اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی ایک بچے کی فریاد "اسکول "ہم پیدا کیا ہوۓ ہمارے کان میں تیرا ہی ذکر پڑتا رہا ۔ہماری امی تھیں تو وہ اتنی پرجوش کہ بس نہیں چلتا تھا کہ جھولے میں سے سیدھا اسکول بس میں بٹھادیں۔پپا کا تو پوچھیں مت ،وہ ہر آنے جانے والے سے یہی کہہ رہے ہوتے تھے کہ" جی بس دو سال کا ہو جانے دیں پھر تو اسے شہر کے ٹاپ اسکول میں ایڈمشن ہی کرادینا ہے بس "۔اور ہم جھولا جھلتے جھلتے سوچتے کہ پتا نہیں ایسی کونسی جگہ ہے جہاں بھیجنے کے لیے ممی ،پپا اتنے بے تاب ہیں ۔ضرور کوئ اچھی جگہ ہوگی مزیدار سی،ہم منہ میں اپنا انگوٹھا چوستے چوستے سوچتے۔ اور اچھل اچھل کر اپنا بھی جوش دکھاتے ۔ہمارے جوش کا یہ عالم تھاکہ ہم آغوں آغوں کہنے کہ بجاۓ اسکوں اسکوں کرتے تھے۔(پتا نہیں ہمیں اتنا جوش دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے کونسا اسکول جاکر آینسٹاین بننا تھا ۔) دو سال تک مسلسل ہمارے کانوں میں اسکول سے جڑی ہر معلومات انڈیل دی گئ۔"اسکول یہ ہوتا ہے اسکول وہ ہوتاہے" ۔"اسکول جانے سے بچوں کو تعلیم حاصل ہوتی ہے. انکا مس...
دی ڈارک ڈیمن ہاؤس ۔۔۔۔کیا ہے اس گھر کا راز قسط چار وہ تینوں تھک کر سو تو گۓ تھے ۔لیکن دو تین گھنے ہوتے ہی ہنری کی آنکھ کھلی تھی ۔ چونکہ صبح سے وہ بھوکے تھے اور کچھ بھی نہیں کھا سکے تھے ۔ جارج ۔۔۔اس نے جارج کو آواز دی ۔ بھوک لگ رہی ہے یار ۔ وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اس گھپ اندھیرے میں اسے صرف دو بیڈ اور اس پر لیٹے جارج اور پال ہی نظر آ رہے تھے ۔ اسکی پکار کو نیند میں دھت جارج اور پال سن نہیں پاۓ تھے۔ اس لیے وہ خود ہی نیچے اتر کر کچن میں جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔ ۔ کچھ فروٹ ہی کھا لوں گا یہ سوچ کر اس نے اپنے پیر بیڈ کے نیچے رکھے لیکن اسکے پیر کسی نرم سی چیز سے ٹکراۓ ۔ وہ سمجھ نہیں پا یا کہ یہ کیا ہے ۔ اس نے دوسرا پیر نیچے کیا تو ویسی ہی نرم سی چیز سے اسکا دوسرا پیر بھی الجھ گیا ۔ پتا نہیں کیا ہے یہ ۔ اندھیرے میں کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا ۔ اس نے اپنے دونوں پیر اوپر اٹھا لیۓ اور ایک ہاتھ سے نیچے موجود چیز اٹھا لی ۔اور پھر سارا ڈیمن ہاوس اسکی چیخوں سے گونجنے لگا ۔ سانپ ۔جارج ۔۔پال ۔۔یہاں...
آن لائن پیسے کمانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجی انگور کھٹے ہیں۔ پیسہ کمانا کسے اچھا نہیں لگتا۔جہاں بات پیسہ کی ہو ہماری رال تو ویسے ہی ٹپک جاتی ہے۔پتا نہیں ہمارے لیے پیسہ اتنا مقناطیسی کشش کیوں رکھتا ہے ۔جہاں پیسہ دکھا وہاں ہم اپنی دیڑھ دیڑھ گز لمبی زبان نکالے پہنچ جاتے ہیں ۔چلوایسی جگہ پر گے۶جہاں ہماری پہنچ ہے تو کوی۶ بات نہیں پر کوی۶ بندہ انٹرنٹ کی دنیا میں بھی چلا جاتاہے کیا پیسے کمانے کے لیے ۔جی ہاں سننے میں تو تھوڑا عجیب تھوڑا بےوقوفی والا کام ہی نظر آتا ہے ۔لیکن ہم ہیں ہی عجیب وغریب ۔ہماری امی نے ہماری ولادت پر ہی فرمایا تھا کہ یہ تو پیدا ہی الٹی ہوی۶ ہے اسکا ہر کام۔الٹا ہی ہوگا۔اب امی کی بات ہم۔کیسے ٹال سکتے تھے سو جی جان سے ہم کوشش کرتے رہے کہ ہمارا کوی۶ کام سیدھا نہ ہو۔اس طرح سے ہم امی کی امیدوں پر پورا اترتے رہے۔ تو ہم کہاں تھے ۔ہاں یاد آیا انٹرنٹ سے پیسے کمانے کا خیال۔ہمیں بیٹھے بیٹھے ہی یہ فتور دماغ میں سمایا تھا کہ ہم بھی آن لائن پیسے کما سکتے ہیں ۔ویسے بھی ایسے خرافاتی خیال ہمیں بیٹھے بیٹھے ہی آتے ہیں ۔اور بیٹھے بیٹھے ہم اپنی جگہ سے اچھل پڑتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہم اچھل...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں