگتا تمہیں"،انکی اس بات پر ہم جز بز سے ہوگۓ۔
"آخر ایسی کون سے مزاکرے ہو رہے تھے میں بھی تو جانوں"۔ہم کہاں خاموش بیٹھنے والے تھے۔
"تمہارا بی پی ہائ ہو جاےگا ،اس لیے جانے دو"۔وہ تھوڑا دب کر بولے۔
"کس بات پر؟"ہم نے فوراً کہا۔
مہمانوں کا آنا انہیں یعنی آنٹی زبیدہ کو سخت ناگوار گزرتا۔وہ ہمارے مہمانوں پر بھی دھونس جمانے لگی تھیں۔کبھی ہمارے مہمانوں کو کہتیں" ،ارے !آپ یونہی خالی ہاتھ چلے آۓ،کسی کے گھر مہمان جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے جانا چاہیۓ۔ہمارے مہمان انکی اس بات پر بے حد شرمندہ ہوتے ۔اور ان سے زیادہ ہم ،انکے رویہ کی بدولت لوگوں نے ہمارے ہاں آنا جانا چھوڑ دیا تھا،اگر کوئ مہمان آتے بھی تو آگے سے ہم آنٹی زبیدہ کے پاس مٹھائ وغیرہ بھیج دیتے ،وہ مٹھائ لیتیں اور کہتیں،"بیٹا! نمکین میں کچھ نہیں ہے کیا؟ہماری جان جل جل جاتی انکی اس بات پر،بادل۔نخواستہ نمکو بھی پلیٹ میں رکھ کر بھیج دیتے ۔
اب جو مہمانوں کے ساتھ ایسا کرتی تھیں تو وہ ہماری نندوں کا آنا کیسے برداشت کرتیں،ہماری نند ں کو دیکھ کر ہی ان کا منہ بن جاتا ،پہلے تو چھوٹتے ہی کہہ دیتیں،ابھی پرسوں ہی تو آئ تھی تم،اس طرح بار بار نہیں آنا چاہیۓ،عزت نہیں رہتی ۔انکی نصیحت پر ہماری نندوں کا منہ پھو ل جاتا۔(آئ بڑی،عزت والی )وہ ہمیں بھی مشکوک نظروں سے دیکھتیں جیسے کہ یہ ہم دونوں کی ملی بھگت ہو۔ہم شرمندہ شرمندہ سے رہتے۔
آنٹی زبیدہ نے ہماری نندوں کے آنے پر وہ وہ قصیدے پڑھے کہ بیچاریاں کانوں کو ہاتھ لگاۓ ہمارے ہاں آنے سے انکار کرنے لگیں۔بقول زبیدہ آنٹی کے،نند وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے گھر کم میکہ میں زیادہ بستی ہے۔اور انکے آجانے سے ملک کا اور گھر کا دونوں کا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔ملکی وسایل جیسے پانی ،بجلی،غلہ وغیرہ صرف اور صرف گھر کی بیٹی آنے پر ہی زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔اس لیے نند کو دور سے ہی سلام کرنا چاہیے وغیرہ ،چونکہ اس بات میں ہمارا فائدہ تھا ہم نے بھی انکی اس بات پر بڑے دل سے سر تسلیم خم کیا تھا۔
اس دن ہم بالکونی میں کھڑے نیچے تاک جھانک کر رہے تھے کہ ہم نے آنٹی زبیدہ کو ہمارے میاں جی کے ساتھ دیکھ لیا۔وہ کچھ کہہ رہی تھیں اور ہمارے میاں بیل کی طرح سر ہلاۓ جارہے تھے۔نہیں نہیں،ہم میاں جی پر شک نہیں کر رہے تھے وہ تو بیچارے اللہ میاں کی گاۓہمارا مطلب ہے بیل جیسے ہی ہیں۔جیسے ہی وہ اندر آۓ ہم انکے سر پر جا پہنچے۔
"کیا کہ رہی تھی وہ چڑیل "،ہم نے حملہ کے انداز میں پوچھا۔
"چڑیل؟تمہارے سوا میں کسی چڑیل کو نہیں جانتا ،میاں کے بھولے بنکر جواب دینے پر ہماری تو جان جل کر خاک ہوگئ۔
"سر ہلا ہلا کر کیابات کر رہے تھے" ۔
"سر نہ ہلاتا تو کیا ھاتھ ہلا کر بات کرتا اچھا لگتا تمہیں"،انکی اس بات پر ہم جز بز سے ہوگۓ۔
"آخر ایسی کون سے مزاکرے ہو رہے تھے میں بھی تو جانوں"۔ہم کہاں خاموش بیٹھنے والے تھے۔
"تمہارا بی پی ہائ ہو جاےگا ،اس لیے جانے دو"۔وہ تھوڑا دب کر بولے۔
"کس بات پر؟"ہم نے فوراً کہا۔
۔"دیکھو! وہ بات کچھ خاص نہیں ،وہ کہہ رہی تھیں کہ ہم نے شادی کرنے میں عجلت دکھائ ورنہ انکے خاندان میں بہت زیادہ خوبصورت لڑکیاں تھیں۔یہ کہتے وہ باتھ روم کی طرف بڑھے۔
" اسی لیے آپ اتنا جی جان سے سر تسلیم خم کیے جارہے تھے"۔ہم پر جیسے بم پھوڑ دیا گیا ہو ۔
"تو پھر آپ کا کیا ارادہ ہے" ۔ہم لفظ چبا چبا کرادا کرنے لگے۔کیونکہ فی الحال لفظ ہی چبا سکتے تھے آنٹی زبیدہ تو کچا چبانے کے لیے میسر نہیں تھیں۔
"ارادے تو نیک ہی ہیں" وہ باتھ روم کی طرف بڑھے " اگر تم اجازت دو تو۔"وہ شرارتا کہتے باتھ روم میں گھس گۓ ورنہ کفگیر لے کر ہم نے نشانہ تو باندھ ہی لیا تھا۔
آنٹی زبیدہ کی اس حرکت سے ہمارا موڈ کافی بگڑ گیا تھا۔یعنی کہ حد ہوگئ اب وہ ہماری ازدواجی زندگی میں بھی مداخلت کریں گی۔یہ سب کچھ اب ناقابل برداشت سا ہو گیا تھا۔پانی بھی تو سر سے گزر چکا تھا۔ہم نے سیدھے امی کو فون لگایا،"امی!،آپ ہی کو کچھ کرنا ہوگا ورنہ آنٹی زبیدہ تو ہمارا گھر توڑ کر دم لیں گی۔"
آۓ ہاے تم نے گھر کب بنایا جو توڑنے کی بات کر رہی ہو"ہماری امی نے بھولے پن سے پوچھا
"افوہ امی محاورتا کہہ رہی تھی۔"
"آپ جلد سے جلد ایک گھرکرایہ کا دیکھیں.یہاں میری جان پر بنی ہے۔اور اگر آپنے پھرتی نہ دکھائ تو میں نے بھی آپکے کچن کو ہی اپنا روم بنالینا۔اب مرضی آپکی،ہم نے بھی اپنی امی جیسی عورت کو آخری دھمکی دی جنکے لیے کچن مطلب انکا پورا جہان ہوتا ہے۔انکی دنیا کچن سے شروع کچن پہ ختم ہوتی ہے۔اگر کبھی مہمان آنے والے ہوتے تو سب سے پہلے کچن کی صفائ شروع ہوتی،برتنوں کی کھٹ پٹ،دھلوائ وغیرہ شروع ہو جاتی،ہم سب بچے پکارتے رہ جاتے۔
" اسی لیے آپ اتنا جی جان سے سر تسلیم خم کیے جارہے تھے"۔ہم پر جیسے بم پھوڑ دیا گیا ہو ۔
"تو پھر آپ کا کیا ارادہ ہے" ۔ہم لفظ چبا چبا کرادا کرنے لگے۔کیونکہ فی الحال لفظ ہی چبا سکتے تھے آنٹی زبیدہ تو کچا چبانے کے لیے میسر نہیں تھیں۔
"ارادے تو نیک ہی ہیں" وہ باتھ روم کی طرف بڑھے " اگر تم اجازت دو تو۔"وہ شرارتا کہتے باتھ روم میں گھس گۓ ورنہ کفگیر لے کر ہم نے نشانہ تو باندھ ہی لیا تھا۔
آنٹی زبیدہ کی اس حرکت سے ہمارا موڈ کافی بگڑ گیا تھا۔یعنی کہ حد ہوگئ اب وہ ہماری ازدواجی زندگی میں بھی مداخلت کریں گی۔یہ سب کچھ اب ناقابل برداشت سا ہو گیا تھا۔پانی بھی تو سر سے گزر چکا تھا۔ہم نے سیدھے امی کو فون لگایا،"امی!،آپ ہی کو کچھ کرنا ہوگا ورنہ آنٹی زبیدہ تو ہمارا گھر توڑ کر دم لیں گی۔"
آۓ ہاے تم نے گھر کب بنایا جو توڑنے کی بات کر رہی ہو"ہماری امی نے بھولے پن سے پوچھا
"افوہ امی محاورتا کہہ رہی تھی۔"
"آپ جلد سے جلد ایک گھرکرایہ کا دیکھیں.یہاں میری جان پر بنی ہے۔اور اگر آپنے پھرتی نہ دکھائ تو میں نے بھی آپکے کچن کو ہی اپنا روم بنالینا۔اب مرضی آپکی،ہم نے بھی اپنی امی جیسی عورت کو آخری دھمکی دی جنکے لیے کچن مطلب انکا پورا جہان ہوتا ہے۔انکی دنیا کچن سے شروع کچن پہ ختم ہوتی ہے۔اگر کبھی مہمان آنے والے ہوتے تو سب سے پہلے کچن کی صفائ شروع ہوتی،برتنوں کی کھٹ پٹ،دھلوائ وغیرہ شروع ہو جاتی،ہم سب بچے پکارتے رہ جاتے۔
"،مہمان آیگا بھی تو ڈراینگ روم میں بیٹھے گاوہ کچن میں تھوڑی نا بیٹھے گا۔"
مگر ہماری امی اپنے کام میں لگی رہتیں،ابو قریب میں ہوتے تو ٹکڑا لگاتے مزاحیہ انداز میں،"جانے دو بچو!،میں نے انہیں نہیں انکے کچن کو دیکھ کر شادی کی تھی."ہم سب لوٹ پوٹ ہوجاتے۔مگر امی بھولےپنے سے مسکراتی اپنا کام کرتیں۔کچن انکی سلطنت تھی اور ہم نے انکی سلطنت پر جیسے حملہ کر دیا تھا۔وہ جی جان سے اپنی سلطنت بچانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنے لگیں۔
۔امی کو ادھر مصروف کر ہم ہماری آنٹی زبیدہ کے پاس جا پہنچے۔حساب بے باق کرنے کے لیے۔وہ بلکل سفید پلین ساڑی پہنے بیٹھی تھیں۔ہم نے سلام کیاتو چار بھینگی آنکھوں سمیت جواب دیا چشمہ جو پہنی تھیں اس سے وہ اور ڈراونی لگ رہی تھیں۔
"خیریت؟"
انکا خیریت پوچھنا ہمیں عجیب سا لگا۔کیونکہ ان کا اور خیر کا آپس میں بیر تھا۔
"آنٹی"ہم نے گلا کھنکارااور شعوری طور پر انہیں دیکھنے سے گریز کیا۔بھلا انکی سیاہ رنگت پر سفید ساڑی دیکھنے لائق تو نا لگ رہی تھی۔
"کچھ دنوں سے ہمیں بہت عجیب عجیب خواب آرہے ہیں۔آپ جیسی ساڑی پہنے عورتیں لیکن انکے پاوں الٹے ہوتے ہیں۔جس سے ہمیں بے حد ڈرمحسوس ہو رہا ہے۔"
"کیا میرے بھیس میں چڑیل؟"
"ہم آپکو چڑیل کیسے کہیں آنٹی آپ کے تو پاوں سیدھے ہیں۔سیدھے ہی ہیں ناں آنٹی"۔ہماری معصومیت دیکھنے لائق تھی۔
"کیا پتا،وہ عورتیں آپکی خاندان کی ہوںاور آپ سے سلام علیک کے لیے آرہی ہوں"۔ہمنے تاک کر نشانہ لگایا۔
۔امی کو ادھر مصروف کر ہم ہماری آنٹی زبیدہ کے پاس جا پہنچے۔حساب بے باق کرنے کے لیے۔وہ بلکل سفید پلین ساڑی پہنے بیٹھی تھیں۔ہم نے سلام کیاتو چار بھینگی آنکھوں سمیت جواب دیا چشمہ جو پہنی تھیں اس سے وہ اور ڈراونی لگ رہی تھیں۔
"خیریت؟"
انکا خیریت پوچھنا ہمیں عجیب سا لگا۔کیونکہ ان کا اور خیر کا آپس میں بیر تھا۔
"آنٹی"ہم نے گلا کھنکارااور شعوری طور پر انہیں دیکھنے سے گریز کیا۔بھلا انکی سیاہ رنگت پر سفید ساڑی دیکھنے لائق تو نا لگ رہی تھی۔
"کچھ دنوں سے ہمیں بہت عجیب عجیب خواب آرہے ہیں۔آپ جیسی ساڑی پہنے عورتیں لیکن انکے پاوں الٹے ہوتے ہیں۔جس سے ہمیں بے حد ڈرمحسوس ہو رہا ہے۔"
"کیا میرے بھیس میں چڑیل؟"
"ہم آپکو چڑیل کیسے کہیں آنٹی آپ کے تو پاوں سیدھے ہیں۔سیدھے ہی ہیں ناں آنٹی"۔ہماری معصومیت دیکھنے لائق تھی۔
"کیا پتا،وہ عورتیں آپکی خاندان کی ہوںاور آپ سے سلام علیک کے لیے آرہی ہوں"۔ہمنے تاک کر نشانہ لگایا۔
اوہ ۔۔۔،اچھا،تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے،ہمارے خاندان میں چڑیلیں رہتی ہیں۔ٹھیک ہے ہم نے تمہارے شوہر سے کچھ کہہ دیا تھا ایسا کہ ہمارے خاندان میں خوبصورت لڑکیوں کی کمی نہیں،لیکن تم تم نے اس بات کو دل پر لے لیا کیا۔"
ہمارا نشانہ بلکل ٹھیک جگہ پر لگا تھا۔لیکن وہ ذرا بھی شرمندہ نہیں تھیں۔
"تم نے مجھسے ایسی بات کہنے کی ہمت بھی کیسے کی" وہ یکایک چراغ پا ہو گئیں۔
"الٹے پاوں ہونگے تمہارے اور خاندان والوں کے"
"چڑیلیں ہونگی تو تم اور خاندان کی عورتیں" ٹھیک ہے ہم تھوڑے بری شکل و صورت کے ہیں مگر اسکا مطلب تم ہمیں چڑیل کہو". وہ بندوق کی گولی کی طرح تڑ تڑ چلنے لگیں۔اسکا صاف مطلب تھا نشانہ بلکل صحیح لگا تھا سیدھا دل پر ۔
انکی گولہ باری جاری تھی ۔وہ اب چڑیلوں سے آگے جارہی تھیں۔ہم اپنے آپ کو ان کی گولہ باری سے محفوظ رکھنے کے لیے ان سے سوری سوری آنٹی کہتے راہ فرار اختیار کیا پورے آٹھ دن تک وہ مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹ کٹ کرتی رہیں ہم بھی کان بند کیے رہے بھلے سے وہ مرغی کی طرح کٹ کٹ کریں یا مرغے کی طرح بانگ دیں ہمیں کیالیکن ہمارے میاں کو شور شرابہ سے چڑ تھی اس لیے وہ ایک پیکٹ چکن بریانی معہ کسٹرڈ کے آنٹی زبیدہ کو دے آۓ ساتھ میری معافی بھی،تب کہیں جاکر وہ مرغی نن نہیں آنٹی زبیدہ خاموش ہوئیں۔ہم نے بھی کہا۔
ہمارا نشانہ بلکل ٹھیک جگہ پر لگا تھا۔لیکن وہ ذرا بھی شرمندہ نہیں تھیں۔
"تم نے مجھسے ایسی بات کہنے کی ہمت بھی کیسے کی" وہ یکایک چراغ پا ہو گئیں۔
"الٹے پاوں ہونگے تمہارے اور خاندان والوں کے"
"چڑیلیں ہونگی تو تم اور خاندان کی عورتیں" ٹھیک ہے ہم تھوڑے بری شکل و صورت کے ہیں مگر اسکا مطلب تم ہمیں چڑیل کہو". وہ بندوق کی گولی کی طرح تڑ تڑ چلنے لگیں۔اسکا صاف مطلب تھا نشانہ بلکل صحیح لگا تھا سیدھا دل پر ۔
انکی گولہ باری جاری تھی ۔وہ اب چڑیلوں سے آگے جارہی تھیں۔ہم اپنے آپ کو ان کی گولہ باری سے محفوظ رکھنے کے لیے ان سے سوری سوری آنٹی کہتے راہ فرار اختیار کیا پورے آٹھ دن تک وہ مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹ کٹ کرتی رہیں ہم بھی کان بند کیے رہے بھلے سے وہ مرغی کی طرح کٹ کٹ کریں یا مرغے کی طرح بانگ دیں ہمیں کیالیکن ہمارے میاں کو شور شرابہ سے چڑ تھی اس لیے وہ ایک پیکٹ چکن بریانی معہ کسٹرڈ کے آنٹی زبیدہ کو دے آۓ ساتھ میری معافی بھی،تب کہیں جاکر وہ مرغی نن نہیں آنٹی زبیدہ خاموش ہوئیں۔ہم نے بھی کہا۔
"پڑ گئ ہوگی اسکے کلیجے میں ٹھنڈک۔"
الٹی میٹم انہوں نے بھی دے دیا تھا اور ہم نے بھی۔مکان خالی کرنے کا،سو ہم بھی خاموش ہی تھے لیکن ایک رات عجیب وغریب آوازوں سے ہم ڈر کر اٹھ بیٹھے۔ہم نے میاں جی کو جگایا۔
"دیکھیے ،کیسی عجیب عجیب آوازیں آرہی ہیں۔"
"ٹھیک ہے میرے خراٹوں سے تمہیں چڑ ہے اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھے ہی جگاؤ عجیب آوازوں کا کہہ کر"،وہ نیند میں جھلا کر بولے۔
"ارے ،آپ کے خراٹوں کا نہیں کہہ رہی،اسکی تو مجھے عادت ہوگئ ہے۔یہ آنٹی کے گھر سے جو آوازیں آرہی ہیں اسکا کہہ رہی تھی"ہم نے وضاحت کی۔
اوہ،وہ آوازیں کوئ پریشانی کی بات نہیں ،وہ وظیفہ پڑھتی ہیں سامنے والے انکل نے کہا تھا مجھے۔"
"وظیفہ ؟ کاہے کا وظیفہ" ۔ہمیں حیرت ہو ئ۔
"کرایہ دار کے لۓ ۔وہ اپنا مکان خالی نہیں رکھنا چاہتی ،اب ہم خالی کر رہے ہیں ناں اس لیے وہ وظیفہ کرینگی تاکہ جلد سے جلد انکو نیا کرایہ دار ملے۔
"ہائیں "وجہ سن کر تو ہماری حیرت کی انتہا نا رہی۔
"لو ،اتنے وظایف کرنے کی ضرورت ہی کیا .اگر وہ خود اچھی رہیں تو کوئ بھی کرایہ دار انکا مکان خالی ہی کیوں کرے ۔ہم نے کہا ۔مگر جواب میں ہمیں خراٹے سننے کوملے۔
"آہ "،ہم نے ٹھنڈی سانس بھری.
الٹی میٹم انہوں نے بھی دے دیا تھا اور ہم نے بھی۔مکان خالی کرنے کا،سو ہم بھی خاموش ہی تھے لیکن ایک رات عجیب وغریب آوازوں سے ہم ڈر کر اٹھ بیٹھے۔ہم نے میاں جی کو جگایا۔
"دیکھیے ،کیسی عجیب عجیب آوازیں آرہی ہیں۔"
"ٹھیک ہے میرے خراٹوں سے تمہیں چڑ ہے اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھے ہی جگاؤ عجیب آوازوں کا کہہ کر"،وہ نیند میں جھلا کر بولے۔
"ارے ،آپ کے خراٹوں کا نہیں کہہ رہی،اسکی تو مجھے عادت ہوگئ ہے۔یہ آنٹی کے گھر سے جو آوازیں آرہی ہیں اسکا کہہ رہی تھی"ہم نے وضاحت کی۔
اوہ،وہ آوازیں کوئ پریشانی کی بات نہیں ،وہ وظیفہ پڑھتی ہیں سامنے والے انکل نے کہا تھا مجھے۔"
"وظیفہ ؟ کاہے کا وظیفہ" ۔ہمیں حیرت ہو ئ۔
"کرایہ دار کے لۓ ۔وہ اپنا مکان خالی نہیں رکھنا چاہتی ،اب ہم خالی کر رہے ہیں ناں اس لیے وہ وظیفہ کرینگی تاکہ جلد سے جلد انکو نیا کرایہ دار ملے۔
"ہائیں "وجہ سن کر تو ہماری حیرت کی انتہا نا رہی۔
"لو ،اتنے وظایف کرنے کی ضرورت ہی کیا .اگر وہ خود اچھی رہیں تو کوئ بھی کرایہ دار انکا مکان خالی ہی کیوں کرے ۔ہم نے کہا ۔مگر جواب میں ہمیں خراٹے سننے کوملے۔
"آہ "،ہم نے ٹھنڈی سانس بھری.
"،کاش! ان خراٹوں سے بچنے کا بھی کوئ وظیفہ ہوتا۔ہم منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتے رہ گۓ
۔ہم نۓ گھر جانے کے لیے بے حد پر جوش تھے۔اس لیے ہم اپنا ایڈوانس پچاس ہزار لینے آنٹی زبیدہ کے پاس جا پہنچے۔لیکن جواب میں انہوں نے ہمیں دن میں تارے دکھادیۓ یہ کہہ کر کہ ہما را ایڈوانس وہ نہیں دے سکتیں کیونکہ ہم نے انکی پراپرٹی کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ہم ہکا بکا انہیں دیکھنے لگے۔"لیکن ہم نے کیا نقصان پہنچایاآپکی پراپرٹی کو."
اسکے بدلے میں انہوں نے ایک فرضی لمبی لسٹ بتادی مثلأ ٹونٹی خراب ہوئیں،دیواروں کا پلستر اکھاڑا گیا،دروازے توڑ دیے گۓ اسطرح کے کئ بے بنیاد باتیں بتانے لگیں۔
"ہمارے بچے ہی نہیں جو دیواروں کے پلستر اکھیڑیں،اور نہ ہم میاں بیوی ایسے لڑاکو ہیں کہ دروازے توڑ دیں۔آپ بے بنیاد ہی الزام لگا رہی ہیں۔"ہم کھول کررہ گۓ تھے۔ہماری بات کو انہوں نے نظرانداز ہی کردیا ۔
"دیکھو بیٹا!اب جو بھی سمجھو،ایڈوانس تو سمجھو برابر ہی ہو گیا۔انکے چہرے پر کمینی مسکراہٹ تھی،جیسے وہ کہہ رہی ہوں،سارے بدلے اب نکالوں گی۔
انکے مکروہ چہرہ کو دیکھکر ہم نروس سے ہو گۓ۔
شکر ہوا کہ ہم نے اپنے ساتھ فون رکھا تھا۔ٹنشن میں ہمارا دماغ زیادہ اچھا چلتاہے۔ہم نے فون لیا اور آنٹی کو دیکھا۔
"ٹھیک ہے آنٹی،آپ اپنی کرئیے ،ہم اپنی کرینگے۔کنزیومر کورٹ میں ہماری۔ ایک فرینڈ ہے ہم اس سے بات کرینگے،کرایہ نامہ تو ہمارے پاس ہے۔وہ یہ کیس بہت اچھے سے ہینڈل کر لےگی۔ہمارا دھمکی آمیز لہجہ کام کر گیا۔ہم جو نمبر پش کر رہے تھے،وہ ہماری کام والی ماسی کا تھا۔جسے ہم آنٹی زبیدہ کو کنزیومر کورٹ کی ممبر کا بتا رہے تھے۔مقصد آنٹی زبیدہ کو دھمکانا تھا ۔ہم نے انہیں کورٹ میں لیجانے کی بات کی تھی تو وہ لازمی ڈر گییں۔اور پل میں ببر شیر سے میاوں میاوں بلی بن گئیں "اوہ اچھا،اچھا،ٹھیک ہےمیں سمجھ گئ تمہارا حساب کلیر ہے میں ابھی تمہارا ایڈوانس لاتی ہوں ا"،وہ اٹھ کر سیدھا کچن میں چلی گئیں۔
اسکے بدلے میں انہوں نے ایک فرضی لمبی لسٹ بتادی مثلأ ٹونٹی خراب ہوئیں،دیواروں کا پلستر اکھاڑا گیا،دروازے توڑ دیے گۓ اسطرح کے کئ بے بنیاد باتیں بتانے لگیں۔
"ہمارے بچے ہی نہیں جو دیواروں کے پلستر اکھیڑیں،اور نہ ہم میاں بیوی ایسے لڑاکو ہیں کہ دروازے توڑ دیں۔آپ بے بنیاد ہی الزام لگا رہی ہیں۔"ہم کھول کررہ گۓ تھے۔ہماری بات کو انہوں نے نظرانداز ہی کردیا ۔
"دیکھو بیٹا!اب جو بھی سمجھو،ایڈوانس تو سمجھو برابر ہی ہو گیا۔انکے چہرے پر کمینی مسکراہٹ تھی،جیسے وہ کہہ رہی ہوں،سارے بدلے اب نکالوں گی۔
انکے مکروہ چہرہ کو دیکھکر ہم نروس سے ہو گۓ۔
شکر ہوا کہ ہم نے اپنے ساتھ فون رکھا تھا۔ٹنشن میں ہمارا دماغ زیادہ اچھا چلتاہے۔ہم نے فون لیا اور آنٹی کو دیکھا۔
"ٹھیک ہے آنٹی،آپ اپنی کرئیے ،ہم اپنی کرینگے۔کنزیومر کورٹ میں ہماری۔ ایک فرینڈ ہے ہم اس سے بات کرینگے،کرایہ نامہ تو ہمارے پاس ہے۔وہ یہ کیس بہت اچھے سے ہینڈل کر لےگی۔ہمارا دھمکی آمیز لہجہ کام کر گیا۔ہم جو نمبر پش کر رہے تھے،وہ ہماری کام والی ماسی کا تھا۔جسے ہم آنٹی زبیدہ کو کنزیومر کورٹ کی ممبر کا بتا رہے تھے۔مقصد آنٹی زبیدہ کو دھمکانا تھا ۔ہم نے انہیں کورٹ میں لیجانے کی بات کی تھی تو وہ لازمی ڈر گییں۔اور پل میں ببر شیر سے میاوں میاوں بلی بن گئیں "اوہ اچھا،اچھا،ٹھیک ہےمیں سمجھ گئ تمہارا حساب کلیر ہے میں ابھی تمہارا ایڈوانس لاتی ہوں ا"،وہ اٹھ کر سیدھا کچن میں چلی گئیں۔
۔ہم تھوڑے حیران ہو گۓ کہ وہ کچن میں کیا لینے گئیں ہیں۔کہیں بیلن،چمٹا لیکر ہماری خاطر تواضع نا کریں۔
وہ باہر آئیں تو نوٹوں کا بنڈل شاپر میں رکھا ہوا لےآئییں۔آپ اتنی بڑی رقم آٹے کے ڈبے میں رکھتی ہیں۔بلکہ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ آپ آٹے کے ڈبے میں روپیے رکھتی ہیں ۔ہم نے بڑے تعجب سے پوچھا۔
"وہ چوروں کی عادت کا تو تمہیں پتا ہے ناں ،سیدھے الماری ،تجوری ٹٹولتے ہیں اس لیے میں ہمیشہ کچن میں رکھتی ہوں ساری رقم"،وہ یوں شان سے بولیں جیسے انہیں ہم سے داد و تحسین کی توقع ہو،ہم انکی اس عجیب و غریب منطق پر عش عش کرنا چاہ رہے تھے پھر سوچا،"دفع کرو،رقم ہاتھ میں آگئی ہے یہ کافی ہے۔بس کھسک لو یہاں سے۔نجانے کب آنٹی کی نیت بدلے"۔ہم نے جلدی سے سلام کیا اور نکل لیے۔
شام میں میاں جی کو ساری رام کتھا سنائ تو وہ ہنس کر کہنے لگے۔
ا"اور اگر آنٹی نا مانتیں اور ماسی فون اٹھالیتی تو،"
تو کیا،کہہ دیتی کہ آجاؤ آنٹی زبیدہ کے گھر میں اپنی ھاتھ کی صفائ دکھا جاؤ۔ہم نے بھی ہنس کر کہا۔
"گریٹ،گریٹ،تم سے یہی امید تھی۔تم کچھ بھی کر سکتی ہو،کچھ بھی کہہ سکتی ہو،اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے"،انکے مزاحیہ انداز پر ہم نے انہیں چڑ کر دیکھا۔
"تعریف سمجھوں یا ۔۔۔۔۔"
"ارررے جلدی کرو ،سامان پیک کرو،گھر جو خالی کرنا ہے۔" وہ گڑبڑا کر کہنے لگے۔
لیکن آنٹی کو گڈ باے۶ تو بنتا ہے بیچاری کا گھر خالی جو ہو رہا ہے۔
"ہاں اور ہماری بددعا ہے انکا گھر ہمیشہ خالی رہے۔"ہم نے جل کر کہا ۔ہماری بددعا پر انہوں نے قہقہہ لگا یا اور کہا،آ"خر کار گڈ باۓ کہنے کا وقت آہی گیا۔
"گڈ باۓ گڈ باۓ ٹو ہماری پھاپھا کٹنی۔"
ختم شد
وہ باہر آئیں تو نوٹوں کا بنڈل شاپر میں رکھا ہوا لےآئییں۔آپ اتنی بڑی رقم آٹے کے ڈبے میں رکھتی ہیں۔بلکہ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ آپ آٹے کے ڈبے میں روپیے رکھتی ہیں ۔ہم نے بڑے تعجب سے پوچھا۔
"وہ چوروں کی عادت کا تو تمہیں پتا ہے ناں ،سیدھے الماری ،تجوری ٹٹولتے ہیں اس لیے میں ہمیشہ کچن میں رکھتی ہوں ساری رقم"،وہ یوں شان سے بولیں جیسے انہیں ہم سے داد و تحسین کی توقع ہو،ہم انکی اس عجیب و غریب منطق پر عش عش کرنا چاہ رہے تھے پھر سوچا،"دفع کرو،رقم ہاتھ میں آگئی ہے یہ کافی ہے۔بس کھسک لو یہاں سے۔نجانے کب آنٹی کی نیت بدلے"۔ہم نے جلدی سے سلام کیا اور نکل لیے۔
شام میں میاں جی کو ساری رام کتھا سنائ تو وہ ہنس کر کہنے لگے۔
ا"اور اگر آنٹی نا مانتیں اور ماسی فون اٹھالیتی تو،"
تو کیا،کہہ دیتی کہ آجاؤ آنٹی زبیدہ کے گھر میں اپنی ھاتھ کی صفائ دکھا جاؤ۔ہم نے بھی ہنس کر کہا۔
"گریٹ،گریٹ،تم سے یہی امید تھی۔تم کچھ بھی کر سکتی ہو،کچھ بھی کہہ سکتی ہو،اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے"،انکے مزاحیہ انداز پر ہم نے انہیں چڑ کر دیکھا۔
"تعریف سمجھوں یا ۔۔۔۔۔"
"ارررے جلدی کرو ،سامان پیک کرو،گھر جو خالی کرنا ہے۔" وہ گڑبڑا کر کہنے لگے۔
لیکن آنٹی کو گڈ باے۶ تو بنتا ہے بیچاری کا گھر خالی جو ہو رہا ہے۔
"ہاں اور ہماری بددعا ہے انکا گھر ہمیشہ خالی رہے۔"ہم نے جل کر کہا ۔ہماری بددعا پر انہوں نے قہقہہ لگا یا اور کہا،آ"خر کار گڈ باۓ کہنے کا وقت آہی گیا۔
"گڈ باۓ گڈ باۓ ٹو ہماری پھاپھا کٹنی۔"
ختم شد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں