اولاد کی تعلیم و تر بیت ایک جایزہ

اولاد کی تعلیم و تربیت      ایک جایزہ
اکیسویں صدی کا جو سب سے بڑا اور پیچید ہ مسلہ بنا ہوا ہے ۔وہ ہے اولاد کی تعلیم و تربیت۔اولاد کی تعلیم و تربیت کس ڈھنگ سے کی جانی چاہیے ،اسکے لیے ہر شخص پریشان ہے کہ « ہماری اولاد ہمارے ہاتھوں سے نکل گی۶۔»،آجکل بچے تو والدین کا ادب کرنا ہی بھول گے۶ ،یا والدین کا ڈر وخوف ہی دل سے نکل گیا،آجکل کی اولاد کی زبان تو بہت لمبی ہو گی۶ ہے،ہم تو ہمارے والدین کے سامنے ایک آواز نہیں نکالتے تھے وغیرہ۔
آجکل جو بھی صاحب اولاد ہے اور جنکے بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ۔انکی راتوں کی نیند اڑ گی۶ ہے کہ اولاد بد تمیز ہوگی۶ ہے ۔بد اخلاق ،بد زبان ہو گی۶ ہے ۔اب انکو کس طرح راہ راست پر لایں؟جبکہ وہ لوگ جنکے بچے ابھی کمعمر ہیں انہیں یہ فکر دامن گیر ہے کہ کس طرح اپنے بچوں کو زمانہ کی تند ہوا جایسے مزاج سے محفوظ رکھیں۔
اگر یوں دیکھا جاے۶ تو اسکی کی۶ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔سب سے پہلے ہمیں اس سلسلہ میں اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لینا ہو گا ۔اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر  بتا دیا ہے کہ شوہر کے کیا فرایض ہیں اور بیوی کے کیا فرایض ہیں ۔ازدواجی زندگی میں ہر ایک کے جدا جدا فرایض اور حقوق بھی ہیں ۔مرد کے ذمہ رزق تلاش کرنا اور اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کو خوشی خوشی پورا کرنا ہے تو دوسری طرف عورت کو اولاد کی تعلیم و تربیت کے لیے مختص کیا۔اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا رول سب سے اہم ہے۔جو اس رول کو صحیح طریقہ سے ادا کرے گی۔اسکو اسکا پھل دنیا میں بھی ملے گااور آخرت میں بھی۔
اس لیے میری خواتین سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسکے ذمہ کیا کام لگایا ہے اور کیا وہ اس ذمہ داری کو نبھارہی ہیں ۔اولاد کی تعلیم وتربیت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
اس صدی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ انسان مادیت پسند ہو گیا ہے۔اس صدی کا نعرہ ہی یہی ہے کہ «سب سے بڑا روپیہ » اس روپیہ کے پیچھے ہر کوی۶ بھاگ رہا ہے ۔کیا مرد کیا خواتین ،بس ہاتھ میں روپیہ ہونے کی فکر رہتی ہے اسی لالچ میں عورت نے گھر کی چار دیواری سے اپنے قدم باہر نکالے۔اور مختلف شعبوں میں عورت نے اپنا لوہا منوایا۔اپنی صلاحیتوں سے ،محنت سے ان شعبوں میں چار چاند لگا دئیے۔لیکن ان کوششوں سے خود اسکے گھر میں تاریکی اپنے قدم جمانے لگی چونکہ عورت نے اپنے کندھوں پر دہری ذمہ داری ڈال لی۔اس وجہ سے اس کے گھر کا توازن بگڑ گیا۔گھر کے کام کاج ،اور گھر کے باہر چھ تا آٹھ گھنٹے کی مغز پچی ،یہ تمام عوامل عورت کو بے حد مصروف رکھتے ہیں۔ بسا اوقات اسے بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ہر ہفتہ واری چھٹی میں گھر کے رکے ہوئے تمام کام کرنا،رشتہداری نبھانا،،گھر کی صفای۶ کرنا،ان تمام کاموں کو کرنے کے بعد عورت کے پاس اتنا وقت بھی نہیں بچ پاتا کہ وہ اپنے بچوں کے پاس بیٹھ کر دو گھڑی بیٹھ کر بات کرے ۔بس ہمہ وقت یہ ٹنشن کہ یہ کرنا ہے  وہ کرنا ہے ۔اپنی اولاد سے بات کرنے کی بھی فرصت بھی نہیں نکال پاتی ۔ایسی صورت حال میں اولاد کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے کیا اقدامات کر سکتی ہے ۔
آجکل والدین اولاد کو ایک اچھے اسکول میں داخل کرنا،انہیں ٹیوشن لگانا،اسکول سے گھر تک کے لیے گاڑی کا انتظام کرنا  ہی کو اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں اور اسکو پورا کرکہ وہ اپنے آپکو بری الزمہ امجھتے ہیں ۔الٹا یہ شکوہ کرتے ہیں کہ « ہم نے اتنا سب کیا ،اور کیا کریں ۔ہمارے والدین نے تو اتنا بھی نہیں کیا تھا ۔ہم نے تو بس کے دھکے کھا کر تعلیم حاصل کی ۔آجکل کے بچوں کو تو ہر سہولت میسر ہے پھر بھی یہ قدر نہیں کرتے ۔»تو جناب آپ کے والدین نے یہ سب نہیں کیا مگر انہوں نے آپکو وہ تربیت ضرور دی تھی جسکے بدولت ہی آپ ایک اچھے انسان بن سکے۔بتایے۶ کیا انہوں نے اپنا قیمتی وقت نہیں دیا تھا ۔کیا آپکی والدہ بھی ورکنگ وومن تھیں ۔نہیں انہوں نے تربیت کو اہم جانا تھا ۔بگکہ تعلیم سے بھی زیادہ ۔آجکل تعلیم تو بہت ہے مگر علم نہیں ۔تعلیم تو ہے مگر تربیت نہیں ۔عورت کو اس بارے میں ضرور غوروفکر کرنی چاہیے کہ اسکا فرض کیا ہے اسکی ڈیوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ گھر کے باہر دوسروں کی ڈیوٹی انجام دے ۔بلکہ اسکا فرض ہے کہ وہ گھر میں رہے اور اولاد کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کرے عورت کو اور خاص طور پر مسلم عورت کو یہ احساس نہیں ہے کہ بے انتہا محنت مشقت کرکے جو چار پیسے وہ لاتی ہے اس میں نہ اللہ کی رضا ہوتی ہے نہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔بلکہ زیادہ تر ان خواتین کے سسرالی رشتہ دار اور بعض اوقات خود شوہر بھی اکثر ناخوش رہتے ہیں کہ بیوی ہمیں اپنا زیادہ وقت نہیں دے پاتی اب عورت کو سوچنا چاہیے کہ اتنی خواری کے بعد اسے حاصل کیا ہوتا ہے۔۔وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی تگ ودو میں خوار ہوتی جارہی ہے جو کہ اللہ نے اس پر عائد ہی نہیں کی ۔جو چیز ہم پر عائد ہی نہیں اسکے لئے ہم کیوں دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوں۔
اس لیے میرے نزدیک اولاد کی تعلیم وتربیت کے لئے عورت کو ہر قسم کی قربانی دینے چاہیے۔چاہے وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔اگر عورت مجبوری میں چونکہ اسکا کوئی کفالت کرنے والا نہیں ہے جاب وغیرہ کرتی ہے تو یہ اسکے لیے جایز ہو گا لیکن عیش پرستی کےلیے ،یا اپنی بے جا خواہشات کی تکمیل کے لئے عورت اپنے بچوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جاب کرتی ہے تو یہ اسکے لیے گھاٹے کا سودا ہوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اسکول رے اسکول تیری کونسی کل سیدھی مزاحیہ تحریر

قلم اور اہل قلم

گوگل اسسٹنٹ