میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔قسط 45 " آخر کچھ بتاتے کیوں نہیں تم کہ وہ بھائ کے گھر گئ ہے اور ابھی تک آئ نہیں ۔ایسا کیا ہوا ۔ " صابرہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے ٹوٹ گیا تھا ۔وہ اب اسے گھیر چکی تھیں جو اس ذکر سے ممکنہ حد تک پہلو تہی کر رہا تھا ۔ " مجھے نہیں معلوم ۔ آپ خود پوچھ سکتی ہیں اپنی بھتیجی سے کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ۔ " وہ خود بہت تلخ ہو رہا تھا یہ اسے محسوس ہو رہا تھا ۔ " تم نے کچھ کہا ہو گا ۔ ":وہ اب اسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔ " نہیں ۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ بس یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے ۔ میں نے نہیں کہا تھا گھر چھوڑ کر جانے کو " اس کے لہجہ میں تلخی گھلی تھی جس پر صابرہ بیگم خاموش ہو گئیں تھیں ۔ یہ بات انہیں بھی نا گوار گذری تھی کہ وہ گھر چھوڑ کر بنا بتا ۓ چلی گئ تھی۔ اور وہ طہ کی فطرت سے بخوبی واقف تھیں وہ ایسی غلطیاں کبھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔ نا معاف ۔ وہ دل ہی دل میں ان دونوں کے لیۓ دعا کرتے اٹھ گئیں تھیں ۔لیکن وہ چپ نہیں بیٹھیں تھیں نظیر صاحب کو اشارتاً بتا دیا کہ دو نوں میں کچھ نا راضگی ہو گئ ہے۔ " میں بات کروں گا ۔ابوال...
سعی ،صفا و مروہ کے ان سات چکروں کو کہتے ہیں جو حضرت ہاجرہ علیہ السّلامنے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پیاس کو دیکھ کر پانی کے لیۓ تڑپ کر لگائ تھیں اور حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کی یہ ادا اللہ کو اتنی پسند آئ کہ قیامت تک کے لیۓ اس کو اپنے بندوں پر واجب کر دیا ۔ کہ جب بھی کوئ عمرہ یا حج کو آۓ خواہ مرد ہو یا عورت ،وہ یہ سعی لازمی کرے ۔ اس کے بغیر اللہ کو آپ کا عمرہ یا حج قبول نہیں ہو گا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس واقعہ کے بارے میں آپ کو علم ہو گا کہ جب حضرت ابراھیم علیہ السّلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السّلام کو اپنے شیر خوار بیٹے کے ساتھ یہاں مکہ میں اس سنسان ویران میدان میں لا چھوڑا تو یہ بالکل صحرا تھا ۔ دور دور تک کسی درخت پودے کا نام و نشان تک نا تھا ۔ اپنے اللہ کی رضا کی خاطر وہ اپنی زوجہ اور بیٹے کو اس میدان میں چھوڑ گۓ تھے ۔ یہ بات حضرت ہاجرہ کو علم تھا کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ۔اس کا حکم ہے جسے ان کے خاوند نے پورا کیا ہے اس لیۓ زبان پر کسی بھی قسم کا شکوہ لاۓ بغیر انہوں نے اس میدان میں رہنا گوارہ کر لیا ۔ جہاں نا کوئ آدم تھا نا کوئ آدم ذاد ،نا ...
میرے ہم نوا ۔۔۔۔۔۔۔قسط چھتیس36 " کہاں جا رہی ہو تہذیب ۔ کھانا نہیں کھاؤگی۔ " اسے جاتا دیکھ کر شمیم آرا اس کی طرف لپکیں تھیں ۔ اس نے ماں پر ایک شکایتی نظر ڈالی تھی اور سر نفی میں ہلا تی چلی گئ تھی ۔ " آپ نے سارا الزام میرے سر ہی تھوپ دیا ہو گا ۔ " وہ اب ابوالکلام سے مخاطب تھیں ۔لہجہ بے حد خفگی بھرا تھا ۔ انہیں تہذیب کا یوں چلے جانا گراں گذرا تھا ۔ " نہیں ۔ میں نے اپنی کوتاہیاں بھی بیان کی ہیں ۔اگر کسی گھر میں فساد پیدا ہو تو اس کا الزام عورت پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ کہ عورت ہی گھر بناتی بگاڑتی ہے ۔ مگر اس میں مرد کا کردار بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اگر عورت اتنی ہمت سے گھر مں فساد پیدا کر رہی ہے تو وہاں ضرور مرد کا کردار کمزور رہا ہو کا ورنہ عورت میں اتنی ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک بسے بساۓ گھر کو توڑ دے ۔ مجھے اس سارے معاملے میں اپنےکردار کی خامیاں بھی محسوس ہو تی ہیں جسے میں قبول کرتا ہوں ۔وہ بہت سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔ " آپ تو ایک اچھے شوہر بیٹے اور بھائ تھے ۔ شاید میں غلط تھی جس کی وجہہ سے یہ سب فساد ہوا ۔ " وہ شرمندہ تھیں ۔ انہوں نے نظریں جھکا لی ت...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں