اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی ایک بچے کی فریاد "اسکول "ہم پیدا کیا ہوۓ ہمارے کان میں تیرا ہی ذکر پڑتا رہا ۔ہماری امی تھیں تو وہ اتنی پرجوش کہ بس نہیں چلتا تھا کہ جھولے میں سے سیدھا اسکول بس میں بٹھادیں۔پپا کا تو پوچھیں مت ،وہ ہر آنے جانے والے سے یہی کہہ رہے ہوتے تھے کہ" جی بس دو سال کا ہو جانے دیں پھر تو اسے شہر کے ٹاپ اسکول میں ایڈمشن ہی کرادینا ہے بس "۔اور ہم جھولا جھلتے جھلتے سوچتے کہ پتا نہیں ایسی کونسی جگہ ہے جہاں بھیجنے کے لیے ممی ،پپا اتنے بے تاب ہیں ۔ضرور کوئ اچھی جگہ ہوگی مزیدار سی،ہم منہ میں اپنا انگوٹھا چوستے چوستے سوچتے۔ اور اچھل اچھل کر اپنا بھی جوش دکھاتے ۔ہمارے جوش کا یہ عالم تھاکہ ہم آغوں آغوں کہنے کہ بجاۓ اسکوں اسکوں کرتے تھے۔(پتا نہیں ہمیں اتنا جوش دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے کونسا اسکول جاکر آینسٹاین بننا تھا ۔) دو سال تک مسلسل ہمارے کانوں میں اسکول سے جڑی ہر معلومات انڈیل دی گئ۔"اسکول یہ ہوتا ہے اسکول وہ ہوتاہے" ۔"اسکول جانے سے بچوں کو تعلیم حاصل ہوتی ہے. انکا مس...
قلم اور اہل قلم یوں تو قلم سے انسان کا رشتہ پرانا ہے۔مگر زمانہ قدیم میں قلم کی جگہ پرندوں کے پر وغیرہ استعمال کۓ جاتے تھے تھے۔رفتہ رفتہ زمانہ کی ترقی کے ساتھ قلم کو بھی ترقی سوجھی اور وہ پرانے طرز کے قلم سے جدید قلم بن گیا ۔اور اس نے اپنا چولا ہی بدل دیا۔اب بھلا اگلے وقتوں کے لوگ (چچا غالب) کہاں سوچ سکتے تھےکہ آگے ایسا بھی ہوگا کہ حضرت انسان لکھیں گےمگر پر والے پن سے نہی ،بال پواینٹ پن سے جس میں نہ سیاہی دوات کی جھنجھٹ ،نہ روشنائ کا گہرا ،مدھم ہونے کا ڈر ،قلم ہاتھ میں لیا تو بس لکھتے چلے جاؤ,لفظ ہاتھوں اور قلم سے جیسے پھسلتے جا رہے ہیں اور کاغذ پر ابھرتے چلے آرہے ہیں۔بال پن کا اک فائدہ ہے کہ لفظ تیزی سے بنتے چلے جاتے ہیں۔اب زمانہ بھی تو بھاگتا ہوا زمانہ ہے۔اب کون چچا غالب کی طرح قلم دوات لیے ،بیاض لیے گھنٹوں مشق سخن کرے گا ۔لیکن پہلے بھی تو اہل قلم ہوتے تھے ،کہاں وہ تحریر کی خوش خطی،جمے ہوے الفاظ ایسے جیسے موتی پروۓہوں۔خیال کی ندرت ایسی کہ پڑھتے ہی طبعیت باغ با غ ہو جاتی تھی بلکہ آج بھی ہوتی ہے۔آج بھی اس زمانہ کی تحریر پڑھیں وہ تحریر تروتازہ محسوس ہوگی۔...
گوگل اسسٹنٹ "اوکے! گوگل پلیز ٹیل می دا سپیللنگز آف ۔۔۔۔۔" وہ اپنے فون پر گوگل اسسٹنٹ لگائ بات کر رہی تھی " ۔ہیلو 'ہیلو ' اوکے! گوگل " "اے شبو !"تو یہاں بیٹھی کس سے بات کر رہی ہے "۔اماں نجانے کب سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ گاؤں کے اس پسماندہ سے علاقے کے ایک گھر میں وہ اپنا اسمارٹ فون کھولے بیٹھی تھی ۔اوور اب ٹائیپنگ سے بچنے کے لیۓ اس نے گوگل اسسٹنٹ لگا لیا تھا ۔ ۔یہ اسکی بدقسمتی تھی کہ اماں کے سامنے لگا لیا تھا۔اور ایسا لگرہا تھا کہ ابھی کچھ دیر بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہو نے والا تھا۔ "ارے اماں۔میں تو گوگل سے بات کر رہی تھی" " ۔وہی تو پوچھ رہی ہوں کہ یہ موا" گوگل" کون ہے ۔جس سے پٹر پٹر باتیں کر رہی ہو "۔وہ روٹی پکاتے پکاتے پکاتے اسکے سر پر پہنچ گی تھیں ۔ "ارے اماں' ہمیں اگر کچھ بھی معلوم کرنا ہو تو گوگل مدد کرتا ہے" ۔اس نے آسان لفظوں میں سمجھانا چاہا ۔ "مطلب' اسکو کام دھندہ نہیں ہے اور"...." تم کو بھی نہیں "۔"یہ تو پتا لگ رہا ہے" ۔ "اففوہ اماں...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں