دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔کیا ہے اس گھر کا راز قسط چار وہ تینوں تھک کر سو تو گۓ تھے ۔لیکن دو تین گھنے ہوتے ہی ہنری کی آنکھ کھلی تھی ۔ چونکہ صبح سے وہ بھوکے تھے اور کچھ بھی نہیں کھا سکے تھے ۔ جارج ۔۔۔اس نے جارج کو آواز دی ۔ بھوک لگ رہی ہے یار ۔ وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اس گھپ اندھیرے میں اسے صرف دو بیڈ اور اس پر لیٹے جارج اور پال ہی نظر آ رہے تھے ۔ اسکی پکار کو نیند میں دھت جارج اور پال سن نہیں پاۓ تھے۔ اس لیے وہ خود ہی نیچے اتر کر کچن میں جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔ ۔ کچھ فروٹ ہی کھا لوں گا یہ سوچ کر اس نے اپنے پیر بیڈ کے نیچے رکھے لیکن اسکے پیر کسی نرم سی چیز سے ٹکراۓ ۔ وہ سمجھ نہیں پا یا کہ یہ کیا ہے ۔ اس نے دوسرا پیر نیچے کیا تو ویسی ہی نرم سی چیز سے اسکا دوسرا پیر بھی الجھ گیا ۔ پتا نہیں کیا ہے یہ ۔ اندھیرے میں کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا ۔ اس نے اپنے دونوں پیر اوپر اٹھا لیۓ اور ایک ہاتھ سے نیچے موجود چیز اٹھا لی ۔اور پھر سارا ڈیمن ہاوس اسکی چیخوں سے گونجنے لگا ۔ سانپ ۔جارج ۔۔پال ۔۔یہاں...
اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی ایک بچے کی فریاد "اسکول "ہم پیدا کیا ہوۓ ہمارے کان میں تیرا ہی ذکر پڑتا رہا ۔ہماری امی تھیں تو وہ اتنی پرجوش کہ بس نہیں چلتا تھا کہ جھولے میں سے سیدھا اسکول بس میں بٹھادیں۔پپا کا تو پوچھیں مت ،وہ ہر آنے جانے والے سے یہی کہہ رہے ہوتے تھے کہ" جی بس دو سال کا ہو جانے دیں پھر تو اسے شہر کے ٹاپ اسکول میں ایڈمشن ہی کرادینا ہے بس "۔اور ہم جھولا جھلتے جھلتے سوچتے کہ پتا نہیں ایسی کونسی جگہ ہے جہاں بھیجنے کے لیے ممی ،پپا اتنے بے تاب ہیں ۔ضرور کوئ اچھی جگہ ہوگی مزیدار سی،ہم منہ میں اپنا انگوٹھا چوستے چوستے سوچتے۔ اور اچھل اچھل کر اپنا بھی جوش دکھاتے ۔ہمارے جوش کا یہ عالم تھاکہ ہم آغوں آغوں کہنے کہ بجاۓ اسکوں اسکوں کرتے تھے۔(پتا نہیں ہمیں اتنا جوش دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے کونسا اسکول جاکر آینسٹاین بننا تھا ۔) دو سال تک مسلسل ہمارے کانوں میں اسکول سے جڑی ہر معلومات انڈیل دی گئ۔"اسکول یہ ہوتا ہے اسکول وہ ہوتاہے" ۔"اسکول جانے سے بچوں کو تعلیم حاصل ہوتی ہے. انکا مس...
پاس ورڈ ہماری شبو اور گوگل اسسٹنٹ کا تو آپ نے پڑھا ۔مگر شبو کی فیملی میں صرف اماں ،ابا ہی نہیں ہیں ۔انکی فیملی نمو نوں سے بھری پڑی ہے ۔اب اسکی بھابھی ہی کو لے لیں ۔انکا نام۔شاہانہ سا تھا جسکو ان لوگوں نے "شنو "کر فقیرانہ کر دیا۔اب آییۓ ٬شبو کے گھر چلتے ہیں۔ اماں صحن جھاڑ رہی ہیں ۔وہ جھاڑتے جھاڑتے شبو کے پاس آتی ہیں ۔ اے ،شبو ،"یہ تیرا فون کھل نہیں رہا ۔پتا نہیں کیوں ؟" اماں "میں نے موبائل کو تالا لگا دیا ہے ۔"شبو نے احتیاطاً تالا کہا تاکہ وہ الجھن میں نا پڑیں ۔ "ہیں !تالا " "مگر اس میں تو نے کونسا خزانہ رکھا ہے جو تالا لگانے کی ضرورت پڑ گئ۔"اماں کی حیرت واجبی تھی۔ "وہ اماں ۔۔۔۔۔"شبو مخمصہ میں پڑ گئ۔ "اگر لاک نا کریں تو کوئ بھی آپ کا فون کھول کر دیکھ سکتا ہے ۔فوٹوز وغیرہ 'اس لیۓ لگاتے ہیں ۔" ا"اب کالج جاتی ہوں تو کئ لڑکیاں میرا فون کھول کر گھر کے ،آپ کے فوٹوز دیکھ لیتی ہیں ۔خوامخواہ کا مذاق بنتا ہے ۔" "تو وہ کونسی کہیں کی حور پری ہیں ۔برتن بگونوں جیسے تو منہ ہیں سب کے " اماں نے برا سا منہ بن...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں