اشاعتیں

اولاد کی تعلیم و تر بیت ایک جایزہ

تصویر
اولاد کی تعلیم و تربیت      ایک جایزہ اکیسویں صدی کا جو سب سے بڑا اور پیچید ہ مسلہ بنا ہوا ہے ۔وہ ہے اولاد کی تعلیم و تربیت۔اولاد کی تعلیم و تربیت کس ڈھنگ سے کی جانی چاہیے ،اسکے لیے ہر شخص پریشان ہے کہ « ہماری اولاد ہمارے ہاتھوں سے نکل گی۶۔»،آجکل بچے تو والدین کا ادب کرنا ہی بھول گے۶ ،یا والدین کا ڈر وخوف ہی دل سے نکل گیا،آجکل کی اولاد کی زبان تو بہت لمبی ہو گی۶ ہے،ہم تو ہمارے والدین کے سامنے ایک آواز نہیں نکالتے تھے وغیرہ۔ آجکل جو بھی صاحب اولاد ہے اور جنکے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ۔انکی راتوں کی نیند اڑ گی۶ ہے کہ اولاد بد تمیز ہوگی۶ ہے ۔بد اخلاق ،بد زبان ہو گی۶ ہے ۔اب انکو کس طرح راہ راست پر لایں؟جبکہ وہ لوگ جنکے بچے ابھی کمعمر ہیں انہیں یہ فکر دامن گیر ہے کہ کس طرح اپنے بچوں کو زمانہ کی تند ہوا جایسے مزاج سے محفوظ رکھیں۔ اگر یوں دیکھا جاے۶ تو اسکی کی۶ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔سب سے پہلے ہمیں اس سلسلہ میں اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لینا ہو گا ۔اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر  بتا دیا ہے کہ شوہر کے کیا فرایض ہیں اور بیوی کے کیا فرایض ہیں ۔ازدواجی زندگی میں ...

آن لائن پیسے کمانا

تصویر
آن لائن پیسے کمانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجی انگور کھٹے ہیں۔ پیسہ کمانا کسے اچھا نہیں لگتا۔جہاں بات پیسہ کی ہو ہماری رال تو ویسے ہی ٹپک جاتی ہے۔پتا نہیں ہمارے لیے پیسہ اتنا مقناطیسی کشش کیوں رکھتا ہے ۔جہاں پیسہ دکھا وہاں ہم اپنی دیڑھ دیڑھ گز لمبی زبان نکالے پہنچ جاتے ہیں ۔چلوایسی جگہ پر گے۶جہاں ہماری پہنچ ہے تو کوی۶ بات نہیں پر کوی۶ بندہ انٹرنٹ کی دنیا میں بھی چلا جاتاہے کیا پیسے کمانے کے لیے ۔جی ہاں سننے میں تو تھوڑا عجیب تھوڑا بےوقوفی والا کام ہی نظر آتا ہے ۔لیکن ہم ہیں ہی عجیب وغریب  ۔ہماری امی نے ہماری ولادت پر ہی فرمایا تھا کہ یہ تو پیدا ہی الٹی ہوی۶ ہے اسکا ہر کام۔الٹا ہی ہوگا۔اب امی کی بات ہم۔کیسے ٹال سکتے تھے سو جی جان سے ہم کوشش کرتے رہے کہ ہمارا کوی۶ کام سیدھا نہ ہو۔اس طرح سے ہم امی کی امیدوں پر پورا اترتے رہے۔ تو ہم کہاں تھے ۔ہاں  یاد آیا انٹرنٹ سے پیسے کمانے کا خیال۔ہمیں بیٹھے بیٹھے ہی یہ فتور دماغ میں سمایا تھا کہ ہم بھی آن لائن پیسے کما سکتے ہیں ۔ویسے بھی ایسے خرافاتی خیال ہمیں بیٹھے بیٹھے ہی آتے ہیں ۔اور بیٹھے بیٹھے ہم اپنی جگہ سے اچھل پڑتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہم اچھل...

کرسی کرسی کرسی

تصویر
کرسی ایک طنزیہ مزاحیہ تحریر  کرسی ؟سننے میں کچھ عجیب سا لگ رہا ہے ناں!لیکن ٹہرے۶۔ہم آپکو بتاتے ہیں کہ کرسی کا کیا معامگہ ہمیں پیش آیا۔اسوقت اسی وقت بھی۶ جب ہم اپنی کرسی پر کتاب قلم لیکر قلمکار والا پوز بناے۶بیٹھے تھے تبھی ہمارے اخبار کے ایڈیٹر صاحب نے ہمیں فون کیا ۔آجکل انتخابات چل رہے ہیں سو تم کرسی پر ایک مضمون لکھ لو۔فون کھٹ سے بند ۔اب ہم حق دق فون کو گھورتے رہگے۶ یہ اور بات فون بھی ہمیں ہی گھوررہا تھا۔اب چونکہ بات کرسی کی تھی ہمارہ مطلب ہے ہماری کرسی کی تھی تو ہمیں مضمون لکھنا ہی پڑا۔ کرسی یوں تو ایسی کوی۶ خاص ٹاپک نہیں ہے کہ اس پر مضمون لکھا جاے۶ لیکن کیا کریں یہ ہماری روزی روٹی سے جڑی ہوی۶ تھی ناچار ہمیں کرسی سے اٹھنا پڑا ۔بھی۶ مضمون لکھنے کے لئے۔ کرسی عام طور پر چار پایوں پر ٹکی ہوتی ہے۔اگر ایک پایا بھی ٹوٹا ہو تو کرسی اور کرسی پر بیٹھنے والا شخص دونوں بھی گر جایں گے۔اس لیے کرسی کا توازن ہمیشہ بنا کر رکھنا پڑتا ہے۔کرسی کی عام طور بر تین قسمیں ہوتی ہیں۔لیجیے اب انکی بھی قسمیں  ہونے لگیں لیکن کیا کریں جو ہیں تو بتانا پڑے گا۔عام طور پر کرسی تین ٹایپ کی ہوتی ہ...

بکرا اور میں میں

Employees State Insurance Corporation

استغفار کی برکت

تصویر
استغفار کی برکت استغفار کا مطلب ہم اور آپ جانتے ہی ہیں کہ اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ کا اظہار کرنا ہے۔حدیث میں ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کا حکم آیا ہے۔ہمیں واقعی میں اس حدیث پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔نا صرف یہ کہ ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ استغفار ہمارے لئےبہت ساری برکتیں بھی لے آتا ہے۔آپ یقیناً سوچ رہے ہونگے کہ وہ کیسے تو میں آپ کو اپنی مثال دینا چاہونگی۔ اس سے کسی قسم کا زعم پارسائی نہیں ہے بس مجھے یہ بتانا مقصود ہے کہ حدیث پر عمل کرنے سے ہمیں کیا برکات حاصل ہو سکتے ہیں یہ بتانا ہے۔ ہمارے یہاں روز صبح کچرہ والا آتا تھا اور کچرہ لیکر کچھ روپے بطور چاے کے کہ کر لے جاتا تھا۔وہ جب بھی آتا تھا میں اسے لازماً اسے کچرہ دے دیتی تھی کیونکہ کچرہ کی گاڑی والے اکثر آنے میں چار چار پانچ پانچ دن لگا دیتے یوں بہت دن کا کچرہ جمع ہو جاتا اور تعفن پھیل جاتا اسلےء میں اس چھوٹی گاڑی والے کو کچرہ دےدیتی بدلہ میں دو ،پانچ روپے دیتی۔وہ ہیشہ صبح آتا تھا۔وہ ہر دو چار دن میں آتا اور کچرہ لےجاتا ۔اس طرح کی۶ روز ہوئے۔ایک دن جب وہ روز کی طرح صبح صبح کچرہ لینے کے لئے آیا ...

قلم اور اہل قلم

تصویر
قلم اور اہل قلم یوں تو قلم سے انسان کا رشتہ پرانا ہے۔مگر زمانہ قدیم میں قلم کی جگہ پرندوں کے پر وغیرہ استعمال کۓ جاتے تھے  تھے۔رفتہ رفتہ زمانہ کی ترقی کے ساتھ قلم کو بھی ترقی سوجھی اور وہ پرانے طرز کے قلم سے جدید قلم بن گیا ۔اور اس نے اپنا چولا ہی بدل  دیا۔اب بھلا اگلے وقتوں کے لوگ (چچا غالب) کہاں سوچ سکتے تھےکہ آگے ایسا بھی ہوگا کہ حضرت انسان لکھیں گےمگر پر والے پن سے نہی ،بال پواینٹ  پن سے جس میں نہ سیاہی دوات کی جھنجھٹ ،نہ روشنائ کا گہرا ،مدھم ہونے کا ڈر ،قلم ہاتھ میں لیا تو بس لکھتے چلے جاؤ,لفظ ہاتھوں اور قلم سے جیسے پھسلتے جا رہے ہیں اور کاغذ پر ابھرتے چلے آرہے ہیں۔بال پن کا اک فائدہ ہے کہ لفظ تیزی سے بنتے چلے جاتے ہیں۔اب زمانہ بھی تو بھاگتا ہوا زمانہ ہے۔اب کون چچا غالب کی طرح قلم دوات لیے ،بیاض لیے گھنٹوں مشق سخن کرے گا ۔لیکن پہلے بھی تو اہل قلم ہوتے تھے ،کہاں وہ تحریر کی خوش خطی،جمے ہوے الفاظ ایسے جیسے موتی پروۓہوں۔خیال کی ندرت ایسی کہ پڑھتے ہی طبعیت باغ با غ ہو جاتی تھی بلکہ آج بھی ہوتی ہے۔آج بھی اس زمانہ کی تحریر پڑھیں وہ تحریر تروتازہ محسوس ہوگی۔...

دیا اور روشنی

تصویر
دیا اور روشنی صدیوں سے تاریکی اور دیا ساتھ ساتھ چلے آرہے ہیں۔جہاں تاریکی ہے وہاں دیا ،اس تاریکی ،اس اندھیرے کو دور کرنے کےلیے موجود رہتا ہے۔گویا دیا اور تاریکی میں اک قسم کی جنگ ہے۔اس جنگ میں کبھی تاریکی کی جیت ہوتی ہے اور کبھی دیا کی۔گو دیا زمانے کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہوا بہت آگے نکل چکا ہے۔اور اسکی شکلیں مختلف ہیں۔لیکن اسکاکام وہی ہے جو کل تھایعنی تاریکی کو دور کرنا،اجالا و روشنی پھیلانا،دیا کی اہمیت اس سے بھی لگای جاسکتی ہے کہ جب جنگل میں ہر طرف گھپ اندھیرا ہو تاریکی ہر سمت ہو وہاں بہت دور کہیں کسی جھونپڑی یا کٹیا میں اک دیا روشن ہو تو مسافر کو راہ سجھای۶ دیتی ہے۔وہ ٹمٹماتے دیے۶ کی مدھم سی ہی سہی روشنی میں اپنی راہ لیتا ہے۔اور بلآخر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔اس طرح دیا تاریک راہوں میں ایک راہگیر کو منزل کا پتا دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم ایک انسان کو مسافر سمجھ لیں چونکہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے۔اور انسان کو اس دنیا سے اس دنیا تک کا سفر طے۶ کرنا ہے۔تو انسان کو یہ سفر کتنا دشوار گزار لگتا ہے۔ہمیں پتا نہیں یہ سفر کب ختم ہو جاے۶،اور ہمیں یہ بھی پتا نہیں کہ ہمارہ یہ سفر کب ختم ہو جاے۶...